1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

وفی الی توفی

aliali نے 'علم صرف و نحو' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 20, 2014

  1. ‏ جولائی 20, 2014 #1
    aliali

    aliali رکن ختم نبوت فورم

    لغوی معنی سمجھنے سے پہلے کچھ قوانین لغت کو جاننا ضروری ہےاس کے بعد مرزائی دجل سب پہ آشکار ہو جاتا ہے۔مرزائی توفی کی بحث کرتے وقت توفی کا عرفی معنی بیان کرتے ہیں جو محل بحث ہی نہیں۔اور توفی سے بحث اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وفی کا معنی معلوم نہ ہو۔کیونکہ کوئی بھی باب کلام عرب میں ایسا موجود نہیں جس میں اصل مادہ (ف۔ع ۔ل۔حروف اصلیہ)کا معنی نہ پایا جائے۔اور لغات سے معنی تلاش کرنے کے لیے بھی حروف اصلیہ کو مدار بنایا جاتا ہے اس کےبعد مصدر کے معنی حاصل کرکےپھر دیگر مشتقات و ابواب مزید کے معنی کا حصول کیا جاتا ہے۔اور مرزائی منطق قوانین لغت کے خلاف ہے۔وہ اصل مادے کےمعنی کو چھوڑ کر مزید کے ابواب کا معنی کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مثلا کہ توفی کا معنی موت ہے وغیرہ۔جبکہ اصول یہ ہے کہ اصل کا معنی کیا ہے اور اس کا استعمال کس باب میں کس وقت کس طرح کیا جائے گا۔اس تمہید سے یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ لغت سے معنی اخذ کیسے کیا جاتا ہے۔
    اصول۔2۔
    کہ لفظ کا استعمال کس طرح کیا جائے اور کن معنی میں استعمال کیا جائے گا۔
    نثر و اشعار میں اس کا استعمال کیسے ہوتا ہے
    3۔معنی کے استعمال میں قرائن کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔
    4۔معنی مستعمل اور متروک کو پہچننا اشد ضروری ہے۔
    5۔اسی طرح لغوی اور اصطلاحی ،حقیقی و مجازی معنی کی پہچان اشد ضروری ہے۔
    6۔اسی طرح مطابقی و تضمنی و التزامی معنی کی پہچان ہونا ضروری ہے۔
    7۔اسی طرح اصل معنی سے اعراض کی وجوہات کا علم ہونا ضروری ہے۔
    اگران قوائد و ضوابط کا خیال رکھا جائے تو کسی مرزائی کا دجل آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا۔کیا مرزائی فرقے نے ان قوائد کی پابندی کی؟
    ان اصولوں کی روشنی میں ہم باب وفی سے توفی تک بحث کرتے ہیں۔
    1۔جو کلمہ و۔ف۔ ی۔ سے مرکب ہو اس کے معنی ،تمام اور اکمال کے ہوتے ہیں۔(مغرب ،ج 2۔ص257)
    یعنی جس کلمہ کے حروف اصلیہ و۔ف۔ی۔ہو اس کے معنی تمام اور اکمال کے ہوں گےاور اس سے یہ بات بھی ہو گئی کہ اصل کا معنی تمام و اکمال کے ہوئے تو مزید کے ابواب میں بھی یہی معنی جاری ہو نگے۔ورنہ مرزائی کوئی ایسا باب دیکھایں جس میں اصل کے خلاف معنی پایا جائے
    2۔اسی طرح توفی کو جب وفی سے بنایا گیا ہے تو اس میں معنی بھی وفی سے لیا جائے گا۔
    3۔توفاہ ۔ای اخذ کلہ۔اس نے وہ سارے کا سارا لیا۔
    4۔اتوفی تمرک بخیبر۔عاصم بن عدی جو خالص عربی ہیں اور صحابی رسول بھی۔آپ نے لفظ توفی کو اس معنی میں استعمال کیا ۔(میں خیبر میں تیری سب کی سب کھجوریں لے لوں گا)
    5۔توفاہ۔ای لم یدع منہ شیئا۔(تاج العروس )اس نے اس کے پاس کچھ نہیں چھوڑا۔
    6۔توفیت منہ مالی علیہ ای لم یبق علیہ شئی۔میں نے اس سے قرض کا پوراپورا مال وصول کر لیا۔
    7۔توفا ہ استکملہ۔اس نے اس کو مکمل کر لیا (اساس البلاغہ)
    8۔توفی اور استیفاءدونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتا ہے(مصباح المنیر)
    9۔قد یعبر عن الموت و النوم بالتوفی۔توفی کو موت اور نیند سے تعبیر کرتے ہیں۔
    10۔ان بنی الادرد لیسوا من احد۔۔۔۔۔۔ولا توفیھم قریش فی عدد۔بنی ادرد تو کسی گنتی میں نہیں ہیں اور قریش نے ان کی پوری پوری گنتی نہیں کی۔(معانی القرآن)
    ہم نے اھل عرب سے وفی اور توفی کا حقیقی معنی ذکر کیا اور محاورات اور اشعار میں اس کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے بیان کیا- جب ان امثلہ سےیہ بات واضح ہو گئی کہ توفی اکمال، نیند، موت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو دیکھا یہ جائے گا کہ کس معنی میں کس جگہ اور کس وقت استعمال ہو گا۔ اگر حقیقی معنی مراد ہے تو مجازی اور عرفی معنی کوترک کیا جائے گا۔ لہذا یہ دعوی کرنا کہ توفی کا معنی بس موت ہے لغت کی رو سے غلط ہے کیونکہ دیگر معنی موجود ہیں۔ان کا انکار سورج کا انکار ہے ۔
    مرزائی دعویٰ کہ باب تفعل کا فاعل اللہ ہو اور مفعول ذی روح ہو تو موت کے سوا کوئی معنی نہ ہو گا۔
    تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ ھو الذی یتفاکم بالیل اس آیت میں اللہ فاعل ، مفعول ذی روح اور باب تفعل ہے۔ اس آیت میں موت کا معنی ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ ورنہ ہر موت کو رات میں تسلیم کرنا پڑے گا۔ یعنی دن میں کوئی موت ہوتی ہی نہیں ۔تو لہذا یہ بات بدیہی طور پر غلط ہے اور یہاں نیند کے معنی میں اس باب کو استعمال کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔جار ی ہے
    • Like Like x 1
  2. ‏ جولائی 20, 2014 #2

اس صفحے کی تشہیر