1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

و من نعمره ننکسه في الخلق افلا يعقلون کیا حیات مسیح کا رد کرتی ہے؟ ایک مرزائی ڈھکوسلے کا رد

حمزہ نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 18, 2014

  1. ‏ جولائی 18, 2014 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الخَلْقِ أَفَلاَ يَعْقِلُونَ (یس ۶۸)
    ترجمہ:اور ہم جس کو زیادہ عمر دے دیتے ہیں اسے طبعی حالت پرلوٹا دیتے ہیں کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے؟
    مرزا قادیانی: چودھویں یہ آیت ہے وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الخَلْقِ أَفَلاَ يَعْقِلُونَ۔یعنی جسؔ کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں تو اُس کی پیدائش کو اُلٹا دیتے ہیں۔ یعنی انسانیت کی طاقتیں اور قوتیں اس سے دور ہوجاتی ہیں۔ حواس میں اس کے فرق آجاتا ہے۔ عقل اس کی زائل ہوجاتی ہے۔ اب اگر مسیح ابن مریم کی نسبت فرض کیا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں تو یہ ماننا پڑے گاکہ ایک مدت دراز سے اُن کی انسانیت کے قویٰ میں بکلّی فرق آگیا ہوگا اور یہ حالت خود موت کوچاہتی ہے اور یقینی طور پر ماننا پڑتا ہے کہ مدت سے وہ مر گئے ہوں گے۔(روحانی خزائن جلد ۳۔اِزالہ اوھام: صفحہ 429)

    جواب: اس آیت میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ا ور نہ یہ آیت وفات مسیح علیہ السلام پر دلالت کرتی ہے۔مرزا یا مرزائیوں کی جو وجہ استدلال ہے وہی درست نہیں کیونکہ جب زیادتی عمر کی کوئی حد مقرر ہی نہیں کہ جب انسان اس حد تک پہنچ جائے تو پیر فرتوت ہو جاتا ہے۔ یعنی بوڑھا وہ بھی ایسا کہ اس کے حواس قائم نہ رہیں۔ انسان کی فطرت مختلف طاقتوں اور قوتوں والی بنائی گئی ہے اور یہ مشاہدہ ہے کہ کئی لوگ پچاس ۵۰ برس سے زیادہ عمر کے ہوئے اور ان کی طاقتیں بالکل سلب ہو جاتی ہیں اور بچپن کا زمانہ عود کر آتا ہے۔ مگر بعض ایسے طاقتور ہوتے ہیں کہ اسی نوے سال تک ان کی نظر قائم رہتی ہے اور حواس بجا رہتے ہیں اور ایسی صائب رائیں دیتے ہیں کہ جوانوں کو بھی وہ باتیں نہیں سوجھتیں جو ان کو سوجھتی ہیں۔ مسلمہ کذاب کی عمر ڈیڑھ سو سال کی تھی اور جب مسلمانوں سے مقابلہ تھا تو ایسی ایسی تدبیریں اس کو سوجھتی تھی کہ بہت سے جوانوں کو نہ سوجھتی تھیں۔ زیادتی عمر نے اس کی قوتوں میں کچھ کمی نہ کی۔ پنجاب میں ایک مثل مشہور ہے کہ فلاں شخص سترا بہترا گیا ہے۔ یعنی بیوقوفی کی باتیں کرتا ہے حالانکہ ہزاروں اشخاص کے حق میں یہ مثال غلط ہوتی ہے۔ حکیم نور الدین قادیانی کی عمر زیادہ ہو چکی تھی مگر ان کو قادیانی مشن کی ترقی کے وہ دجل سوجھتے تھے کہ کسی جوان مرزائی کو ان کا گمان نہ ہوتا۔ پس جب عمر کی طاقتوں کی کوئی حد نہیں تو پھر یہ قیاس ہی غلط ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زیادتی عمر کے باعث معاذ اللہ نکما ہو گئے ہوں گے۔
    پھر کیونکہ مرزا قادیانی تسلیم کرتا ہے کہ اللہ تعالی کا انبیاء علیہم السلام سے معاملہ خاص ہے اور مسیح علیہ السلام بھی نبی اور رسول ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ بھی معاملہ خاص ہے۔ کہ وہ تا نزول زندہ رہیں گے اور دراز عمری کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑھے گا۔ جیسے اصحاب کہف جس عمر اور طاقت کے ساتھ سوئے تھے ، باوجود عرصہ دراز 309 سال گزر جانے کے وہ اسی عمر اور طاقت سے اٹھے اور زمانہ کے اثر سے محفوظ رہے۔ جب نظیریں موجود ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی عمر 1400 برس کی تھی اور زمانہ کے اثر سے وہ محفوظ رہے۔ حضرت شیث کی عمر 912 سال تھی اور ان کی طاقتوں میں کوئی فرق نہ آیا تو ثابت ہو مرزائیوں کا یہ کلیہ باطل ہے۔

    اللہ نے کوئی طبعی عمر مقرر نہیں کی ہوئی اور نہ ہی کوئی پیری وغیرہ کا زمانہ مقرر فرمایا ہے تو پھر یہ غلط خیال ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر تغیر کا زمانہ آگیا ہو گا، جبکہ ثبوت موجود ہیں کہ آسمانی مخلوق بہ نسبت زمینی مخلوق کے الطف اور اکمل ہے اور زمانہ کا اثر ان پر کم ہوتا ہے یا بالکل نہیں ہوتا۔ جب سے دنیا بنی ہے چاند و سورج و ستارے وغیرہ اپنے اپنے کام میں بخکم ایزد متعال لگے ہوے ہیں اور کوئی بوڑھا نہیں ہوا۔ کوئی فرشتہ بوڑھا ہو کر پاگل نہیں ہوا، حاملانِ عرش نے بوڑھے ہو کر اور کم طاقت ہو کر عرش الٰہی کو پھینک نہیں دیا تو حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر کس طرح زمانہ کے اثر سے نُّعَمِّرْهُ ہو کر نکمے ہو سکتے ہیں۔ یہ صرف اور صرف قدرت و جبروت سے لا علمی کا باعث ہے اور مرزائی اس خیی و قیوم خدا کی قدرت لا محدود سے نا واقفیت کا سبب ہے کہ مرزا اور مرزائیوں کو ایسے وہم و قیاس سوجھتے ہیں۔ورنہ جس کا یہ اعتماد ہو کہ خدا تعالی قادرِ مطلق جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس نے صرف ایک امر کُن سے تمام کائنات کو ایک دم بنا کھڑا کیا ہے اس کے آگے ایک انسان کو دراز عمر کا دینا اور تا نزول زندہ رکھنا کچھ مشکل نہیں۔
    حیرت کی بات ہے کہ قادیانی مانتا ہے کہ خدا نے ابراہیم علیہ السلام پر آگ سرد کر دی جو بالکُل قانون قدرت کے خلاف ہے۔ مگر دوسری طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے زیادہ عمر پانے سے انکار کرتے ہیں۔ اور ایسے ایسے ردی دلائل پیش کرتے ہیں کہ بقول مرزا قادیانی کے ارذل عمر کا ثبوت ہے۔ پس اس آیت سے وفات مسیح علیہ السلام کا استدلال غلط ہے۔
    [​IMG]
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر