1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

چاند اور سورج گرہن کے بارے مرزا کی تحاریر

مبشر شاہ نے 'چاند اور سورج گرہن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 5, 2015

  1. ‏ فروری 5, 2015 #1
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    چاند اور سورج گرہن کے بارے مرزا کی تحاریر


    مرزا غلام قادیانی سورج اور چاند گرہن کے بارے اپنی کتابوں میں جا بجا حیلے بہانے سے اس موضوع کو زیرِ بحث لاتا رہا جس کو ہم آپ کی خدمت میں چیدہ چیدہ پیش کر رہے ہیں ۔سب سے پہلے ہم آپ کے سامنے وہ حوالہ پیش کر رہے ہیں جس میں چاند اور سورج گرہم کے واقعہ کا مفصل ذکر کیا گیا ہے تا کہ بات سمجھے میں آسانی رہے ۔


    "۲۔ نشان۔ صحیح دارقطنی میں یہ ایک حدیث ہے کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں
    انّ لمھدینا اٰیتین لم تکونا منذ خلق السماوات والارض ینکسف القمر لاوّل لیلۃٍ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ۔
    ترجمہ یعنی ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اُس کی اوّل رات میں ہوگا یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اُس کے دِنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوگا۔ یعنی اسی رمضان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا صرف مہدی معہود کے وقت اُس کا ہونا مقدر ہے۔

    اب تمام انگریزی اور اُردو اخبار اور جملہ ماہرین ہیئت اِس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً با ۱۲ رہ سال کا گذر چکا ہے اِسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے اورؔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے۔ اول اِس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے اور چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی معہود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دیکر صدہا اشتہار اور رسالے اُردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کئے اِس لئے یہ نشانِ آسمانی میرے لئے متعین ہوا۔ دوسری اس پر دلیل یہ ہے کہ با رہ 12برس پہلے اِس نشان کے ظہور سے خدا تعالیٰ نے اِس نشان کے بارے میں مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئے گا۔ اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اس کے جو یہ نشان ظاہر ہو لاکھوں آدمیوں میں مشتہر ہو چکی تھی۔ اور بڑا افسوس ہے کہ ہمارے مخالف سراسر تعصب سے یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ حدیث کے لفظ یہ ہیں کہ چاند گرہن پہلی رات میں ہوگا اور سُورج گرہن بیچ کے دن میں مگر ایسا نہیں ہوا یعنی اُن کے زعم کے موافق ’’چاند گرہن شبِ ہلال کو ہونا چاہئے تھا جو قمری مہینہ کی پہلی رات ہے اور سُورج گرہن قمری مہینہ کے پندرھویں دن کو ہونا چاہئے تھا جو مہینہ کا بیچواں دن ہے۔‘‘ مگر اس خیال میں سراسر ان لوگوں کی نا سمجھی ہے کیونکہ دنیا جب سے پیدا ہوئی ہے چاند گرہن کے لئے تین راتیں خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں مقرر ہیں یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں اور چاند گرہن کی پہلی رات جو خدا کے قانونِ قدرت کے مطابق ہے وہ قمری مہینے کی تیرھویں رات ہے اور سورج کے گرہن کے لئے تین دن خدا کے قانون قدرت میں مقرر ہیں۔ یعنی قمری مہینے کا ستائیسواں اٹھائیسواں اور انتیسواں دن۔ اور سورج کے تین دن گرہن میں سے قمری مہینہ کے رُو سے اٹھائیسواں دن بیچ کا دن ہے۔ سو ا نہیں تاریخوں میں عین حدیث کے منشاء کے موافق سورج اور چاند کا رمضان میں گرہن ہوا۔ یعنی چاند گرہن رمضان کی تیرھویں رات میں ہوا اور سورج گرہن اسی رمضان کے اٹھائیسویں دن ہوا۔ اور عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر کبھی نہیں کہلاتا بلکہ تین دن تک اُس کا نامؔ ہلال ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سات دن تک ہلال کہلاتا ہے۔ دوسرا یہ اعتراض ہے کہ اگر ہم قبول کر لیں کہ چاند کی پہلی رات سے مُراد تیرھویں رات ہے اور سورج کے بیچ کے دن سے مُراد اٹھائیسواں دن ہے تو اس میں خارق عادت کونسا امر ہوا کیا رمضان کے مہینہ میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن نہیں ہوا تو اِس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینہ میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مُدعی رسالت یا نبوت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے جیسا کہ حدیث کے ظاہر الفاظ اِسی پر دلالت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعی نبوت یا رسالت کے وقت میں دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانہ میں جمع ہوئے ہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔ خاص کر یہ امر کس کو معلوم نہیں کہ اسلامی سن یعنی تیرہ سو برس میں کئی لوگوں نے محض افترا کے طور پر مہدی موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا بلکہ لڑائیاں بھی کیں۔ مگر کون ثابت کر سکتا ہے کہ اُن کے وقت میں چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں دونوں جمع ہوئے تھے۔ اور جب تک یہ ثبوت پیش نہ کیا جائے تب تک بلا شبہ یہ واقعہ خارق عادت ہے کیونکہ خارق عادت اسی کو توکہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے اور صرف حدیث ہی نہیں بلکہ قرآن شریف نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ دیکھو آیت وَخَسَفَ الْقَمَرُۙ ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُۙ (حاشیہ * خدا تعالیٰ نے مختصر لفظوں میں فرما دیا کہ آخری زمانہ کی نشانی یہ ہے کہ ایک ہی مہینہ میں شمس اور قمر کے کسوف خسوف کا اجتماع ہوگا اور اسی آیت کے اگلے حصہ میں فرمایا کہ اس وقت مکذب کو فرار کی جگہ نہیں رہے گی جس سے ظاہر ہے کہ وہ کسوف خسوف مہدی معہود کے زمانہ میں ہوگا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ وہ کسوف خسوف خدا کی پیشگوئی کے مطابق واقع ہوگا اس لئے مکذبوں پر حجت پوری ہو جائے گی۔منہ)
    تیسرا یہ اعتراض پیش کیا جاتا ہے کہ یہ حدیث مرفوع متصل نہیں ہے صرف امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ائمہ اہل بیت کا یہی طریق تھا کہ وہ بوجہ اپنی وجاہت ذاتی کے سلسلہ حدیث کو نام بنام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانا ضروری نہیں سمجھتے تھے ان کی یہ عادت شائع متعارف ہے چنانچہ شیعہ مذہب میں صدہا اسی قسم کی حدیثیں موجود ہیں اور خودامام دارقطنی نے اس کو احادیث کے سلسلہ میں لکھا ہے ماسوا اس کے یہ حدیث ایک غیبی امر پر مشتمل ہے جو تیرہ سو برس کے بعد ظہور میں آگیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس وقت مہدیؔ موعود ظاہر ہوگا اُس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند گرہن تیرھویں رات کو ہوگا اور اسی مہینہ میں سورج گرہن اٹھائیسویں دن ہوگا اور ایسا واقعہ کسی مدعی کے زمانہ میں بجز مہدی معہود کے زمانہ کے پیش نہیں آئیگا اور ظاہر ہے کہ ایسی کھلی کھی غیب کی بات بتلانا بجز نبی کے اور کسی کا کام نہیں ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول یعنی خدا اپنے غیب پر بجز برگزیدہ رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں فرماتا پس جبکہ یہ پیشگوئی اپنے معنوں کے رو سے کامل طور پر پوری ہو چکی تو اب یہ کچے بہانے ہیں کہ حدیث ضعیف ہے یا امام محمد باقر کا قول ہے۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ ہر گز نہیں چاہتے کہ کوئی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو یا کوئی قرآن شریف کی پیشگوئی پوری ہو۔ دنیا ختم ہونے تک پہنچ گئی مگر بقول اُن کے اب تک آخری زمانہ کے متعلق کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اور اس حدیث سے بڑھ کر اور کونسی حدیث صحیح ہوگی جس کے سر پر محدثین کی تنقید کا بھی احسان نہیں بلکہ اُس نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کرکے دکھلا دیا کہ وہ صحت کے اعلیٰ درجہ پر ہے۔(حاشیہ : فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰـكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِىْ فِىْ الصُّدُوْرِ * شعر میں ستائیسویں کا لفظ سہو کا تب ہے یا خود مولوی صاحب سے بباعث بشریت سہو ہو گیاہے ورنہ جس حدیث کا یہ شعر ترجمہ ہے اُس میں بجائے ستائیس کے اٹھائیسویں تاریخ ہے۔ منہ) خدا کے نشانوں کو قبول نہ کرنا یہ اور بات ہے ورنہ یہ عظیم الشان نشان ہے جو مجھ سے پہلے ہزاروں علماء اور محدثین اس کے وقوع کے اُمید وار تھے اور منبروں پر چڑھ چڑھ کر اور رو رو کر اس کو یاد دلایا کرتے تھے چنانچہ سب سے آخر مولوی محمد لکھوکے والے اسی زمانہ میں اسی گرہن کی نسبت اپنی کتاب احوال الآخرت میں ایک شعر لکھ گئے ہیں جس میں مہدی موعود کا وقت بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے:

    تیرھویں چند ستیہویں ژ سورج گرہن ہو سی اُس سالے
    اندر ماہ رمضانے لِکھیا ہک روایت والے
    پھر دوسرے بزرگ جن کا شعر صدہا سال سے مشہور چلا آتا ہے۔ یہ لکھتے ہیں:
    در۱۳۱۱سنِ غاشی ہجری دو قِران خواہدبود
    از پئے مہدی و دجّال نشان خواہدبود
    یعنی چو۱۳۱۱ دھویں صدی میں جب چاند اور سُورج کا ایک ہی مہینہ میں گرہن ہوگا تب وہ مہدی معہود اوردجّال کے ظہور کا ایک نشان ہوگا۔ اِس شعر میں ٹھیک سن کسوف و خسوف درج ہوا ہے۔"
    (روحانی خزائن ، جلد22حقِیقۃُالوَحی: صفحہ ، 205،204،203،202)


    آخری تدوین : ‏ فروری 6, 2015
    • Like Like x 2
  2. ‏ فروری 6, 2015 #2
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    اس کے علاوہ مرزا غلام قادیانی نے کئی مقامات پر اس واقعہ کو چھیڑا ہے میں صرف دو اور حوالہ جات سے اپنے موقف کو مضبوط کر رہا ہوں۔

    " دوسرا نشان مہدی موعود کا یہ ہے کہ اس کے وقت میں ماہ رمضان میں خسوف کسوف ہوگا اور پہلے اُس سے جیسا کہ منطوق حدیث صاف بتلا رہا ہے کبھی کسی رسول یا نبی یا محدث کے وقت میں خسوف کسوف کا اجتماع رمضان میں نہیں ہوا۔ اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے۔ کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے۔ اور اگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے ہیں تو بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔ مگر حدیث کا مفہوم یہ نہیں کہ مہدی کے ظہور سے پہلے چاند گرہن اور سورج گرہن ماہ رمضان میں ہوگا کیونکہ اس صورت میں تو ممکنات میں سے تھا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کو ماہ رمضان میں دیکھ کر *نوٹ : یہؔ کہنا بے جاہو گا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں یا بعض روایات مجروح ہیں یا حدیث منقطع اور مرسل ہے۔ کیونکہ جس حدیث کی پیشگوؔ ئی واقعی طور پر سچی نکلی اس کا درجہ فی الحقیقت صحاح سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی صداقت بدیہی طور پر ظاہر ہوگئی۔ غرض جب حدیث کی پیشگوئی سچی نکلی تو پھر بھی اس میں شک کرنا صریح بے ایمانی ہے۔ہریک مفتری مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور امر مشتبہ ہو جائے کیونکہ بعد میں مدعی ہونا سہل ہے اور جب بعد میں کئی مدعی ظاہر ہوگئے تو صاف طور پر کوئی مصداق نہ رہا۔ بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مہدی موعود کے دعویٰ کے بعد بلکہ ایک مدت گزرنے کے بعد یہ نشان تائید دعویٰ کے طور پر ظاہر ہو جیسا کہ اِنَّ لمھدینا اٰیتین ای لتائید دعوی مھدینا اٰیتین صاف دلالت کر رہی ہے اور اس طور سے کسی مفتری کی پیش رفت نہیں جاتی اور کوئی منصوبہ چل نہیں سکتا کیونکہ مہدی کا ظہور بہت پہلے ہوکر پھر مؤید دعوے کے طور پر سورج گرہن بھی ہوگیا۔ نہ یہ کہ ان دونوں کو دیکھ کر مہدی نے سر نکالا۔ اس قسم کے تائیدی نشان ہمارے سید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی پہلی کتابوں میں لکھے گئے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد ظہور میں آئے اور دعویٰ کے مصدق اور مؤید ہوئے۔ غرض ایسے نشان قبل از دعویٰ مہمل اور بے کار ہوتے ہیں کیونکہ ان میں گنجائش افترا بہت ہے۔ اور اس پر اور بھی قرینہ ہے اور وہ یہ ہے کہ خسو۱ف اور کسو۲ف اور مہدی کا رمضان کے مہینے میں موجود ہونا خارق عادت ہےؔ اور صرف اجتماع خسوف کسوف خارق عادت نہیں۔"
    (روحانی خزائن ، جلد9 اَنوارُلاسلاَم: صفحہ ،49،48)


    "اور جیسا کہ ہماری جماعت نے جان اور آبرو کے مقدمہ میں ایک آسمانی نشان دیکھا تھا اس میں بھی انہوں نے ایک آسمانی نشان دیکھ لیا جو ان کے ایمان کی زیادت کا موجب ہوا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ مجھے بڑا تعجب ہے کہ باوجودیکہ نشان پر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں مگرپھر بھی مولویوں کو سچائی کے قبول کرنے کی طرف توجہ نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہر میدان میں خداتعالیٰ ان کو شکست دیتا ہے اور وہ بہت ہی چاہتے ہیں کہ کسی قسم کی تائید الٰہی ان کی نسبت بھی ثابت ہو مگر بجائے تائید کے دن بدن انکا خذلان اور ان کا نامراد ہونا ثابت ہوتا جاتا ہے۔ مثلاً جن دنوں میں جنتریوں کے ذریعہ سے یہ مشہور ہوا تھا کہ حال کے رمضان میں سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگے گا اور لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام موعود کے ظہور کا نشان ہے تو اس وقت مولویوں کے دلوں میں یہ دھڑکہ شروع ہوگیا تھا کہ مہدیؔ اور مسیح ہونے کا مدعی تو یہی ایک شخص میدان میں کھڑا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔ تب اس نشان کے چھپانے کے لئے اول تو بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس رمضان میں ہرگز کسوف خسوف نہیں ہوگا بلکہ اس وقت ہوگا کہ جب ان کے امام مہدی ظہور فرما ہوں گے اور جب رمضان میں خسوف کسوف ہو چکا تو پھر یہ بہانہ پیش کیا کہ یہ کسوف خسوف حدیث کے لفظوں کے مطابق نہیں۔ کیونکہ حدیث میں یہ ہے کہ چاند کو گرہن اول رات میں لگے گا اور سورج کو گرہن درمیان کی تاریخ میں لگے گا۔ حالانکہ اس کسوف خسوف میں چاند کو گرہن تیرھویں رات میں لگا اور سورج کو گرہن اٹھائیس تاریخ کو لگا۔ اور جب ان کو سمجھایا گیا کہ حدیث میں مہینے کی پہلی تاریخ مراد نہیں۔ اور پہلی تاریخ کے چاند کو قمر نہیں کہہ سکتے اس کا نام تو ہلال ہے۔ اور حدیث میں قمر کا لفظ ہے نہ ہلال کا لفظ۔ سو حدیث کے معنے یہ ہیں کہ چاند کو اس پہلی رات میں گرہن لگے گا جو اس کے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی مہینہ کی تیرھویں رات۔ اور سورج کو درمیان کے دن میں گرہن لگے گا یعنی اٹھائیس تاریخ جو اس کے گرہن کے دنوں میں سے درمیانی دن ہے(حاشیہ:یہ قانون قدرت ہے کہ چاند گرہن کیلئے مہینہ کی تین رات مقرر ہیں یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں اور ہمیشہ چاند گرہن ان تین راتوں میں سے کسی ایک میں لگتا ہے۔ پس اس حساب سے چاند گرہن کی پہلی رات تیرھویں رات ہے جس کی طرف حدیث کا اشارہ ہے اور سورج گرہن کے دن مہینہ کی ستائیسویں اور اٹھائیسویں اور انتیسویں تاریخ ہے پس اس حساب سے درمیانی دن سورج گرہن کا اٹھائیسواں ہے۔ اور انہیں تاریخوں میں گرہن لگا۔) ۔ تب یہ نادان مولوی اس صحیح معنے کو سن کر بہت شرمندہ ہوئے اور پھر بڑی جانکاہی سے یہ دوسرا عذر بنایا کہ حدیث کے رجال میں سے ایک راوی اچھا آدمی نہیں ہے۔ تب ان کو کہا گیا کہ جب کہ حدیث کی پیشگوئی پوری ہوگئی تو وہ جرح جس کی بنا شک پر ہے۔ اس یقینی واقعہ کے مقابل پر جو حدیث کی صحت پر ایک قوی دلیل ہے کچھ چیز ہی نہیں۔ یعنی پیشگوئی کا پورا ہونا یہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ صادق کا کلام ہے۔ اور اب یہ کہنا کہ وہ صادق نہیں بلکہ کاذب ہے بدیہیات کے انکار کے حکم میں ہے اور ہمیشہ سے یہی اصول محدثین کا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔ پیشگوئی کا اپنے مفہوم کے مطابق ایک مدعی مہدویت کے زمانہ میں پوری ہوجانا اس بات پر یقینی گواہی ہے کہ جس کے منہ سے یہ کلمات نکلے تھے اس نے سچ بولا ہے۔ لیکن یہ کہنا اس کی چال چلن میںؔ ہمیں کلام ہے۔ یہ ایک شکی امر ہے اور کبھی کاذب بھی سچ بولتا ہے۔ ما سوا اس کے یہ پیشگوئی اور طرق سے بھی ثابت ہے اور حنفیوں کے بعض اکابر نے بھی اس کو لکھا ہے تو پھر انکار شرط انصاف نہیں ہے بلکہ سراسرہٹ دھرمی ہے اور اس دندان شکن جواب کے بعد انہیں یہ کہنا پڑا کہ یہ حدیث تو صحیح ہے اور اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ عنقریب امام موعود ظاہر ہوگا مگر یہ شخص امام موعود نہیں ہے بلکہ وہ اور ہوگا جو بعد اس کے عنقریب ظاہر ہوگا۔ مگر یہ انکا جواب بھی بودا اور باطل ثابت ہوا کیونکہ اگر کوئی اور امام ہوتا تو جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے وہ امام صدی کے سر پر آنا چاہئے تھا۔ مگر صدی سے بھی پندرہ برس گذر گئے اور کوئی امام ان کا ظاہر نہ ہوا۔ اب ان لوگوں کی طرف سے آخری جواب یہ ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں ان کی کتابیں مت دیکھو۔ ان سے ملاپ مت رکھو۔ ان کی بات مت سنو کہ ان کی باتیں دلوں میں اثر کرتی ہیں۔ لیکن کس قدر عبرت کی جگہ ہے کہ آسمان بھی ان کے مخالف ہوگیا اور زمین کی حالت موجودہ بھی مخالف ہوگئی۔ یہ کس قدر ان کی ذلت ہے کہ ایک طرف آسمان ان کے مخالف گواہی د ے رہا ہے اور ایک طرف زمین صلیبی غلبہ کی وجہ سے گواہی دے رہی ہے۔ آسمان کی گواہی دارقطنی وغیرہ کتابوں میں موجود ہے یعنی رمضان میں خسوف کسوف اور زمین کی گواہی صلیبی غلبہ ہے جس کے غلبہ میں مسیح موعود کا آنا ضروری تھا اور جیسا کہ صحیح بخاری میں یہ حدیث موجود ہے۔ یہ دونوں شہادتیں ہماری مؤید اور ان کی مکذب ہیں۔
    (روحانی خزائن ، جلد13 ضرورۃ الامَام: صفحہ ،509،507،508)
    آخری تدوین : ‏ فروری 6, 2015
    • Like Like x 2
  3. ‏ فروری 6, 2015 #3
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    مذید یہ کہ پوری روحانی خزائن میں اس چاند و سورج گرہن کو ان مقامات پر دیکھا جا سکتا ہے طوالت کے پیش نظر میں فقط صفحات پر اکتفا کر رہا ہوں تفصیلات کے لیے اصل کتاب ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔
    (تریاق قلوب، رخ 15جلد صفحہ 334)
    (انوار اسلام ، رخ9،صفحہ 48،49،51)
    (حقیقۃ الوحی،رخ22،صفحہ 202تا 205)
    (ضرورۃ الامام،رخ13،صفحہ 507تا 509)
    (انوار الحق الحصۃ الثانیۃ،رخ 8،صفحہ 194،196،201،202،210،212،213،243)
    (ضمیہ رسالہ انجام آتھم ،رخ 11،صفحہ294،332،334،330)



    آخری تدوین : ‏ فروری 6, 2015
    • Like Like x 3

اس صفحے کی تشہیر