1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

ڈاکٹر عبد الحکیم خان پٹیالوی کی موت کی قادیانی پیشگوئی

حمزہ نے 'اہم پیشگوئیاں اور ان کا جائزہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 17, 2015

  1. ‏ فروری 17, 2015 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    ڈاکٹر عبد الحکیم خان پٹیالوی کی موت کی قادیانی پیشگوئی

    قدرت خدا کی کہ مرزا غلام احمد پہلے آنجہانی ہو گیا

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    مرزا غلام احمد نے جب اسلام کی خدمت کے عنوان سے اپنے آپ کو متعارف کرایا اور اسکے لئے لمبے چوڑے دعوے کئے تو بہت سے عوام و خواص اسکے دھوکے میں آ گئے اور انہوں نے اسے ایک مسلمان عالم کی حیثیت سے نہ صرف قبول کر لیا بلکہ اسکے لئے اپنا جان و مال بھی پیش کرنا شروع کر دیا تھا جنکے پاس رسائل و اخبار تھے انہوں نے دل کھول کر مرزا غلام احمد کی توصیف و تعریف کی اور عوام کو اس سے وابستہ ہونے کی تلقین و تاکید کی. انہی لوگوں میں پٹیالہ کے معروف شخص ڈاکٹر عبد الحکیم خان بھی تھے جو مرزا غلام احمد کے دھوکہ کا شکار ہو گئے اور اپنے رسالہ الذکر الحکیم میں مرزا غلام احمد کی تعریف و توصیف میں عرصہ دراز تک لگے رہے اور لوگوں کو قائل کرکے مرزا غلام احمد کے حلقہ بیعت میں لانا اپنی سعادت سمجھا اور خود بھی انکے حلقہ میں آ شامل ہو گئے. ڈاکٹر صاحب موصوف لکھتے ہیں

    ”پہلے پہل جب میں نے الذکر الحکیم نمبر ایک 1891ء میں مرزا کی تائید میں لکھنا شروع کیا تو مجھے خواب میں یہ ارشادات ہوئے تھے قل الحمد اللہ رب العالمین، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ان الہامات میں صاف ارشاد تھا کہ اس خدا کی حمد کر جو رب العالمین ہے. اللہ کے سوائے کوئی اور معبود نہیں اور محمد اللہ کا رسول ہے. اور کسی شخص کی حمد کی ضرورت نہیں نہ کسی اور رسالت کی ضرورت ہے. مرزا کی تائید میں لکھنا گویا کہ خدا کی حمد اور توحید اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت سے علیحدہ ہونا تھا. مگر المسیح الدجال کے اندھیروں نے مجھے کچھ دیکھنے نہ دیا. پھر جب مرزا کے بارے میں استخارہ کیا تو خواب میں ارشاد ہوا و لھم عذاب الیم بما کانوا یکذبون(البقرہ) مگر مرزا پرستی کے نشہ میں میں نے سمجھا کہ یہ مخالف علماء کی طرف اشارہ ہے. حالانکہ اگر مخالفوں کی طرف اشارہ ہوتا تو یکذبون (ذال کی شد کے ساتھ) چاہیے تھا نہ کہ یکذبون، تاہم چونکہ مرزا کی طرف سے تردد ہوا اور دل نے چاہا کہ مرزا کی تردید میں کچھ معلوم ہو. پھر خواب میں معلوم ہوا ناقۃ اللہ و سقیھا میں نے اس آیت کو مرزا کے حق میں اچھے معنوں میں لیا اور یہ نہ سوچا کہ اول تمنا کی وجہ سے القائے شیطانی ہے . دوم اگر اسکو رحمانی مانا جائے تو اسکے صحیح معنی یہ ہیں کہ مرزا انسانیت سے دور اور ایک حریص اونٹنی کے مشابہ ہے. اسکا مشن مخص یہی ہے کہ اسکو چندہ دیتے رہو. ایک خواب میں دیکھا کہ مرزا ایک لحیم شحیم جرنل کی صورت میں ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار تیزی سے دوڑ رہا ہے اور میں ایک پیپل کے درخت کے نیچے کھڑا ہوں. اسکی ظاہراً تعبیر یہ ہے کہ پیپل کا درخت اسلام ہے اور مرزا کو اس سے کچھ تعلق نہیں اور چندوں سے موٹا تازہ ہو کر اپنے نفس کے رستہ پر سوار چلا جا رہا ہے. تمام خوابات متذکرہ الذکر الحکیم نمبر ایک میں درج ہیں جو 1891ء میں چھپا تھا“ ( صفحہ 49)

    ڈاکٹر موصوف نے لکھا ہے کہ جب وہ مرزا غلام احمد کی تعریف میں کوئی بات لکھتے تو انہیں خواب میں کچھ اشارات ملتے تھے. لیکن چونکہ مرزا غلام احمد کا نشہ ان پر سوار تھا اسلئے انہوں نے ان اشارات پر زیادہ توجہ نہ کی. حتی کہ پھر بات بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آ گئی. اور انہیں یہ سمجھنے میں پھر کوئی دشواری نہ ہوئی کہ مرزا غلام احمد کا اسلام کی خدمت کا دعوی بے حقیقت ہے اور اصل مقصد دولت و شہرت حاصل کرنا ہے اور لوگوں کو انگریز کے قدموں میں لانا ہے تو انہوں نے مرزا غلام احمد سے اپنا رشتہ منقطع کر دیا. مرزا غلام احمد نے اس اندیشہ کے پیش نظر کہ سارے راز کھل نہ جائیں ڈاکٹر عبد الحکیم پر مختلف الزامات عائد کئے جس کا ڈاکٹر صاحب نے دلیری سے مقابلہ کیا اور اپنے رسائل میں اسکے جوابات دیئے اور مرزا صاحب کی تردید میں مختلف رسائل تحریر کئے اور سابقہ زندگی کی تلافی کیلئے اپنے آپ کو مرزا صاحب کی مخالفت اور انکے عقائد کی تردید کیلئے وقف کر دیا.

    ڈاکٹر صاحب جب مرزا غلام احمد کے حلقہ بیعت میں آئے تو دیکھا کہ قادیانیوں کو توحید سے کوئی لگاؤ نہیں ہے تو انہوں نے توحید کے موضوع پر کچھ لیکچر دیئے، پھر کیا ہو؟ اسے ڈاکٹر صاحب سے سنئے. موصوف لکھتے ہیں
    ”جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جائے تب ان لوگوں کے دل جو آخرت کو نہیں گھبرا جاتے ہیں اور جونہی غیر خدا (مرزا وغیرہ-مصنف) کا ذکر شروع ہو تو ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں. یہی وجہ میری علیحدگی کی ہوئی. جب میں نے شروع میں مرزائیوں کا بگڑا مذاق دیکھا اور توحید و تمجید باری تعالی پر لیکچر دینے شروع کئے تو وہ بگڑے اور گھبرائے اور آخر کار فضل ایزدی سے مجھے اس مشرک جماعت سے نجات ملی “ (ایضاً صفحہ 13)

    مرزا غلام احمد نے تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر عبد الحکیم خان نے اسکی بیعت کی تھی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا (روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 337) اور پھر ”چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور شکم پرست اور نفس پرست اور مُفسد اور مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا“ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 557)

    ڈاکٹر عبد الحکیم خان کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد کا فتنہ دجالی فتنہ سے کچھ کم نہیں ہے اور انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ یہ فتنہ انکے ہاتھ سے پاش پاش ہو کر رہے گا اور مرزا غلام احمد کے دجل و فریب کا پردہ چاک ہو کر رہے گا. چنانچہ موصوف جب میدان مقابلہ میں نکل آئے تو مرزا غلام احمد کے کاروبار پر اچھا خاصا اثر پڑنے لگا اور مرزا غلام احمد کے معتقدین ڈاکٹر صاحب کے گرد جمع ہونے لگے. مرزا غلام احمد نے جب اپنی کشتی ڈوبتی دیکھی تو ڈاکٹر صاحب پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا اور انکے بارے میں یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر صاحب نے نبوت کا دعوی کر دیا ہے اسلئے وہ مرتد اور واجب القتل ہیں. ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ مرزا صاحب اور انکی جماعت نے قادیان اخبار ریویو آف ریلجِن کے دسمبر 1906ء کے شمارہ میں
    ”میری نسبت شائع کیا کہ ایک جھوٹا نبی پٹیالہ میں ظاہر ہوا ہے جس کا نام عبد الحکیم خان ہے“ (صفحہ 12 و 46)

    مرزا غلام احمد نے ڈاکٹر صاحب پر یہ الزام کس لئے عائد کیا؟ اس لئے کہ مرزا صاحب کے بارے میں کہی گئی باتیں قابل اعتبار نہ رہے اور عوام میں اسکو پذیرائی نہ مل سکے اور پہلے ہی کہہ دیا جائے کہ یہ تو مرتد ہے اور اسکا عقیدہ یہ ہے. آج بھی قادیانی علماء اسی طرح کے پراپیگنڈے کے ذریعہ قادیانی عوام کو حق بات کو قبول کرنے سے روکے ہوئے ہیں اور چھوٹتے ہی علماء اسلام کے بارے میں غلط پراپگنڈہ کر دیتے ہیں، تا کہ کوئی قادیانی علماء اسلام کے پاس نہ جائے اور یوں وہ ہمیشہ مرزا غلام احمد کے خاندان کا غلام بنا رہے.

    جو قادیانی اپنے لیڈر کی یہ بات نہیں مانتے اور علماء اسلام سے مل کر اپنے سوالات و اشکالات کا جواب حاصل کرتے ہیں تو آخر کار وہ حق کی راہ پا لیتے ہیں. ہم قادیانی عوام سے درخواست کریں گے کہ وہ علماء اسلام سے ملیں، انہیں وہاں اپنے اشکالات کا تسلی بخش جواب مل جائے گا. پھر وہ خود فیصلہ کر سکیں گے کہ حق کا راستہ کدھر ہے اور کونسا راستہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے.

    ڈاکٹر صاحب نے مرزا غلام احمد کے اس الزام کی کھلی تردید کی اور بتایا کہ یہ سب مرزا غلام احمد کا اپنا اختراع اور اسکی جماعت کا جھوٹ ہے. مرزا غلام احمد جب اپنے اس حربے میں بھی ناکام ہو گیا تو پھر اس نے حسب معمول ڈاکٹر صاحب کی موت کی پیشگوئی کر دی اور کہا کہ اسے خدا نے خبر دے دی ہے کہ وہ ہلاک کیا جائے گا. ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں

    ”میری نسبت 30 مئی 1906 کو شائع کیا کہ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار ترے آگے ہے.... جس کے معنی الفاظ کے لحاظ سے فوری موت کے سوائے اور کچھ نہیں ہو سکتے“ (رسالہ مذکورہ صفحہ 24) مرزا غلام احمد نے 16 اگست 1906ء کو یہ پیشگوئی پھر شائع کر دی تھی. (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 560)

    ڈاکٹر عبد الحکیم خان نے مرزا صاحب کو اُسی کی زبان میں اسکا جواب دیا. ڈاکٹر صاحب نے 12 جولائی 1906ء کا اپنا الہام لکھا
    ”مرزا مُسرف، کذاب اور عیار ہے. صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اسکی میعاد تین سال بتائی گئی ہے“ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 559)

    مرزا غلام احمد نے تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا یہ الہام شائع کیا ہے اور کہا ہے کہ
    ” صرف جولائی 1907ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں “ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 591)

    اس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب اگست 1908ء سے پہلے پہلے مر جائیں گے. اگر مرزا صاحب اس مدت میں فوت نہیں ہوئے تو ڈاکٹر صاحب کی پیشگوئی غلط ثابت ہو گی اور اگر مرزا صاحب اگست 1908ء سے پہلے مر جاتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب کی پیشگوئی درست ہو گی. مرزا غلام احمد کو جب اس بات کی خبر پہنچی تو اس نے کہا دیکھنا کون پہلے مرتا ہے. مرزا صاحب نے 5 نومبر 1907ء کو ایک اشتہار شائع کیا اور کہا کہ خدا نے اسے اردو میں بتایا ہے کہ تیری عمر بڑھے گی اور دشمن کی بات پوری نہ ہو گی. اردو میں شائد اس لئے کہ بات بالکل صاف صاف رہے، کوئی پیچیدہ نہ رہے. مرزا صاحب نے لکھا کہ

    خدا نے ”آخر میں اُردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا. یعنی جو دشمن کہتا ہے کہ صرف جولائی 1907ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے“ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 591)

    پھر مرزا غلام احمد نے اپنی آخری کتاب جو انکی موت سے صرف چند دن پہلے شائع ہوئی تھی اس میں مزید وضاحت کے ساتھ اسے پیش کیا ہے اور کہا کہ خدا نے بتایا ہے کہ خدا کی نظر میں جو سچا ہو ہے خدا اسکی مدد کرے گا. میں چونکہ اسکا نبی ہوں اسلئے میری مدد کی جائے گی اور ڈاکٹر صاحب ہلاک ہو کر عذاب میں مبتلاء کئے جائیں گے. یقین نہ آئے تو مرزا غلام احمد کی اپنی تحریر دیکھیں. اس نے لکھا ہے کہ

    ” کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہوکر ہلاک ہوئے اور اُن کا نام و نشان نہ رہا. ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبد الحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اُس کی زندگی میں ہی 4 اگست 1908ء تک ہلاک ہو جاؤں گا. اور یہ اُس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہو گا.....مگر خدا نے اُس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اُس کو ہلاک کرے گا اور ر میں اُس کے شر سے محفوظ رہوں گا. سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اُس کی مدد کرے گا. “ (روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 336-337)

    مرزا غلام احمد نے چشمہ معرفت میں تسلیم کیا ہے کہ خدا نے اسے بتایا ہے کہ ڈاکٹر صاحب پہلے مرے گا اور مرزا صاحب کی عمر بڑھے گی. یہ مرزا صاحب کی کسی کی موت کے بارے میں شائد آخری پیشگوئی ہے، مگر افسوس کہ وہ بھی غلط نکلی اور خدا نے اکی کوئی مدد نہ کی. ڈاکٹر صاحب کی پیشگوئی کے مطابق مرزا غلام احمد کو اگست 1908ء سے پہلے پہلے مرنا تھا اور ہوا بھی ایسا ہی. مرزا غلام احمد کی وفات کی تاریخ 26 مئی 1908ء ہے. جبکہ ڈاکٹر صاحب مرزا صاحب کی وفات کے بعد دس سال سے زائد عرصہ حیات رہے اور 1919ء میں انکی وفات ہوئی. اب آپ ہی بتائیں مرزا غلام احمد اپنی بات میں سچا ہوا یا جھوٹا؟ اسکے خدا نے اسکو جھوٹی خبر دی تھی یا سچی؟ خدا نے مرزا غلام احمد کی مدد کی یا اسکے دشمن کی بات پوری کی؟ مرزا غلام احمد اگر اپنی بات میں سچا ہوتا تو اسکی بات ضرور پوری ہوتی. اسکی بات کا پورا نہ ہونا اسکے کاذب ہونے کا کہلا نشان ہے. مرزا صاحب کا یہ بیان قابل عبرت ہے

    ”اور کیونکر ممکن ہے کہ صادق کی پیشگوئی جھوٹی نکلے؟ “ (روحانی خزائن جلد ۱۵- تریَاق القلوُب: صفحہ 514)

    لاہور کے پیر بخش پنشنر پوسٹ ماسٹر نے اپنی کتاب تردید نبوت قادیانی میں مرزا صاحب کی کذب بیانیوں اور انکی جھوٹی پیشگوئیوں کی فہرست میں اس واقعہ کا بھی ذکر کیا ہے. مناسب معلوم ہوتا ہے اسے بھی یہاں بطور ریکارڈ نقل کر دیا جائے. موصوف نمبر 8 میں لکھتے ہیں
    ”مرزا مُسرف کذاب ہے اور عیار ہے. صادق کے سامنے شریر فنا ہو گا (الہام 12 جولائی 1906ء) ناظرین! یہ الہام سچ نکلا کہ مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء کو عبد الحکیم خاں کی موجودگی میں فوت ہو گئے. جب ایک جز الہام کی خدا نے سچی کر دی یعنی مرزا قادیانی کو موت دی اور ڈاکٹر عبد الحکیم خان نہ مرا تو ثابت ہوا کہ عبد الحکیم جو مرزا قادیانی کو کاذب کہتا تھا، صادق ہے اور مرزا قادیانی ضرور کاذب تھے. اللہ تعالی کے غالب ہاتھ نے فیصلہ سچے جھوٹے کا کیا. حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنا الہام شائع کیا تھا کہ میں صادق ہوں. میرے سامنے عبد الحکیم فوت ہو گا. مگر خدا نے اپنے فعل سے دنیا کو اطلاع دے دی کہ کاذب پہلے فوت ہوا. یعنی مرزا قادیانی ڈاکٹر عبد الحکیم خاں کے مقابلہ میں پہلے فوت ہو گئے. لیکن معیار صداقت یہی رکھی تھی کہ اگر عبدالحکیم خاں میرے مقابلہ میں زندہ رہا اور میں پہلے مر گیا تو کاذب ہوں گا. پس اب مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں ان کی اپنی کلام کافی ہے “ (تردید نبوت قادیانی صفحہ 130 مطبوعہ کریمی پریس لاہور جنوری 1925ء بار دوم)

    نوٹ: راقم الحروف کے پاس پیر بخش صاحب کی یہ قیمتی کتاب محفوظ ہے اور ڈاکٹر صاحب کی کتاب کی کاپی بھی موجود ہے. *

    قادیانی سربراہ مرزا طاہر سے تو ہمیں کوئی توقع نہیں کہ وہ ان حقائق کو اپنے عوام کے سامنے لانے کی ہمت کریں گے، تاہم قادیانی عوام کو چاہیئے کہ ان حقائق پر تھوڑی دیر غور کریں اور پھر انصاف سے بتائیں کہ مرزا غلام احمد کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینا کوئی عقلمندی ہے؟ اور کچھ دنیا پانے کی محبت میں ہمیشہ کیلئے آخرت کا سودا کر دینا بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے. فاعتبروا یا اولی الابصار!



    ___________________________________


    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    *بابو پیر بخش لاہوری صاحب کی کتاب تردید نبوت قادیانی کو احتساب قادیانیت جلد 12 صفحہ 277 پر دیکھا جا سکتا ہے اور مذکورہ حوالہ احتساب قادیانیت جلد 12 صفحہ 499 بمطابق کتاب صفحہ 223 پر دیکھا جا سکتا ہے.

اس صفحے کی تشہیر