1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(ڈنمارک کا واقعہ سرے سے غلط ہے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 25, 2014

  1. ‏ نومبر 25, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (ڈنمارک کا واقعہ سرے سے غلط ہے)

    پروفیسر غفور احمد: لیکن اس میں ایک اور چیز ہے کہ جس طرح انہوں نے بتایا ہے… جعفر صاحب نے… حالیہ واقعات کی یہ باتیں آئیں کہ بچوں کو ذبح کیا گیا۔ ڈنمارک کا واقعہ مجھے معلوم ہے کہ بالکل غلط ہے…
    Mr. Chairman: These are not....
    251پروفسیر غفور احمد: کوئی واقعہ اس طرح کا نہیں ہے۔ ریکارڈ پر ایک چیز آرہی ہے۔ اس کو Refute بھی نہیں کیاگیا ہے تو میں یہ گذارش کروں گا کہ اس میں کچھ تھوڑا سا دیکھا جائے۔ ڈنمارک کا پوچھا جائے کب کا واقعہ ہے۔ یہ کہاں کا واقعہ ہے۔ کون عورت تھی وہ اور کہاں وہ شائع ہوا ہے؟ اس لئے کہ مجھے یہ بات معلوم ہے… خود وہاں کے لوگ ملے ہیں… کہ وہاں مسلمان بے حساب تعداد میں ہیں اور احمدی تھوڑے ہیں۔ بعد میں جب معلوم ہوا ہے تو ان کے ساتھ انہوں نے قطع تعلق کیا ہے۔ لوگوں نے، اس وجہ سے، یہ واقعات آتے ہیں ریکارڈ پر تو سننے والا سمجھتا ہے کہ شاید یہ صحیح ہے۔
    Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.
    (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب فرمائیے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I said everything would be on the record. The members are judges. They will see, they will form their own opinion, they can draw their own inferences, but if, at this stage when the witness is giving evidence, anybody tries to stop him, they will give an excuse that the National Assembly of Pakistan did not give him a proper hearing, he was stopped from answering questions. So it does not matter if it takes a little more time. We should bear with that, we should put up with that. This is my request.
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب نے کہا ہے کہ ہر چیز ریکارڈ پر ہوگی۔ ممبران صاحبان خود جج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ممبران سب کچھ دیکھیں گے۔ اپنی رائے خود بنائیں گے اور اپنے نتائج خود اخذ کریں گے۔ مگر اس اسٹیج پر جب کہ گواہ اپنی شہادت پیش کر رہا ہے۔ اگر کوئی اس کو روکے گا تو وہ جھوٹ سے یہ بہانہ لے آئیں گے کہ قومی اسمبلی نے ان کی صحیح شنوائی نہیں کی اور سوالات کے جوابات دینے سے اس کو روک دیا گیا۔ اس لئے کوئی بات نہیں۔ اگر کچھ اور وقت صرف ہو جائے تو ہم کو برداشت کرنا چاہئے۔ یہ میری گذارش ہے)
    Professor Ghafoor Ahmad: The incident of Denmark, he may be asked to give documentary evidence.
    (پروفیسر غفور احمد: مثلاً وہ ڈنمارک کا واقعہ بتائے تو ان سے تحریری ثبوت طلب کریں)

اس صفحے کی تشہیر