1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

نصاری کا قبور انبیاء کو سجدہ گاہ بنانا ؟؟

خادمِ اعلیٰ نے 'حیات و وفات عیسیٰ علیہ سلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 2, 2014

  1. ‏ جولائی 2, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    قادیانی :آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف ہے کے " عن عائشہ قالت قال رسول اللہ فی مرضہ الذی لم یقم منه لعن اللہ الیهود والنصاری اتخذ وقبور انبیاھم مساجد (مسلم جلد 1 صفحہ 201 باب النھی عن بناء المساجد علی القبور )
    اللہ تعالیٰ یہود ونصاری پر لعنت کرے کے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا .پس یہود کی حد تک تو بات ٹھیک ہے نصاری کے لعنتی ہونے کے لیا ضروری ہے کے عیسیٰ علیہ اسلام کی قبر کو سجدہ گاہ بناے ورنہ لعنتی کیسے ؟
    پس اس سے ثابت ہوا کے عیسیٰ علیہ اسلام فوت ہو گئے


    جواب

    سیدنا آدم علیہ اسلام سے لیکر سیدنا موسیٰ علیہ اسلام تک...تمام انبیاء کو یہودی برحق مانتے ہیں ..... سیدنا آدم علیہ اسلام سے لیکر سیدنا عیسیٰ علیہ اسلام تک تمام انبیاء کو نصاری برحق مانتے ہیں ....یہود ونصاری کا اختلاف صرف مسیح علیہ اسلام پر ہے ..مسیحی ان کو برحق اور یہودی ناحق مانتے ہیں پس سیدنا آدم علیہ اسلام سے لیکر سیدنا موسیٰ علیہ اسلام تک....یہود ونصاری جن انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بناتے ہیں ...وہ سب کے سب اس حدیث کے بموجب معلون ہیں ..

    یہ حدیث شریف" لعن اللہ الیهود والنصاری اتخذ وقبور انبیاھم مساجد" ..سیدنا مسیح علیہ اسلام کی وفات کی دلیل نہیں بل کے حیات کی دلیل ہے ..
    اس لئے کے اس حدیث کی رو سے اگر مسیح علیہ اسلام فوت شدہ ہوتے یا ان کی کہیں قبر ہوتی تو وہ مسجود نصاری ہوتی ..مگر نصاری کا کسی قبر کے بطور قبر مسیح کے مسجود ہونا تو درکنار ..وہ تو مسیح علیہ اسلام کو زندہ آسمان پر مانتے ہیں ..کسی قبر کو مسیح علیہ اسلام کی قبر نہیں مانتے ...
    تو ثابت ہوا کے مسیح علیہ اسلام زندہ ہیں ..اگر وہ فوت شدہ ہوتے تو ان کی قبر مسجود نصاری ہوتی ..
    پس یہ حدیث مسیح علیہ اسلام کی وفات کی نہیں بل کے حیات کی دلیل ہے


    مسلم شریف کی جس روایت سے قادیانی یہ استدلال کرتے ہیں اسی کتاب کے اس صفحہ پر آگے چوتھی روایت میں اس کی ایسی وضاحت وصراحت ہے کے جو قادیانی دجل کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے ..
    " عن حدثنے جندب قا ل سمعت النبی صلی اللہ علیه وا له وسلم قبل ان یموت بخمس ..وان کان قبلکم کانو ا یتخزوں قبور انبیاھم وصالہیھم مساجد آلافلا تتخذوا القبور مساجدا انی انھا کم عن ذالک (مسلم جلد 1 صفحہ 201 باب النھی عن بناء المساجد علی القبور)
    حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پانچ دن قبل فرمایا ..تم سے پہلے (امتوں کے لوگ )اپنے انبیاء وصالحہ کی قبور کو بھی سجدہ گاہ بناتے تھے خبر دار تم قبور کو سجدہ گاہ نہ بنانا میں تم کو اس سے مانع کرتا ہوں ..
    لیجیے ..جب یہودونصاری کو معلون ہونے کا ایک یہ بھی ہے کے وہ انبیاء وصالحہ کی قبور کو بھی سجدہ گاہ بناتے تھے پس معلون ہونے کے لئے صرف قبور انبیاء کو سجدہ گاہ بنانا ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی صالحا کی قبور کو بھی سجدہ گاہ بناتا ہے تو اس وعید کا مستحق ہے ..
    اس حدیث کی تعیم نے سیدنا مسیح علیہ اسلام کو اس سے خارج کر دیا اس لئے کے نہ ان کی قبر ہے نہ وہ مسجود نصاری ہے پس وہ زندہ ثابت ہوۓ نہ کے فوت شدہ ...البتہ اس حدیث نے قادیانی عتراض کو ابدی موت دے دی ..
    اتخذ وقبور انبیاھم مساجد میں انبیاھم میں....اضافت استفراق (یعنی تمام انبیاء ) کے لیا نہیں ہے ..کے آدم علیہ اسلم سے موسیٰ علیہ اسلام تک ..ہر نبی کی قبور کو تمام یہود ونصاری نے سجدہ گاہ بنایا ہو ..یہ یقیناً اور واقطعاً غلط ہے ....اس لئے کے ہزاروں انبیاء کی قبور کا تو پتا تک نہیں ..جب اسثغراق نہیں تو بعض میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو داخل کر لینا باطل اور مردود ہے یہود ونصاری کا بعض انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لینا حدیث کی صداقت کے لیا کافی ہے
    • Like Like x 1
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1

اس صفحے کی تشہیر