1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

وفاتِ مسیح ثابت کرنے کے لیے قادیانیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی آیت: ( سورۃ مائدہ: ۱۱۷)

محمدابوبکرصدیق نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 17, 2015

  1. ‏ جنوری 17, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    وفاتِ مسیح ثابت کرنے کے لیے قادیانیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی آیت:
    وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (مائدہ: ۱۱۷)

    قادیانی استدلال :
    ’’وکنت علیھم شھیداً مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (مائدہ: 117)‘‘
    مرزا بشیر الدین کے ترجمہ کے الفاظ یہ ہیں:
    ’’اور جب تک میں ان میں (موجود) رہا۔ میں ان کا نگران رہا۔ مگر جب تو نے میری روح قبض کرلی، تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ ‘ ‘
    (ترجمہ قرآن مجید از مرزا بشیر الدین ص ۲۵۸)
    وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اس آیت سے قادیانی استدلال کی بنیاد ان کے خیال میں بخاری شریف کی ایک تفصیلی روایت پر ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہے:
    ’’انہ یجاء برجال من امتی فیوخذبھم ذات الشمال فاقول یارب اصحابی فیقال انک لاتدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح: وکنت علیھم شہیداً مادمت فیھم‘‘
    (بخاری ص ۶۶۵ ج۲ کتاب التفسیر)
    ترجمہ: ’’میری امت کے بعض لوگ لائے جائیں گے اور بائیں طرف۔ یعنی جہنم کی طرف ان کو چلایا جائے گا، تو میں کہوں گا: اے میرے رب یہ تو میرے صحابی ہیں۔ پس کہا جائے گا کہ آپﷺ کو اس کا علم نہیں کہ انہوں نے آپﷺ کے بعد کیا کچھ کیا۔ پس میں ایسے ہی کہوں گا جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا۔ ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے بتمامہٖ بھرپور لے لیا تھا۔ اس وقت آپ نگہبان تھے۔‘‘
    تو ’’توفی‘‘ کا لفظ حضورﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کے کلام میں آتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضورﷺ کی توفی بصورت وفات ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی بصورت وفات ہوگی۔ نیز حضورﷺ نے بتایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ارشاد زمانہ ماضی میں ہوچکا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔
    جواباس تحریف کا جواب بھی معلوم ہوچکا ہے کہ توفی کے حقیقی معنی پورا پورا لینے کے ہیں۔ لیکن حضور اقدسﷺ کے کلام میں یہ بمعنٰی موت ہے۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ آپﷺ کی وفات ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام میں توفی بطور اصعاد الی السماء پائی گئی ہے۔ کیونکہ اس کا قرینہ ورافعک الیّٰ موجود ہے۔
    جواب…اگر دونوں حضرات کی توفی ایک طرح کی ہوتی تو آپﷺ یوں فرماتے: ’’فاقول ماقال، العبد الصالح‘‘ تو فاقول کما قال العبد الصالح فرمانا بتارہا ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہٖ میں چونکہ تغایر ہوا کرتا ہے۔ اس لئے اصل مقصد ہر دو حضرات کا امت کے درمیان اپنی عدم موجودگی کو بطور عذر پیش کرنا ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی غیر موجودگی توفی بمعنی اصعاد الی السماء سے بیان فرمائی اور نبی کریمﷺ نے اپنی غیر موجودگی توفی بصورت موت بیان فرمائی ہے۔
    جواب…رہا یہ کہ آپﷺ نے اپنے متعلق فرمایا اقول اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قال ماضی کا صیغہ فرمایا۔ تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جس وقت آپﷺﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی: سورئہ مائدہ کی مذکورہ آیت نازل ہوچکی تھی اور اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول جو قیامت کے دن باری تعالیٰ کے سوال کہ : ’’أ انت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اﷲ‘‘ کے جواب میں فرمائیں گے، حکایت کیا گیا ہے۔
    اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام پہلے ہوچکے گا اور حضورﷺ کا معاملہ بعد میں پیش آئے گا۔
    • Like Like x 1
  2. ‏ مارچ 31, 2015 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 9 ( ان اعبدوا اﷲ ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً )(المائدہ:۱۱۶،۱۱۷)
    قرآنی دلیل نمبر:۹
    ’’واذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم أانت قلت للناس اتخذونی وامیّ الہین من دون اﷲ۰ قال سبحانک مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق۰ ان کنت قلتہ فقد علمتہ۰ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک۰ انک انت علاّم الغیوب۰ ماقلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اﷲ ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۰ وانت علی کل شیٔ شہیدا
    (المائدہ:۱۱۶،۱۱۷)‘‘
    {اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے۔ جب کہے گا اﷲتعالیٰ (نصاریٰ کو جھٹلانے کے لئے) کہ اے عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم (ان نصاریٰ میں جو تثلیث کا عقیدہ تھا۔ اس کا کیا سبب ہوا) کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوہ خدا کے معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے (توبہ توبہ) میں تو آپ کو (شریک سے) منزہ سمجھتا ہوں۔ (جیسا کہ آپ واقع میں بھی اس سے پاک اور منزہ ہیں تو ایسی حالت میں ) مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو آپ کو اس کا علم ہوگا۔ (مگر جب آپ کے علم میں بھی یہی ہے کہ میں نے ایسا نہیں کہا تو پھر میں اس بات سے بری ہوں) آپ تو میرے دل کے اندر کی بات کو بھی جانتے ہیں اور میں آپ کے علم میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کے جاننے والے آپ ہی ہیں۔ (سو جب اپنا اس قدر عاجز ہونا اور آپ کا اس قدر کامل ہونا مجھ کو معلوم ہے تو شرکت خدائی کا میں کیونکر دعویٰ کر سکتا ہوں) میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا۔ مگر صرف وہی جو آپ نے مجھے ان سے کہنے کو فرمایا تھا۔ (یعنی) یہ کہ تم اﷲ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ (یا اﷲ) میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں موجود رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا۔ تو صرف آپ ہی ان کے احوال پر نگہبان رہے اور آپ ہر چیز کی خبر رکھتے ہیں۔}
    معزز ناظرین! یہ وہ ترجمہ ہے جو کلام اﷲ، احادیث نبویہ، اقوال صحابہ، تفسیر مجددین امت محمدیہ سے مؤید ہے۔
    اب ہم ان آیات کی تفصیل یوں عرض کرتے ہیں اور سوال وجواب کے رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین بلاتکلیف سمجھ سکیں۔

    سوال نمبر:۱…
    اﷲتعالیٰ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان آیات کے نزول سے پہلے کر چکے تھے یا بعد میں کرنے کا اعلان ہے۔ اگر بعد میں کریں گے تو کب کریں گے؟
    جواب نمبر:۱…
    یہ سوال وجواب آیت کے نزول کے بعد قیامت کے دن ہوں گے۔ جیسا کہ اس کے بعد ساتھ ہی اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم (مائدۃ:۱۱۹)‘‘ یعنی یہی ہے وہ دن جب کہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ بولنا نفع پہنچائے گا۔
    ۲…
    اس آیت سے پہلے یہ آیت ہے: ’’یوم یجمع اﷲ الرسل فیقول ماذا أجبتم (مائدۃ:۱۰۹)‘‘ {جس دن جمع کرے گا اﷲ تعالیٰ تمام رسولوں کو۔ پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا۔} یہاں یوم سے مراد یقینا قیامت کا دن ہے۔
    ۳…
    صحیح بخاری باب التفسیر میں بھی اس سوال وجواب کا آئندہ ہی ہونا لکھا ہے۔
    ۴…
    تفسیر کبیر میں امام فخرالدین رازیؒ نے بھی یہی لکھا ہے۔ (مجدد صدی ششم کا فیصلہ)
    ۵… تفسیر جلالین میں امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم بھی اس سوال وجواب کو قیامت کے دن سے وابستہ کر رہے ہیں۔
    ۶… امام ابن کثیرؒ مفسر ومجدد صدی ششم بھی یہی ارشاد فرماتے ہیں۔
    ۷… غرضیکہ قریباً تمام مفسرین متفق الرائے ہیں کہ اﷲتعالیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان یہ سوال وجواب قیامت کے دن ہوں گے۔
    تصدیق از مرزاقادیانی
    ۸… مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹) پر خود تسلیم کیا ہے کہ ’’یہ سوال وجواب آئندہ قیامت کو ہوں گے۔‘‘

    سوال نمبر:۲…
    اﷲ تعالیٰ کا سوال کیا ہے؟ اور اسے باوجود علاّم الغیوب ہونے کے اس سوال کی ضرورت کیا تھی؟
    جواب نمبر:۲… سوال ’’أنت قلت للناس اتخذونی وامیّ الٰہین من دون اﷲ‘‘ سے ظاہر ہے۔ یعنی یہ کہ اے عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں نے تمہیں اور تمہاری ماں کو میرے سوا کیوں خدا بنالیا۔ کیا انہیں ایسا کرنے کا حکم تم نے دیا تھا۔ بے شک اﷲتعالیٰ علاّم الغیوب ہے۔ اسے سب کچھ معلوم ہے۔ مگر یہ سوال صرف نصاریٰ کو الوہیت مسیح کے عقیدہ میں مسیح علیہ السلام (نصاریٰ کے مزعومہ خدا) کی اپنی زبانی مجرم ثابت کرنے کے لئے ہوگا۔ چنانچہ تفسیر کبیر میں ایسا ہی درج ہے۔ تفسیر جلالین میں قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی نہم اس آیت کی تفسیر اس طرح ارشاد فرماتے ہیں۔
    ’’واذ کر اذقال ای یقول اﷲ بعیسیٰ فی القیمۃ توبیخاً لقومہ‘‘ یعنی یاد کرو وہ وقت جب فرمائے گا اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ان کی قوم کو توبیخ (مجرم کو ڈاٹنے) کے لئے۔
    ایسا ہی تمام مفسرین مسلمہ قادیانی لکھتے چلے آئے ہیں۔

    سوال نمبر:۳…
    کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اﷲتعالیٰ کے اس سوال سے پہلے عیسائیوں کے عقائد کی خرابی کا علم ہوگا؟
    جواب نمبر:۳… ہاں جب تک آپ کو عیسائی عقیدہ کی خرابی کا علم نہ ہو۔ ان سے یہ سوال کرنا باری تعالیٰ کے علم پر نعوذ باﷲ حرف آتا ہے۔ ہمارے دلائل ذیل ملاحظہ ہوں۔
    ۱… خود سوال کی عبارت ایسا بتارہی ہے۔ یعنی استفہام توبیخی، بالخصوص جب کہ مجرم عیسائی سامنے کھڑے ہوں گے اور اﷲتعالیٰ ان کا حساب لے رہے ہوں گے۔ اس سوال سے پہلے یقینا عیسائیوں سے اﷲتعالیٰ نے ان کے باطل عقائد کی وجہ دریافت کی ہوگی اور انہوں نے یقینا یہی جواب دیا ہوگا کہ ہمارے عقائد ہمیں یسوع مسیح نے خود تعلیم کئے تھے اور واقعی موجودہ اناجیل میں ایسا ہی لکھا ہے۔ پس ضرور ہے کہ دعویٰ اور جواب دعویٰ کے بعد اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی امت کے خلاف شہادت دینے کے لئے سوال کریں گے۔ اندریں حالات کون بیوقوف یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کے باطل عقائد کا علم نہ ہوگا؟
    ۲… اﷲتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ’’یوم ندعوا کل اناس بامامہم (بنی اسرائیل:۷۱)‘‘ یعنی قیامت کے دن ہم تمام لوگوں کو اپنے اپنے نبیوں اور رہنماؤں سمیت بلائیں گے۔
    ’’یوم یحشرہم وما یعبدون من دون اﷲ فیقول أانتم اضللتم عبادی ہؤلاء ام ہم ضلوا السبیل (فرقان:۱۷)‘‘
    {قیامت کے دن اﷲتعالیٰ ان مشرکین کو اور جن کی وہ اﷲتعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہیں۔ ان سب کو جمع کرے گا تو ان سے کہے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا۔ یا وہ خود گمراہ ہوگئے تھے۔}
    ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو ساتھ لے کر باری تعالیٰ کے حضور میں پیش ہوں گے۔ کیا پیشی سے پہلے امتوں کے حالات سے ان کے نبی واقف نہ ہوں گے؟ ضرور ہوں گے ورنہ ان کے ساتھ ہونے کا فائدہ کیا ہے۔ خود مرزاقادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ: ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی امت کی نیکی وبدی پر شاہد تھے۔‘‘

    (شہادۃ القرآن ص۶۷، خزائن ج۶ ص۳۶۳)
    ۳… احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ امت محمدی کے افراد کے اعمال باقاعدہ بارگاہ محمدیﷺ میں پیش ہوتے ہیں۔ اسی طرح ظاہر ہے کہ ہر ایک صاحب امت رسول کو اﷲتعالیٰ ان کی امت کے حالات سے مطلع رکھتا ہو۔ ورنہ بتایا جائے کہ رسول کریمﷺ نے کس جگہ اپنی امت کے حالات سے اطلاع یابی کو اپنے ساتھ خصوصیت دی ہے اور دوسرے رسولوں کے محروم ہونے کی خبر دی ہے؟ جیسا کہ آپؐ نے اپنی فضیلتیں دوسرے انبیاء پر صاف صاف الفاظ میں بیان فرماتے وقت یہی مسلک اختیار فرمایا ہے۔
    ۴… اﷲتعالیٰ نے قادیانی معترضین کو لاجواب کرنے کے لئے پہلے ہی سے اعلان کر دیا ہے۔ ’’ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا (نسائ:۱۵۹)‘‘
    {یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اہل کتاب پر دن قیامت کے بطور شاہد پیش ہوں گے۔}
    اسی پیش گوئی کی تصدیق میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے۔ ’’وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم (مائدہ:۱۱۷)‘‘
    {یعنی میں ان پر شاہد رہا۔ جب تک میں ان میں موجود رہا۔}
    چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں حسب وعدہ باری تعالیٰ تشریف لائیں گے اور اپنی امت کا حال دیکھ چکے ہوں گے۔ اس واسطے اپنی شہادت کے وقت ان کے باطل عقائد سے ضرور مطلع ہوں گے۔
    ۵… اسی آیت کے آگے اﷲتعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کا قول نقل فرماتے ہیں۔ ’’ان تعذبہم فانہم عبادک‘‘
    یعنی اے باری تعالیٰ اگر آپ ان مشرکین نصاریٰ کو عذاب دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں۔
    کیا یہ اقرار اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ وقت سوال قوم کے باطل عقائد سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ ورنہ اس سوال سے انہیں کیسے پتہ لگ سکتا ہے کہ نصاریٰ نے شرک کیا تھا؟
    ۶… اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی امت کے باطل عقائد کا پتہ نہ ہوتا تو باری تعالیٰ کے سوال کے جواب میں موجود جواب نہ دیتے۔ بلکہ یوں عرض کرتے۔
    ’’یا اﷲ اپنی الوہیت کی طرف ان کو دعوت دینا تو درکنار مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے مجھے اور میری ماں کو خدا بنایا ہے یا نہ۔ مجھے تو آج ہی آپ کے ارشاد سے پتہ چلا ہے کہ ایسا ہوا ہے۔‘‘
    مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سوال کے جواب میں اپنی بریت ثابت کرنا اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ آپ کو اپنی امت کا حال خوب معلوم تھا۔
    ۷… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کے بگڑ جانے کا پتہ ہے اور اب یہ پتہ انہیں نزول کے بعد نہیں بلکہ قبل رفع لگ چکا تھا۔ ثبوت میں ہم قادیانیوں کی کتاب عسل مصفیٰ سے رسول کریمﷺ کی حدیث کا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔
    ’’دیلمی اور ابن النجار نے حضرت جابرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سفر کرتے کرتے ایک وادی میں پہنچے۔ جہاں ایک اندھا آدمی دیکھا جو ہل جل نہیں سکتا تھا اور وہ ایک مجذومی تھا اور جذام نے اس کے جسم کو پھاڑ دیا ہوا تھا۔ اس کے لئے کوئی سایہ کی جگہ نہیں تھی… وہ اپنے رب العالمین کا شکریہ ادا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے تو کس چیز پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے… اس شخص نے جواب دیا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں اﷲتعالیٰ کی حمد اس لئے کرتا ہوں کہ میں اس زمانہ اور وقت میں نہیں ہوا جب کہ لوگ تیری نسبت کہیں گے کہ تو خدا کا بیٹا اور اقنوم ثالث ہے۔‘‘

    (کنزالعمال ج۳ ص۳۴۲، حدیث نمبر۶۸۵۲، وعسل مصفیٰ جلد اوّل ص۱۹۱،۱۹۲)
    ناظرین! کیسا صاف فیصلہ ہے اور قادیانیوں کی مسلمہ حدیث ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے رفع سے پہلے عیسائیوں کے فساد عقائد کا پتہ تھا۔ اب جو الزام قادیانی ہم پر لگاتے تھے کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹ کا مرتکب ماننا پڑتا ہے۔ وہی الٹا ان پر عائد ہوتا ہے۔ کیونکہ بفرض محال وہ فوت ہوچکے ہیں۔ جب بھی وہ عیسائیوں کے فساد عقائد سے لاعلمی نہیں ظاہر کر سکتے۔ کیونکہ اس حدیث کی رو سے انہیں (قادیانیوں کے قول کے مطابق) وفات سے پہلے پتہ لگ چکا تھا کہ دنیا میں ان کی پرستش ہوگی۔

    تصدیق از مرزاغلام احمد قادیانی
    ۸… ’’میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیاگیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم میں پھیل گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام ص۲۵۴، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ’’خداتعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دکھایا گیا۔ یعنی اس کو آسمان پر اس فتنہ کی خبر دی گئی۔‘‘
    (آئینہ کمالات ص۲۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ۹… مرزاقادیانی نے اس بھی زیادہ صفائی کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی امت کے بگاڑ سے مطلع ہونا تسلیم کیا ہے۔
    (آئینہ کمالات اسلام ص۴۳۹،۴۴۰، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ۱۰… ’’خداتعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دکھایا۔ یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری امت اور تیری قوم نے اس طوفان کو برپا کیا ہے… تب وہ نزول کے لئے بے قرار ہوا۔‘‘
    (آئینہ کمالات ص۲۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    الحمدﷲ! یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ قیامت کے دن سوال کرنے سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی امت کی خرابی عقائد کا علم ہوچکا ہوگا۔

    سوال نمبر:۴…
    کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوگا کہ کس طرح اور کیوں کر ان کی امت کے لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کو خدا ٹھہرالیا؟
    جواب… نہیں اس بات کا انہیں علم نہ ہوگا۔ ہاں اتنا پتہ ضرور ہوگا کہ ان عقائد باطلہ کی ایجاد ان کی موجودگی میں نہیں ہوئی۔ بلکہ اس زمانہ میں ہوئی جب وہ آسمان پر تشریف فرما تھے۔ دلائل ذیل ملاحظہ کریں۔
    ۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے۔ ’’وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘ یعنی اے اﷲتعالیٰ میں تیرے حکم (ما امرتنی بہ) کی شہادت دیتا رہا۔ جب تک میں ان کے درمیان مقیم رہا۔ جب تو نے مجھے اٹھا لیا۔ پس پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ چونکہ اپنی نگہبانی کے زمانہ میں ان کے عقائد باطلہ کے جاری ہونے سے وہ اپنی بریت ظاہر کر رہے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ وہ ان کے عقائد کے بگڑنے کا زمانہ اپنے آسمان پر رہنے کے زمانہ کو قرار دے رہے ہیں۔ پس ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو عیسائیوں کے عقائد باطلہ اختیار کر لینے کا علم تو ضرور تھا۔ یعنی یہ تو معلوم تھا کہ انہوں نے یہ عقائد ان کی عدم موجودگی یعنی رفع علی السماء کے زمانہ میں اختیار کئے تھے۔ مگر یہ معلوم نہ تھا کہ کیونکر اور کس طرح یہ عقائد ان میں مروج ہوگئے۔

    کلام اﷲ کی عجیب فصاحت
    ۱… اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ’’توفیتنی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس سے باری تعالیٰ کے اس وعدہ کے ایفاء کا زمانہ بتایا ہے جو باری تعالیٰ نے ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں کیا تھا اور ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ میں پورا کر دیا تھا۔ یعنی اس ’’توفی‘‘ کے وہی معنی ہیں جو ’’انی متوفیک‘‘ والی توفی کے ہیں۔ جس کے معنی ہم دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ موت کے نہیں بلکہ زندہ اٹھا لینے کے ہیں۔ (دیکھو بحث توفی)
    ۲… باری تعالیٰ نے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے توفی کے مقابلہ پر ’’دمت فیہم‘‘ استعمال کرایا ہے۔
    ناظرین! ذرا غور کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دو زمانوں کا ذکر کیا ہے۔
    ۱… ’’مادمت فیہم‘‘ کا، دوسرا ’’توفی‘‘ کا، الفاظ کی اس بندش نے قادیانی مسیحیت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ:
    الف… اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی جسمانی زندگی دو جگہوں میں نہ گزاری ہوتی تو ’’مادمت فیہم‘‘ (جب تک میں ان میں مقیم رہا) کا استعمال بالکل غلط ہے۔ بلکہ فرمانا چاہئے تھا۔ ’’جب میں زندہ رہا۔‘‘ جیسا کہ دوسری جگہ ایسے موقعہ پر فرمایا۔ ’’واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ جب تک کہ میں زندہ رہوں۔ اگر صرف ایک ہی دفعہ دنیا میں رہنا تھا تو آپ ’’مادمت فیہم‘‘ کیوں فرماویں گے؟ ’’فیہم‘‘ (ان کے درمیان) کے لفظ کا اضافہ بتا رہا ہے کہ کوئی ایسا زمانہ بھی ان کی زندگی میں آیا ہوگا۔ جب کہ وہ ’’ماکان فیہم‘‘ (ان میں موجود نہ تھے) کے مصداق بھی ہوں گے اور وہ زمانہ ان کے آسمان پر رہنے کا زمانہ ہوگا۔ جس عرصہ میں عیسائیوں نے اپنے عقائد باطلہ گھڑ لئے ہیں۔
    ۲… چونکہ جب تک ’’دام‘‘ کے بعد ’’حیا‘‘ کا لفظ نہ آئے۔ اس کے معنی زندہ رہنے کے نہیں ہوسکتے۔ بلکہ اس کے معنی صرف موجود رہنے کے ہوتے ہیں۔ اس واسطے اس کے بالعکس کے معنی صرف موت سے کرنا تحکم محض ہے۔ کیونکہ موجود رہنے کے خلاف، موجود نہ رہنا ہے۔ جو بغیر موت کے زندگی میں بھی ہوسکتا ہے۔ واﷲ اعلم قادیانی لوگوں کی عقل کو کیا ہو گیا ہے کہ موجود رہنے کے خلاف وہ مرنا کے سوا اور کچھ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔
    مثال نمبر:۱… وہ لاہور میں موجود نہیں ہے۔ قادیانی اس کے معنی کرتے ہیں وہ مرگیا ہے۔ حالانکہ اس کے معنی ہیں وہ کہیں باہر گیا ہوا ہے۔
    مثال نمبر:۲… جب رسول کریمﷺ معراج شریف پر تشریف لے گئے تھے تو آپﷺ اس زمانہ میں زمین پر موجود نہ تھے۔ پس کیا آپؐ اس وقت فوت ہوچکے تھے؟ ہر گز نہیں۔
    مثال نمبر:۳… جب جبرائیل علیہ السلام رسول کریمﷺ کے پاس تشریف لاتے تھے۔ تو اس وقت آپ (جبرائیل علیہ السلام) آسمان پر موجود نہ ہوتے تھے کیا اس وقت جبرائیل وفات یافتہ ہوتے تھے؟
    مثال نمبر:۴… ایک ہوا باز سات دن تک محو پرواز رہا۔ زمین میں موجود نہ رہا تو کیا وہ مرا ہوا تصور ہوگا؟ ہرگز نہیں۔
    مثال نمبر:۵… سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ زمین کے باہر چاند وغیرہ دیگر سیاروں اور ستاروں میں جا کروہاں کے حالات کی تفتیش کریں۔ اگر وہ وہاں چلے جائیں تو یقینا زمین میں موجود نہ رہیں گے۔ پس کیا وہ مرے ہوئے متصور ہوں گے؟ ہرگز نہیں۔ (اب خلائی تسخیر ہوگئی ہے۔ خلا باز ہفتوں وہاں رہتے ہیں اس وقت وہ زمین پر نہیں ہوتے کیا وہ فوت ہوجاتے ہیں؟ مرتب)
    بعینہ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کچھ زمانہ اس دنیا میں مقیم رہے۔ باقی زمانہ اس سے باہر آسمان پر۔ اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ اس دنیا سے باہر ضرور وہ موت ہی کا شکار رہے ہوں گے؟ ہاں اگر قادیانی مطلب صحیح ہوتا تو ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوں عرض کرتے۔ ’’مادمت حیا‘‘ اس وقت بقرینہ لفظ ’’حیا‘‘ توفی کے معنی ہم موت لینے پر مجبور ہو جاتے۔ چونکہ انہوں نے لفظ ’’فیہم‘‘ استعمال فرمایا ہے۔ اس واسطے توفی کے معنی موت دینا کرنے سے فصاحت کلام مانع ہے۔ لاہوری مرزائی محمد علی قادیانی اپنی تفسیر ج۱ ص۴۵۳ پر ’’مادام فیہم‘‘ کے ہی معنی کرتے ہیں۔ ’’فالحمد ﷲ رب العلمین ‘‘

    قادیانی اعتراضات اور ان کا تجزیہ
    اعتراض نمبر:۱… از مرزاقادیانی: ’’پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد واقع ہوگی۔ لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ سے پہلے یہ آیت ہے۔ ’’واذ قال اﷲ یا عیسیٰ أانت قلت للناس‘‘ اور ظاہر ہے کہ قال ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵)
    جواب نمبر:۱… مرزاقادیانی! یہ اعتراض آپ کا نیم ملاں خطرہ ایمان نیم حکیم خطرہ جان کا مصداق ہے۔ آپ تو فرمایا کرتے تھے کہ میں نے نحو ایک نہایت کامل استاد سے پڑھی تھی۔ سبحان اﷲ! ’’اذ‘‘ اور ’’اذا‘‘ کے استعمال کا تو پتہ نہیں اور دعویٰ ہے مجددیت، محدثیت، مسیحیت اور نبوت کا۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ حضرت ’’اذ‘‘ بعض اوقات ماضی پر داخل ہوکر اس کو مستقبل کے معنوں میں تبدیل کر دیا کرتا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے شرح ملا جامیؓ شرح کا فیہ وغیرہ۔ کتب نحو۔

    جادوہ وہ جو سرپر چڑھ کر بولے۔
    مرزاقادیانی! ہم آپ کی توجہ آپ کی شہرہ آفاق کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹) کی طرف منعطف کراتے ہیں۔ جہاں آپ نے ’’اذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم أانت قلت للناس‘‘ میں قال بمعنی یقول کا اقرار کر لیا ہے۔ پس آپ کی کون سی بات سچ سمجھیں۔ ہم دلائل سے ثابت کر آئے ہیں کہ یہ سوال وجواب قیامت کے دن ہوں گے۔ لیکن اگر ان کا وقوع عالم برزخ میں تسلیم کر بھی لیں تو اس سے آپ کو کیا فائدہ۔ ہمیں تو کوئی نقصان نہیں۔ نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ مثلاً اگر یہ سوال وجواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد فوراً ہی تسلیم کر لیا جائے تو اس وقت تو ابھی عیسائی آپ کے قول کے مطابق بگڑے ہی نہ تھے۔ پھر یہ سوال وجواب کیسے؟ مرزاقادیانی ذرا تو غور کیجئے۔ اس قدر خود غرضی بھی تو اچھی نہیں ہے۔ ’’من حفر البیٔر لا خیہ وقع فیہ‘‘ جو اپنے بھائی کے لئے کنواں کھودتا ہے۔ وہ خود اس میں گرتا ہے۔ آپ ہی پر صادق آتا ہے۔ عالم برزخ میں سوال کرنے کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بطور مجرم دربار خداوندی میں کھڑے ہوکر جواب دیاہوگا۔ جو کئی وجوہ سے باطل ہے۔
    ۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب مجرم ہی نہیں تو ان سے سوال کیوں ہوا ہوگا؟ مثلاً اگر زید کو بکر نے قتل کیا ہے تو عمرو سے کون سوال کرسکتا ہے کہ تو نے زید کو کیوں قتل کیا ہے؟
    ۲… جب ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مجرم نہیں تو ان کی پیشی بحیثیت مجرم خیال فاسد ہے۔ مجرم تو عیسائی ہیں ان کا ابھی حساب وکتاب شروع ہی نہیں ہوا۔ کروڑہا عیسائی ابھی زندہ موجود ہیں۔ کروڑہا ابھی پیدا ہونے والے ہیں۔ ان کے پیدا ہونے اور مرنے سے پہلے ہی ان کا حساب کتاب کیسے شروع ہوگیا تھا؟ کیونکہ یقینا مجرموں کا جرم ثابت کرنے یا ان کے راہنما سے سوال کر کے انہیں لاجواب کرنے کو یہ سوال ہونا چاہئے۔ مجرم ابھی موجود ہی نہیں۔ پھر گواہ کی کیا ضرورت ہے؟
    ۳… حساب وکتاب کا دن (یوم الدین) (یوم الحساب) تو یوم القیامۃ ہی ہے۔ تمام قرآن کریم اس کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال وجواب کے کیا معنی؟ ہائے خود غرضی تیرا ستیاناس تو حق کے دیکھنے سے انسان کو کس طرح معذور کر دیتی ہے۔
    ۴… پھر اگر تسلیم کر لیا جائے کہ حسب قول مرزاقادیانی یہ سوال وجواب عالم برزخ میں ہوچکا ہے تو ہم مرزاقادیانی اور اس کی پارٹی سے یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ عالم برزخ میں سوال وجواب موت کے بعد فوراً ہی شروع ہوجاتے ہیں یا کچھ زمانہ بعد۔ یقینا موت کے ساتھ ہی شروع ہو جانا چاہئے۔ کیونکہ وقفہ دینے میں کوئی حکمت اور راز منقول نہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال ان کی موت کے بعد فوراً ہی شروع ہوگیا تھا تو یہ سوال ہی سرے سے فضول ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس وقت تک تو ابھی عقیدہ الوہیت مسیح جاری ہی نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ آپ نے جابجا اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے۔ پس جرم ہی ابھی عرصہ ظہور میں نہیں آیا۔ بازپرس پہلے ہی سے کیسے شروع ہوگئی؟ مرزاقادیانی دیکھئے۔ اپنی مسیحیت کے لئے راستہ صاف کرنے کی غرض سے آپ کو کس قدر بھول بھلیوں میں پھنسنا پڑا ہے اور یہ سوال وجواب مرنے کے کچھ زمانہ بعد ہوئے تھے تو وہ کون سا زمانہ تھا؟ اس وقت خدا کو کون سی ضرورت پیش آگئی تھی۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ بریں عقل ودانش بباید گریست!
    ۵… دندان شک جواب۔ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ دروغ گورا حافظہ نباشد، دیکھئے خود مرزاقادیانی مندرجہ ذیل مقامات پر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سوال وجواب خدا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان قیامت کے دن ہوں گے۔
    الف… ’’اور یاد رکھو کہ اب عیسیٰ علیہ السلام تو ہرگز نازل نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو اقرار اس نے آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ کی ر و سے قیامت کے دن کرنا ہے۔‘‘

    (کشتی نوح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۷۶)
    ب… ’’فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘ اس جگہ اگر توفی کے معنی معہ جسم عنصری آسمان پر اٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف کی انہیں آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ہوگا۔ علاوہ ازیں قیامت کے دن یہ جواب ان کا۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۱، خزائن ج۲۲ ص۳۳)
    ج… ’’فان عیسیٰ یجیب بہذا الجواب یوم الحساب یعنی یقول فلما توفیتنی فی یوم یبعث الخلق ویحضرون کما تقرون فی القرآن ایہا العاقلون‘‘
    (الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۳، خزائن ج۲۲ ص۶۶۵)
    پس تحقیق عیسیٰ علیہ السلام یہ جواب دے گا۔ قیامت کے دن یعنی کہے گا۔ ’’فلما توفیتنی‘‘ کا جملہ دن قیامت کے جس طرح کہ اے عقل مندو تم قرآن کریم میں پڑھتے ہو۔
    ناظرین! اس سے بڑھ کر ثبوت میں کیا پیش کر سکتا ہوں کہ خود مرزاقادیانی کے اپنے اقوال ان کی تردید میں پیش کر رہا ہوں۔ اس سے آپ مرزاقادیانی کی مجددانہ، دیانت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ علماء اسلام کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے تو بڑے زور سے ازالہ اوہام میں لکھ مارا کہ یہ سوال وجواب قیامت کو نہیں بلکہ رسول پاکﷺ سے پہلے عالم برزخ میں ہوچکے تھے اور دلائل قرآنی اور نحوی سے ثابت کر مارا۔ پھر وہی مرزاقادیانی حقیقت الوحی اور کشتی نوح اور براہین احمدیہ حصہ۵ میں قرآنی دلائل اور نحوی اصولوں سے اس سوال وجواب کا ہونا قیامت کے دن سے وابستہ کر رہے ہیں۔ سبحان اﷲ وبحمدہ!

    ہر بیشہ گمان مبر کہ خالیست
    شاید کہ پلنگ خفتہ باشد

    (جاری ہے)
    • Like Like x 1
  3. ‏ مارچ 31, 2015 #3
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بقیہ
    : حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 9 ( ان اعبدوا اﷲ ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً )(المائدہ:۱۱۶،۱۱۷)


    قادیانی اعتراض نمبر:۴…

    ’’فلما توفیتنی‘‘ میں توفی کے معنی سوائے مارنے یا موت دینے کے اور صحیح نہیں ہوسکتے۔ وجہ یہ ہے کہ بخاری شریف میں ایک حدیث ہے۔ جس میں رسول پاکﷺ نے اپنی نسبت بھی ’’فلما توفیتنی‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور آنحضرتﷺ کی توفی یقینا موت سے واقع ہوئی تھی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی موت کے ذریعہ سے ہونی چاہئے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۸۹۰،۸۹۱، خزائن ج۳ ص۵۸۵،۵۸۶)
    جواب از ابوعبیدہ
    مرزاقادیانی! بے علمی بالخصوص نیم ملائی آپ کی گمراہی کی بہت حد تک ضامن ہے۔ اس حدیث سے آپ کو کس قدر دھوکہ لگا ہے۔ مگر منشاء اس سے آپ کو علوم عربیہ سے ناواقفی ہے۔ اس رحمتہ اللعالمینﷺ نے کمال فصاحت سے کام لیتے ہوئے فرمایا ہے۔
    ’’فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘
    (بخاری ص۶۹۳، بحوالہ ازالہ اوہام ص۸۹۰، خزائن ج۳ ص۵۸۵)
    ’’پس میں کہوں گا اسی کی مثل جو کہا تھا بندہ صالح نے ان الفاظ میں ’’وکنت علیہم شہیدا‘‘ مرزاقادیانی! یہاں رسول کریمﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں وہی کہوں گا جو کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام نے بلکہ فرمایا۔ میں کہوں گا اس کی مثل۔ کیا دونوں میں فرق نہیں ہے۔ آپ کی تحریف کا راستہ بند کرنے کو آنحضرتﷺ نے کما فرمایا اور اگر آنحضرتﷺ فرما جاتے ’’فاقول ما قال العبد الصالح‘‘ یعنی میں کہوں گا وہی جو کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام نے۔ اس وقت البتہ آپ کو تحریف کے لئے گنجائش تھی۔ وہ بھی بے علموں کے سامنے۔ ورنہ علماء اسلام اس وقت بھی آپ کی کج فہمی کا علاج کر سکتے تھے۔ تفصیل اس کی ذیل میں عرض کرتا ہوں۔‘‘
    ۱… اگر آنحضرتﷺ فرماتے ’’فاقول ما قال العبد الصالح‘‘ تو اس کا مطلب یہ تھا کہ میں بھی وہی لفظ جواب میں عرض کروں گا جو عرض کر چکے ہوں گے عیسیٰ علیہ السلام یعنی اس حالت میں رسول پاکﷺ بھی فرماتے۔ ’’فلما توفیتنی‘‘ اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ توفی کے معنی جو یہاں ہیں وہی وہاں بھی مراد ہیں۔ اس کا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ میں بھی توفی کا لفظ استعمال کروں گا اس کے معنی دلائل سے معلوم ہوں گے۔ رسول کریمﷺ کی صورت میں واقعات کی شہادت کی رو سے توفی کا وقوع بذریعہ موت ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں واقعات وشواہد قرآنی کی رو سے رفع جسمانی سے ہوا۔ اس کی تشریح مثالوں سے زیادہ واضح ہوگی۔
    سراقبال بھی ڈاکٹر ہیں اور مرزایعقوب بیگ قادیانی بھی ڈاکٹر ہیں۔ پس اگر زید یوں کہے کہ میں مرزایعقوب بیگ کے متعلق بھی وہی لفظ استعمال کروں گا جو میں نے سراقبال کے متعلق کیا ہے۔ یعنی ڈاکٹر۔ اس صورت میں صرف ایک عام جاہل ہی مرزایعقوب بیگ کو P.H.D سمجھنے لگ جائے گا۔ ورنہ سمجھدار آدمی فوراً ڈاکٹر کے مختلف مفہوم کا خیال کرے گا۔ اسی طرح ماسٹر کا لفظ اگر زید اور بکر دونوں کے لئے استعمال کیا جائے تو کون بیوقوف ہے جو دنوں کو ایک ہی فن کا ماسٹر سمجھنے لگ جائے گا؟ (نوجوان شریف لڑکے کو بھی انگریزی میں ماسٹر کہتے ہیں۔ دیکھو کوئی انگریزی لغات) یا ممکن ہے زید اگر کسی غلام کا مالک ہے تو بکر درزی ہو۔ اسی طرح بے شمار الفاظ (افعال اور اسمائ) موجود ہیں اور ہر زبان میں موجود ہیں جو مختلف موقعوں پر مختلف معنی دیتے ہیں۔ پس اگر ’’ما‘‘ کا لفظ بھی آنحضرتﷺ استعمال فرماتے۔ جب بھی ہم مرزاقادیانی کا ناطقہ بند کر سکتے تھے۔ وہ اس طرح کہ رسول پاکﷺ کے الفاظ وہی کہنے کا اعلان کر رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے۔ مگر مفہوم یقینا محل استعمال کے مختلف ہونے سے مختلف ہوگا۔ بہرحال اس صورت میں مرزاقادیانی جہالت میں کچھ چالاکی کر سکتے تھے۔
    ۲… لیکن مرزاقادیانی! حدیث میں تو آنحضرتﷺ نے آپ کی چالاکی کا سدباب کرنے کے لئے ’’کما‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں کیا کہوں گا۔ حدیث میں ’’فلما توفیتنی‘‘ کے الفاظ تو بطور مقولہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منقول ہیں۔ اگر آپ کہیں رسول پاکﷺ بھی یہی الفاظ قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے تو پھر ’’کما‘‘ کی فلاسفی اور فصاحت کلام کی اہمیت کیا رہی؟ ’’کما‘‘ تشبیہ کے لئے ہے۔ تشبیہ بیان کی جارہی ہے۔ دونوں حضرات کے اقوال میں۔ اگر دونوں کے اقوال ایک ہی ہوں گے تو مشابہت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر تو عینیت آجاتی ہے۔ جو کما کے منشاء کے بالکل مخالف ہے۔ اردو میں اس مضمون کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ (۱)وہ میرا بھائی ہے۔ (۲)وہ میرے بھائی کی طرح ہے۔
    پہلے فقرہ میں کوئی مشابہت مذکور نہیں۔ اس واسطے وہ اور میرا بھائی ایک ہی شخص کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن دوسرے فقرہ میں دونوں کے درمیان مشابہت کا تعلق ہے۔ اس واسطے وہ اور میرا بھائی ایک نہیں ہوسکتے۔ بلکہ کسی امر مشترک کا بیان کرنا مقصود ہے۔ مثلاً علم میں، اخلاق میں، چال میں، طرز گفتگو میں یا کسی اور امر میں، پس وہ بے وقوف ہے۔ جو مشابہت کے وقت دونوں چیزوں کو ایک کہے۔ کیونکہ مشابہت دو مختلف چیزوں کے کسی امر خاص وصف میں اتحاد کی بناء پر ہوتی ہے۔ یعنی مشابہت کا ہونا۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دو چیزیں ایک نہیں بلکہ مختلف ہیں۔ حدیث زیر بحث میں مشابہت بیان کی جارہی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور رسول کریمﷺ کے اقوال کے درمیان، پس معلوم ہوا کہ دونوں کے اقوال ایک ہی الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوسکتے اور نہ ہی دونوں اقوال آپس میں ہم معنی ہوسکتے ہیں۔ ہاں کسی خاص وصف میں مشابہت ہونی لازمی ہے۔ دیکھئے۔ مرزاقادیانی نے خود تشبیہات کی حقیقت یوں درج کی ہے۔
    ’’تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۷۲، خزائن ج۳ ص۱۳۸)
    مرزاقادیانی! ہم آپ کی اس تحریر سے زیادہ کچھ نہیں کہتے۔ اسی اصول کے ماتحت اگر آپ ہم سے فیصلہ کرنا چاہیں تو ساری مشکل آپ کی حل ہو جاتی ہے۔ دونوں حضرات کے اقوال میں مشارکت ومماثلت ہم بیان کرتے ہیں۔ آپ انصاف سے غور کریں۔
    دونوں حضرات اپنی اپنی امت کی گمراہی کی ذمہ داری سے بریت کا اعلان کر رہے ہیںَ یعنی لوگوں کی گمراہی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں اور نہ ان کی گمراہی ان کے زمانہ میں واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کے گمراہ ہونے کے زمانہ میں دونوں حضرات موجود نہ تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بسبب رفع جسمانی اور حضرت رسول کریمﷺ بسبب ظاہری موت اپنے اپنے لوگوں سے جدا ہوئے تھے۔ مقصود اپنی عدم موجودگی کا بیان کرنا ہے اور یہ وجہ مشابہت ہے۔ جس کی بناء پر رسول کریمﷺ نے فرمایا۔ ’’فاقول کما قال العبد الصالح… الخ!‘‘
    ایک اور طرز سے
    مرزاقادیانی! اگر دونوں اولوالعزم حضرات کے اقوال کے درمیان ’’کما‘‘ تشبہی کے باوجود آپ دونوں کے کلام اور اس کے مفہوم کو ایک ہی لینے پر اصرار کرتے ہیں تو کیا فرماتے ہیں۔ جناب مندرجہ ذیل صورتوں میں۔
    ۱… اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’کما بدأنا اوّل خلق نعیدہ (انبیائ:۱۰۴)‘‘ جس طرح پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا پھر اسی طرح پیدا کریں گے؟
    کیا قیامت کے دن تمام مخلوق ماں باپ کے توسل سے ہی پیدا ہوگی۔ کیونکہ پہلی بار تو اسی طرح پیدا ہورہی ہے۔ دیکھا دونوں دفعہ پیدا کرنے میں کس قدر فرق ہے؟ مگر دونوں کو ایک طرح کا قرار دیا ہے۔ اگر آپ کا اصول ’’فلما توفیتنی‘‘ والا یہاں بھی چلایا جائے تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ دوبارہ ماں کے پیٹ سے قیامت کے دن نکلیں گے۔ جیسے آپ پہلے نکلے تھے۔
    (تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)
    ۲… مرزاقادیانی خود آپ کا اپنا الہام ہے۔ ’’الارض والسماء معک کما ہو معی‘‘ اے مرزا زمین اور آسمان تیرے ساتھ اسی طرح ہیں۔ جس طرح میرے (خدا کے) ساتھ۔‘‘
    (انجام آتھم ص۵۲، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    کیا آپ کا مطلب اس سے یہ ہے کہ جیسے خدا ان کا خالق ہے۔ آپ بھی ان کے خالق ہیں۔ جیسے ان میں خدا کی بادشاہی ہے۔ ویسے ہی آپ کی بھی ہے؟
    ۳… اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’فاذکروا اﷲ کذکرکم اباء کم (بقر:۲۰۰)‘‘ یعنی تم اﷲتعالیٰ کو اسی طرح یاد کرو۔ جس طرح تم اپنے باپ داداؤں کو یاد کرتے ہو۔ اب باپ دادؤں کو یاد کرنے کا طریقہ سب دنیا جانتی ہے۔ مرزاقادیانی آپ نے اپنے باپ دادؤں کو یاد کرتے ہوئے ان کی سرکاری خدمات کا ذکر ضروری سمجھا ہے۔ یعنی کہ میرے والد نے سرکار انگریزی کی فلاں فلاں موقعہ پر یہ یہ خدمات سرانجام دیں۔ ’’میرے باپ نے غدر کے موقعہ پر سرکار کو اتنے جوان اور اتنے گھوڑے دئیے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ! مرزاقادیانی کیا آپ خدا کو بھی اس طرح یاد کرتے تھے۔ یعنی خدا نے فلاں فلاں جگہ سرکار انگریزی کی فلاں فلاں طریقہ سے مدد کی۔ اگر اس جگہ ’’ک‘‘ تشبیہی ہے اور اس سے عینیت لازم نہیں آتی۔ تو یقینا ’’فاقول کما قال العبد الصالح‘‘ (میں کہوں گا اسی طرح جس طرح کہا ہوگا بندہ صالح نے) میں بھی دونوں حضرات کی کلام کا حرف بحرف ایک ہونا لازم نہیں آتا۔
    ۴… دوسری جگہ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولہ (مزمل:۱۵)‘‘ یعنی ہم نے اے لوگو تمہاری طرف ایسا ہی رسول بھیجا ہے۔ جیسا رسول کہ (موسیٰ) فرعون کی طرف بھیجا تھا۔
    اب یہاں سوچنے کا مقام ہے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ آگئے تھے؟ اگر ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو آیت زیر بحث میں بھی دونوں حضرات کی کلام لففاً ایک نہیں ہوسکتی۔
    ۵… ایک اور جگہ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’کما بدأکم تعودون (اعراف:۲۹)‘‘ یعنی جس طرح تمہیں بنایا۔ اسی طرح واپس لوٹو گے۔ کیا یہاں بھی آپ کے اصول کے مطابق یہی مراد ہے کہ جیسے پہلے انسان کا ظہور ہوا تھا۔ بعینہ اسی طرح پھر ہوگا۔ اگر یہ نہیں تو دونوں حضرات کی کلام بھی ایک نہیں ہوسکتی۔
    ۶… ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ ہو۔ ’’کتب علیکم الصیام کما کتب علیٰ الذین من قبلکم (البقرہ:۱۸۳)‘‘ یعنی اے مسلمانو! تم پر بھی روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلوںپر۔ کیا مرزاقادیانی آپ کے نزدیک پہلی امتوں پر بھی ماہ رمضان کے روزے فرض کئے گئے تھے اور اپنی تمام جزئیات میں اسی طرح فرض تھے۔ جس طرح مسلمانوں پر؟ یقینا نہیں۔ پس دونوں حضرات کی کلام میں بھی لفظی اور معنوی وحدت کا قائل ہونا تحکم محض ہے۔
    ۷… اس قسم کی مثالوں سے کلام اﷲ بھرا پڑا ہے کہ دو اشیاء کے درمیان تشبیہ بیان کی گئی ہے اور خود تشبیہ کا بیان ہی اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ دونوں چیزیں مختلف ہیں۔
    ۸… خود اسی آیت زیر بحث میں اﷲتعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا دیے ہیں۔ ’’تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک‘‘ یعنی اے اﷲ تو میرے دل کی باتوں کو جانتا ہے اور میں تیرے دل کی باتوں کو نہیں جانتا۔ اب کون عقل کا اندھا اور علم سے کورا یہ خیال کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ نفس سے بالکل ایک جیسے ہیں؟ مرزاقادیانی کاش آپ اس وقت (۱۹۳۵ئ) میں زندہ ہوتے تو ہم آپ سے بالمشافہ گفتگو کرتے اور دیکھتے کہ آپ ہمارے دلائل کا کیا معقول جواب دے سکتے ہیں۔ اچھا اب آپ کے بیٹے ’’فخر رسل‘‘ اور ’’قمر الانبیائ‘‘ اور ’’کانّ اﷲ نزل من السمائ‘‘ کی شان رکھنے والے مرزابشیرالدین محمود کے دلائل کا انتظار کریں گے۔ کیونکہ ’’الولد سر لا بیہ‘‘ بھی تو آخر ٹھیک ہی ہے۔ (اور اب ہم مرزا مسرور سے یہی توقع رکھتے ہیں۔ مرتب) وہ ضرور جواب میں آپ کی نقل کریں گے۔
    • Like Like x 2
  4. ‏ مئی 11, 2021 #4
    Haider rajput

    Haider rajput رکن ختم نبوت فورم

    ماشاء اللہ! بہت بہترین دلائل دے کر اس آیت کا مطلب سمجھایا گیا ہے. اللہ آپ کو اس کا بہترین صلہ دے۔

اس صفحے کی تشہیر