1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

نزول مسیح ابن مریم علیہ السلام کی نشانیاں

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 15, 2015

  1. ‏ مارچ 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    نزول مسیح ابن مریم علیہ السلام کی نشانیاں
    پیغمبر اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام بے ضرورت بات نہیں فرماتے تھے۔ جو بات فرماتے تو وہ مختصراً مگر جامع اور تمام امور کو صاف کرنے والی ہوتی تھی۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے سلسلے میں آپ ﷺ نے نشانات کا اتنا اہتمام فرمایا کہ اس سے بڑھ کر مشکل ہے تا کہ کوئی نادان مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کر کے امت کو گمراہ نہ کرے۔ 2562آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    ۱… آخری زمانہ میں مسیح نازل ہوں گے۔ (مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ نزول صعود کی فرع ہے۔ جب نزول تواتر سے ثابت ہوگیا تو صعود وعروج خود ہی ثابت ہو گیا)
    ۲… آپ نے بیہودہ اعتراض کرنے والوں کا منہ بندکرنے کے لئے رجوع کا لفظ بھی استعمال فرمایا۔ راجع الیکم کہ وہ تمہارے پاس دوبارہ آئیں گے۔
    ۳… آپ ﷺ نے تمام وسوسوں کو دور کرنے کے لئے یہ بھی فرمادیا کہ وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔
    ۴… آپ ﷺ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ زمین کی طرف آئیں گے اور زمین کی طرف وہی آتا ہے جو پہلے زمین پر نہ ہو۔
    ۵… آپ ﷺ نے فرمایا کہ آنے والے کا نام عیسیٰ ہوگا۔
    ۶… کہیں آپ ﷺ نے مسیح فرمایا۔
    ۷… ان کی والدہ کا نام مریم ہوگا۔ (چراغ بی بی نہ ہوگا)
    ۸… باربار ماں کا نام لے کر بتادیا کہ کسی مرد۔ حکیم غلام مرتضیٰ کا بیٹا نہ ہوگا۔ بلکہ وہی عیسیٰ ہوگا جو بن باپ پیدا ہوا اور قرآن نے ان کوماں ہی کے نام سے پکارا۔
    ۹… وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔
    ۱۰… وہ رسولاً الیٰ بنی اسرائیل تھے۔ کلمتہ اﷲ تھے۔ روح اﷲ تھے۔ وجیہاً فی الدنیا والآخرۃ تھے۔ نفخ جبرائیل سے پیداہوئے تھے۔ ان کو زبردست معجزات دئیے گئے تھے۔ بنی اسرائیل نے پھر بھی نہ مانا تو وہ آکر بنی اسرائیل اور ان کے دجال سے جنگ کریں گے۔ 2563دجال کو قتل کریں گے اور تمام اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے۔ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور ان کے شایان شان تمام باتیں ہو جائیں گی جو پہلے نہ ہوئی تھیں۔
    ۱۱… اوروں کی ہجرت ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہجرت ساری زمین سے تھی۔ اس لئے وہ واپس زمین میں آکر ساری زمین میں عادلانہ نظام قائم فرمائیں گے۔
    ۱۲… وہ دمشق میں اتریں گے۔
    ۱۳… دمشق کے مشرق کی طرف منارہ کے پاس۔
    ۱۴… ان پر دوزرد چادریں ہوں گی۔
    ۱۵… ان کے سر سے موتیوں کی طرح پانی ٹپکے گا۔
    ۱۶… فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے نازل ہوں گے۔
    ۱۷… اس وقت صبح کی نماز کے لئے اقامت ہوگئی ہوگی۔
    ۱۸… وہ اس وقت پہلے ہی امام کو نماز پڑھانے کا کہیں گے۔
    ۱۹… فارغ ہوکر وہ دجال سے لڑیں گے۔ اس کو قتل کر دیں گے۔
    ۲۰… یہودیوں کو شکست فاش ہو جائے گی۔
    ۲۱… اگر کسی درخت یا پتھر کے پیچھے کوئی یہودی چھپا ہوگا وہ بھی مسلمانوں کو اطلاع دیں گے تاکہ اس کو قتل کر دیا جائے۔
    ۲۲… پھر باقی تمام یہود اور عیسائی مسلمان ہو جائیں گے۔ دنیا بھر میں اسلام پھیل جائے گا۔
    ۲۳… حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنگ بند کر دیں گے۔ کیونکہ ساری دنیا اسلام کے تابع ہوگئی ہوگی۔
    ۲۴… 2564وہ غیرمسلموں سے جزیہ (ٹیکس) لینا بند کر دیں گے۔ دو وجہ سے ایک تو غیرمسلم ہی نہ رہیں گے۔ دوسرے مال کی سخت بہتات ہوگی۔
    ۲۵… مال کثرت سے لوگوں کو دیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا۔
    ۲۶… اس وقت ایک سجدہ ساری دنیا سے زیادہ بہتر ہوگا۔
    ۲۷… یہ نازل ہونے والا وہی عیسیٰ علیہ السلام ہوگا جن سے معراج میں قیامت کی باتیں ہوئی تھیں اور انہوں نے کہا تھا کہ میں اتر کر دجال کو قتل کر دوں گا۔
    ۲۸… وہ ضرور فوت ہوں گے۔ مگر ابھی تک ان پر فنا نہیں آئی۔
    ۲۹… وہ چالیس سال دنیا میں زندہ رہیں گے۔
    ۳۰… وہ حج کریں گے۔
    ۳۱… فج روحا کی گھاٹی سے لبیک کہیں گے۔
    ۳۲… پہلے شادی نہ ہوئی تھی اب شادی کریں گے۔
    ۳۳… وہ پرانے اور اپنے وقت کے رسول تھے اور اب شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) پر عمل کریں گے اور کرائیں گے۔
    ۳۴… جب ان کی وفات ہوگی۔ مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔
    ۳۵… وہ حضور ﷺ کے روضہ مبارک میں دفن ہوں گے۔
    ۳۶… جب وہ نازل ہوں گے ایک حربہ (ہتھیار) لے کر دجال کو قتل کریں گے۔
    ۳۷… ان کے زمانہ میں اتنا عدل ہوگا کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے۔
    ۳۸… یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے جو حضور ﷺ سے چند صدیاں پہلے تھے اور ان کے اور حضور ﷺ کے درمیان کوئی پیغمبر نہ تھا۔
    ۳۹… 2565یہ وہی ہوں گے جن کا نام روح اﷲ بھی تھا۔
    ۴۰… ان سے پہلے مرد صالح ہوں گے جو نماز پڑھائیں گے۔ وہی مہدی ہوں گے۔
    ۴۱… وہ اہل بیت سے ہوں گے۔
    ۴۲… ان کا نام حضور ﷺ کے نام کے مطابق ہوگا اور ان کے والد کا نام حضور ﷺ کے والد کے نام کی طرح ہوگا۔
    ۴۳… وہ جس دجال کو قتل کریں گے وہ کانا ہوگا۔ اس کے ماتھے پر ’’ک ف ر‘‘ لکھا ہوگا۔ یعنی کافر۔
    ۴۴… وہ بھی طرح طرح کے عجائبات دکھائے گا۔ جس سے لوگوں کے کفر اور ایمانی پختگی کا پتہ لگے گا۔
    ۴۵… وہ ساری دنیا کا چکر لگائے گا۔ مگر اس دن مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر فرشتوں کے پہرے ہوں گے ان دو شہروں میں داخل نہ ہو سکے گا۔
    ۴۶… یہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کا پیچھا کر کے اس کو باب لد میں قتل کریں گے۔
    ۴۷… ان کے زمانے میں یاجوج وماجوج خروج کریں گے۔ لوگ بڑے تنگ ہوں گے۔ آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے لئے بددعا فرمائیں گے اور لڑ بھڑ کر مر جائیں گے۔
    ۴۸… عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں جہاں نازل ہوں گے وہ افیق نام کا ٹیلہ ہوگا۔
    ۴۹… ان کی آمد معلوم کر کے مسلمان مارے خوشی کے پھولے نہ سمائیں گے۔ جس کی طرف حضور ﷺ نے کیف انتم سے اشارہ فرمایا ہے۔
    ۵۰… وہ روضۂ اطہر پر حاضر ہوکر سلام پیش کریں گے۔ حضور ﷺ ان کا جواب دیں گے۔
    ۵۱… 2566آپ ﷺ نے حلف اٹھا کر حضرت عیسیٰ ابن مریم کے نزول کی خبر دی۔
    ۵۲… ان کا نزول قیامت کی (بڑی) نشانی ہوگی۔
    ۵۳… وہ حاکم (حکم) ہوں گے۔
    ۵۴… عادل اور مقسط ہوں گے۔
    ۵۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عروہ بن مسعودؓ کی طرح ہوں گے۔
    ۵۶… ان کا رنگ سفیدی وسرخی کی طرف مائل ہوگا۔
    ۵۷… وہ صلیب کو توڑدیں گے جس کی پوجا ہوتی تھی یا جو پجاریوں کی نشانی تھی۔
    ۵۸… خنزیر کو قتل کریں گے۔ یہ نجس العین ہے اور عیسائی اس کو شیرمادر سمجھ کر کھاتے ہیں۔ نفرت دلانے کے لئے ایساکیا جائے گا۔ آج کل بھی یہ فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو لوگ جمع ہوکر ان کے قتل کا انتظام کرتے ہیں۔
    ۵۹… دجال کے پاس اس وقت ستر ہزار یہودی لشکر ہوگا۔
    ۶۰… یاجوج ماجوج کے باہمی مقاتلے اور مرنے سے بدبو ہوگی۔ پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر پہاڑ پر چڑھیں گے۔ پھر دعا فرمائیں گے۔ بارش ہوگی وہ بدبو دور کر دی جائے گی۔ (اوکماقال)
    کیا سرور عالم ﷺ جیسی ہستی نے کسی اور بات کے لئے بھی اتنا اہتمام فرمایا ہے۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ کوئی اور دجال مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہ کر بیٹھے۔
  2. ‏ مارچ 15, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اب اگر ایک احمق
    کہے کہ عیسیٰ سے مراد… غلام احمد ہے۔
    مریم سے مراد… چراغ بی بی ہے۔
    2567دمشق سے مراد… قادیان ہے۔
    باب لد سے مراد… لدھیانہ ہے۔
    قتل سے مراد… مباحثہ میں غالب آنا ہے۔
    مسیح سے مراد… مثیل مسیح ہے۔
    زرد چادروں سے مراد… میری دو بیماریاں ہیں۔
    دجال سے مراد… پادری ہیں۔
    خردجال سے مراد… ریل ہے۔ جس پر وہ خود بھی سوار ہوا ہے۔
    مہدی سے مراد… بھی غلام احمد ہے۔
    حارث سے مراد… بھی غلام احمد ہے۔
    رجل فارس سے مراد… بھی غلام احمد ہے۔
    منارۃ سے مراد… قادیان کا منارہ ہے جو بعد میں مرزاجی نے بنایا۔
    نزول سے مراد… سفر کر کے کہیں اترنا ہے۔
    آسمان سے مراد… آسمانی ہدایتیں ہیں۔
    عیسیٰ بن مریم سے مراد… غلام احمد قادیانی ہے۔
    غلام احمد عیسیٰ علیہ السلام سے متحد ہے۔
    غلام احمد عین محمد ہے۔
    غلام احمد آنے والا کرشن اوتار ہے۔
    غلام احمد، حضور ﷺ ہی کی بعثت ثانیہ ہے۔
    غلام احمد کے زمانہ میں وہ عالمگیر غلبۂ اسلام ہوا۔ جو حضور ﷺ کے زمانہ میں نہ ہوسکا۔
    نماز میں جو دعا مانگی گئی ہے۔ (غیر المغضوب علیہم) اس میں مرزاقادیانی کو دکھ دینے والوں سے علیحدگی کی دعا ہے۔
    2568میری وحی قرآن کے برابر ہے۔
    مجھ میں تمام پیغمبروں کے کمالات جمع ہیں۔
    میں حضرت حسینؓ سے واقعی افضل ہوں۔ وہ کیا ہیں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوں۔ ان کا بروز اور مثیل ہو کر بھی ان سے آگے نکل گیا ہوں۔
    بلکہ تمام انبیاء سے میرے معجزے زیادہ ہیں اور میں معرفت میں کسی پیغمبر سے کم نہیں ہوں۔ پھر وہ اپنے بیٹے کو کہے یہ گویا خدا آسمان سے اتر آیا ہے اور وہ بیٹا کہنے لگے۔ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ رسول اﷲ ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔
    اور اس کے چیلے اکمل کے اشعار ذیل کے مطابق حضور ﷺ سے افضل ہے۔ (معاذ اﷲ)
    محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
    محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
    پھر ان شعروں کو مرزاجی سن کر تحسین کریں اور جزاک اﷲ کہیں۔
    اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ شخص اور اس کو مسلمان جاننے والے کیسے مسلمان رہ سکتے ہیں؟
    ----------

اس صفحے کی تشہیر