1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کتاب "مطالعه قاديانيت" سے چند اقتباسات .

جاء الحق نے 'مطالعہ قادیانیت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 10, 2014

  1. ‏ اکتوبر 10, 2014 #1
    جاء الحق

    جاء الحق رکن ختم نبوت فورم

    کتاب "مطالعهء قاديانيت" سے ایک اقتباس ...محمدی بیگم کا افسانہ


    مرزا قادیانی کا اپنے صدق اور کذب کوپرکھنے کے لئے پیش کردہ معیار

    حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک اللہ کے کسی نبی نے بھی اپنے سچے ہونے کا معیار اپنی پیش گوئیوں کو نہیں بتایاکہ اگر میری فلاں پیش گوئی سچی ہوئی تو میں سچا ورنہ میں (نعوذ باللہ) جھوٹا ، اللہ کے نبی کو اپنے سچے ہونے میں ہرگز تردد یا شک نہیں ہوتا ، لیکن بناسپتی نبی نے اپنے صدق وکذب کو جانچنے کا معیار کیا بتایا؟ ملاحظہ فرمائیں : ۔
    ’’بد خیال لوگوں کوواضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا‘‘۔

    (آئینہ کمالات اسلام، رخ 5 صفحہ 288)
    اور پھر مرزا نے یہ اعلان بھی خود کیا :۔
    ’’اگر ثابت ہو کہ میری سو (100) پیش گوئی میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی ہو تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں‘‘۔

    (اربعین نمبر 4، رخ 17 صفحہ 461 حاشیہ)
    اور یہ بھی مرزا قادیانی کی ہی تحریریں ہیں:۔
    ’’جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو اس کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی‘‘۔

    (آئینہ کمالات اسلام، رخ 5 صفحات 322 و 323)
    ’’یہ بات بھی ظاہرہے کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے‘‘۔
    (تریاق القلوب، رخ 15 صفحہ 382)
    ’’ اور ممکن نہیں کہ نبیوںکی پیش گوئیاں ٹل جائیں‘‘۔
    (کشتی نوح، رخ 19 صفحہ 5)
    آپ نے پڑھا کہ کس طرح مرزا نے اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار اپنی پیش گوئیوں کو بتایااور کس طرح اس نے اقرار کیا کہ اگر میری ایک پیش گوئی بھی جھوٹی نکلی تو میں جھوٹا ، ہم سرد ست مرزا قادیانی کی صرف دو پیش گوئیوں کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

    مرزا قادیانی کی مسماۃ محمدی بیگم کے ساتھ


    اپنے نکاح کی پیش گوئی اور اس کا انجام

    اس پیش گوئی کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ مرزا کے رشتہ داروں میں ایک شخص احمد بیگ نام کا تھا جس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام محمدی بیگم تھا ، اسے زمین کی منتقلی کے ایک مقدمے میں مرزا قادیانی کے دستخطوں کی ضرورت تھی چنانچہ وہ مرزا کے پاس آیا اور اپنا مدعا بیان کیا ، مرزا قادیانی نے اسے کہا کہ میری عادت ہے کہ میں ہرکام سے پہلے استخارہ کیا کرتاہوں لہذا میں پہلے استخارہ کروں گا پھر فیصلہ کروں گا کہ دستخط کروں یا نہ کروں ، چنانچہ مرزا کے بقول اس نے استخارہ کیا تو اس کے خدا نے اسے یہ حکم دیا کہ صرف اس شرط پر احمد بیگ کی درخواست پر دستخط کرو کہ وہ اپنی بیٹی محمدی بیگم کا نکاح تمہارے ساتھ کردے (مرزا قادیانی نے یہ ساری بات مورخہ 10 جولائی 1888 کو اپنے ایک اشتہار میں خود بیان کی ہے، دیکھیں مجموعہ اشتہارات، جلد 1 صفحات157و 158 ) ، مرزا نے ساتھ ہی احمد بیگ کو ڈرانے کے لئے یہ پیش گوئی بھی داغ دی کہ :۔
    ’’ اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے گا ‘‘۔

    (مجموعہ اشتہارات، جلد 1 صفحہ 158)
    ذرا آگے لکھا : ۔
    ’’معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کررکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (یعنی احمد بیگ۔ناقل) کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعدانجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا‘‘۔ (حوالہ سابقہ) ۔
    مرزا قادیانی نے احمد بیگ کو لالچ بھی دیا اور یوں کہا : ۔
    ’’ اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ اس سے اس کی بڑی لڑکی کا رشتہ اپنے لئے مانگو، اور اس سے کہہ دو کہ پہلے تمہیں اپنا داماد بنائے پھر تم سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے ، اور یہ بھی بتاؤ کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں وہ زمین بھی دے دوں گا جو تم مانگ رہے ہو اور اس کے ساتھ اور زمین بھی دوں گا اور میں تم پر اس کے علاوہ اور احسانات بھی کروں گا‘‘۔

    (ترجمہ عربی تحریر: آئینہ کمالات اسلام، رخ 5 صفحات 572 و 573)
    بلکہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے والد کو اس رشتے کے بدلے میں یہاں تک پیش کش کردی کہ :۔
    ’’میں تم سے عہد کرتا ہوں کہ تمہاری بیٹی کو اپنی زمین کا بلکہ اپنی مملوکہ ہر چیز کا تیسرا حصہ دوں گا اور جو کچھ تم مانگوگے وہ بھی دوںگا‘‘۔

    (ترجمہ عربی تحریر: آئینہ کمالات اسلام، رخ 5 صفحہ 573)
    لیکن محمدی بیگم کے باپ نے اپنی بیٹی کا رشتہ مرزا قادیانی کو دینے سے صاف انکار کردیا تو پھر مرزا نے پینترا بدلا اور کہا کہ تم جو مرضی کرلو اس لڑکی کو تو ہرحال میں میرے نکاح میں آنا ہی ہے ، چنانچہ لکھا:۔
    ’’سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں (یعنی جو اس رشتہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ۔ ناقل) تمہارا مددگار ہوگا اورانجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا کوئی نہیں جو خداکی باتوں کو ٹال سکے تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہوجاتا ہے‘‘۔

    (مجموعہ اشتہارات، جلد 1 صفحہ 158)
    اس سے پہلے بتاریخ 20 فروری 1886 کو بھی مرزا قادیانی یہ لکھ چکا تھا : ۔
    ’’آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی‘‘۔

    (مجموعہ اشتہارات، جلد 1 صفحہ 102حاشیہ)
    مورخہ 2 مئی 1891 کو مرزا قادیانی نے ایک اور اشتہار نکالا جس میں لکھا : ۔
    ’’خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کرکے اس کومیری طرف لے آوے‘‘۔

    (مجموعہ اشتہارات، جلد 1 صفحہ 219)
    بتاریخ 28 دسمبر 1891 ایک بار پھر مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں یہ لکھا کہ اسے یہ الہام ہوا ہے : ۔
    ’’ اورتجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے، کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے ، ہم نے خود اس سے تیرا عقد باندھ دیا ہے اور میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا‘‘ ۔

    (مجموعہ اشتہارات، جلد 1 صفحہ 301)
    آپ نے دیکھا کہ مرزا کے دعویٰ کے مطابق اس کے خدانے اس کا عقد (نکاح) محمدی بیگم کے ساتھ باندھ دیا تھا ۔
    اس وقت تک چونکہ محمدی بیگم ابھی کنواری تھی اس لئے مرزا اپنی پیش گوئیوں میں یہی کہتا رہا کہ وہ میرے نکاح میں ضرور آئے گی چاہے کنواری ہونے کی حالت میں یا بیوہ ہوکر، لیکن محمدی بیگم کے گھر والوں نے مرزا قادیانی کے لالچ اور بعد ازاں دھمکی آمیز پیش گوئیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپریل 1892 میں محمدی بیگم کا نکاح موضع پٹی ضلع لاہورکے رہنے والے ایک شخص سلطان محمد بیگ کے ساتھ کردیا اس طرح مرزا کی آسمانی منکوحہ کو سلطان محمد لے گیا (آپ پڑھ چکے ہیں کہ مرزا کے مطابق اس کے خدا نے اس کا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ کردیا تھا) چنانچہ مرزا قادیانی کی امیدوں پر پانی پھرگیا، اب اگر مرزا قادیانی کی جگہ کوئی شریف آدمی ہوتا تو وہ خاموشی اختیار کرلیتا کیونکہ اب محمدی بیگم کسی اور کی منکوحہ تھی اور شریف آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے کی بیوی کا نام اشتہاروں میں اچھالتا رہے ، لیکن مرزا قادیانی نے انتہائی غیر شریفانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اشتہار پر اشتہار نکالنے شروع کردیے ، محمدی بیگم کا باپ جس کے بارے میں مرزا نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ محمدی بیگم کا نکاح کسی اور کے ساتھ ہونے کی صورت میں تین سال کے اندر مرجائے گا اور محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال کے اندر مرجائے گا (جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ محمدی بیگم کے باپ کو اس کے خاوند کے بعد مرنا تھا) وہ کبیر السن ہونے کی وجہ سے فوت ہوگیا، مرزا قادیانی نے چھلانگیں لگانی شروع کردیں کہ میری پیش گوئی کا پہلا حصہ پورا ہوگیا، اور پھر مرزا نے اپنی پیش گوئی میں اضافے کرنے بھی شروع کردیے اور ایسی تحریریں لکھنی شروع کیں:۔
    سنہ 1893 میں مرزا کے مطابق اس پر اس کے خداکی طرف سے یہ وحی ہوئی جو مرزا نے عربی میں لکھی:۔
    ’’ قال اننی سأجعل بنتاً من بناتہم آیۃ لہم فسمّاہا وقال انہا ستُجعل ثیبۃ ویموت بعلہا وابوہا الی ثلاث سنۃ من یوم النکاح ثم نردہا الیک بعد موتہما ولا یکون احدہما من العاصمین وقال انا رادوہا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید ومات ابوہا فی وقت موعود فکونوا لوعدہ الآخر من المنتظرین‘‘
    اس نے کہا میں ان کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کو ان کے لئے نشانی بناؤں گا اور اس نے کہا کہ وہ بیوہ ہوجائے گی ، اس کا خاوند اور باپ دونوں نکاح کے دن سے تین سال تک مر جائیں گے پھر ہم اس لڑکی کو ان دونوںکی موت کے بعد تیری طرف لوٹادیں گے اور ان دونوں میں سے کوئی بھی بچنے والا نہیں اور کہاکہ ہم اس لڑکی کو تیری طرف واپس لانے والے ہیں اللہ کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا بے شک تیرا رب جو ارادہ کرتا ہے وہ کرتا ہے ، تو اس لڑکی کا باپ وقت مقررہ میں مر گیا پس اب تم اللہ کے دوسرے وعدہ کا انتظار کرو۔

    (کرامات الصادقین، رخ 7 صفحہ 162)
    آپ نے دیکھا کہ محمدی بیگم کے باپ کے مرنے کے بعد مرزا یہ تحریرلکھ رہا ہے اور کہہ رہاہے کہ میں نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر محمدی بیگم کا نکاح میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ کیا جائے گا تو اس کا باپ اور خاوند دونوں تین سال کے اندر مرجائیں گے اور ان کے مرنے کے بعد آخرکار محمدی بیگم میرے پاس واپس آجائے گی یہ اللہ کی بات ہے جو تبدیل نہیں ہوسکتی ، اور پھر مرزا کہتا ہے کہ دیکھو میری پیش گوئی کے مطابق اس کا باپ مرگیا ، اس طرح اللہ کا ایک وعدہ پورا ہوا اب دوسرا وعدہ پورا ہونے کا انتظار کرو ۔
    آگے چلنے سے پہلے آپ کی توجہ اس طرف بھی دلاتا جاؤں کہ مرزا نے اپنے خدا کی یہ جو عربی وحی لکھی ہے اس میں لکھا ہے {ویموت بعلہا وابوہا الی ثلاث سنۃ} عربی قواعد کی رو سے ثلاث سنۃ غلط ہے بلکہ ثلاث سنوات یا ثلاث سنین ہونا چاہیے(جیسا کہ مرزا کی علمی قابلیت کے باب میں بیان ہوا) لیکن مرزا جی ٹھہرے سلطان القلم ان کی عربی بھی ان کی نبوت کی طرح بناسپتی ہے ۔
    تو سلطان محمد کا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ اپریل 1892 میں ہوا ، اس طرح مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق اسے اڑھائی سال کے اندر یعنی اگست/ستمبر1894 تک مرنا تھا لہذا اب اس کی موت کا انتظار شروع ہوا ، اور مرزا قادیانی نے مورخہ اکیس ستمبر 1893 کو لکھا :۔
    ’’مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر 1893 ہے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالا تر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں ‘‘۔

    (شہادۃ القرآن، رخ 6 صفحہ 375)
    اسی کتاب کے اگلے صفحے پر مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی پیش گوئی کو عظیم الشان پیش گوئی لکھا اور اس کے چھ اجزاء تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیے : ۔
    ’’ اور ان میں سے وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم کے ساتھ تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں (1) مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (2) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (3) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (4) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تانکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (5) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو (6) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہوجاوے ‘‘۔

    (شہادۃ القرآن، رخ 6 صفحہ 376)
    اسی طرح مرزا قادیانی نے لکھاکہ میری اس پیش گوئی میں پورے چھ دعوے ہیں :۔
    ’’ اول نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم نکاح کے وقت تک لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا ۔ سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا ۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مر جانا ۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا ۔ ششم پھر آخر یہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجودسخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آنا‘‘

    (آئینہ کمالات اسلام، رخ 5 صفحہ 325)
    اب خود مرزا نے اپنی اس پیش گوئی کے چھ حصے بتائے اور پھر یہ بھی بتایا کہ اس پیش گوئی میں میرے چھ دعوے ہیں ، اس طرح بات بالکل صاف ہوگئی کہ پیش گوئی اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک اس کے چھ کے چھ اجزاء پورے نہ ہوں اور مرزا اس وقت تک سچا نہیں ثابت نہیں ہوسکتا جب تک اس کے چھ کے چھ دعوے سچے نہ ہوں ، نیزیہ بات ذہن میں رہے کہ اب تک جہاں بھی مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی کی وہاں کوئی شرط ذکر نہیں کی کہ اگر فلاں کام ہوگیا یا فلاں نے توبہ کرلی یا فلاں ڈر گیا تو پھر میرا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ملتوی یا کینسل ہوجائے گا۔
    اب وقت گذرتا رہا، ہفتے گذرے ، مہینے گذرے ، سال ، دوسال ، اڑھائی سال گذر گئے لیکن محمدی بیگم کا خاوند سلطان محمد زندہ سلامت رہا، مرزا قادیانی کو پھر اپنی ذلت سامنے نظر آنے لگی تو اس نے حسب عادت اپنی تاویل کی زنبیل سے وہی پرانا نسخہ نکالااور کہنا شروع کیا کہ سلطان محمداپنے سسر احمد بیگ کی موت دیکھ کر ڈر گیا تھا اس لئے اس کی موت ٹل گئی (یہ بات مرزا کو اس کے خدا نے اس وقت نہ بتائی جب احمد بیگ فوت ہوا تھا کیونکہ اوپر آپ نے پڑھا کہ 21 ستمبر 1893 کو بھی مرزا نے یہی لکھا کہ محمدی بیگم کے خاوند کی موت میں گیارہ مہینے رہ گئے ہیں جبکہ اس سے کئی مہینے پہلے احمد بیگ کی موت ہوچکی تھی) ، کسی نے پوچھا کہ مرزا جی آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ سلطان محمد ڈر گیا یا اس نے توبہ کرلی؟ تو دلیل ملاحظہ فرمائیں ، مرزا قادیانی نے کہا کہ احمد بیگ کی موت کے بعد سلطان محمد کے کچھ رشتہ داروں کے خط آئے تھے اور انہوں نے پشیمانی کا اظہار کیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے توبہ کرلی تھی (کیا سلطان محمد نے بذات خود کوئی معافی نامہ لکھا ؟ آج تک نہ مرزا قادیانی اور نہ ہی اس کا کوئی پیروکاریہ ثابت کر سکا) ۔

    مرزا کا اصرار کہ اصل اور بنیادی پیش گوئی اب بھی قائم ہے

    دوستو! آج جماعت مرزائیہ کی طرف سے یہ دھوکہ دیا جاتا ہے کہ مرزا کی اصل پیش گوئی احمدبیگ اور اس کے داماد سلطان محمد کی موت تھی ، اور محمدی بیگم کے ساتھ نکاح صرف اس صورت کے ساتھ مشروط تھا اگر سلطان محمد کی موت ہوجاتی، مرزائی پاکٹ بک کے مصنف نے بھی یہی فریب دینے کی کوشش کی ہے کہ مرزا کو اس کے خدا نے یہ بتایاتھا کہ میں محمدی بیگم کے باپ اور خاوند دونوں کی موت کے بعد محمدی بیگم کو بیوہ کرکے تیری طرف لوٹاؤں گا ، اس طرح شرط یہ تھی کہ اگر وہ بیوہ ہوگی تو تیرے نکاح میں آئے گی ،چونکہ سلطان محمد توبہ کرکے (جس توبہ کا کوئی ثبوت آج تک جماعت مرزائیہ پیش نہیں کرسکی اور نہ اس پیش گوئی کامشروط ہونا ثابت کرسکی) موت سے بچ گیا ، لہذا محمدی بیگم کے بیوہ ہونے کی شرط پوری نہ ہوئی نتیجہ یہ کہ نکاح کی پیش گوئی ملتوی ہوگئی۔ یہ ایسا مرزائی دھوکہ ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے ، آپ نے اب تک خود مرزا قادیانی کی جو پیش گوئیاں باحوالہ پڑھیں ان کے اندر کہیں بھی کوئی شرط نہیں ، بلکہ جب تک محمدی بیگم کا نکاح نہ ہوا تھا مرزا کی پیش گوئی یہ تھی کہ وہ کنواری بھی میرے نکاح میں آسکتی ہے اور بیوہ ہوکر بھی، جب اس کا نکاح ہوگیا تو چونکہ کنواری والی بات اب ناممکن ہوگئی لہذا مرزا نے یہ لکھنا شروع کردیا کہ اب وہ بیوہ ہوکر آئے گی ، آئیے ہم خود مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ اصل اور بنیادی پیش گوئی کیا تھی؟ کسی کی موت کی یا نکاح کی؟ اور کیا محمدی بیگم کے ساتھ مرزا کا نکاح مشروط تھا ؟ اور کیا سلطان محمد کے بچنے سے یہ اصل پیش گوئی ملتوی ہوگئی؟، جب سلطان محمد اڑھائی سال کے اندر نہ مرا تو مرزا نے بتاریخ 6 ستمبر 1894 کو ایک اشتہار جاری کیا اس میں لکھا : ۔
    ’’کیونکہ عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلّق ہوتی ہے جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے جیساکہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے ۔ لیکن نفس پیش گوئی یعنی اُ س عورت کا اِس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہ ٹلے گی پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے ‘‘۔

    (مجموعہ اشتہارات، جلد 2، صفحہ 43، اشتہار نمبر 120)
    مرزا قادیانی کی اس تحریرسے یہ باتیں سمجھ آتی ہیں :
    اڑھائی سال کے اندر محمدی بیگم کے خاوند کی موت کی پیش گوئی در اصل اس پر عذاب آنے کی پیش گوئی تھی، اور عذاب کی پیش گوئی تقدیر معلّق ہوتی ہے جو خوف یا رجوع الی اللہ سے ٹل جاتی ہے اس لئے محمدی بیگم کا خاوند وقت مقررہ کے اندر نہ مرا (یہ بھی مرزا قادیانی کا دھوکہ ہے محمدی بیگم کے خاوند نے ہرگز کوئی معذرت یا توبہ نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ پوری زندگی کبھی مرزا کی پیش گوئی سے ڈرا ، آج تک جماعت مرزائیہ اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی کہ سلطان محمد نے توبہ کی تھی ، وہ توبہ کیوں کرتا؟ اس نے کون سا گناہ کیا تھا؟ کیا کسی غیر منکوحہ عورت کے ساتھ اس کے گھر والوں کی رضامندی سے نکاح کرنا گناہ ہے؟ ) ، یہاں تک تو مرزا نے یہ بتایا کہ سلطان محمد کیوں نہ مرا ، لیکن آگے جو لکھا وہ ہے اصل پیش گوئی جسے مرزا نے ’’نفسِ پیش گوئی‘‘ کے الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے اور پہلے سلطان محمد کی موت کی پیش گوئی کو تقدیر معلّق بتایا لیکن محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی پیش گوئی کو ’’ تقدیر مبرم‘‘ بتایا ، اور یہ بھی بتایا کہ یہ ایسی تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح بھی ٹل نہیں سکتی کیونکہ اگر یہ نکاح ٹل گیا تو مرزا کے مطابق اس کا خدا جھوٹا ثابت ہوجائے گا ۔
    مرزائی پاکٹ بک میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ تقدیر مبرم بھی ٹل سکتی ہے لیکن یہاں مرزا نے ان ساری تاویلات کا دروازہ یہ لکھ کر بند کردیا ہے کہ ’’ یہ ایسی تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی‘‘ نیز مرزا نے اس تقدیرمبرم کو محمدی بیگم کے خاوند کی موت کی پیش گوئی کے مقابلے میں ذکر کیا ہے جسے اس نے تقدیر معلّق بتایا ، اگر تقدیر معلق اور تقدیر مبرم دونوں ٹل سکتی تھیں تو مرزا نے ان دونوں میں فرق کیوں کیا ؟ مرزا قادیانی نے تقدیرمعلق اور تقدیر مبرم کا فرق ایک دوسری جگہ یوں بیان کیا ہے : ۔
    ’’ تقدیر دوقسم کی ہوتی ہے ایک کا نام معلق ہے اور دوسری کو مبرم کہتے ہیں ، اگر کوئی تقدیر معلق ہو تو دعا اور صدقات اس کو ٹلا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس تقدیر کو بدل دیتا ہے ، اور مبرم ہونے کی صورت میں وہ صدقات اور دعا اس تقدیر کے متعلق کچھ فائدہ نہیں پہنچاسکتی‘‘۔

    (ملفوظات، جلد 3 صفحہ 24، پانچ جلدوں والا ایڈیشن)
    ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہواکہ مرزا قادیانی کے نزدیک اصل اور بنیادی پیش گوئی محمدی بیگم کے ساتھ نکاح ہونے کی تھی اور اس پیش گوئی کے ٹلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اسے ہر صورت میں پورا ہونا تھا ۔
    تو دوستو!آپ نے دیکھا کہ محمدی بیگم کا خاوند جب مرزا کی بتائی ہوئی مدت میں نہ مرا تو مرزا نے کیسے تاویل کی کہ وہ ڈر گیا تھا اس لئے بچ گیا ، جبکہ اس سے پہلے اس بارے میں وہ جتنی بھی پیش گوئیاں کر چکا تھا ان کے اندر ہرگز کہیں ایسی کوئی شرط نہیں تھی کہ اگر وہ ڈر جائے گا یا توبہ کرلے گا تو بچ جائے گا ، بلکہ ان پیش گوئیوں کے مطابق اسے ہرحال میں ضرور مرنا تھا کیونکہ اصل اور نفس پیش گوئی تب ہی پوری ہوتی ، اس بات کا احساس خود مرزا قادیانی کوبھی تھا چنانچہ اس نے یہ تاویل کرکے اڑھائی سال کی مدت میںسلطان محمد کے مرنے والی بات سے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ اسے صرف مدت میں ڈھیل ملی ہے اس کی موت بہرحال اٹل ہے، چنانچہ اس نے 1896 ء میں یہ بیان شائع کیا : ۔
    ’’ میں بار بارکہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو، اگر میںجھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی ۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا ئے تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کرے گا جیساکہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی ۔ اصل مدعا تونفس مفہوم ہے اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہوتا ہے‘‘ ۔

    (انجام آتھم، رخ 11 صفحہ 31 حاشیہ)
    اس تحریر سے معلوم ہوا کہ مرزا نے صرف اڑھائی سال کی مدت کے اندر سلطان محمد کے مرنے کو تقدیر معلق بتایا تھا جبکہ اس کی موت اس کے نزدیک اب بھی تقدیر مبرم تھی اور وہ واضح طور پر اعلان کر رہا ہے کہ اگر یہ پیش گوئی یعنی اس کی موت میری زندگی میں نہ ہوئی تومیں جھوٹا ہوں گا ، اور پھر اس نے مثال دے کر بتایا کہ جیسے احمد بیگ (محمدی بیگم کا باپ) اور آتھم مرگئے ایسے ہی یہ بھی مرجائے گا ۔
    یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ یہ مرزا کا صریح جھوٹ ہے کہ عیسائی پادری عبدللہ آتھم اس کی پیش گوئی کے مطابق مر گیا تھا ، بلکہ مرزا ہمیشہ کی طرح اپنی اس پیش گوئی میں بھی ذلیل وخوارہوا تھا کیونکہ اس نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ آتھم پندرہ مہینے کے اندر مر جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا، وہاں بھی مرزا نے یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی کہ اس نے توبہ کرلی تھی اس لئے نہ مرا ، جب توبہ کا ثبوت مانگا گیا تو کہنے لگا آتھم سے کہو کہ وہ قسم اٹھائے کہ اس نے توبہ نہیں کی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا آتھم عیسائی ہے اور موجودہ بائبل میں قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے ، اس طرح مرزا نے یہ چالاکی کی کہ اگر تووہ قسم اٹھالے گا تو میں کہوں گا دیکھو اس نے عیسائی عقیدہ چھوڑ دیا ، اور اگر قسم نہیں اٹھائے گاتو میں یہ شور کرتا رہوں گا کہ اس نے توبہ کرلی تھی ، ہم اس پیش گوئی کی تفصیل میں اس وقت نہیں جائیں گے صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ مرزا قادیانی نے جو اس تحریر میں لکھا ہے کہ آتھم کے متعلق پندرہ مہینے والی اس کی پیش گوئی پوری ہوئی تھی یہ صریح جھوٹ ہے لعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔
    اب غور فرمائیں ! اوپر والی تحریر مرزا نے 1896 میں لکھی (مرزا کی کتاب انجام آتھم 1896 میں چھپی تھی) ، اس وقت سلطان محمد کی اڑھائی سالہ مدت کو گذرے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا تھا یعنی بقول مرزا وہ رجوع الی اللہ کرکے اور ڈر کر اپنی موت ٹال چکا تھا ، لیکن پھر بھی مرزا نے یہ لکھا کہ اس کی موت کی پیش گوئی اپنی جگہ پر قائم ہے اور اگر میری زندگی میںاس کی موت نہ ہوئی تو میں جھوٹا ، مرزا نے ہرگز یہ نہیں لکھا کہ چونکہ سلطان محمد توبہ کرکے بچ گیا ہے اس لئے اب میرے نکاح والی پیش گوئی ملتوی ہوگئی ۔
    نکاح نہ ہونے کی صورت میں ذلت اور نامرادی کے ساتھ ہلاکت کی دعا
    مورخہ 27 اکتوبر 1894 کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار جاری کیا جس میں اس نے اپنے خدا سے یہ دعامانگی: ۔
    ’’ اورہم اس مضمون کو اس پر ختم کرتے ہیں کہ اگر ہم سچے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پیش گوئیوں کو پورا کرے گا اوراگر یہ باتیں خدا تعالی کی طرف سے نہیں ہیںتوہمارا انجام نہایت بد ہوگا اور ہرگز یہ پیش گوئیاں پوری نہیں ہونگی ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین ۔ اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے علیم وقدیر اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں توان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہوجائے اور اگر اے خدا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر‘‘۔

    (مجموعہ اشتہارات، جلد 2 صفحات 115 و 116)
    اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا محمدی بیگم کا نکاح مرزا کے ساتھ ہوایا وہ نامرادی کے ساتھ دنیا سے چلا گیا ۔
    • Like Like x 2
  2. ‏ فروری 25, 2015 #2
    جاء الحق

    جاء الحق رکن ختم نبوت فورم

    کیا تورات کے مطابق صلیب کی ہر موت لعنتی موت ہے؟
    جیساکہ بیان ہوا ، مرزا قادیانی نے قرآن کریم اور امت اسلامیہ کے برخلاف یہودیوں اور عیسائیوں کی تائید کرتے ہوئے یہ عقیدہ اپنایا کہ حضرت عیسیٰ عليه السلام کو پکڑ کر دوچوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا گیا (ازالہ اوہام، رخ 3، صفحہ 296) ، اُس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھوکے گئے یہاں تک کہ وہ اس تکلیف سے غشی میں ہوکر مُردہ کی سی حالت میں ہوگیا (مسیح ہندوستان میں، رخ15،صفحہ 20/ نزول المسیح، رخ 18، صفحہ 396/ ازالہ اوہام، رخ 3، صفحہ 302)، اور جب اُس سے سوال کیا گیا کہ قرآن تو کہتا ہے کہ ’’وماصلبوہ‘‘ وہ حضرت مسیح عليه السلام کو صلیب پر ڈال ہی نہ سکے تو مرزا قادیانی نے یہ منطق پیش کی کہ ’’ما صلبوہ‘‘ کا معنی ہے کہ وہ انہیں صلیب پر مار نہ سکے ، اِس سے صلیب پر ڈالے جانے کی نفی نہیں ہوتی، لیکن کوئی مرزائی مربی اس سوال کا جواب نہیں دیتا کہ اگر عربی میں یہ کہنا ہو کہ ’’فلاں کو صلیب پر نہیں ڈالا گیا ‘‘ تو اس کے لئے ’’ماصلبوہ‘‘ بولا جاسکتا ہے یا نہیں؟ ،، یا عربی میں اس کے لئے کیا جملہ بولا جائے گا؟ یا مثلاًہماری زبان میں اگر کسی کے بارے میں یہ کہاجائے کہ ’’فلاں کو پھانسی نہیں دی گئی‘‘ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُسے پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا، اس کے مُنہ پر کالا کپڑا ڈالا گیا، گلے میں رسّہ ڈالا گیا پھر تختہ کھینچا گیا لیکن اُسے موت نہیں آئی، اور اگر اُس کے ساتھ یہ سب کچھ نہ کیا جائے بلکہ رہا کردیا جائے تو اُس کے بارے میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ ’’اُسے پھانسی نہیں دی گئی‘‘؟۔
    آمدم بر سرِ مطلب! مرزا قادیانی سے پوچھا گیا کہ اگر حضرت عیسیٰ عليه السلام کے ساتھ یہ سب کچھ کیا گیا، مارا پیٹا گیا، آپ کے اعضاء مبارکہ میں کیل لگائے گئے ، سرِ عام آپ کی بے حرمتی کی گئی، تمام لوگوں نے یقین بھی کرلیا کہ آپ کی موت ہوچکی ہے تو پھر یہ بھی تسلیم کرلو (یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح) کہ صلیب پر آپ کی موت ہوچکی تھی، تو مرزا قادیانی نے ایک نیا جھوٹ بنایا اور کہا کہ تورات میں لکھا تھا ’’جو صلیب پر لٹکایا جائے وہ ملعون ہوتا ہے‘‘ (ملفوظات، جلد 2، صفحہ278) ، تو اگر خدا نخواستہ حضرت عیسیٰ عليه السلام کی صلیب پر موت واقع ہوجاتی تو یہ لعنتی موت ہوتی ، اللہ نے آپ کو لعنتی موت سے بچایا ۔
    اِس سے پہلے کہ ہم اِس پر بات کریں کہ کیا واقعی تورات میں یہ لکھا ہے کہ ’’ہر وہ شخص جو صلیب پر لٹکایا جائے لعنتی ہوتا ہے‘‘ ، ہم ایک سوال کرنا چاہتے ہیں کہ خود مرزا قادیانی کے اقرار کے مطابق جنہوں نے حضرت عیسیٰ عليه السلام کو صلیب پر ڈالا تھا اور جو موقع پر موجود تھے انہیں تو یہ یقین ہوگیا تھا کہ صلیب پر آپ کی موت ہوچکی ہے (قرآن کریم نے بھی یہودیوں کے حوالے سے صاف طور پر یہ بیان کیا ہے کہ اُن کا دعویٰ ہے کہ ہم نے مسیح عليه السلام کو قتل کردیا ہے، اور بہت سے عیسائی فرقوںکا عقیدہ بھی یہی ہے) تو مرزا قادیانی انہیں کیسے یقین دلائے گا کہ حضرت مسیح عليه السلام لعنتی موت سے بچ گئے؟ ، واضح رہے کہ جیسے ہم نے پہلے بیان کیا ہے (بقول مستشرق جورج سیل اور انجیل برناباس) قدیم ترین عیسائی فرقے یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ عليه کو ہرگز صلیب پر نہیں ڈالا گیا تھا ، دوسری طرف ہمیں کوئی ایسا قدیم یہودی یا عیسائی فرقہ نہیں ملتا جس نے یہ کہا ہو کہ انہیں صلیب پر تو ڈالا گیا تھا لیکن ان کی موت نہیں ہوئی تھی صرف بے ہوش ہوئے تھے جسے لوگوں نے موت سمجھ لیا ۔
    اب آئیے مرزا قادیانی کے اِ س جھوٹ کا جائزہ لیتے ہیں ، اگرچہ موجودہ بائبل (عہد نامہ قدیم وجدید) ہرگز قابل اعتبار نہیں بلکہ خود با اقرار مرزا محرّف ومبدّل ہے (چشمہ معرفت، رخ23، صفحہ 266)، لہذا اِس بائبل کے حوالے کسی کام کے نہیں ، لیکن مرزا قادیانی نے اِس محرّف اور ناقابل اعتبار بائبل کے حوالے سے بھی یہ جھوٹ بولا ہے کہ اس میں یہ لکھا ہے کہ ’’صلیب کی ہر موت لعنتی موت ہوتی ہے‘‘ ، آئیے دیکھتے ہیں بائبل میں کیا لکھا ہے (ہمارے پیش نظر پاکستان بائبل سوسائٹی کا شائع کردہ بائبل کا اردو ترجمہ ہے) :۔
    ’’۲۲ …جب کوئی ملزم جس سے کوئی سنگین جرم سرزد ہوا ہو مارڈالا جائے اور اُس کی لاش درخت سے لٹکائی جائے ۔ ۲۳…تو دیکھنا کہ اُس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکتی نہ رہے ۔ تُم اُسے اُسی دن دفن کردینا کیونکہ جسے درخت پر لٹکایا جائے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہوتا ہے لہذا تم اُس ملک کو ناپاک نہ کرنا جسے خداوند تمہارا خدا میراث کے طور پر تمہیں دے رہا ہے‘‘ ۔ (استثناء، باب 21، آیات 22 تا 23، عہد نامہ قدیم)
    آپ نے دیکھا کہ یہاں صاف طور پر اُس کا ذکر ہورہا ہے جس سے ’’کوئی سنگین جرم‘‘ سرزد ہوا ہو جس کی پاداش میں اسے موت کی سزا دے کر مارڈالا جائے ، اس ’’مجرم‘‘ کی لاش کو قتل کرنے کے بعد (صلیب پر نہیں) بلکہ ’’درخت‘‘ پر لٹکانے کا ذکر ہے (یہ بھی نہیں کہا گیا کہ اُسے زندہ درخت پر لٹکایا جائے پھر اُس کے جسم میں کیل لگائیں جائیں اور اُسے درخت پر قتل کیا جائے) ، معلوم ہوا کہ اگر کسی ’’بے گناہ‘‘ کو قتل کرکے اس کی لاش درخت پر لٹکائی گئی تو وہ ہرگز ’’لعنتی موت‘‘ نہیں ہوگی ۔ اب ہم مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے پوچھتے ہیں، کیا حضرت عیسیٰ عليه السلام واقعی مجرم تھے؟ کیا اُنہوں نے واقعی کوئی ایسا گناہ کیا تھا جس کی سزا تورات کے مطابق موت تھی؟ کیا مرزا قادیانی کے نزدیک آپ کو پہلے قتل کیا گیا اور پھر آپ کی لاش کسی درخت کے ساتھ لٹکائی گئی؟ (صلیب کا یہاں کوئی ذکر نہیں ، مرزائی مربی کہتے ہیں کہ چونکہ صلیب درخت سے ہی بنائی جاتی ہے اس لئے یہاں درخت سے مراد صلیب ہی ہے ) ۔
    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن کریم نے یہودیوں کا یہ دعویٰ ذکر کیا ہے کہ ’’انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ‘‘ کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو قتل کردیااس کے ساتھ ’’صلبنا‘‘ (یعنی ہم نے صلیب پر لٹکادیا) ذکر نہیں کیا جو اِس بات کی دلیل ہے کہ یہود نفسِ قتل پر فخر کرتے تھے اور ان کی نظر میں صلیب پر لٹکانے کی کوئی اہمیت نہیں تھی ورنہ اللہ تعالیٰ بھی ان کے اس دعوے کو یوں ذکر فرماتے کہ ’’ہم نے مریم کے بیٹے کو صلیب پر لٹکا کر لعنتی موت دیدی‘‘ اور پھر اس کی تردید یوں ہوتی کہ ’’اللہ نے انہیں لعنتی موت سے بچایا اور صلیب سے زندہ اتار لیا‘‘ ، پس جب وہ صلیب پر لٹکانے پر فخر ہی نہیں کرتے تو اسے ان کے نزدیک موجب طعن ولعنت سمجھنا صرف مرزائی تصوّر ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کے اِس دعوے کی تردید صرف ’’ماقتلوہ ‘‘ سے فرمادی کہ انہوں نے ہرگز قتل نہیں کیا ، آگے ’’ماصلبوہ‘‘ لا کر قرآن کریم یہی بتانا چاہتا ہے کہ قتل تو دُور کی بات وہ تو آپ u کو صلیب پر ڈال ہی نہ سکے ، اگر کوئی کہے کہ یہودیوں کے نزدیک مطلق ’’قتل کرنا‘‘ بھی لعنتی موت تھی توپھر قرآن کریم میں یہ بھی بیان ہے کہ ’’وقتلہم الانبیاء بغیر حق‘‘ کہ انہوں نے کئی انبیاء کو ناحق قتل کیا ، خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:
    ’’حضرت یحییٰ u نے بھی یہودیوں کے فقیہوں اور بزرگوں کو سانپوں کے بچے کہہ کر ان کی شرارتوں اور کارسازیوں سے اپنا سر کٹوایا‘‘ ۔
    (ازالہ اوہام، رخ3، صفحہ 110)
    ایک جگہ لکھا :۔
    ’’ولا یتفکرون ولا ینظرون الی أن یحییٰ قد قُتل ولحِق بالموتیٰ‘‘ وہ نہیں سوچتے اور نہیں دیکھتے کہ یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا گیا اور وہ مُردوں کے ساتھ مل گئے ۔
    (حمامۃ البشریٰ، رخ 7، صفحہ 215)
    تو کیا اُن تمام انبیاء کو (خاص طور پر حضرت یحییٰ u کو)جنہیں قتل کیا گیا (نعوذ باللہ) لعنتی موت ملی؟ ۔ کبرت کلمۃ تخرج من أفواہم ان یقولون الا کذباً ۔
    الغرض ! مرزا قادیانی کے نزدیک یہودیوں کا حضرت عیسیٰ u کو گرفتار کرنا، مجمع کے سامنے دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالنا، آپ کے اعضاء میں کیل لگانا، آپ کے جسم اطہر کی بے حرمتی کرنایہ سب تو آپ u کی بے توقیری اور توہین نہیں ، ہاں اگر آپ کی موت صلیب پر ہوجاتی تو یہ آپ کے لئے لعنتی موت ہوتی ، اور اگر کوئی کہے کہ یہودی آپ uکے جسم اطہر تک پہنچ ہی نہ سکے ، آپ کے جسم میں کیل تو کیا ایک کانٹا بھی نہ چبھوسکے تو مرزا قادیانی اور اس کی (ظلی بروزی) امت غصہ میں آجائے۔اِس عقل پر جتنا بھی رویا جائے کم ہے ۔
    • Like Like x 1
    • Winner Winner x 1
  3. ‏ فروری 25, 2015 #3
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن عملہ منتظم اعلی

    ماشا اللہ بہت عمدہ
    جا الحق بھائی اس کتاب کو مکمل پیش کریں بہت عمدہ کتاب ہے اور دوستوں کو اس سے کافی کچھ سیکھنے کا ملے گا ۔

اس صفحے کی تشہیر