1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

چاند اور سورج گرہن کا مشہورِ زمانہ مرزائی دھوکہ

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 17, 2016

  • by خادمِ اعلیٰ, ‏ فروری 17, 2016 4:00 صبح
  • ‏ فروری 17, 2016 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    چاند اور سورج گرہن کا مشہورِ زمانہ مرزائی دھوکہ


    مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں کئی جگہ یہ دھوکہ دیا ہے اور آج جماعت مرزائیہ بھی یہ فریب دیتی نظر آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آںے والے مہدی کی ایک نشانی یہ بیان فرمائی تھی کہ اس کے زمانے میں رمضان کے مہینے میں چاند اور سورج گرہن ہوگا ، اور مرزا قادیانی کے زمانے میں یہ نشان اس طرح پورا ہوا کہ رمضان کی تیرھویں سب چاند اور اسی رمضان کی اٹھائیس (28) تاریخ کو سورج گرہن ہوا ، لہذا مرزا قادیانی ہی مہدی ہے ۔
    قارئین محترم ! مرزا نے قادیانی نے انتہائی بے شرمی کے ساتھ اس بات کو " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان " لکھا ، جبکہ دنیا کی کسی کتاب میں یہ ذکر نہیں کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے ، آج بھی جماعت مرزائیہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اسی ضد پر اڑی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جبکہ وہ خود جس کتاب کے حوالے سے یہ ( جھوٹی ) روایت پیش کرتے ہیں اس میں بھی یہ نہیں لکھا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ، آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں یہ روایت جو " سنن دارقطنی " کے حوالے سے پیش کی جاتی ہے اس کی سند اور الفاظ کیا ہے ، اس کے بعد ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اس کی سند میں کون کون روای " کذاب اور جھوٹا " ہے اور پھر یہ بھی بتائیں گے کہ بالفرض اگر اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو جیسے سورج اور چاند گرہن کا اس میں ذکر ہے ویسا گرہن مرزا قادیانی کی زندگی میں تو کیا بلکہ آج تک نہیں لگا ، سب سے پہلے روایت کی سند اور الفاظ :۔

    " حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِصْطَخْرِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ , ثنا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ , ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , قَالَ: «إِنَّ لَمَهْدِيِّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ , يَنْخَسِفُ الْقَمَرُ لَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ , وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ , وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» " ( سنن الدارقطني ، جلد 2 صفحات 419 تا 420 )

    ترجمہ :۔ عمرو بن شمر ( جعفی کوفی ) نے جابر ( بن یزدی جعفی ) سے اور اس نے " محمد بن علی " سے روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ : ہمارے مہدی کی دو ایسی نشانیاں ہیں کہ جب سے زمین و آسمان بنے ہیں یہ دونوں کبھی واقع نہیں ہوئیں ( پہلی نشانی ) رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا اور ( دوسری نشانی ) رمضان کے نصف میں سورج گرہن ہوگا ، اور یہ دونوں ( گرہن ) جب سے زمین و آسمان بنے ہیں کبھی نہیں لگے ۔
    دوستو ! یہ اس روایت کے عربی الفاظ اور سند جسے مرزا قادیانی کے مہدی ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، اس روایت میں مندرجہ زیل باتیں قابل غور ہیں ۔
    جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز نہیں بلکہ کسی " محمد بن علی " نامی بزرگ کی طرف منسوب قول ہے ( جماعت مرزائیہ کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضرت زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے امام باقر رحمتہ اللہ علیہ ہیں ، اگر اس دعویٰ کو صحیح بھی فرض کر لیا جائے تو بھی یہ بات حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز نہیں بن سکتی بلکہ امام باقر تو صحابی بھی نہیں کہ یہ فرض کیا جائے کہ انہوں نے یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوگی) ۔
    اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ بات " امام باقر رحمتہ اللہ علیہ " نے ہی فرمائی ہے اور اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی ان کے الفاظ ہیں " إِنَّ لَمَهْدِيِّنَا آيَتَيْنِ " ہمارے مہدی کی یہ دو نشانیاں ہیں ، اور ہمارے مہدی سے مراد وہ مہدی ہیں جو عترت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولاد فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھا سے ہوں گے ، قادیانی وہ احادیث کیوں بھول جاتے ہیں جن کے اندر خاندان سادات کے چشم و چراغ مہدی کا تعارف بیان ہوا ہے ؟ نیز مرزا قادیانی تو ان تمام روایات کو ضعیف لکھ چکا جن کے اندر مہدی کا زکر ہے پھر یہ روایت کیسے صحیح ہوگئی ؟؟
    اس روایت کی سند میں دو روای " عمرو بن شمر اور جابر جعفی " جھوٹے اور ضعیف ہیں جن کا تعارف ہم آگے بیان کریں گے ۔

    اس روایت کے عربی الفاظ میں صاف طور پر یہ بیان ہے کہ " چاند گرہن رمضان کی پہلی رات کو " لَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ " اور سورج گرہن ماہ رمضان کے نصف " وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ " میں لگے گا ، اور واقعی رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور ماہ رمضان کے نصف میں سورج گرہن آج تک نہیں لگا ، واضح رہے کہ یہاں یہ الفاظ نہیں کہ " چاند گرہن والی راتوں میں سے پہلی رات میں چاند گرہن اور سورج گرہن والے دنوں میں سے درمیان والے دن میں سورج گرہن لگے گا " جیسے مرزا قادیانی نے کئی جگہ اپنی طرف سے یہ الفاظ اس روایت میں اضافہ کیے ہیں ( اس کی جہالت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے اس نے " النِّصْفِ مِنْهُ " کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " سورج گرہن کے دنوں میں سے درمیانے دن سورج گرہن ہوگا " جب کے عربی میں " نصف " کہتے ہیں آدھے کو نہ کہ درمیانے کو بلکہ درمیانے کے لئے عربی میں " وسط " کا لفظ آتا ہے) ۔۔

    نیز اس روایت میں دو بار یہ ذکر ہے کہ " ایسا گرہن جب سے زمین و آسمان بنے ہیں کبھی نہیں لگا " یہاں ہرگز ایسا کوئی زکر نہیں کہ " کسی مدعی مہدیت کے زمانے میں ایسا چاند یا سورج گرہن نہیں لگا " بلکہ مطلقاََ ایسا گرہن نہ لگنے کا ذکر ہے ، اور جیسا گرہن مرزا قادیانی کی زندگی میں بتایا جاتا ہے ویسا گرہن مرزا سے پہلے کئی بار لگ چکا ہے اور مرزا کے بعد بھی جب تک یہ نظام فلکی موجود ہے لگتا رہے گا ، اور مزے کی بات سنہ 1851ء بمطابق 1267ھ میں جب مرزا کی عمر ابھی گیارہ یا بارہ سال تھی رمضان المبارک کی انہی تاریخوں میں یعنی 13 رمضان کو چاند گرہن اور 28 رمضان کو سورج گرہن لگا تھا اور اس وقت " محمد احمد سوڈانی " موجود تھا جس نے بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا ، یہ وضاحت ہم نے اس لئے کر دی کہ مرزا قادیانی نے انتہائی چالاکی کا ثبوت دیتے ہوئے اس روایت ا ترجمہ کرتے ہوئے لکھا تھا :۔

    " ترجمہ تمام حدیث کا یہ ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں جب سے زمین و آسمان کی بنیاد ڈالی گئی وہ نشان کسی مامور اور مرسل اور نبی کے لئے ظہور میں نہٰں آئے " ( خزائن جلد 17 صفحہ 132 )
    ایک اور جگہ یوں لکھا :۔
    " اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اسی پر دلالت کر رہے ہیں ، اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں دونوں گرہن رمضان میں کبھی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے " ( خزائن جلد 22 صفحہ 203 )

    جبکہ اس جھوٹی روایت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس کا ترجمہ ہو کہ " جب سے زمین و آسمان بنے ہیں یہ نشان کسی مامور ، مرسل اور نبی یا کسی مدعی نبوت و رسالت کے لئے ظہور میں نہیں آئے " بلکہ روایت کے الفاظ کا ترجمہ صرف یہ ہے کہ " جب سے زمین و آسمان کی پیدائش ہوئی ہے ایسا چاند گرہن اور سورج گرہن کبھی نہیں ہوا " اس میں نہ مامور کا کوئی ذکر اور نہ مدعی نبوت و رسلات کا لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مرزا قادیانی کا دعوائے مہدیت دراصل اس کا دعوائے نبوت و رسالت بھی تھا ؟ کیا مرزا کی یہ بات سچ ہے کہ جب اس کے مطابق رمضان المبارک سنہ 1894ء میں سورج اور چاند گرہن ہوئے تو اس وقت تک وہ نبوت و رسالت کا دعویٰ کر چکا تھا جو وہ یہ لکھ رہا ہے کہ کسی مدعی نبوت و رسالت کے وقت میں بھی کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے ؟ ہرگز نہیں کیونکہ مرزا قادیانی نے اس کے تین سال بعد جنوری 1897ء میں مولوی غلام دستگیر صاحب کے جواب میں ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں لکھا :۔

    " ان پر واضح رہے کہ ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بیجھتے ہیں اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہیں اور آںحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور باتباع آنجناب صلے اللہ علیہ وسلم اولیا اللہ کو ملتی ہے اس کے ہم قائل ہیں " تین سطروں کے بعد آگے لکھا " غرض جبکہ نبوت کا دعویٰ اس طرف سے بھی نہیں صرف ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے " ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 2 )

    اب اس معمہ کو مرزا قادیانی کا کوئی مرید ہی حل کرسکتا ہے کہ جب 1897ء ت مرزا خود مدعی نبوت پر لعنت بیجھتا تھا تو اس سے تین سال قبل 1894ء میں اگر وہ خود مدعی نبوت و رسالت تھا تو یہ لعنت اس پر پڑی یا نہیں ؟؟

    مرزا قادیانی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ


    دوستو ! آپ نے دیکھا کہ سنن دارقطنی میں جو روایت ہے اس میں کسی " محمد بن علی " کا قول بیان ہوا ہے لیکن مرزا قادیانی لکھتا ہے :۔
    " فاخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر الانام ان الشمس تنکسف عند ظھور المھدی فی النصف من ھذہ الایام یعنی الثامن والعشرین قبل نصف النھار " پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ سورج گرہن مہدی کے ظہور کے وقت ایام کسوف کے نصف میں ہوگا یعنی اٹھائیسویں تاریخ میں دوپہر کے وقت " ( خزائن جلد 8 صفحہ 209 )

    اس تحریر میں ایک تو مرزا قادیانی نے نہایت بے شرمی کے ساتھ اس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بتایا ہے جو کہ سراسر جھوٹ ہے ، دوسرے محمد بن علی نام شخصیت کی طرف منسوب اس قول میں ہرگز ایسا کوئی لفظ نہیں جس کا ترجمہ یہ ہو کہ " سورج گرہن ایام کسوف کے نصف میں ہوگا " اور نہ ہی وہاں اٹھائیسویں تاریخ یا دوپہر سے پہلے کا کوئی ذکر ہے ، بلکہ وہاں لفظ ہیں " فی النصف منہ " رمضان کے مہینے کے نصف میں ہوگا ، اور رمضآن کا نصف اٹھائیس تاریخ نہیں ہوسکتا ، مرزا نے اٹھائیس تاریخ بن کر دوسرا دھوکہ دیا ہے ۔

    اپنی اسی کتاب میں مرزا قادیانی نے دوبارہ یہ جھوٹ اس طرح لکھا کہ :۔

    " فاعلموا ایھا الجھلاء والسفھاء ان ھذا حدیث من خاتم النبیین وخیر المرسلین وقد کتب فی الدارقطنی الذی مر علی تالیفہ ازید من الف سنۃ " اے جاہلو اور بےوقوفو ! جان لو کہ یہ خاتم النبیین اور خیرالمرسلین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی حدیث ہے جو دارقطنی نے لکھی ہے جس کی تالیف پر ہزار سال سے زیادہ کا عرضہ گزر چکا ہے" ( خزائن جلد 8 صفحہ 353 )

    کیا مرزا قادیانی کا کوئی ماننے والا یہ بات " خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم " کا فرمان ثابت کرکے مرزا قادیانی کو جہنمی ہونے سے بچا سکتا ہے ؟ پھر قارئین کی معلومات کے لئے عرض کر دوں کہ یہاں مرزا قادیانی نے ایک اور جہالت کا ثبوت بھی دیا ہے کہ وہ اس طرح کے اس کی یہ کتاب " نورالحق حصہ دوم " پہلی بار سنہ 1311 ہجری میں شائع ہوئی ( جیسا کہ کتاب کے بار اول کے ٹائٹل پر لکھا ہے ) اور مرزا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ " سنن دارقطنی کی تالیف پر ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے " اب اگر 1311 ہجری میں سے ایک ہزار سال نکالیں جائیں تو جواب آتا ہے 311 ہجری ، اور اس وقت امام دارقطنی رحمتہ اللہ علیہ کی عمر صرف پانچ سال تھی کیونکہ ان کی پیدائش سنہ 306 ہجری میں ہوئی تھی تو کیا جماعت قادیانیہ کا کوئی مؤرخ یہ ثابت کر سکتا ہے کہ امام دارقطنی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ کتاب صرف تین یا چار سال کی عمر میں تالیف کی تھی ؟ تاکہ مرزا کی یہ بات سچ ثابت ہوجائے کہ سنہ 1311ہجری تک اس کتاب کی تالیف پر " ہزار سال کا عرصہ " گزر چکا تھا ؟؟


    یہ روایت جھوٹی اور موضوع ہے


    حقیقت حال یہ کہ یہ روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے اور کذاب روایوں نے " محمد بن علی" کے نام سے گھڑی ہے ، ملاخط فرمائیں اس کے دو روایوں کا تعارف :۔
    " عمر و بن شمر الجعفی الکوفی "
    ان کا تعارف حافظ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ نے کچھ یوں کروایا ہے ۔


    امام یحییٰ بن معین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ کچھ بھی نہیں
    امام جوزجانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ جھوٹا ہے
    امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " یہ رافضی ہے جو صحابہ کو گالیاں دیتا تھا اور ثقہ لوگوں کے نام سے موضوع حدیثیں بنایا کرتا تھا
    امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ منکر الحدیث ہے
    امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ ضعیف ہے
    خود امام دارقطنی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ ضعیف ہے
    امام سیلمانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ رافضیوں کے لئے حدیثیں گھڑا کرتا تھا
    امام ابو حاتم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " یہ منکرالحدیث ، ضعیف اور متروک ہے
    امام ابو زرعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " یہ ضعیف ہے
    امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ ثقہ نہیں ہے اور اسکی حدیث نہ لکھی جائے
    امام ابن سعد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ بہت زیادہ ضعیف اور متروک الحدیث ہے
    اام ساجی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " یہ متروک الحدیث ہے
    امام ابو احمد حاکم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ جابر جفعی سے موضوع روایات بیان کیا کرتا تھا
    امام عقیلی رحمتہ اللہ علیہ ، امام ابن جارود رحمتہ اللہ علیہ ، امام دولابی رحمتہ اللہ علیہ اور امام ابن شاہین رحمتہ اللہ نے اسے ضعیف روایوں میں شمار کیا ہے
    امام ابو نعیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یہ جابر جفعی سے منکر اور موضوع حدیثیں بیان کیا کرتا تھا
    ( لسان المیزان ۔ جلد 6 صفحہ 210 تا 211 )
    خود امام دارقطنی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب " الضعفاء والمتروکون " ( یعنی وہ روای جو ضعیف اور متروک ہیں ) میں عمرو بن شمر کوفی کا تذکرہ بھی کیا ہے
    ( الضعفاء والمتروکون للدارقطنی ، صفحہ 308 )

    " جابر بن یزید الجفعی الکوفی "

    اس روایت کے ایک روای یہ صاحب ہیں اگرچہ بعض ائمہ سے ان کی توثیق منقول ہے لیکن اکثریت انہیں ثقہ نہیں سمجھتی ، ملاخط فرمائیں

    امام یحییٰ بن معین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا " جابر جھوٹا ہے ۔
    امام لیث بن سلیم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا " وہ جھوٹا ہے
    امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " میں نے جابر جفعی سے بڑا جھوٹا نہیں دیکھا
    امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں ۔امام یحییٰ قطان رحمتہ اللہ علیہ نے جابر کو ترک کردیا تھا
    امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے " وہ متروک ہے ۔
    امام ابو داؤد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " میرے نزدیک وہ حدیث میں قوی نہیں ہے
    امام ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ کا کہنا ہے " میں نے جابر کو ترک کردیا
    امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں " جابر ( بارہوں امام ) کی رجعت پر ایمان رکھتا تھا
    امام جوزجانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " وہ کذاب ( جھوٹا ) ہے
    امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " وہ سبائی تھا اور عبداللہ بن سبا کی پارٹی سے تھا
    امام عقیلی رحمتہ اللہ علیہ امام زائدہ رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں " واہ روافضی تھا اور صحابہ رضی اللہ عنھم کو گالیا دیتا تھا
    ( میزان الاعتدال ، جلد 1 صفحات 351 تا 354 )
    امام زہبی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں " جابر شیعہ کے بڑے علماء میں سے تھا ، اگرچہ امام شعبہ رحمتہ اللہ علیہ نے اسکی توثیق کی ہے لیکن وہ توثیق شاذ ہے ، حفاظ حدیث کے نزدیک یہ متروک روای ہے ۔( الکاشف فی من لہ روایۃ فی الکتب السنۃ ، جلد 1 صفحہ 288 )
    ابو عوانہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ اور شعبہ رحمتہ اللہ علیہ نے مجھے جابر( جفعی ) سے حدیث لینے سے منع کیا ۔
    یحییٰ بن یعلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " اللہ کی قسم وہ جھوٹا تھا
    امام عقیلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے اسے جھوٹا کہا ہے
    امام ابن سعد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں " وہ بہت زیادہ ضعیف تھا
    امام ساجی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں " سفیان بن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ نے اسے جھوٹا کہا ہے
    میمونی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کیا جابر جفعی جھوٹ بولتا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ۔
    ( تہذیب التہذیب ، جلد 1 صفحہ 283 تا 286 )
    حافظ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں " یہ ضعیف اور رافضی ہے ؎
    ( تقریب التھذیب ، صفحہ 137 )
    قارئیں محترم ! ہمارے خیال میں یہ روایت جس میں چاند اور سورج گرہن کو مہدی کی نشانی بتایا گیا کہ عمرو بن شمر نے گھڑی ہے اور " محمد بن علی " کے نام سے تھوپ دی ہے ، اور تمام علماء حدیث کا اس پر اتفاق ہے کہ " عمرو بن شمر " کا کام ہی جھوٹی روایتیں بنانا تھا ۔

    چند مرزائی شبہات کا ازالہ



    خود مرزا غلام قادیانی نے بڑی صراحت کے ساتھ لکھا تھا کہ " جو روایت امام بخاری( رحمتہ اللہ علیہ) کی شرط کے مخالف ہو وہ قابل قبول نہیں " ( خزائن جلد 17 صفحہ 119 تا 120 ) اسی طرح مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھا تھا کہ مہدی کے بارے میں جس قدر احادیث ہیں سب مجروح اور مخدوش ہیں ار ایک بھی ان میں صحیح نہیں ، پھر سنن ابن ماجہ اور سنن دارقطنی کی وہ روایت جو حقیقت میں ضعیف اور ناقابل قبول ہیں کس طرح " صحیح ترین " بن گئیں ؟ ، بلکہ چاند اور سورج گرہن والی اس جھوٹی روایت کو نہایت بے شرمی کے ساتھ " حدیث رسول اللہ " لکھا گیا اور آج بھی لکھا جاتا ہے ، دوسری طرف خود جماعت مرزائیہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ علم اصول حدیث کے مطابق یہ روایت جھوٹی اور ناقابل اعتبار ہے لیکن پھر اسے صحیح ثابت کرنے اور مرزا قادیانی کو مہدی بنانے کے لئے چند احمقانہ دلیلیں دیتی ہے ، مختصر طور پر ان شبہات کا جائزہ لیتے ہیں ۔


    پہلا اعتراض کہ اس روایت میں بیان کی گئی بات کا پورا ہو جانا ثابت کرتا ہے کہ یہ روایت سچی ہے

    جواب یہ ہے کہ یہ مرزائی دعویٰ ہی غلط ہے اس روایت میں بیان کی گئی بات پوری ہوئی ، کیا مرزا کا کوئی چیلا بتا سکتا ہے کہ اس روایت کے الفاظ کے مطابق رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور رمضان کے نصف میں سورج گرہن کب لگا ؟ نیز یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں بلکہ عمروبن شمر جیسے رافضی اور جھوٹے روای کی گھڑی ہوئی روایت ہے جو اس نے " محمد بن علی " کی طرف منسوب کر دی ۔

    دوسرا اعتراض کہ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور رمضان کے نصف میں سورج گرہن ہو ہی نہیں سکتا۔

    جواب یہ کہ اگر رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور نصف رمضان کو سورج گرہن ہو ہی نہیں سکتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایت جھوٹی ہے کیونکہ اس میں تو یہی ذکر ہے کہ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور رمضان کے نصف میں سورج گرہن ہوگا ، نیز اس روایت میں دو بار یہ بیان ہوا ہے کہ ایسا گرہن جب سے زمین و آسمان بنے ہیں کبھی نہیں لگا جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس روایت میں ایسے گرہن کی بات ہو رہی ہے جو خلاف عادت ہوگا ، اور جیسا گرہن مرزا قادیانی کی زندگی میں لگا ( یعنی رمضان کی تیرھویں رات کو چاند گرہن اور اٹھائیس رمضان کو سورج گرہن ) ایسا گرہن تو مرزا سے پہلے بھی ہزاروں بار لگ چکا ہے اور جب تک زمین و آسمان ہیں لگتا رہے گا بلکہ جیسا بیان ہوا تھا کہ " سوڈانی مہدی " کی زندگی میں بھی لگ چکا ہے ۔


    تیسرا اعتراض کہ مہینے کی پہلی رات کے چاند کو " ہلال " کہتے ہیں جبکہ روایت میں " قمر " کا لفظ ہے ۔ مرزا قادیانی نے بھی یہ مغالطہ دیا ہے کہ اس روایت میں ہے کہ " يَنْخکسِفُ الْقَمَرُ لَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ " جس کا ترجمہ ہے کہ " رمضان کی پہلی رات کو قمر یعنی چاند گرہن ہوگا " یہاں مہینے کی سب سے پہلی رات ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ پہلی رات کے چاند کو عربی میں " ھلال " کہتے ہیں نہ کہ " قمر " لہذا اس کا مطلب یہی ہے کہ چاند گرہن والی تین راتوں یعنی 13 ، 14 اور 15 میں سے پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا ، چنانچہ مرزا لکھتا ہے کہ :۔" مولویت کو بدنام کرنے والو ! زرہ سوچو ! حدیث میں چاند گرہن میں قمر کا لفظ آیا ہے پس اگر یہ مقصور ہوتا کہ پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا تو حدیث میں قمر کا لفظ نہ آتا بلکہ ہلال کا لفظ آتا کیونکہ کوئی شخص اہل لغت اور اہل ذبان میں سے پہلی رات کے چاند پر قمر کا اطلاق نہیں کرتا بلکہ وہ تین رات تک ہلال کے نام سے موسوم ہوتا ہے " ( خزائن جلد 11 صفحہ 331 ) ایک جگہ یوں لکھتا ہے :۔ " اے حضرات ! خدا سے ڈرو جبکہ حدیث میں قمر کا لفظ موجود ہے اور بالاتفاق قمر اس کو کہتے ہیں جو تین کے بعد یا سات دن کے بعد کا چاند ہوتا ہے " ( خزائن جلد 17 صفحہ 138 تا 139 )


    جواب یہ کہ دراصل یہ مرزا قادیانی کی جہالت ہے کہ وہ دعویٰ کر رہا ہے کہ " قمر کا اطلاق پہلی تاریخوں کے چاند پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا اطلاق تین یا سات دن کے بعد والے چاند پر ہوتا ہے " جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مہینہ کی پہلی شب سے لیکر آخری شب تک کے چاند کو عربی میں قمر کہتے ہیں صرف چاند کے مختلف اوقات مختلف حالتوں اور مختلف صفات کے لحاظ سے کبھی اسی قمر کو ہلال اور کبھی بدر کہا جاتا ہے لیکن ہوتا وہ بھی قمر ہی ہے ،، آسان لفظوں میں ایسے سمجھیں کہ قمر کا اردو ترجمہ ہے " چاند " اور جس طرح اردو میں پہلی رات سے آخری رات تک کے چاند کو چاند ہی کہتے ہیں اسی طرح عربی میں پورے مہینے کے چاند کا اصلی نام " قمر " ہی ہے ، قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے " وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ " اور چاند ہے کہ ہم نے اس کی منزلیں ناپ تول کر مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ وہ جب ( ان منزلوں کے دورے سے ) سے لوٹ کر آتا ہے تو کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح ( پتلا ) ہو کر رہ جاتا ہے ۔ ( سورہ یٰسٓ آیت 39 )

    ایک اور جگہ ارشاد ہے " هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ " اور اللہ وہی ہے جس نے سورج کو سراپا روشنی بنایا اور چاند کو سراپا نور ، اور اس کے ( سفر ) کے لئے منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور ( مہینوں کا ) حساب معلوم کر سکو ۔ ( سورہ یونس آیت 5 ) ، ان دونوں آیات میں پورے مہینے کے چاند پر قمر کا لفظ بولا گیا ہے خواہ وہ پہلی رات کا چاند ہو یا کسی دوسری تاریخ کا ، یہی بات آئمہ لغت نے بھی لکھی ہے ، چنانچہ مشہور لغت کی کتاب " تاج العروس من جواھر القاموس " میں لکھا ہے :۔
    " الهِلالُ بِالكَسْرغُرَّةُ القَمَرِ " ہلال کہتے ہیں قمر کی ابتدائی صورت کو ، آگے لکھا ہے " يُسَمَّى القَمَرُ لِلَيْلَتَيْن مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ هِلَالًا " قمر کا نام مہینے کی پہلی دو راتوں تک ہلال رکھا گیا ہے ۔ ( تاج العروس من جواھر القاموس ، جلد 31 صفحہ 144 )
    آپ نے دیکھا کہ صاف طور پر لکھا ہے کہ ہلال " قمر " کا ہی نام ہے ، لیکن مرزا قادیانی اپنی اس جہالت کے باوجود " الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے " والے محاورے کے مطابق علماء کو ڈانٹ رہا ہے ۔ اب قارئیں خود فیصلہ فرمائیں کہ نادان اور عقل کا اندھا کون ہے ؟ پھر اگر مرزا قادیانی کی یہ جاہلانہ منطق ایک منٹ کے لئے تسلیم بھی کر لی جائے کہ " قمر " کا طلاق مہینے کی شروع کی تین راتوں یا سات راتوں کے بعد والے چاند پر ہوتا ہے تو پھر بھی اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ چاند گرہن رمضان کی تیرھویں رات کو ہوگا کیونکہ اس جھوٹی روایت میں الفاظ ہیں " يَنْخَسِفُ الْقَمَرُ لَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ " جس کا ترجمہ ہے کہ " قمر رمضان کی پہلی رات میں گرہن ہوگا " تو مرزا کی منطق کے مطابق بھی " قمر " کی پہلی رات چوتھی یا آٹھویں شب ہے تو کیا مرزا قادیانی کی زندگی میں رمضان کی چوتھی یا آٹھویں شب کو چاند گرہن ہوا ؟ اور مرزا قادیانی نے " تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ " کے بارے میں نہیں بتایا کہ " شمس" یعنی سورج کا اطلاق بھی صرف قمری مہینہ کی 27 ، 28 اور 29 تاریخ کے سورج پر ہی ہوتا ہے یا مہینہ کے نصف اور 14 اور 15 تاریخ کو نکلنے والے سورج کو بھی " شمس " ہی کہتے ہیں ؟؟

    چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر یہ روایت جھوٹی تھی تو امام دارقطنی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیوں کی ؟ اور ایسا ہی اعتراض مرزا قادیانی نے بھی کیا اس روایت کے روایوں پر جرح کا جواب دیتے ہوئے ایک جگہ ہوں لکھا :۔" اگر در حقیقت بعض روای مرتبہء اعتبار سے گرے ہوئے تھے تو یہ اعتراض دارقطنی پر ہوگا کہ اس نے ایسی حدیث کو لکھ کر مسلمانوں کو کیوں دھوکہ دیا ؟ یعنی یہ حدیث اگر قابل اعتبار نہیں تھی تو دارقطنی نے اپنی صحیح میں کیوں اس کو درج کیا ؟ " ( خزائن جلد 17 صفحہ 133 )


    اس کا جواب یہ ہے کہ محدثین کا کام روایات کو ان کی سندوں کے ساتھ جمع کرنا اور اس کا ذکر کرنا ہوتا ہے ، اب یہ علماء اصول حدیث اور محققین کا کام ہے کہ وہ ہر روایت کے متن اور سند کی جانچ پرکھ کریں ، محض کسی روایت کا کسی حدیث کی کتاب میں مذکور ہونا ہرگز اس روایت کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں اور نہ اصول حدیث کا کوئی ایسا قاعدہ ہے ، پھر ہماری زیر بحث روایت ( بفرض محال اگر صحیح بھی ہو ) تو نہ کسی صحابی کا قول اور نہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بلکہ سنن دارقطنی میں بھی صرف کسی " محمد بن علی " نام شخص کی طرف منسوب قول ہے جو حجت نہیں اور نہ ہی امام دارقطنی رحمتہ اللہ علیہ نے کہیں لکھا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے ، نیز اگر مرزا قادیانی کی اس نرالی منطق کو تسلیم کر لیا جائے کہ چونکہ فلاں محدث نے اپنی کتاب میں فلاں روایت ذکر کی ہے لہذا یہ دلیل ہے کہ وہ روایت صحیح ہے تو پھر ہمارا سوال ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اپنی کتب میں اسی روایات بیان کی ہیں جو جماعت مرزائیہ کے نزدیک ضعیف ہیں تو وہ کیونکر ضعیف ہوسکتی ہیں ؟ دوسری بات کہ مرزا قادیانی نے ان تمام روایات کو مجروح ، مخدوش اور غیر صحیح کیوں کہا ؟ جن کے اندر آنے والے مہدی کی علامات اور صفات کا ذکر ہے وہ بھی تو کتب حدیث میں مذکور ہیں بلکہ ان کتابوں میں جنہیں صحاح ستہ کہا جاتا ہے

    مرزا قادیانی نے ایک دھوکہ اور دیا ہے " سنن دارقطنی " کو " صحیح دارقطنی " کا نام دینے کی کوشش کی ہے ۔ حالانکہ امام دارقطنی رحمتہ اللہ علیہ نے ہزگز اپنی کتاب کا نام " صحیح " نہیں رکھا ۔

    آخری بات


    مرزا غلام احمد قادیانی نے قاضی نذر حسین ایڈیٹر اخبار قلقل ( بجنور ۔ روہیل کھنڈ ) کے نام ایک خط لکھا تھا اس میں اس نے تحریر کیا :
    " اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود و مہدی معہود کو کرنا چاہیئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر ایسا کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں " ( مکتوبات احمد ، جلد 1 صفحہ 498 ، الحکم ، 24 جولائی 1906ء ، صفحہ 9 )

    اور احادیث صحیحہ میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان جب تشریف لائیں گے تو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ، وہ زمین میں حکومت کریں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ان کے پیچھے نماز بھی پڑھیں گے ، مرزا قادیانی مر گیا لیکن زمین ظلم و ستم سے بھری تھی اور آج تک ظلم و ستم ہو رہا ہے ، مرزا قادیانی کو اپنے گاؤں قادیان میں بھی کبھی حکومت نہیں نصیب ہوئی بلکہ وہ ساری زندگی انگریز کی غلامی میں رہا اور لوگوں کو بھی انگریز کی غلامی کی یوں تلقین کرتا :۔

    " میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت ( یعنی انگریز حکومت : ناقل ) کے سچے خیر خواہ ہوجائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ، ان کے دلوں سے معدوم ہوجائیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یا کوئی ناجائز باغیانہ منصوبے اپنی جماعت میں پھیلاتا ، جبکہ بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا " ( خزائن جلد 15 صفحات 155 تا 156 )


    اور چونکہ وہ خود عیسیٰ ابن مریم ہونے کا مدعی ہے لہذا اس کے پیچھے عیسیٰ علیہ اسلام کا نماز پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، وہ تو ایسا مہدی تھا جس کی امامت دوسرے کرواتے تھے ، کیا اب بھی مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے میں کوئی شک رہ جاتا ہے ؟

    آخری تدوین : ‏ فروری 21, 2016
    • Like Like x 4
  • Categories: Uncategorized

تبصرے

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 17, 2016

  1. محمود بھائی
    کسی ایک اٹیچ مینٹ میں بھی اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب نہیں کیا گیا ۔
    بفرض محال ایسا ہوا بھی ہوتا تو جب اصل روایت ہمارے سامنے موجود ہے اور اسکی سند بھی موجود ہے کہ جس کے مطابق یہ محمد بن علی ؒ کا قول ہے تو کسی کے کہنے کی کیا حیثیت رہ جاتی ۔
    یہ بھی آپ نے خوب کہی روایت کے اندر چاند کو رمضان کی پہلی رات میں گرہن لگنے کا ذکر ہے اور سورج کو نصف رمضان میں
    کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے دور میں ایسا ہوا تھا ؟؟ ہرگز نہیں
    • Like Like x 1
  2. غلام مصطفی
    اس وقت کے مسلمانوں کو جو اسے نبی کریمؐ کی حدیث کہتے تھے انہیں تو اس بات کا علم نہیں ہوا کہ یہ محض محمد بن علی کا قول ہے نبی کریمؐ کا نہیں۔اور وہ ہؤیوہی غلط طور پر اسے نبی کریمؐ کی طرف منسوب کرتے چلے گئے اور گناہ کے مرتکب ہوتے گئے اور یوں ہی جو نبی کریمؐ نے مہدی کے ظہور کا وقت بتا یا تھا اس وقت میں مہدی کے ظہور اور اس کی اس علامت کے ظہور کا انتظار کرتے رہے؟
    یہ سب فضول باتیں معلوم ہوتی ہیں شاید آپ کو لیکن مسلمان اس بات کو بہت اہمیت دیتے رہے ہیں۔اور جب حضرت مرزا صا حب نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا تو اس وقت کے آپ کے مخالفین آپ سے اس نشان کا مطالبہ کرتے رہے۔کیا یہ سب فرضی باتیں تھیں جن پر مسلمانوں نے اپنی عمارت کھڑی کر رکھی تھی؟
    دوسری بات یہ کہ خدا تعالیٰ نے کائنات کے قوانین قدرت بنا رکھے ہیں۔قوانین قدرت میں یہ بات داخل ہے کہ چاند کو پہلی رات میں اور سورج کو نصف مہینے میں گرہن نہیں لگا کرتا۔احادیث کے الفاظ پر غور کرنے اور قوانین قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے اور معنے نہیں کئے جاسکتے سوائے اس کے کہ چاند کو اس کی گرہن کی تواریخ میں سے پہلی تاریخ کو اور سورج کو اس کے گرہن کی تواریخ میں سے درمیانی تاریخ کو گرہن لگے گا۔
    چنانچہ عین چودھویں صدی کے سر پر چاند گرہن کیلئے مقرر تاریخوں (۱۳‘۱۴‘۱۵) میں سے پہلی رات یعنی تیرہ رمضان ؁۱۳۱۱ھ بمطابق ۲۳ مارچ ؁۱۸۹۴ء کو اور سورج گرہن کیلئے مقرر تاریخوں (۲۷‘۲۸‘۲۹) میں سے درمیانی تاریخ یعنی ۲۸ رمضان بمطابق ۶۔اپریل ؁۱۸۹۴ء کو گرہن لگا۔
  3. غلام مصطفی
    اس وقت کے مسلمانوں کو جو اسے نبی کریمؐ کی حدیث کہتے تھے انہیں تو اس بات کا علم نہیں ہوا کہ یہ محض محمد بن علی کا قول ہے نبی کریمؐ کا نہیں۔اور وہ ہؤیوہی غلط طور پر اسے نبی کریمؐ کی طرف منسوب کرتے چلے گئے اور گناہ کے مرتکب ہوتے گئے اور یوں ہی جو نبی کریمؐ نے مہدی کے ظہور کا وقت بتا یا تھا اس وقت میں مہدی کے ظہور اور اس کی اس علامت کے ظہور کا انتظار کرتے رہے؟
    یہ سب فضول باتیں معلوم ہوتی ہیں شاید آپ کو لیکن مسلمان اس بات کو بہت اہمیت دیتے رہے ہیں۔اور جب حضرت مرزا صا حب نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا تو اس وقت کے آپ کے مخالفین آپ سے اس نشان کا مطالبہ کرتے رہے۔کیا یہ سب فرضی باتیں تھیں جن پر مسلمانوں نے اپنی عمارت کھڑی کر رکھی تھی؟
    دوسری بات یہ کہ خدا تعالیٰ نے کائنات کے قوانین قدرت بنا رکھے ہیں۔قوانین قدرت میں یہ بات داخل ہے کہ چاند کو پہلی رات میں اور سورج کو نصف مہینے میں گرہن نہیں لگا کرتا۔احادیث کے الفاظ پر غور کرنے اور قوانین قدرت کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے اور معنے نہیں کئے جاسکتے سوائے اس کے کہ چاند کو اس کی گرہن کی تواریخ میں سے پہلی تاریخ کو اور سورج کو اس کے گرہن کی تواریخ میں سے درمیانی تاریخ کو گرہن لگے گا۔
    چنانچہ عین چودھویں صدی کے سر پر چاند گرہن کیلئے مقرر تاریخوں (۱۳‘۱۴‘۱۵) میں سے پہلی رات یعنی تیرہ رمضان ؁۱۳۱۱ھ بمطابق ۲۳ مارچ ؁۱۸۹۴ء کو اور سورج گرہن کیلئے مقرر تاریخوں (۲۷‘۲۸‘۲۹) میں سے درمیانی تاریخ یعنی ۲۸ رمضان بمطابق ۶۔اپریل ؁۱۸۹۴ء کو گرہن لگا۔
  4. محمود بھائی
    جناب ذرا ہمیں بھی تو ان مسلمانوں کے نام بتائیں جو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہتے تھے ؟؟؟؟
    بفرض محال آپ کی اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ جہاں یہ روایت سند کے اعتبار سےناقابل قبول ہےوہیں متن کے اعتبار سے بھی ناقابل اعتبار ہے کیوں کہ اس میں ایسی نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو قوانین قدرت کے خلاف ہیں ۔
    • Like Like x 1
  5. غلام مصطفی
    جو لوگ اب جبکہ یہ پیش گوئی حضرت مرزا صا حب کی ذات میں جو مسیح موعود و مہدی موعودؑ تھے پوری ہونے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ یہ نبی کریمؐ کے الفاظ نہیں ان کے لئے اٹیچ مینٹ میں حوالہ پیش ہے۔

    منسلک فائلیں :

  6. شفیق احمد
    یہ اوپر غلام مصطفی صاحب کی طرف سے ایک Attachment پیش کی گئی ہے کہ جس میں ایک شیعہ عالم باقر مجلسی نے امام باقر سے منسوب ایک بیان Quote کیا ہے کہ جس میں امام باقر رح نے فرمایا کہ میں جو روایت بیان کروں اس کا سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔۔۔۔۔ شیعہ عالم مجلسی نے امام باقر رح سے منسوب یہ قول بے حوالہ بیان کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ شیعہ مذہب میں مسلمانوں کی طرح علم حدیث پر کوئی Research نہیں اور شیعہ مذہب میں روایات اور احادیث کی تخریج یعنی جانچ پڑتال کیلئے کوئی مربوط نظام وضع نہیں کہ جس کی بناء پر شیعہ قوم اپنے اماموں سے منسوب روایات اور اقوال کو پرکھ سکیں۔۔۔۔۔۔ان خامیوں کی بناء پر بعد میں آنے والے شیعوں نے اپنے اماموں سے وابستہ من گھڑت اقوال کو احادیث نبوی میں Convert کرنے کیلئے منصوبہ سازی کی جس کا بین ثبوت باقر مجلسی کا امام باقر رح سے منسوب مذکورہ باطل قول کو اپنی کتاب میں لکھنا ہے۔۔۔۔۔!!

    دوسری بات یہ کہ شاید غلام مصطفی صاحب کو معلوم نہیں کہ جھوٹے مہدی مرزا قادیانی شیعہ مذہب کو باطل یقین کرتے تھے۔۔۔۔جھوٹے نبی مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
    '' شیعہ مذھب اسلام کا مخالف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ " ( ملفوظات جلد 1 صفحات 96،97 )
    مرزا قادیانی کے اس صریح فیصلے سے ثابت ہوا کہ مرزائی اگر شیعہ مذہب سے کچھ Quote کریں یا شیعہ مذہب کی کسی کتاب کا کوئی صفحہ منسلک کریں تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ مرزا قادیانی کے شیعہ مذہب کے بارے میں مذکورہ قول سے مرزائیوں کی خوب خبر لیں۔۔۔۔۔!!!

    تیسری بات یہ کہ غلام مصطفی صاحب نے اوپر سلمان احمد صاحب سے بحث میں یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ سنہ 1894 کے کسوف و خسوف سے پہلے مسلمان علمائے اکرام اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ امام باقر سے منسوب کسوف و خسوف والی یہ روایت حدیث نبوی ہے اور جب جھوٹے مسیح مرزا قادیانی نے اس روایت کو خود پر لاگو کیا تو یہ علمائے اکرام مکر گئے۔۔۔۔۔جواب میں جب سلمان صاحب نے ان علماء کے نام پوچھے تو غلام مصطفی صاحب نے اپنے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کیلئے ان علماء کے نام بتانے کی بجائے یہ Attachment پیش کر دی۔۔۔۔ایسے کھلے دھوکے اور فریب مرزائیوں کی نس نس میں سمائے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔اگرغلام مصطفی صاحب کا یہ خیال ہے کہ جھوٹے نبی مرزا قادیانی کے دور میں علمائے اکرام شیعوں کی اس کتاب سے حوالہ دیکھ کر اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ یہ قول امام باقر صریحا حدیث نبوی ہے تو یہ غلام مصطفی صاحب کی عقل کا فتور ہے کیونکہ کسی بھی دستاویز سے ثابت نہیں کہ کسی سنی یا اہلحدیث عالم نے شیعوں کی طرف سے اقوال کو احادیث میں Convert کرنے کے مذکورہ بالا باطل فارمولے کی As per attachment تصدیق کی ہو۔۔۔۔۔۔!!
    • Like Like x 1
  7. غلام مصطفی
    چاند اور سورج گرہن مہدی موعود کے ظہور کی علامات میں سے ہے کے ضمن میں چند ایک حوالہ جات پیش ہیں۔

    منسلک فائلیں :

  8. محمود بھائی
    اوپر بتایا جا چکا ہے کہ شیعہ عالم مجلسی نے امام باقر رح سے منسوب یہ قول بے حوالہ بیان کیا ہے۔ دوسرا جب یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ امام باقرؒ سے روایت کرنے والے راوی ہی کذاب ہیں تو امام باقرؒ سے یہ روایت ثابت ہی نہیں ہوتی ۔
    لہذا باقر مجلسی کا بیان کردہ قول امام باقرؒ اگر صحیح بھی ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔
    مولانا رفیع الدینؒ نے صرف رمضان میں چاند گرہن اور سورج گرہن کا ذکر کیا ہے یہ نہیں کہا کہ یہ قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔
    باقی رہا اشعار والا سکین تو ان کو یقنی طور پر غلطی لگی ہے وہ کوئی معصوم عن الخطا، نہیں تھے ۔۔۔ بہرحال آپ صرف ایک حوالہ پیش کر سکے وہ بھی کوئی مستند نہیں اور ہے بھی مرزا قادیانی کے دور کے قریب کا ۔
  9. غلام مصطفی
    علما ء نے کسی پیش گوئی کی سچائی کو جو نبی کریم ؐ کی طرف منسوب ہوتی ہے اس چیز کو قرار دیا ہے کہ وہ پیش گوئی ہو بہو پوری ہوجائے۔پیش گوئی پوری ہوگئی تو پھر کسی عالم یا مفسر یا شارع کا یہ کہنا کہ یہ ضعیف ہے کوئی وقعت نہیں رکھتا۔اس کے بر عکس ان تمام علما اور لوگوں کی اس سے تائید ہوتی ہے جو اسے نبی کریمؐ کی طرف سے بیان فرمودہ مہدی کی ایک علامت کے طور پر مانتے چلے آئے تھے۔
    نشان کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائے گا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنے والی ہے
  10. غلام مصطفی
    علم مومن کی میراث ہے جہاں کہیں سے وہ اسے پاتا ہے اسے لے لیتا ہے۔(حدیث) خواہ وہ کسی شیعہ عالم نے پیش کی ہو یا کسی اورعالم نے اگر وہ اپنے اند سچائی اور نور کے موتی رکھتی ہو اور اسلام ہی کی کوئی سچائی بیان کرتی ہو اس سے آنکھیں پھیر لینا صرف اور صرف تعصب ہے اور کچھ نہیں۔

اس صفحے کی تشہیر