1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ڈاکٹر بشارت اور ڈاکٹر مبارک

ضیاء رسول امینی نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اپریل 2, 2018

  1. ‏ اپریل 2, 2018 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ایک شہر میں دو ڈاکٹر رہتے تھے دونوں بہت قابل خوش اخلاق ہمدرد مہربان اور بہت منجھے ہوئے ڈاکٹر تھے بڑے بھائی کا نام ڈاکٹر مبارک اور چھوٹے کا نام ڈاکٹر بشارت تھا
    پورے شہر کے لوگ اپنا علاج انہی سے کرواتے تھے پھر چھوٹے بھائی کو امریکہ میں نوکری مل گئی اور وہ وہاں چلا گیا جبکہ بڑے بھائی نے اسی شہر میں اپنی سروس جاری رکھی
    چھوٹے بھائی کے جانے کے 40 سال بعد تک بڑے بھائی نے اپنے شہر کے لوگوں کا علان معالجہ کیا اور آخر کار بہت ضعیف ہوگیا جب اسے لگا کہ وہ اب مزید زندہ نہیں رہے گا تو اسے اپنے شہر کے لوگوں کی فکر ہوئی کہ میرے بعد ان کا علاج کون کرے گا۔ اور شہر کے لوگ بھی اسی بات کو لے کر بہت پریشان تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کے علاوہ ان کو کوئی مخلص اور قابل ڈاکٹر مشکل سے ملے گا۔ ڈاکٹر مبارک نے سوچ بچار کے بعد اپنے چھوٹے بھائی کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا اور شہر کے معزز لوگوں کو اکٹھا کیا اور ان کو بتایا کہ میں اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر بشارت کو واپس بلا رہا ہوں میرے بعد وہ تم لوگوں کا علاج معالجہ کرے گا۔ شہر کے لوگ بہت خوش ہوئے گو کہ 40 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد اکا دکا ہی ایسے لوگ زندہ بچے تھے جو ڈاکٹر بشارت کے چہرے سے واقف تھے لیکن باقی کے لوگوں نے بھی ڈاکٹر بشارت کے بارے سن رکھا تھا کہ وہ بھی مبارک کی طرح بہت قابل ڈاکٹر ہے
    ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ میں اپنے بھائی کو بلا رہا ہوں اس کی چند اہم نشانیاں تمہیں بتا دیتا ہوں جس سے اسے پہچاننے میں آسانی ہوگی۔ شاید اسے خدشہ تھا کہ دھوکے فراڈ کا زمانہ ہے کوئی عطائی حکیم ڈاکٹر بشارت بن کہ ان کو دھوکہ نہ دے۔
    مبارک نے بتایا کہ میرے بھائی کی عمر 59 سال ہے ، ماتھے پر زخم کا نشان ہے، امریکہ میں رہنے کے باوجود وہ پینٹ شرٹ پہننا پسند نہیں کرتا ہمیشہ شلوار قمیض پہنتا ہے، اس کے پاس امریکہ کے سب سے بڑے میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی ڈگری بھی ہے اور سب سے اہم بات کہ ہمارے شہر کے بزرگ پروفیسر ہاشمی صاحب کا وہ شاگرد ہے اور مسلسل 40 سال سے انکی آپس میں خط و کتابت ہوتی ہے ہاشمی صاحب بھی ان کو پہچاننے میں آپکی مدد کریں گے۔
    دو دن بعد ڈاکٹر مبارک چل بسے۔ پورا شہر سوگوار ہوگیا، اس سانحے کو کچھ دن ہی گزرے تھے کہ ایک اسی پچاسی سالہ بڈھا پینٹ شرٹ پہنے شہر میں آ دھمکا اور ڈاکٹر مبارک کے ہسپتال میں جاکر کر اپنا تعارف بطور ڈاکٹر بشارت کے کروایا۔ ہسپتال کی انتظامیہ بہت حیران ہوئی کہ ڈاکٹر مبارک تو ان کا حلیہ کچھ اور بتا کر گئے تھے لیکن یہ تو کوئی اور نمونہ ہے اور خود کو ڈاکٹر بشارت کہہ رہا ہے،
    شہر کی انتظامیہ حرکت میں آئی اور انہوں نے ایک میٹنگ بلائی ، شہر کے تمام معززین کے علاوہ اس بڈھے کو بھی میٹنگ میں بلایا گیا۔ تاکہ اصل حقیقت کا پتہ چلایا جاسکے۔
    انتظامیہ کے سربراہ حاجی رفیع صاحب نے بڈھے سے کہا کہ ان کو اس پر شک ہے کیونکہ وہ ڈاکٹر بشارت کے حلیے سے بالکل مختلف ہے، بڈھے نے کہا بتائیں آپ کو کیا شک ہے۔ حاجی رفیع اور اس بڈھے کے درمیان جو مکالمہ ہوا ملاحظہ فرمائیں
    حاجی۔ آپ کی عمر کتنی ہے؟
    بڈھا۔ جی 84 سال
    حاجی۔ لیکن ڈاکٹر بشارت کی عمر تو 59 سال بتائی تھی انکے بھائی نے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    بڈھا عیارانہ مسکراہٹ کے ساتھ۔۔۔ حاجی صاحب آپ شاید یہی غلطی لگی۔ ڈاکٹر مبارک نے میری عمر کوڈ ورڈ میں بتائی جسکی آپ کو سمجھ نہیں آئی۔ انہوں نے بھی 84 سال ہی بتائی تھی۔
    حاجی۔ لیکن ان کی تحریر ہمارے پاس موجود ہے انہوں نے صرف بتائی ہی نہیں لکھ کر بھی دی تھی، یہ دیکھیں 59 سال لکھی ہوئی ہے۔
    بڈھا۔ جی ابھی سمجھاتا ہوں ذرا 9 میں 5 جمع کریں کتنا ہوا؟ 15؟ اب 59 کا ہندسہ 5 لیں اسے 15 سے ضرب دیں، کتنا ہوا؟ 75؟ اب 59 کا دوسرا حصہ 9 لیں اسے 75 میں جمع کریں ، ہوگئے پورے 84؟ آپ کو اگر سمجھنے میں غلطی لگی تو میرا کیا گناہ ہے؟
    حاجی۔ اچھا اپنا نام بتائیں۔
    بڈھا ۔ جی میرا نام گوپال ہے۔
    حاجی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے بھائی کا نام تو بشارت ہے اور آپ نے بھی آکر اپنا نام بشارت ہی بتایا۔
    بڈھا۔ جناب یہاں بھی آپ کو غلطی لگی ، دراصل انہوں نے اپنے بھائی کا حقیقی نام بشارت نہیں بتایا بلکہ چونکہ انہوں نے اپنے بھائی کے آنے کی خوشخبری سنائی تھی تم لوگوں کو اور بشارت کے معنی خوشخبری ہوتے ہیں اس لیے انہوں نے کہا کہ بشارت آءے گا۔
    حاجی صاحب یہ سن کر سکتے میں آگئے اور قدرے تلخ لہجے میں بولے، کہ اپنی ڈگری دکھاو جو تمہیں امریکہ کے میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی طرف سے ملی ہے۔
    بڈھا۔ حاجی صاحب اب مجھے سمجھ آءی کہ آپ لوگ مجھ پر شک کیوں کر رہے ہیں کیونکہ آپ کو ڈاکٹر مبارک کی کسی بات کی سمجھ ہی نہیں آئی، انہوں نے جو ڈگری بتائی اسے آپ نے ظاہری ڈگری مان لیا جبکہ ان کا مطلب تھا کہ جو تجربہ یہ ڈگری رکھنے والے ڈاکٹرز کے پاس ہوتا ہے بشارت بھی ویسا ہی تجربہ کار ڈاکٹر ہوگا گویا کہ اسکے پاس بھی وہی ڈگری ہوگی۔ جب کہ آپ نے ظاہری ڈگری مراد لے لیا۔
    حاجی۔ لیکن ان کے ماتھے پر زخم کا نشان بھی ہے جبکہ آپ کے ماتھے پر کوئی نشان نظر نہیں آرہا۔
    بڈھا رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے۔ حاجی صاحب باپ جیسے بڑے بھائی کی موت سے گہرا زخم اور کون سا ہوگا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اور یہ زخم آج میرے ماتھے پر کیا میرے پورے جسم پر ہے اسی زخم کی طرف اشارہ کیا تھا بھائی جان نے۔
    حاجی۔ لیکن انہوں نے کہا تھا کہ میرا بھائی پینٹ شرٹ نہیں پہنتا جبکہ آپ نے پہنی ہوئی ہے۔
    حاجی۔ جی انہوں نے یہ کہا تھا کہ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی پینٹ شرٹ نہیں پہنتا یہ تو نہیں کہا تھا کہ پاکستان میں آنے کے بعد بھی نہیں پہنے گا؟ اس لیے یہ حیلے بہانے مت کریں میں واقعی ڈاکٹر بشارت ہی ہوں مجھے ہسپتال کا چارج دیا جائے۔
    حاجی صاحب نے پروفیسر ہاشمی صاحب کو بلایا تاکہ وہ کوئی مدد کریں،
    ہاشمی صاحب نے بڈھے سے بولا کہ پہلی کلاس سے لے کر میٹرک تک آپ نے جس استاد سے ریاضی پڑھا ہے اسکا نام بتادیں۔
    بڈھا بولا۔ مجھے یاد نہیں۔
    ہاشمی صاحب بولے وہ استاد میں ہی ہوں اگر تم بشارت ہوتے تو ضرور معلوم ہوتا کیونکہ اس سے میری خط و کتابت ہوتی ہے اور ممکن نہیں کہ اسے میرا نام بھول جائے۔
    بڈھے نے کہا اور سوری سر کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ آپ نے ان 40 سالوں میں مجھے یعنی بشارت کو کتنے خط لکھے ہیں؟
    ہاشمی صاحب مجھے یاد نہیں۔
    بڈھا ہنستے ہوئے بولا پھر آپ ہاشمی صاحب نہیں ہیں کیونکہ آپ ہاشمی صاحب ہوتے تو آپ کو یاد ہوتا کتنے خط لکھے،
    ہال میں شور و غل ہوا لوگ کہنے لگے کہ 10 سال تک ایک استاد سے پڑھنا اور پھر مسلسل اس سے رابطے میں رہنا یہ تو کوئی بھولنے والی بات نہیں مگر کتنے خط لکھے یہ کیسے یاد رہ سکتے ہیں؟
    بڈھا بولا جو بھی ہے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے اگر میں بشارت نہیں ہوں تو پھر یہ بھی ہاشمی نہیں، اگر اسے خط یاد نہیں پھر بھی یہ ہاشمی ہے تو مجھے اگر اپنے استاد کا نام یاد نہیں تو میں بھی بشارت ہی ہوں، اگر میرے بشارت ہونے کا انکار کرو گے تو اسکے ہاشمی ہونے کا بھی انکار کرنا پڑے گا،
    حاجی صاحب نے تمام معززین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے ساری بات سن لی کیا لگتا ہے آپ کو یہ واقعی ڈاکٹر بشارت ہے؟ پورا ہال یک زبان ہوکر بولا ہرگز نہیں یہ کوئی فراڈیہ ہے اسے پولیس کے حوالے کیا جائے۔
    بڈھا اچانک اٹھا اور کہنے لگا کہ حاجی صاحب کی باتوں میں آگئے ہیں آپ سب لوگ ، اگر آپ کی تسلی نہیں ہوئی تو آپ میرا امتحان لے لیں اگر میں واقعی ایک قابل ڈاکٹر ہونے کے امتحان میں کامیاب ہوا تو آپ سب مان لیجیے گا کہ میں ہی بشارت ہوں ورنہ بے شک پولیس کے حوالے کردیا جائے۔
    ہال میں لوگوں کی اکثریت نے کہا کہ بالکل بھی نہیں آپ چاہے کتنے ہی قابل ڈاکٹر کیوں نہ ہوں جب بشارت نہیں تو ہمیں آپ کی ضرورت نہیں۔
    ایک شخص اٹھا اس نے کہا ٹھیک ہے لیکن اسکی قابلیت چیک کرنے میں کیا برائی ہے؟
    تھوڑی دیر بعد چند مریضوں کو لایا گیا کہ چلیں ان کا آپریشن کردیں یا جو بھی علاج ہے کرکے دکھائیں۔
    بڈھے نے کہا کہ آپ میں سے ڈاکٹر کون کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہاں کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں۔
    بڈھا بولا ، پھر فیصلہ کون کرے گا کہ میں نے علاج درست کیا یا غلط؟ اگر فیصلہ حاجی صاحب نے کرنا ہے تو وہ بھی ڈاکٹر نہیں ہیں اس لیے میں آپ کو آسان حل بتاتا ہوں
    آپ سب کا سربراہ یہ حاجی رفیع ہی ہے اسکا اور میرا مقابلہ کروا لیں اس سے کہیں مجھ سے کپڑے سلائی کرنے کا مقابلہ کرلے۔ اگر میں جیت گیا تو میں سچا اور مجھے ڈاکٹر بشارت مان لیا جائے اور اگر حاجی جیت گیا تو بے شک مجھے پولیس کے حوالے کردیا جائے۔
    [​IMG]:v[​IMG]:v[​IMG]:v[​IMG]:v
    وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے وہ اٹھے اور کہنے لگے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کس نے کپڑے اچھے سلائی کیے؟ اس کے لیے پھر آپ کا چیلنج ہوگا کہ مجھ سے جوتے گانٹھنے کا مقابلہ کیا جائے اگر میں نے اچھے جوتے گانٹھ لیے تو اسکا مطلب ہوگا کہ میں نے کپڑے اچھے سلائی کیے۔ اور پھر جوتے کس نے اچھے گانڈے اس کا فیصلہ کرنے کے لیے تم گٹر صاف کرنے کا چیلنج دو گے کہ کون اچھا گٹر صاف کرتا ہے اگر میں نے گٹر اچھا صاف کرلیا تو اسکا مطلب ہوگا میں نے جوتے اچھے گانٹھے جسکا مطلب ہوگا میں نے کپڑے اچھے سلائی کیے اور اسکا مطلب ہوگا میں ڈاکٹر بشارت ہوں؟؟؟ آخر کب تک لوگ تمہارے چکر میں رہیں گے؟ جب تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ تمہیں ہی ڈاکٹر بشارت مانا جائے تو پھر کوئی دلیل کوئی ثبوت تمہیں قائل کرنے کے لیے کافی نہیں تمہارا ایک ہی حل ہے پولیس کا 6 نمبر کا جوتا۔
    پکڑو اس خبیث کو اور اسے پولیس کے حوالے کرو۔
    ہال کے شور و غل میں ایک اور آواز بلند ہوئی
    رکیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکیے
    لوگوں نے دیکھا ایک سوٹ بوٹ پہنے ہوئے بابو صاحب کھڑے ہیں جب سب خاموش ہوئے تو وہ بابو صاحب بولے
    دوستو یہ بوڑھا سچ کہہ رہا ہے یہ واقعی ڈاکٹر بشارت ہی ہے
    حاجی صاحب بولے ۔ مجھے لگتا ہے تم بھی اس کے ساتھ ملے ہوئے ہو۔
    وہ بابو بولا ۔ نہیں حاجی صاحب میں اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں بلکہ میں مرزائی ہوں۔ اگر اسے جھوٹا مانتا ہوں تو مجھے اپنے نبی کو بھی جھوٹا ماننا پڑے گا۔ اس لیے اسے ڈاکٹر بشارت مان لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ہمارے نبی مرزا قادیانی کے پاس بھی اپنے مسیح ہونے کے ہو بہو ایسے ہی ثبوت ہیں۔
    اس سارے شہر نے اس بڈھے کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا چار ڈنڈے پڑنے کے بعد وہ بڈھا مان گیا کہ میں حالات سے مجبور ہوں جوان تھا تو چوری ڈکیٹی کرتا تھا اب اسکی ہمت نہ رہی تو یہ طریقہ پیسہ کمانے کا سوچا میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہوں۔ بڈھے کو جیل بھیج دیا گیا مگر وہ سوٹ بوٹ والا بابو آج بھی بضد ہے کہ وہ بڈھا ہی ڈاکٹر بشارت ہے۔ کیونکہ وہ پولیس کو دئیے گئے بڈھے کے اقبالیہ بیان کو اسکی اجتہادی غلطی سمجھتا ہے۔
    رکیے صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    9 اور 5 جمع کرو تو وہ بھی 15 نہیں بنتے۔ امید ہے آپ لوگون نے اسی جگہ ہی یہ غلطی نوٹ کرلی ہوگی کہ یہ بھی غلط حساب لگایا گیا ہے لیکن کیا کریں وہ مرزائی بابو صاحب ماننے کو تیار نہیں وہ کہتا ہے یہ روحانی باتیں ہیں جو آپ کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بقلم ضیاء رسول
    (ایک خیالی افسانہ)
    20017422_1559293707456402_4908441930898198555_o.jpg

اس صفحے کی تشہیر