1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں حِکمت

ذوالفقار احمد نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ ستمبر 22, 2017

  1. ‏ ستمبر 22, 2017 #1
    ذوالفقار احمد

    ذوالفقار احمد رکن ختم نبوت فورم

    نزوول حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں حِکمت
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت عام معمول کی ولادتوں کے برعکس باپ کے بغیر ہوئی تھی۔ قرآن کی آیات ان مثل عیسی عنداللہ کمثل آدم (آل عمران 59) اور دوسری آیت ولم یمسسنی بشر (مریم 20) اور کذالک قال ربک (مریم 21) اس حقیقت پر شاہد ہیں۔ اور یہ وہ اعجازی ولادت ہے جس کی وجہ سے عیسائیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کا وہم ہوا۔
    پھر آپ علیہ السلام کے معجزات، جیسے پنگھوڑے میں گفتگو کرنا، بیماروں کو شفا دینا، مردے زندہ کرنا اور اپنے ہاتھوں سے مٹی کے بنائے ہوئے پرندے میں پھونک مار کر اسے اصلی پرندہ بنا دینا، یہ کمالات آپ کے ہاتھ سے اس قدر غالب انداز میں صادر ہوئے کہ عیسائیوں نے ان معجزات کو آپ کی الوہیت کی ایک نئی دلیل بنا لیا ۔
    پھر قرآن مجید میں آپ کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ کے القاب سے یاد کیا گیا۔ یہ القاب اپنے پس منظر اور مجازی معانی کے اعتبار سے بالکل درست تھے اور اسلام کی اعلیٰ ظرفی اور حقیقت بیانی کا ثبوت تھے مگر عیسائیوں نے ان القاب کا بھی غلط مطلب لیا اور ان الفاظ کو الوہیتِ مسیح کا مؤید قرار دیا۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا عیسائیوں میں الوہیت کا وہم پیدا کرنے والے ان کثیر التعداد خوارق کا تسلسل ہے۔ بغیر باپ پیدا ہونے میں کیا حکمت تھی۔؟ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کا کیا قصور۔؟ ان پر اتنا بڑا الزام لگوائے جانے میں کیا حکمت تھی۔؟ آپ کے تمام معجزات کی مختلف انواع اور ہر ہر نوع کے ایک ایک فرد میں کیا حکمت تھی۔؟ آپ کو روحِ جبریل بھی کہا جاتا تھا اور خُلق ببرکۃ کلام اللہ بھی کہا جا سکتا تھا سیدھا ہی روح اللہ اور کلمۃ اللہ کہنے میں کیا حکمت تھی۔؟ پھر بالاآخر آپ کو آسمان پر اٹھا لینے میں کیا حکمت تھی اور دوبارہ نزول میں کیا حکمت ہو گی۔؟
    ان ساری باتوں میں سے کسی ایک بات کی بھی حکمت کو حلفاََ بیان نہیں کیا جا سکتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں لیکن ہم ہر ہر چیز کی صحیح صحیح حکمت کو سمجھ جائیں یہ بھی ضروری نہیں۔ اتنا ضروری ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تمام احوال میں سے بعض میں اگر مرزا صاب یا مرزائی تکلف کر کے کوئی حکمت تلاش کر لیں تو پھر بقیہ احوال میں پائی جانے والی حکمت کو بھی اسی طرح محنت سے تلاش کر لینا یا اسی پر قیاس کر لینا ضروری ہو گا۔
    ثانیاََ مسیح کا معنی ہے سیاحت کرنے والا۔ زمین میں سارے نبیوں نے سیاحت فرمائی مگر مسیح کا لقب کسی دوسرے نبی کو عطا نہیں ہوا۔ اس لفظ کو آسمان پر اٹھائے جانے سے گہری مناسبت ہے۔
    ثالثاََ حدیث شریف صاف الفاظ ہیں کہ: کیف انتم اذا نزل عیسی بن مریم فیکم و امامکم منکم یعنی اے میری امت تمہاری شان اس وقت کیا ہو گی جب عیسیٰ بن مریم تم میں نازل ہو گا اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا (﷽خاری 3449 مسلم 392)۔ کیف انتم کے الفاظ سے صاف حکمت سمجھ میں آ گئی کہ اس امت کا مقتدی بنے گا۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ : کیف تھلک ھذا الامۃ و انا اولھا و المسیح آخرھا (مشکوٰۃ 6287)
    رابعاََ اذا اخذ اللہ میثاق النبیین الآیۃ اس آیت میں لتؤمنن بہ پر عمل معراج کی رات ہو چکا اور ولتنصنہ پر عمل حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول کریں گے اور یہ ذمہ داری خالصتاََ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی بنتی ہے اس لیے لیس بینی و بینہ نبی کی تصریح حدیث میں موجود ہے۔ اسی حکمت کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشارہ دیتے ہوئے فرمایا:لیس بینی وبینہ نبی فانہ نازل فاذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض (ابو داؤد حدیث 4324) اس سے زیادہ گہری مناسبت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے: انا اولی الناس بعیسی ابن مریم فی الدنیا والآخرۃ، الانبیااُ اخواۃ لعلات امھتھم شتی و دینھم واحدا، ولیس بینی و بین عیسی ابن مریم نبی (مستدرک حاکم حدیث 4205) صحیح وافقہ الذہبی
    خامساََ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا انجیل میں موجود ہے کہ: اے میرے اللہ مجھے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نصیب فرمانا انجیل برنباس کے الفاظ یہ ہیں:
    I Have Received Grace And Mercy From God To See Him (Barnbas c-97 v-1)
    اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کی پیروی، روضہ اقدس پر جا کر سلام پیش کرنا اور جواب لینا، حضرت امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھنا، مسلمانوں کا ان کا جنازہ پڑھنا، روضہ اقدس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسل؛م کے ساتھ دفن ہونا اور قیامت کے دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان اٹھنا سب نصیب کر دیا۔
    الحمدللہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی حکمتیں عقلی طور پر بیان کر دی ہیں اور ہر حکمت کے حق میں اشارہ قرآن و سنت بھی دکھا دیا۔
    اب مرزائیت بتائے ! مرزا قایانی کے مسیح موعود بننے میں کیا حکمت تھی۔؟ خصوساََ جبکہ وہ کہتا ہے کہ میرے جیسے ہزاروں مسیح آ سکتے ہیں۔ پھر اس کے دلائل وہی جھوٹے انبیا والے دلائل ہیں۔ وہی بہا اللہ والے دلائل ہیں، اصل مسیح نے امن قائم کرنا ہے جبکہ مرزا قادیانی فساد برپا کر دیا، مسلمانوں کو قوت دینا تھی لیکن اس نے اربوں مسلمانوں کو قادیانی نبوت کا منکر ہونے کی وجہ سے کافر قرار دے دیا۔ چراغ بی بی کو مریم کہنے میں کیا حکمت تھی اور پھر خود مریم بننے میں کیا حکمت تھی۔؟ استعارے کے رنگ میں حمل ٹھہرانے میں پھر اس کو مریم اور اسی کو مسیح کہنے میں کیا حکمت تھی۔؟ ایک ہی مرزا کے نبی، مہدی اور مسیح بلکہ آدم نوح ابرہیم موسیٰ اور عیسیٰ سب کچھ بن بیٹھنے میں کیا حکمت تھی۔؟ بقول آپ کے کہ : استعارے نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے ہی عیسائیوں نے ایلیا کے نزول کے متعلق دھوکہ کھایا تھا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے کے باوجود اور تورات و انجیل کا موضح ہونے کے باوجود اور قرآن کا مبین ہونے کے باوجود امت کو استعاروں کے حوالے کرنے میں کیا حکمت تھی۔؟
    ہماری پیش کردہ نزول مسیح کی حکمتوں کو جس طرح رد کرتے ہو اپنی اس تردید پر نظررکھتے ہوئے صحیح صحیح جواب دیا جائے اور تُکے بازی سے پرہیز کیا جائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خادم مجاہدین ختمِ نبوت ذوالفقار احمد قادری
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر