1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کذبات مرزا

حمزہ نے 'کذبات مرزا۔ علامہ نورمحمد ٹانڈوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 7, 2015

  1. ‏ مارچ 18, 2015 #11
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۹۱)

    ”جواؔ ب شبہات الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی و المسیح جو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے خرافات کا مجموعہ ہے“ (روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 371)

    نور: مرزا آنجہانی کا یہ بھی ایک ایسا اعجازی جھوٹ ہے جس کی سچائی کے لیے مرزائیت کے تمام فرزندوں میں سراسیمگی و عاجزی پھیلی ہوئی ہے اور طلسم سازی کے تمام اوزار بے کار ہو گئے ہیں۔ کیوں کہ رسالہ مذکورہ حضرت حکیم الامت مولانا الشاہ اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہ العالی کا تصنیف کردہ ہے اور رسالہ کے سر ورق پر جلی حروفوں سے آپ کا اسم گرامی بحیثیت مصنف کے لکھا ہے۔ مگر مرزا جی کے پیغمبرانہ نگاہ کو نہیں معلوم کیا ہو گیا تھا جو ایسی صاف و صریح شہ بھی نظر نہیں آئی اور ”مارو گھٹنا، پھوٹے آنکھ“ کی زندہ مثال پیش کر دی۔

    مرزائیو! دیکھتے ہو تمہارے ”مہدی معہود“ دریائے کذب میں کس طرح غوطے لگا رہے ہیں؟۔ ہمت ہو تو نکالو۔

    جھوٹ (۹۲)

    ”جتنے لوگ مباہلے کے لئے ہمارے مقابلے میں آئے خدا نے ان سب کو ہلاک کر دیا“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 86 پانچ جلدوں والا ایڈیشن، اخبار بدر جلد 2 نمبر 56 صفحہ 3،5 مورخہ 27؍دسمبر 1906ء)

    نور: کیا غلمدیت کے حاشیہ نشیں ان سب ہلاک ہونے والوں کی فہرستِ اسماء شائع کر کے مرزا جی کو سچا ثابت کریں گے؟۔ حالانکہ صوفی عبد الحق صاحب امرتسری نے 1893ء میں بمقام امرتسر مرزا صاحب کے ساتھ مباہلہ کیا جس کی وجہ سے مرزا صاحب 1908ء میں مرے اور صوفی صاحب موصوف ان کے بعد فوت ہوئے٭۔ غلمدیو! کہو یہ کون سا دھرم ہے؟۔

    جھوٹ (۹۳)

    ”خدائے تعالیٰ نے یونس نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں تھی۔ جیسا کہ تفسیر کبیر صفحہ ۱۶۴ اور امام سیوطی کی تفسیر درّمنثور میں احادیث صحیحہ٭٭ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 30)

    جھوٹ (۹۴)

    ”جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کی شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیشگوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔ تو پھر اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 31تا32)

    نور: مرزائیو! نزول عذاب کا قطعی و غیر مشروط خدائی وعدہ قرآن شریف کے کس پارہ و سورہ میں ہے اور وہ احادیث صحیحہ و اجماعی عقیدہ بھی نقل کرو تاکہ تمہارے ”حجر اسود“ صاحب کی راستبازی کی قلعی کھل جائے۔

    جھوٹ (۹۵)

    ”اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ؔ مثلاً کوئی شریر النفس اُن تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیشگوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی“ (روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 153)

    نور: یہ بالکل رنگین جھوٹ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر شرمناک افتراء ہے کہ آپ نے حدیبیہ کی پیشگوئی کے پورا ہونے کی تعین کر دی تھی۔ کیا غلمدیت کا کوئی فرزند اس امر کو معتبر کتب سے مدلل کر کے اپنے ”بیت اللہ“ کے ناصیہ سے اس تاریک داغ کو دور کر سکتا ہے؟۔

    جھوٹ (۹۶)

    ”وعید یعنی عذاب کی پیشگوئیوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیشگوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرّع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۵- تحفہ غزنویہ: صفحہ 536)

    نور: وعید کی پیشگوئیوں کے تخلف و ٹال دینے کو ”سنت الہٰیہ“ قرار دینا دروغ بے فروغ ہے۔ کیا مرزائیت کے خواجہ تاشوں میں اتنی غیرت ہے کہ اس سنت الہٰی کو کسی معتبر و مستند کتاب میں دکھلا کر اپنے ”امام الزماں“ کو کذب و دروغ کی ذلت سے بچائیں گے؟۔

    جھوٹ (۹۷)

    ”کیا یونسؑ کی پیشگوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہو گا مگر عذاب نازل نہ ہوا حالانکہ اِس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے اپنا ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ڈال دے“ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 571)

    مرزا آنجہانی نے اپنی نکاح والی جھوٹی پیشگوئی کا حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی کے ہم پلہ و یکساں قرار دینا اور پھر اس دلیری سے یہ کہنا کہ ”آسمان پر فیصلہ ہو چکا تھا اور ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا گیا“ در حقیقت منہ بھر کے گوہ کھانے کے برابر ہے کیوں کہ ناطق فیصلہ کسی آسمانی کتاب میں ذکر نہیں اور نہ اس کی منسوخی کا ذکر کسی آسمانی کتاب میں ملتا ہے۔ اور اسی طرح یہ کہنا کہ یہ پیشگوئی مشروط نہیں تھی سفید جھوٹ ہے۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین


    جھوٹ (۹۸)

    ”میں نے(محمدی بیگم سے نکاح کی پیشگوئی کے سلسلے میں) نبیوں کے حوالے بیان کر دیئے۔ حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا“ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 338)

    نور: مرزا جی نے اس پیشگوئی کے سلسلہ میں جن جن آسمانی کتابوں اور حدیثوں کو آگے رکھ دیا تھا ان کے اسماء کے ساتھ ساتھ ان کی صحت و اعتبار کو بھی پیش کیا جائے؟۔ ورنہ بغیر اس کے انگاروں سے کھیلنا ہے۔

    جھوٹ (۹۹)

    ”اس پیشگوئی(نکاح محمدی بیگم) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے مرا وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی“ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 337)

    نور: دنیا جانتی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ پیشگوئی مرزا جی کے ”نکاح محمدی بیگم“ کی تصدیق کے لیے ہرگز نہیں فرمائی تھی بلکہ درحقیقت یہ پیشگوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہے۔ اس لیے مرزا صاحب کا اس کو اپنے نکاح کے لیے کہنا سراسر افتراء و کذب ہوا۔
    دوسری بات یہ کہ مرزا جی کا نکاح باوجود سعی بسیار محمدی بیگم سے نہیں ہوا اور آنجہانی داغ مفارقت و حسرت و ارمان کیے ہوئے پیوند زمین ہو گئے تو اس سے معاذ اللہ یہ لازم آتا ہے کہ حضرت صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشگوئی جھوٹی نکلے۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر مرزا جی کا ایک ناپاک اتہام و افتراء ہے جس کی سزا علاوہ روسیاہی و خواری کے نار جہنم بھی ہے؎

    نکاح آسمانی ہو مگر بیوی نہ ہاتھ آئے
    رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی
    جھوٹ (۱۰۰)

    ”قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری(مرزا قادیانی جیسا جھوٹا مدعی نبوت) اسی دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے اور خدائے قادر و غیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 49)
    ....................................................................................................................................................................................................................
    ٭ یہاں مرزا قادیانی کی یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ ”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے“(ملفوظات جلد 5 صفحہ 327 پانچ جلدوں والا ایڈیشن) اور ”جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 328 پانچ جلدوں والا ایڈیشن)

    ٭٭حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ کی صحیح تفصیل کیلئے دیکھئے ”قصص القرآن“ مصنفہ حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی رحمۃ اللہ علیہ۔ نیز تفسیر کبیر یا درمنثور کا حوالہ دینا بھی جھوٹ ہے۔ اس لیے کہ اس میں صحیح تو دور کوئی ضعیف حدیث بھی نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ نزول عذاب کی خبر ایک قطعی وعدہ ہے۔ شاہ عالم
  2. ‏ مارچ 19, 2015 #12
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۰۱)

    ”ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افترا کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔ اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں“ (روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 63)

    نور: قرآن شریف کی جن نصوص قطعیہ سے یہ مضمون صاف طور پر ثابت ہو رہا ہے اس کی صفائی کی زیارت کے ہم منتظر ہیں اور خصوصاً مرزا صاحب کی وہ ”نہایت تحقیقات“ کی جانب بھی ہماری آنکھیں لگی ہوئی ہیں۔ اگر غلمدیت ان نصوص و کامل تحقیقات کو صاف صاف بیان کرے تو بہت ممکن ہے کہ کے ناصیہ کاذبہ سے اس دروغ کی سیاہی دُھل جائے۔

    جھوٹ (۱۰۲)

    ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر فرما دیا تھا کہ میری وفات کے بعد میری بیبیوں میں سے پہلے وہ مجھ سے ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو ہی بیبیوں نے باہم ہاتھ ناپنے شروع کر دئے چونکہ آنحضرت صلیؔ اللہ علیہ وسلم کو بھی اس پیشگوئی کی اصل حقیقت سے خبر نہ تھی اس لئے منع نہ کیا کہ یہ خیال تمہارا غلط ہے“ (روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 307)

    جھوٹ (۱۰۳)

    ”جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے آپ کے روبرو ہاتھ ناپنے شروع کئے تھے تو آپ کو اس غلطی پر متنبّہ نہیں کیا گیا یہاؔ ں تک کہ آپ فوت ہو گئے “(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 471)

    نور: مرزا جی کا یہ بھی سراسر افتراء اور کذب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے روبرو بیبیوں نے ہاتھ ناپنے شروع کر دیئے تھے اور آپ نے دیکھ کر بھی منع نہیں فرمایا۔ کیونکہ حدیث نبوی میں یہ الفاظ ہیں اور نہ آپ کی یہ رائے تھی، بلکہ یہ صرف نبوت کے بہروپ بدلنے والے مرزا جی کے دماغ کی ”مجددانہ“ پیدوار ہے۔ اور نیز یہ کہنا معاذ اللہ اس غلطی پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تا حیات قائم رہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو متنبہ نہیں کیا گیا، یہ ایک ایسا گستاخانہ حملہ و شرمناک افتراء ہے جس سے انسان حدود ایمان و اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ تمام مسلمانوں کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ پیغمبر سے اگرچہ اجتہادی غلطی ہو سکتی مگر اس غلطی پر وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ مرزا صاحب بھی فرماتے ہیں کہ:

    ”انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے“ (روحانی خزائن جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 133)

    جھوٹ (۱۰۴)

    ”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے اِنؔ فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنٰہ قریبًا من القادیان تو میں نے سُنکر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب مَیں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 140تا141)

    نور: دنیا پر یہ امر روشن ہے کہ قرآن مجید کا ایک ایک نقطہ اور ایک ایک حرف مسلمانوں کے سینوں و سفینوں میں منقوش ہے۔ مگر بایں ہمہ مرزا جی کا مجددانہ شان سے یہ کہنا کہ ”واقعی طور پر یہ الہامی عبارت انا انزلنٰہ قریبًا من القادیان اور قادیانی کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں موجود ہے“ سفید جھوٹ اعجازی فروغ نہیں ہے تو کیا ہے؟۔

    اگر غلمدیت کے نمک خواروں و خواجہ تاشوں کو اپنے ”امام الزماں“ کی نگوساری دیکھنا گوارا نہیں ہے تو اٹھیں اور مسلمانوں و اسلام کے موجودہ قرآن مجید میں قادیان کا نام اور وہ الہامی عبارت دکھلائیں؟۔ اور اگر انہوں نے قرآن شریف میں دکھلایا جو ”مرزا صاحب کے منہ کی باتیں“ ہیں(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 87) تو اس سے کذب کی سیاہی نہیں دور ہو سکتی۔

    جھوٹ (۱۰۵)

    ”دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑہا اُس کے ارادہ سے پیدا ہو جاتے ہیں اور کروڑہا اُس کی مرضی سے فقیر سے امیر اور امیر سے فقیر ہو جاتے ہیں“ (روحانی خزائن جلد ۱۹- کشتی نوح: صفحہ 41)

    نور: مرزائیو! اگر ہمت ہو تو اپنے ”نبی جی“ کے اس مبالغہ آمیز کذب کو واقعات اور حقائق کی روشنی میں ثابت کرو! ورنہ اپنے ”مسیح موعود“ کے فرمان کو یاد رکھو کہ:
    ”خدائے غیور کی لعنت اس شخص پر ہے جو مبالغہ آمیز باتوں سے جھوٹ بولتا ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 181)

    جھوٹ (۱۰۶)

    ”میں نے چالیس۴۰ کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعویٰ کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں اور وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں“ (روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 418)

    نور: مرزا جی کے جس قدر شائع کردہ اشتہارات تھے وہ سب ”تبلیغ رسالت“ نامی کتاب میں جمع کر دئیے گئے ہیں۔٭ جن کی کل تعداد 261 ہے۔ لیکن آپ ان کو ساٹھ ہزار چھوٹے چھوٹے رسالوں کی شکل میں بتلا رہے ہیں، یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟۔ ورنہ مرزائیت کے خواجہ تاشوں کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ اُن ساٹھ ہزار اشتہارات کو جو چھوٹے چھوٹے رسالوں کی شکل میں ہیں واقعات کی روشنی میں ثابت کر کے مرزا کی دروغگوئی کو دور کریں۔

    جھوٹ (۱۰۷)

    ”مشبّہ اور مشبّہ بہٖ میں مشابہت تامہ ضروری ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 302)

    قادیانیو! مولوی فاضلو! اٹھو اور اپنے ”سلطان العلوم“ کے اس صریح جھوٹ کو سچ ثابت کرکے حق نمک ادا کرو اور بتاؤ کیا ”زید کالاسد“ میں مشابہت تامہ ضروری ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے ”نبی جی“ کے علم و عقل کا بھی دیوالہ نکل چکا تھا کیوں کہ خود ہی اس کے برخلاف لکھ کر اپنی کذب بیانی پر مہر کر دیتے ہیں:

    ”مشابہت کے ثابت کرنے کے لئے پوری مطابقت ضروری نہیں ہوا کرتی جیسا کہ اگر کسی آدمی کو کہیں کہ یہ شیر ہے تو یہ ضروری نہیں کہ شیر کی طرح اس کے پنجے اور کھال ہو اور دُم بھی ہو اور آواز بھی شیر کی طرح رکھتا ہو“ (روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 359، روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 138)

    جھوٹ (۱۰۸)

    ”اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے توبہ کر چکا ہے“ (ریویو آف ریلیجنز صفحہ 340 بابت ماہ ستمبر 1902ء، ملفوظات جلد 2 صفحہ 305)

    نور: مرزا جی اس کے تین سال پانچ ماہ تقریباً گیارہ روز کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

    جھوٹ (۱۰۹)

    ”میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے اپنے معاصی اور گناہوں اور شرک سے توبہ کی“ (روحانی خزائن جلد ۲۰- تجلّیات الٰہیۃ: صفحہ 397 مرقومہ 15؍مارچ 1906ء)

    نور: اس سے یقینی طور پر یہ امر ثابت ہوا کہ ستمبر 1902ء سے مارچ 1906ء تک تین لاکھ انسانوں نے مرزا جی کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب متواتر ساڑھے تین سال تک صبح چھ بجے سے لیکر شام کے چھ بجے تک پے در پے بارہ گھنٹہ بیعت لینے میں مصروف رہتے تھے۔ اور ایک مہینہ میں 7143 اور ایک دن میں 238 اور ایک گھنٹہ میں 19 اور ہر تین منٹ میں ایک انسان کو اپنے دس شرائط بیعت مندرجہ ازالہ اوہام کلاں صفحہ 563 تا 564 جلد 3 (روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 563تا564) سنا کر اور اس سے عمل کا وعدہ لے کر اپنے دامِ نبوت میں پھانستے رہے۔

    مرزائیو! ایمان سے بتاؤ کیا تمہارے ”پیشوائے اعظم“ کی مشغولیت کی بالکل یہی حالت تھی؟۔ ورنہ پھر یہ مبالغہ گوئی و کذب بیانی مرزا جی کے وقار و اعتبار کو خال آلودہ کر رہی ہے، صفائی کی فکر کرو۔

    جھوٹ (۱۱۰)

    ”اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا“ (روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 256تا257)

    نور: مرزا جی کا یہ بھی کراماتی جھوٹ ہے اس لیے کہ قرآن شریف سے ان پرندوں کا پرواز کرنا ثابت ہے جیسا کہ آنجہانی خود اس امر کے معترف ہیں۔ فرماتے ہیں کہ:

    ”حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے“(روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 68)

    مرزائیو! تناقض و اختلاف کی وجہ سے ان دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹ ہے۔ دیکھو (روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 196)٭٭تعجب ہے کہ پھر ایسے کو نبی، مسیح اور مہدی ماننے میں تمہیں غیرت دامنگیر نہیں ہوتی۔

    ................................................................................................................................................................................................................
    ٭ اب ان اشتہارات کو مرزائیوں نے ”مجموعہ اشتہارات“ کے نام سے صرف تین جلدوں میں چناب نگر پاکستان سے شائع کیے ہیں۔ لیکن وہ اشتہارات و مضامین جن کی روشنی میں مرزا قادیانی کے کذب و افتراء پر مزید شکنجے کسے جا سکتے تھے انھیں حذف کر دئیے ہیں۔ شاہ عالم

    ٭٭ ملاحظہ ہو پوری عبارت: ”کرتے ہیں کہ واقعی یہ نشانی الہامی کتاب کے لئے ضروری ہے کیونکہ اگر بیان میں تناقض پایا جاوے اور قواعد مقررہ منطق کے رُو سے درحقیقت وہ تناقض ہو تو ایسا بیان اس عالم الغیب کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا جس کی ذات غلطی اور نقص اور خطا سے پاک ہے کیونکہ تناقض سے لازم آتا ہے کہ دو متناقض باتوں میں سے ایک جھوٹی ہو یا غلط ہو“ (روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 196)
  3. ‏ مارچ 19, 2015 #13
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۱۱)

    ”مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے اور میری تائید میں ظہور میں آئے۔ اگر اُن کے گواہ ایک جگہ کھڑے کئے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا نہ ہو گا جو اُس کی فوج ان گواہوں سے زیادہ ہو“(روحانی خزائن جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 108)

    نور: مرزا جی کے اس مبالغہ آمیز جھوٹ کی وہی تصدیق کرے گا جو ایمان کے ساتھ عقل سے بھی خالی ہو۔ لیکن جس کا دل و دماغ، ایمان و عقل سے آراستہ ہے وہ متذکرہ عبارت کی پُرزور تکذیب کر کے آنجہانی کو تاجدار بادشاہ تسلیم کرے گا۔

    جھوٹ (۱۱۲)

    ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے مُنہ کی باتیں ہیں“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 87)

    نور: جس طرح یہ سچ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب ہے اسی طرح یہ جھوٹ ہے کہ قرآن شریف مرزا جی کے منہ کی باتیں ہیں۔ مرزائیو! یہ منہ اور مسور کی دال۔ حلوہ خور دن روئے باید۔

    جھوٹ (۱۱۳)

    ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض پیشگوئیوں میں خدا کرکے پُکارا گیا ہے“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 66)

    نور: جن پیشگوئیوں میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا کرکے پُکارا گیا ہے ان کی صحیح عبارت معہ حوالہ کتبِ معتبرہ کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ امت مرزائیہ نقل کر کے اپنے رسول کا حق نمک ادا کرے گی۔

    جھوٹ (۱۱۴)

    ”تمام محدثین کہتے ہیں مَیں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں تمام مجروح اور مخدوش ہیں اور ایک بھی اُن میں سے صحیح نہیں“ (روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 356)

    جھوٹ (۱۱۵)

    ”اکابر محدثین کا یہی مذہب ہے کہ مہدی کی حدیثیں سب مجروح اور مخدوش بلکہ اکثر موضوع ہیں اور ایک ذرّہ ان کا اعتبار نہیں“ (روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 356تا357)

    نور: مرزا صاحب نے تمام محدثین و اکابر محدثین کا نام لے کر نہ صرف دھوکہ دیا ہے بلکہ حضرات محدثین کے مقدس گروہ پر ایک شرمناک اتہام باندھا ہے۔ نیز مہدی کی تمام احادیث کو موضوع و غیر معتبر مجروح مخدوش قرار دینا سراسر جھوٹ ہے۔ ورنہ پھر آپ اپنی خانہ ساز مہدویت کے ثبوت میں ”روایت: ان لمھدینا آیتین“ کو حدیث مرفوع متصل بنا کر کیوں پیش کی؟ دیکھو (روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 136)

    جھوٹ (۱۱۶)

    ”میں اس بات کو صاف صاف بیان کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ یہ(کہ قرآن کریم کی تفسیر کرکے شائع کرنا) میرا کام ہے دوسرے سے ہرگز ایسا نہیں ہو گا جیسا مجھ سے“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 518)

    نور: کیا کوئی بت سکتا ہے کہ مرزا جی نے کوئی تفسیر قرآن مجید کی شائع کی؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت نے گوارہ نہیں کیا کہ اس کے کلام میں غلمدیت کے جراثیم پیوست کئے جائیں۔ اس لیے مرزا جی کو اس میں بھی ناکام و نامراد کیا۔ جیسا کہ مرزائیت کے سعادت مند فرزند منشی قاسم علی لکھتے ہیں کہ:

    ”تفسیر اگرچہ فی نفسہ اسلام کی ایک خدمت ہے مگر وہ تفسیر ہرگز تفسیر نہیں کہلا سکتی جس کا حضرت مسیح موعود(مرزا قادیانی) کو اشتیاق تھا“ (اخبار فاروق 7؍نومبر 1929ء)

    جھوٹ (۱۱۷)

    (الف) ”اِس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی“(روحانی خزائن جلد ۱۴- اَیَّامُ الصُّلح: صفحہ 381)

    (ب) ”کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اُسی نائب النبوت(مرزا قادیانی) کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور........یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا“(روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 91)

    نور: یہ امر مسلم ہے کہ مرزا صاحب بقول خود ”مسیح موعود“ اور اس عہدے کے انچارج تھے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ تمام ملل باطلہ ہلاک ہو جاتیں اور ہر چہار طرف صرف اسلام ہی اسلام نظر آتا۔ مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا ہوا؟ بلکہ مرزائیت کے اصول پر تمام ملل باطلہ کا ہلاک ہونا اور ایک ہی مذہب کو سب لوگوں کا قبول کر لینا ناممکن ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ:

    ”یہ تو غیر ممکن ہے کہ تمام لوگ مان لیں کیونکہ موجب آیت وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ اور بموجب آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِسب کا ایمان لانا خلاف نص صریح ہے“(حاشیہ روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 74)

    ”اور یہ خیال کرنا کہ کوئی ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ تمام لوگ اور طبائع مِلّت واحدہ پر ہو جائیں گی یہ غلط ہے“( روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 319)

    اور مرزائیت کے نقار خانہ کی طوطی اپنے ”مالک“ کے خلاف اس طرح چہک رہی ہے کہ:

    ”ابناء آدم کا ایک عقیدہ پر جمع ہو جانا نہ صرف خلاف قرآن اور خلاف اسلام ہے بلکہ خود عقل اور سنت الہٰیہ ے خلاف ہے“(الفضل 20؍مئی 1930ء)
  4. ‏ مارچ 20, 2015 #14
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۱۸)

    ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اِس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں“(روحانی خزائن جلد ۱۵- تریَاق القلوُب: صفحہ 155)

    نور: ناظرین کرام! مرزا جی کی ”عمر کا اکثر حصہ“ اور ”پچاس الماریوں“ کو پیش نظر رکھ کر فرمائیے کہ ان ”نبی جی“ کی دروغگوئی و لاف زنی میں کچھ شبہ ہو سکتا ہے؟۔ اور اسی سے مرزا جی کے ان بلند بانگ تبلیغی سرگرمیوں کا پول کھل رہا ہے جن کو اُن کی امت دربدر اچھالتی پھرتی ہے۔ اس لیے مرزا صاحب نے اپنی گرانمایہ عمر کے ”اکثر حصہ“ یاجوج ماجوج، دجال اعظم اور قوم انگریزی کی حمایت و اعانت میں صرف کی اور بقیہ عمر کو اپنی مسیحیت و نبوت و دیگر دعاوی کی شکست و ریخت کی درستگی میں لگائی تو اسلامی تبلیغ کا افسانہ شیخ چلی کا افسانہ بن کر رہ جاتا ہے۔

    اللہ اکبر! یہ وہ ”مسیح موعود“ ہیں جو عیسائیت کے ستون گرانے آئے تھے لیکن اس کے استیصال و تخریب کے بجائے خود ہی اپنی عمر کے اکثر حصہ کو اس کی حمایت و اعانت میں فخر و مباہات کے ساتھ صرف کرتے ہیں۔؎

    وہ اور شور عشق میرے جی میں بھر گئے
    کیسے مسیح تھے کہ جو بیمار کر گئے

    کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی کل تصانیف اسی 80 کے قریب ہیں(پیغام صلح صفحہ 4،17؍اگست 1932ء اور 261 اشتہارات ہیں بمطابق تبلیغ رسالت) اگر ان میں سے مرزا صاحب کی خانہ ساز نبوت و مصنوعی مسیحیت و دیسی مہدویت و دیگر اختراعی دعاوی کے مکر روسہ کر ر مضامین و دلائل کے انبار اور ان تعلیوں و شیخیوں کے پشتارہ کو دور کر دیا جائے اور اس طرح آپ نے اپنے مخالفین کو جو کچھ تلخ تر جوابات و انبیاء علیہم السلام، علماء اسلام کو گالیاں مرحمت فرمائی ہیں۔ ان سب کو علیحدہ کرایا جائے تو پچاس الماریوں و عمر کا اکثر حصہ کا سربستہ راز طشت از بام ہو کر مرزا قادیانی اور ان کی امت کی ذلت و خواری کا باعث ہو جاتا ہے۔؎


    نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
    نہ کھلتے راز سربستہ نہ یہ رسوائیاں ہوتیں

    جھوٹ (۱۱۹)

    ”میں وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صدہا نشان ظاہر ہوئے“(روحانی خزائن جلد ۲۰- تذکرۃ الشہادتین: صفحہ 36)

    نور: اور اسی کتاب کے اسی صفحہ میں دو سطور کے بعد آپ کی کذب آمیز اعجازی ترقی نے ان صدہا نشان کو ”دو لاکھ سے زیادہ نشان“ بنا دیا۔ مگر اس پر بس نہیں بلکہ اسی کتاب کے صفحہ؍43 میں آپ نے بیک جست ”دس لاکھ سے زیادہ نشان“ حاصل کر لیے۔ مگر بایں ہمہ مرزا صاحب کی ان معجز نما د فعی ترقیوں نے آپ کے کذب بیانی و لغو گوئی پر مہر لگا دی ہے۔

    جھوٹ (۱۲۰)

    ”پھر ہزار چہارم کے دَور میں ضلالت نمودار ہوئی اور اسی ہزار چہارم میں سخت درجہ پر بنی اسرائیل بگڑ گئے اور عیسائی مذہب تخم ریزی کے ساتھ ہی خشک ہو گیا اور اُس کا پیدا ہونا اور مرنا گویا ایک ہی وقت میں ہوا“(روحانی خزائن جلد ۲۰- لیکچر سیالکوٹ: صفحہ 207تا208)

    نور: مرزائیو! اگر اپنے گرو کو راستباز دیکھنا چاہتے ہو تو تاریخ اور واقعات کی سچی روشنی میں اس امر کو ثابت کرو کہ عیسائی مذہب ہزار چہارم میں تخم ریزی کے ساتھ خشک ہو گیا؟۔

    جھوٹ (۱۲۱)

    ”اس فقرہ میں دان ایل نبی بتلاتا ہے کہ اُس نبی آخر الزمان کے ظہور سے (جو محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و سلم ہے) جب بارہ سو نوے ۱۲۹۰ برس گذریں گے تو وہ مسیح موعود(مرزا قادیانی) ظاہر ہو گا اور تیرہ سو پینتیس ہجری تک اپنا کام چلائے گا یعنی چودھویں ۱۴صدی میں سے پینتیس۳۵ برس برابر کام کرتا رہے گا “(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 292)

    نور: مرزا صاحب کی اس پیشگوئی کے مطابق 1335 ہجری تک زندہ رہنا ضروری تھا۔ لیکن آپ نے اس قدر عجلت کی ہے کہ 1326ھ میں وقت مقررہ سے نو برس پیشتر تشریف لے گئے تاکہ دنیا اس امر کا مشاہدہ کر لے کہ ”دروغ گو کو خدا تعالیٰ اِسی جہان میں ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے“ (روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 42)

    جھوٹ (۱۲۲)

    ”اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے۔ اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اُس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر خود اُتر آئے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے یوم یاتی ربک فی ظلل من الغمام ٭یعنی اُس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 158)

    نور: یہ عربی عبارت جو آیت قرآنی کے حوالہ سے لکھی گئی ہے سراسر جھوٹ ہے اس لیے کہ موجودہ قرآن مجید میں یہ آیت نہیں ہے۔ البتہ اگر اُس قرآن میں ہو جو مرزا صاحب کے منہ کی باتیں ہیں تو بعید از قیاس نہیں۔ دوسرا جھوٹ یہ کہ اس جھوٹی و مصنوعی آیت جو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے حالانکہ قرآن مجید میں اس کا بھی ذکر نہیں۔

    جھوٹ (۱۲۳)

    ”پس اِس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ہزار پنجم میں یعنی الف خامس میں ظہور فرما ہوئے نہ کہ ہزار ششم میں اور یہ حساب بہت صحیح ہے کیونکہ یہود اور نصاریٰ کے علماء کا تواتر اِسی پر ہے اور قرآن شریف اِس کا مصدق ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 247)

    نور: یہود و انصاری کے علما کا تواتر اور قرآن مجید کی تصدیق پیش کرکے مرزا کو راستباز ثابت کرکے مرزا صاحب کو راستباز ثابت کرو؟۔
    حالانکہ مرزا صاحب اس کے برخلاف اسی کتاب کے حاشیہ میں صفحہ 150 میں تحریر فرما چکے ہیں کہ:

    ”امر واقعی اور صحیح یہی ہے کہ بعثتِ نبوی ہزار ششم کے آخر میں ہے جیسا کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ بالاتفاق گواہی دے رہی ہیں“(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ246)

    قادیانیو! اپنے ”مجدد“ کا فرمان سنو کہ:
    ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 275)

    جھوٹ (۱۲۴)

    ”بہر حال ہمارے بھائی مسلمانوں پر لازم ہے کہ گورنمنٹ(برطانیہ) پر ان کے دھوکوں سے متاثر ہونے سے پہلے بے حد طور پر اپنی خیر خوائی ظاہر کریں جس حالت میں شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں......قطعی حرام ہے“(حاشیہ روحانی خزائن جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 389)

    نور: غلمدیت کے حلقہ بگوش! شریعت اسلام کے اس واضح مسئلہ اور تمام مسلمانوں کے اتفاق کو وضاحت سے ثابت کرکے اپنے ”نبی جی“ کے ناموس نبوت کو پاک و صاف کریں۔


    ................................................................................................................................................................................................................
    ٭قرآن مجید میں تحریف کی یہ بدترین مثال ہے جو مرزا قادیانی نے کی ہے۔ اصل آیت اس طرح ہے ”هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ(البقرہ 210) اگرچہ نبی کے کلام و بیان میں اس کی امت کے لیے جائز نہیں کہ کوئی تغیر و بدل کرے لیکن روحانی خزائن کے نام سے طبع شدہ موجودہ ایڈیشن میں مرزائیوں نے اپنے افیونی نبی کی اس بھیانک غلطی کی تصحیح کر ڈالی ہے۔ خدا کرے کہ اُن کو مرزا کے دعوی نبوت و مسیحیت کی تصحیح کی بھی توفیق ملے۔ شاہ عالم
  5. ‏ مارچ 20, 2015 #15
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۲۵)

    ”چنانچہ جس قیصر کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھا تھا جس کا ذکر صحیح بخاری میں پہلے صفحہ میں ہی موجود ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 39)

    نور: قیصر کا ذکر ”بخاری شریف“ کے پہلے صفحہ پہ نہیں ہے، اس لیے یہ جھوٹ ہے۔

    جھوٹ (۱۲۶)

    ”اور نبیوں کی پیشگوئیوں میں یہ تھا کہ امام آخر الزمان میں یہ دونوں صفتیں(روح القدس سے تائید یافتہ اور مہدی ہونا) اکٹھی ہو جائیں گی “(روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 359)

    جھوٹ (۱۲۷)

    ”جس شخص(مرزا قادیانی) کو تمام نبی ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک عزت دیتے آئے ہیں .....وہ کچھ معمولی آدمی نہیں ہے بلکہ خدا کی کتابوں میں اُس کی عزت انبیاء علیہم السلام کے ہم پہلو رکھی گئی ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 369)

    جھوٹ (۱۲۸)

    ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں“(تذکرہ صفحہ 503 نیا ایڈیشن)

    نور: مرزا صاحب جس جگہ اور جس حالت میں مرے ہیں وہ دنیا پر روشن ہے کہ آپ نے بمرض ہیضہ بمقام لاہور پاخانہ میں جان دی۔ مرزا صاحب نے سچ فرمایا کہ:

    ”ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے.......ایسا بدذات انسان تو کُتّوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 292)

    قادیانی ممبرو! کہو یہ کون سا دھرم ہے؟۔

    جھوٹ (۱۲۹)

    ”اور یہ بالکل صحیح ہے کہ ہم کہیں کہ داؤد کرشن تھا یا کرشن داؤد تھا“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 117)

    نور: حضرت داؤد علیہ السلام کو ہندو کرشن جی کا مصداق بتانا یا ان کو حضرت داؤد علیہ السلام کہنا، یہ صرف مرزا جی ہی کی پیغمبرانہ جرأت و بیباکی یا ”مجددانہ“ کذب و افتراء ہے۔ مرزائیو! یاد رکھو کہ:

    ”جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 572)

    جھوٹ (۱۳۰)

    ”اگر میرے رسالہ تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ کو ہی دیکھو......جن کو آپ لوگ صرف دو گھنٹہ کے اندر بہت غور اور تامّل سے پڑھ سکتے ہیں“(روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 370)

    نور: تحفہ گولڑویہ جو 20×20 کی تقطیع کے 238 صفحوں میں پھیلی ہے اور ہر صفحہ پر 23 سطریں ہیں۔ صرف وہی دو گھنٹہ کے اندر تامل و غور سے نہیں پڑھی جا سکتی۔ اور اگر تحفہ غزنویہ کو بھی شامل مطالعہ و غور کر لی جائے تو یہ ”کذب عظیم“ ہونا اور بھی عیاں ہو جاتا ہے اس لیے مرزا صاحب کی یہ مبالغہ آمیز کذب بیانی جو واقعات کے سراسر مخالف ہے ان کی ”نبوت“ کے پردہ کو چاک کر رہی ہے۔ مرزائیو! رفو کی فکر کرو۔٭

    ..............................................................................................................................................................................................................
    ٭قادیانیوں کے ہیڈ مرکز ربوہ(جس کا نام بدل کر اب چناب نگر رکھ دیا گیا ہے) پاکستان سے مطبوعہ ”روحانی خزائن سیٹ“ میں شامل جلد نمبر 17 میں ”تحفہ گولڑویہ“ کے کل صفحات 20×26 کے سائز پر 254 ہیں جبکہ ”تحفہ غزنویہ“ نامی کتاب کے کل صفحات اسی سائز پر 64 ہیں جو جلد نمبر 15 میں لگی ہوئی ہے۔ اس طرح کل مجموعی صفحات 318 بنتے ہیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ دونوں کتابوں میں شیطان کی آنت کی طرح حاشیہ در حاشیہ کا سلسلہ بھی پھیلا ہوا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اِس مختصر وقت میں ”غور و تامل“ سے مطالعہ تو دور کی بات ہے، سرسری مطالعہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ش
  6. ‏ مارچ 21, 2015 #16
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۳۱)

    ”اور چونکہ یہ بات مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہے کہ آخری زمانہ میں ہزارہا مسلمان کہلانے والے یہودی صفت ہو جائیں گے اور قرآن شریف کے کئی ایک مقامات میں بھی یہ پیشگوئی موجود ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۹- کشتی نوح: صفحہ 47)

    نور: غلمدیو! قرآن شریف کی ایسی پیشگوئیوں کو جو حسب تحریر مرزا صاحب ایک دو جگہ نہیں بلکہ ”کئی مقامات“ میں موجود ہیں نقل کر کے بتاؤ کہ کیا اِن آیتوں سے اس مضمون کی پیشگوئی کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام و اکابر ملت نے بھی استنباط فرمایا ہے؟۔ کیونکہ تمہارے ”پیغمبر صاحب“ تحریر کرتے ہیں کہ:

    ”جو تاویلیں قرآن کریم کی نہ خدائے تعالیٰ کے علم میں تھیں نہ اس کے رسول کے علم میں نہ صحابہ کے علم میں نہ اولیا اور قطبوں اور غوثوں اور ابدال کے علم میں اور نہ ان پر دلالت النص نہ اشارۃ النص وہ سید(احمد خان علیگڈھی) صاحب کو سوجھیں“(روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 227)

    نیز یہ بات مسلمانوں کا عقیدہ کیوں کر ہوئی؟۔ اسلام کی معتبر کتب سے اس کا ”عقیدہ“ ہونا ثابت کرو؟۔ نہیں تو یاد رکھو کہ:

    دروغ گو ”انسان تو کُتّوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 292)


    جھوٹ (۱۳۲)

    ”چناں چہ در قرآن شریف مسطور است و انبیاء سابقین ہم ازاں خبر دادہ اند کہ وبائے مہلک(طاعون) دراں جزء زماں آنچناں پدید گردد کہ بیچ قصبہ یا قریہ ازاں متشنٰی نخواہد ماند“(روحانی خزائن جلد ۲۰- تذکرۃ الشہادتین: صفحہ 4)٭

    نور:

    ٭مرزائیت کی پوجا کرنے والے بتائیں کہ قرآن شریف کی کس آیت میں اس کا ذکر ہے؟۔

    ٭اور کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام و اکابر امت نے اس آیت کی ایسی تفسیر کی ہے؟۔

    ٭نیز جن انبیاء سابقین نے اس خبر سے مرزا صاحب کو مطلع فرمایا ہے اس سے بھی صفحہ قرطاس کو مزین کریں؟۔

    ورنہ مرزا جی کے ”پردہ نبوت“ کا تار تار الگ ہو رہا ہے۔

    جھوٹ (۱۳۳)

    ”کسی حدیث صحیح مرفوع متصل سے ثابت نہیں کہ عیسیٰ آسمان سے نازل ہو گا“ (حاشیہ روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 47)

    جھوٹ (۱۳۴)

    ولن تجد لفظ السّماء فی ملفوظات خیر الأنبیاء ولا فی کَلِمِ الأوّلین“(روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 148)٭٭

    ترجمہ: تم آسمان کا لفظ نہ خیر انبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث میں پاؤ گے اور نہ ہی یہ پہلے لوگوں کا کلام ہے۔

    جھوٹ (۱۳۵)

    ”یہ تین نبی یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور مسیح اور یونس علیہ السلام قبر میں زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی اس میں رہے اور زندہ ہی نکلے“(روحانی خزائن جلد ۱۰- ست بچن: صفحہ 310)

    نور: مرزائیت کی پرستش کرنے والوں کا یہ فرض ہے کہ اس قول میں مرزا صاحب کو سچا ثابت کر کے ان کی ”نبوت“ کی لاج رکھیں،نہیں تو:
    ”دروغ گو کا انجام ذلّت اور ؔ رسوائی ہے“ (روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 253)

    جھوٹ (۱۳۶)

    نعم، یوجد فی بعض الأحادیث لفظ نزول عیسَی بن مریم، ولکن لن تجد فی حدیثٍ ذِکر نزولہ من السماء(روحانی خزائن جلد ۷- حَمامَۃُ البُشریٰ: صفحہ 202)

    ترجمہ از جماعت قادیانیہ: ”ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ بن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ نہ پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہو گا“(حمامۃ البشری مع اردو ترجمہ صفحہ 83)

    نور: صرف یہی ایک ”سفید جھوٹ“ مرزا صاحب کی ”مصنوعی نبوت“ کے تار تار کو الگ کرنے کے لیے کافی سے زائد ہے۔

    اس لیے کہ دو صحیح حدیثوں میں ”نزول من السماء“ کا لفظ موجود ہے۔ مگر مرزائیت کے ”پیغمبر اعظم“ کی پیغمبرانہ نگائیں“ کچھ اس قدر دھندلی اور غبار آلودہ تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث میں آسمان کا لفظ نظر نہ آیا۔ اور اس علمی بے بضاعتی و کوتاہ نگاہی کے باوجود آپ کے کمالات و خیالات کی ان بلند پروازیوں اور وسعت علمی و دعوی ہمہ دانی کی شیخیوں اور تعلیوں پر نظر ڈالئے جو آپ کی یا امت مرزائیہ کی کتابوں میں خود رو گھاس کی طرح پھیلی ہوئی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک مافوق الفطرت کمالات و فضائل کے مالک ہیں، حالانکہ واقعات و حالات آپ کے ”مسیلمۃ الکذاب“ ہونے میں شک و شبہ کو راہ نہیں دیتے البتہ ”انسانیت“ کو مشتبہ بتاتے ہیں۔

    وہ حدیث جس میں ”آسمان کا لفظ موجود ہے ملاحظہ فرما کر مرزا صاحب کی دروغ گوئی پر یہ کہئے کہ: ” جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی “ (روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 572)

    ۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ مِنَ السَّمَاءِ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ».“(الأسماء و الصفات للبيهقي جلد 2 صفحہ 331 روایت نمبر 895 مكتبہ السوادي، جدہ- المملكةالعربية السعودية)

    ترجمہ از ناشر: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس وقت تمہارا خوشی سے کیا حال ہو گا جب تمہارے درمیان مریم کے بیٹے عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ اس حال میں کہ تمہارا امام(مہدی) تم میں سے ہو گا۔

    ۲)أخبرنا أبو الحسن بركات بن عبد العزيز الأنماطي وأبو محمد عبد الكريم بن حمزة قالا حدثنا أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت أخبرني أبو الحسن بن رزقوية أنبأنا أبو بكر بن سندي حدثنا الحسن بن علي القطان حدثنا إسماعيل بن عيسى أنبأنا إسحاق بن بشر أنبأنا عثمان بن عطاء عن أبيه عن ابن عباس أنه قال أول من يتبعه سبعون ألفا من اليهود عليهم السيجان... الی قولہ.... قال ابن عباس: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ”فعند ذلك ينزل أخي عيسىٰ بن مريم من السماء على جبل أفيق“(تاریخ دمشق لابن عساكر جلد 47 صفحہ 504تا505 طبع دارلفکر بیروت، کنز العمال جلد 14 صفحہ 618تا619روایت نمبر 39276 طبع مؤسة الرسالة)

    ترجمہ از ناشر: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے: فرمایا دجال پہلا شخص ہے جس کی پیروی کرنے والے ایسے ستر ہزار یہودی ہونگے جن پر سبز رنگ کا رومال ہو گا.....حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس وقت میرے بھائی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے جبل افیق پر نازل ہونگے۔

    اور خود مرزا صاحب بھی اس لفظ ”آسمان“ کی تصدیق و تائید کرتے ہیں کہ:

    ۱)”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اُتریں گے تو اُن کا لباس زر درنگ کا ہو گا“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 142)

    ۲)”آپ(آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم) نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اُترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی“(ملفوظات جلد 5 صفحہ 33 پانچ جلدوں والا ایڈیشن)

    قادیانیو! مرزا صاحب مسیح موعود ”کہلا کر یہ افترا اور یہ تحریف اور یہ خیانت اور یہ جھوٹ اور یہ دلیری اور یہ شوخی۔ اِن باتوں کا تصوؔ ر کر کے بدن کانپتا ہے“ (روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 278)

    ..................................................................................................................................................................................
    ٭ترجمہ از مرزا قادیانی: ”جیسا کہ قرآن شریف میں یہ خبر موجود ہے اور پہلے نبیوں نے بھی یہ خبر دی کہ ان دنوں میں مری بہت پڑے گی۔ اور ایسا ہو گا کہ کوئی گاؤں اور شہر اُس مری سے باہر نہیں رہے گا“(روحانی خزائن جلد ۲۰- تذکرۃ الشہادتین: صفحہ4)

    ٭٭ اصل مطبوعہ میں جھوٹ نمبر ۱۳۳- جھوٹ نمبر ۴۶ اور جھوٹ نمبر ۱۳۴ - جھوٹ نمبر ۶۱ تکرار کرتے ہیں اس لیے جھوٹ نمبر ۱۳۳ اور جھوٹ نمبر ۱۳۴ کی جگہ الگ جھوٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ حمزہ
  7. ‏ مارچ 21, 2015 #17
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۳۷)

    ”یہ حدیث بہت صحیح ہے جو ابن ماجہ نے لکھی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ لا مھدی الّا عیسٰی(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 356)

    نور: بالکل جھوٹ ہے اس لئے کہ محدثین کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے۔ (”الاشاعة لأشراط الساعة“ صفحہ 173 تا 174) میں ہے کہ:

    مما ورد فی بعض الحدیث انہ لا مھدی الا عیسی بن مریم مع کونہ ضعیفاً عند الحفاظ یجب تاویلہ.....انہ حدیث ضعیف خالف احادیث صحیحہ
    ترجمہ: ”بعض احادیث میں جو لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم آیا ہے یہ بات یقینی ہے کہ وہ حفاظ حدیث کے نزدیک ضعیف ہے اسکی تاویل واجب ہے (کیونکہ) یہ ضعیف حدیث، صحیح احادیث کے خلاف وارد ہوئی ہے “ (الاشاعة لأشراط الساعة صفحہ 173 تا 174)
    جھوٹ (۱۳۸)

    ”قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ توفّی کا لفظ آیا ہے اُن تمام مقامات میں توفّی کے معنے موت ہی لئے گئے ہیں“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 224)

    نور: مرزا صاحب کا یہ بھی ایک ”سفید جھوٹ“ ہے اس لیے کہ مندرجہ ذیل آیتوں میں توفّی کے معنی موت کے نہیں ہیں۔

    ۱)”وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ.....الخ(الانعام 6:60)
    ترجمہ: اور(اللہ تعالی) وہی ہے کہ قبضہ میں لے لیتا ہے تم کو رات میں اور جانتا ہے جو کچھ تم کر چکے ہو دن میں۔ از شیخ الہندؒ

    ۲)”اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا.....الخ(الزمر39:42)
    ترجمہ: اللہ ہی قبض(یعنی معطل) کرتا ہے (اُن) جانوں کو ان کی موت کے وقت اور اُن جانوں کو بھی جن کو موت نہیں آئی اُن کے سونے کے وقت۔ تھانویؒ
    جھوٹ (۱۳۹)

    ”علم لغت میں یہ مُسلّم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہٖ ہے وہاں بجز مارنے کے اور کوئی معنے توفّی کے نہیں آتے“(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 90)

    نور: اگر قادیانیت کے پو جاری اس مسلّم اور مقبول اور متفق مسئلہ کو علم لغت کی کسی چھوٹی سی چھوٹی یا بڑی سے بڑی مستند کتاب سے دکھائیں تو بہت ممکن ہے کہ ان کے ”کرشن جی“ کا ”دلفریب مندر“ منہدم و مسمار ہونے سے محفوظ رہ جائے۔ نہیں تو مرزا جی کے ان فرمان کو یاد رکھو کہ:
    ” اے مفتری نابکار کیا اب بھی ہم نہ کہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 275)

    جھوٹ (۱۴۰)​

    ”پھر اس کے بعد تیرہ سو برس تک کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں“(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 92)

    جھوٹ (۱۴۱)​

    ”الغرض جبکہ میں نے نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال ائمہ اربعہ اور وحی اولیاءِ اُمت محمدیہ اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم میں بجز موت مسیح کے اور کچھ نہ پایا“(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 92)

    نور: مرزا صاحب کا حضرت صحابہ کرام، ائمہ اربعہ اور اولیائے امتِ محمدیہ رضی اللہ عنہم پر ایک لعنتی افتراء اتہام ہے۔ اس لیے کہ اجماع امت مسلمہ اور احادیث صحیحہ متواترہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کو مدلل کر رہی ہیں۔ جن کو بصارت کے ساتھ بصیرت بھی ملی ہے وہ دیکھیں، غور کریں۔

    ۱)روی عن ابي ھریرة و ابن عباس و ابي العالية و ابي مالك و عكرمة و الحسن و قتادة و الضحاک و غيرھم وقد تواترت الأحاديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه أخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة إماما عادلا وحكما مقسطا .... و قد ذكر الحافظ ابن حجر في كتابه فتح الباري. تواتر نزول عيسى عليه السلام عن أبي الحسين الآبري وقال في التلخيص الحبير(صفحہ۳۱۹) من كتاب الطلاق وأما رفع عيسى عليه السلام فاتفق أصحاب الأخبار والتفسير على أنه رفع ببدنه حيا.....وقال في فتح الباري من باب ذكر إدريس إن عيسى رفع وهو حي على الصحيح(التصريح بما تواتر فی نزول المسیح صفحہ 4)

    حضرت ابو ہریرہ، ابن عباس، ابو العالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ،ضحاک و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس بارہ میں احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم متواتر ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے امام عادل اور منصف حاکم ہو کر نازل ہوں گے....اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں ابو الحسین آبری سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متواتر نقل کی ہیں۔ اور حافظ صاحب موصوف تلخیض الحبیر کتاب الطلاق میں فرماتے ہیں کہ تمام محدثین و مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور فتح الباری میں حضرت ادریس علیہ السلام کے ذکر کے سلسلہ میں یہ فرمایا کہ بنا بر صحیح مذہب کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔

    ۲)وأجمعت الأمة على ما تضمنه الحديث المتواتر من أن عيسى عليه السلام في السماء حي، وأنه ينزل في آخر الزمان(المحرر الوجيز/تفسیر ابن عطیۃ جلد 1 صفحہ 444 طبع دار الكتب العلمیہ بیروت)

    تمام امت کا اس پر اجتماع ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے جیسا کہ احادیث متواترہ اس کی شہادت دے رہی ہے۔

    ۳)” وأجمعت الأمة على أن عيسى حي في السماء وينزل الی الارض“(النھر الماء جلد 2 صفحہ 473)

    تمام امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہے اور زمین پر نزول فرمائیں گے۔

    ۴)وأما الإجماع؛فقال السفارینی فی الواسع قد أجمعت الأمة على نزوله، ولم يخالف فيه أحد من أهل الشريعة، وإنما أنكر ذلك الفلاسفة والملاحدة أو من لا يعتد بخلافه، وقد انعقد إجماع الأمة على أن ينزل ويحكم بهذه الشريعة المحمدية وليس بشريعة مستقلة عند نزوله من السماء، وإن كانت النبوة قائمة به، وهو متصف بها(کتاب الاذاعة صفحہ 77)

    امام سفارینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور نازل ہوں گے۔ اور بجز ملحدوں، فلسفیوں، بد دینوں(قادیانیوں) کے اور کوئی اس کا مخالف نہیں ہے اور اُن لوگوں کا اختلاف کرنا ناقابل اعتبار ہے۔ اور اس ہر بھی تمام امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم متفق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کریں گے اور کوئی مستقل شریعت لے کر نہ آویں گے اگرچہ وہ وصف نوبت سے موصوف ہوں گے۔
  8. ‏ مارچ 21, 2015 #18
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۴۲)

    ”قرآن شریف کے رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۹- کشتی نوح: صفحہ 75)

    نور: قرآن شریف کی کس آیت کا یہ مضمون ہے؟ اور کیا کسی نے اس آیت سے اس مضمون کو سمجھا ہے؟۔ نہیں تو ”دروغ گو کا انجام ذلّت اور ؔ رسوائی ہے“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 253)

    جھوٹ (۱۴۳)

    ”مسیح کا منارہ جس کے قریب اس کا نزول ہو گا دمشق سے شرقی طرف ہے اور یہ بات صحیح بھی ہے کیوں کہ قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے جو لاہور سے گؤشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے“(مجموعہ اشتہارات، اشتہار چندہ مینارۃ المسیح، جلد 3 صفحہ 288، روحانی خزائن جلد ۱۶- خُطبۃً اِلھَامِیَّۃً: صفحہ 22تا23)

    نور: حالانکہ کہ قادیان لاہور سے شمال و مشرق کی طرف واقع ہے مگر مرزا صاحب کی جغرافیہ دانی ملاحظہ فرمائیے کہ آپ اس کو گوشۂ مغرب اور جنوب میں واقعہ کر رہے تاکہ پنجاب کے پرائمری اسکول کے طالب علم ”قادیانی پیغمبر“ کے علم و عقل پر تمسخر و استہزاء کریں اور کہیں کہ؎

    بت کریں آرزو خدائی کی
    شان ہے تیری کبریائی کی

    اور مرزا صاحب کا خود اپنے متعلق کیا ہی بہترین فیصلہ ہے کہ:

    ”ممکن ہے(بلکہ واقع ہے) کہ کئی لوگ میری ان باتوں پر ہنسیں یا مجھے پاگل اور دیوانہ قرار دیں“(روحانی خزائن جلد ۱۴- کَشفُ الغِطَاء: صفحہ 193)

    جھوٹ (۱۴۴)

    ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا“(روحانی خزائن جلد ۱۱- انجام آتھم: صفحہ 290)

    نور: مرزا صاحب کا یہ بھی ایک صاف و صریح توہین آمیز جھوٹ ہے جس سے مذہبی دنیا کا کوئی فرد انکار نہیں کر سکتا۔ بالخصوص وہ اسلامی فرقہ جس کا ایمان و یقین قرآن مجید کے متعلق ہے اور اس کے سامنے قرآن کریم کے وہ صفحات کھلے ہوئے ہیں جن میں صاف لفظوں میں معجزات کا ذکر موجود ہے۔ چنانچہ خود آنجہانی تحریر کرتے ہیں کہ:
    ”ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کے صاحب معجزات ہونے سے انکار نہیں بے شک ان سے بھی بعض معجزات ظہور آئے ہیں.......قرآن کریم سے بہر حال ثابت ہوتا ہے بعض نشان ان کو دیئے گئے تھے“(حاشیہ روحانی خزائن جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 373)

    الحمد اللہ کہ مرزا صاحب خود ہی اپنی ”حق بات“ کو ناحق بتا کر کاذب بن گئے ہیں۔ فہو المراد

    جھوٹ (۱۴۵)

    ”عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اُٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے مگر ان پڑھوں لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہیں دے گا“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 119)

    نور: مرزا جی نے یہ پیشگوئی 1308ھ میں کی تھی جس کو آج 43 برس ہو چکے ٭ہیں۔ مگر کیا مرزائیت کا کوئی سپوت اس امر کو بتا سکتا ہے کہ تعلیم یافتہ ہندوؤں میں کمی ہے بلکہ ان میں ایسی روز افزوں ترقی ہے دوسری قومیں ان کا نگاہِ رشک سے دیکھ رہی ہیں۔ کچھ عجب نہیں کہ قدرت نے ہندوؤں میں تعلیم کی ترقی صرف مرزا جی کی پیشگوئی غلط کرنے کے لیے کی ہو۔

    غلمدیو! ایمان سے بتاؤ کہ کیا اب ہندوستان میں کوئی پڑھا لکھا ہندو نظر نہیں آ رہا ہے؟۔ اور بالخصوص تمہارے کرشن اوتار کے استھان(قادیان) میں اب کوئی پڑھا لکھا ہندو نہیں دکھائی دیتا؟۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔

    جھوٹ (۱۴۶)

    ”ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دُنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آ کر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہشمند ہیں“ (بدر جلد 6، نمبر19 مورخہ 9؍ مئی 1907ء صفحہ5، ملفوظات جلد 5 صفحہ 188 پانچ جلدوں والا ایڈیشن)

    نور: مرزائیو! اس امر کا ثبوت پیش کرو کہ کئی کروڑ انسانوں کا مشرک ہونا حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کا نتیجہ تھا؟۔ ورنہ جھوٹے و مفتری پر خدا کی لعنت۔

    جھوٹ (۱۴۷)
    ”آیات کبریٰ تیرھویں صدی میں ظہور پذیر ہوں گی اسی پر قطعی اور یقینی دلالت کرتی ہے کہ مسیح موعود کا تیرھویں صدی میں ظہور یا پیدائش واقع ہو.....لہذا علماء کا اسی پر اتفاق ہو گیا ہے کہ بعد المأتین سے مراد تیرھویں صدی ہے اور الآیات سے مراد آیات کبریٰ ہیں“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 468)

    نور: مرزا جی کا یہ صریح جھوٹ ہے کہ علماء کا اس امر پر اتفاق ہو گیا کہ ”الآیات بعد المأتین“ سے مراد تیرہویں صدی ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لیے مقرر ہے۔ ورنہ امت مرزائیہ کا اولین فرض ہے کہ اس اتفاق علماء کو حقیقت کی روشنی میں دکھائے۔

    جھوٹ (۱۴۸)

    ” وہی وقت ہے جس میں مسیح اُترنا چاہیئے اسی وجہ سے سلف صالح میں سے بہت سے صاحبِ مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودہویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب مُحدّث دہلوی قدس سرہٗ کی بھی یہی رائے .....ہاں تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے“(روحانی خزائن جلد ۳- اِزالہ اوھام: صفحہ 188تا189)

    نور: مرزا جی کا یہ بھی ایک کراماتی جھوٹ ہے بلکہ انوکھا اتہام ہے جو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جانب منسوب کر کے ان کی رائے بلکہ اجماعی عقیدہ کہا گیا ہے۔ مرزائیت کے خواجہ تاشوں میں اگر کچھ ہمت اور ایمانی صداقت موجود ہے تو حضرت شاہ صاحب مرحوم کی یہ رائے ان کی کتاب سے اور اجماعی عقیدہ کی اسلامی کتاب سے دکھا کر اپنے ”گرو“ کو راستباز ثابت کریں گے اور ان کی پیشانی سے اس سیاہ داغ کو دور کریں گے۔

    جھوٹ (۱۴۹)

    ” ہے۔ اب جاننا چاہیئے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے ایک لِمّی ،اور لِمّی دلیل اُس کو کہتے ہیںؔ کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگا لیں جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دُھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا“(روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 63تا64)

    نور: مرزا صاحب نے ”دلیل لِمّی“ کی اس تعریف و تمثیل سے نہ صرف عربی طلباء کے لیے سامان تفریح و تضحیک مہیا کیا بلکہ اپنی ”پیغمبرانہ قابلیت“ و ”سلطان المتکلمی“ کا ایسا بہترین مظاہرہ کیا ہے کہ منطقیوں و متکلموں کی روحیں بھی وجد میں آگئی ہوں گی۔

    قادیانی فاضلو! دلیل لِمّی کی یہ تعریف و تمثیل علم کلام و منطق کی کس کتاب میں ہے؟۔ دیکھیں اپنے ”سلطان المتکلمی“ کے اس سفید جھوٹ کو کس طرح سچ کے قالب میں ڈھالتے ہو۔

    اللہ رب ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں
    بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

    جھوٹ (۱۵۰)

    ”ا ہم مسلمانوں کے لئے صحیح بخاری نہایت متبرک اور مفید کتاب ہے یہ وہی کتاب ہے جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے“(روحانی خزائن جلد ۱۹- کشتی نوح: صفحہ 65)

    نور: بخاری شریف کی وہ حدیث جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے۔ مرزائیت کے نمک خواران ازلی کا فرض منصبی ہے کہ اس کو صاف طور پر دکھا کر ”مرزا جی“ کو عذاب اخروی و رسوائی سے بچائیں۔

    .................................................................................................................................................................................................................................................................................................................................
    ٭واضح ہو کہ ازالہ اوہام کی تصنیف 1891ء کی ہے۔ گویا آج 2007ء میں ایک سو سالہ 116 سال(بمطابق 2015 ء 124 سال) ہوگئے مگر ہندو کم تو کیا ہوتے خود قادیان میں پڑھے لکھے سکھوں اور ہندوؤں کی تعداد قادیانیوں سے زیادہ ہے۔ شاہ عالم
  9. ‏ مارچ 25, 2015 #19
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۵۱)

    ”اے نادان کیا تو یونس کے قصہ سے بھی بے خبر ہے جس کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے یونسؑ کی پیشگوئی میں کوئی شرط بھی نہیں تھی تب بھی توبہ و استغفار سے اُس کی قوم بچ گئی حالانکہ اس کی قوم کی نسبت خدا تعالیٰ کا قطعی وعدہ تھا کہ وہ ضرور چالیس دن کے اندر ہلاک ہو جائے گی مگر کیا وہ اِس ؔ پیشگوئی کے مطابق چالیس دن کے اندر ہلاک ہو گئی“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 194)

    نور: کس دلیری اور بیباکی سے خدا وند تعالیٰ پر یہ افتراء کیا گیا ہے کہ اس نے قوم کو چالیس دن کے اندر ہلاک کرنے کا قطعی وعدہ کیا تھا مگر بایں ہمہ اس نے قوم کو ہلاک نہیں کیا اور اپنے قطعی وعدہ پر پانی پھیر دیا۔

    مرزائیو! تمہارے ”پیغمبر“ نے جس جرأت سے اس اتہام سازی و کذب گوئی کا ارتکاب کیا ہے یہ صرف انہیں کا حصہ تھا؎

    نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہارے ظلم کیشی کو
    بہت سے ہو چکے ہیں گرچہ تم سے فتنہ گر پہلے

    اس لیے تمہارے ذمہ نمک حلالی کے سلسلہ میں یہ ضروری ہے کہ:

    ٭اول تو اس ”قطعی وعدہ“ کو قرآن شریف میں دکھاؤ؟۔
    ٭دوسرے کیا ”خدا کا قطعی وعدہ“ جھوٹا ہو سکتا ہے؟۔
    ٭نہیں تو مرزا جی کے دروغ گو اور مفتری ہونے میں کیا شک ہے اور کیوں ہے؟۔

    جھوٹ (۱۵۲)

    وَقَدْ جَاءَ فِی الْقُرْآنِ ذِکْرُ فَضَاءِلِیْ۔ وَ ذِکْرُ ظُھُوْرِیْ عِنْدَ فِتْنٍ تُثَوَّرُاور میرے فضائل کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اور میرے ظہور کا ذکر بھی پُر آشوب زمانہ میں ہونا لکھا ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۹- اعجاز احمدِی: صفحہ 170)

    نور: مرزا جی کے فضائل و ظہور کا ذکر قرآن مجید کے کس سورۃ اور کس آیت میں ہے؟۔ اگر مرزائیت کاسہ لیس اس کا دکھائیں تو ایک من تازہ مٹھائی بطور شکریہ پیش کی جائے گی۔ ورنہ مفتری و کاذب پر خدا کی لعنت۔

    جھوٹ (۱۵۳)

    ”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسّی۸۰ برس کی ہو گی اور یا یہ کہ پانچ ۵چھ۶ سال زیادہ یا پانچ۵ چھ۶ سال کم“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 258)

    اسی کتاب کے صفحہ مذکورہ میں مرزا صاحب اس الہام کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں کہ:

    ”اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چُہتر۷۴اور چھیاسی۸۶ کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 259)

    مرزائیت کے نقار خانہ کی طوطی (اخبار الفضل مورخہ ۱۱؍جون 1933ء؍صفحہ2) پر اپنے ”مالک“ کی تائید میں چہک کر کہتی ہے کہ:

    ”آپ(مرزا قادیانی) کے اس الہام میں دو زبردست پیشگوئیوں کا ذکر ہے۔ اول یہ کہ آپ کی عمر 74 برس سے کم نہ ہوگی دوسرے یہ کہ 86 برس سے زیادہ نہ ہو گی“۔

    حالانکہ مرزا صاحب 68-69 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو کر کاذب و مفتری بنے اس لیے (کتاب البریہ حاشیہ صفحہ؍146)، (رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جون 1906ء جلد 5 نمبر 6 صفحہ؍219)،( بدر مورخہ 8؍اگست 1904ء جلد 3 صفحہ؍5)، (الحکم مورخہ21-28 مئی1911ء جلد 15 نمبر 15 تا 20 صفحہ 4)،(کتاب حیات النبی جلد 1 صفحہ 49) میں مرزا جی اپنی پیدائش کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ:

    ”میری پیدائش ۱۸۳۹ ؁ء یا ۱۸۴۰ ؁ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۳- کِتابُ البَریَّۃ: صفحہ 177)

    اور بالکل ظاہر ہے کہ آپ 26؍مئی 1908ء کو دنیا سے رخصت ہوئے(عسل مصفی جلد 2 صفحہ 614، سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم صفحہ 448 روایت نمبر 470 نیا ایڈیشن)۔ پس اس پختہ و مسلم حساب سے مرزا صاحب کی عمر 69 سال میں الجھ کر رہ جاتی ہے جو کہ آپ کی کذب بیانی پر نہ ٹوٹنے والی مہر ہے۔

    لیکن ناظرین کرام کے لطف طبع کے لیے اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز کرشمہ یہ سنانا چاہتا ہوں کہ مرزا صاحب کی کل عمر گیارہ سال سے بھی کم ہوئی تھی کیونکہ آنجہانی لکھتے ہیں کہ:

    ۱)”میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے“(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 252)

    ۲)” اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر(چودہویں) صدی کا سر بھی آ پہنچا“(روحانی خزائن جلد ۱۵- تریَاق القلوُب: صفحہ 283)

    ۳)”ضرور ہے کہ مہدی معہود اور مسیح موعود ...... چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو کیونکہ یہی صدی ہزار ششم کے آخری حصہ میں پڑتی ہے“(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 250)

    اور چونکہ چودہویں صدی چھٹے ہزار میں واقع ہے اور مرزا صاحب اسی ہزار ششم میں سے گیارہ سال رہتے ہوئے اور اسی صدی میں فوت ہو گئے تو ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کی کل عمر گیارہ سال سے بھی کم ہوئی اس لیے مرزا صاحب کے انتقال کے وقت ہزار ششم باقی تھا۔ جل جلالہ

    ناظرین! مرزا صاحب کا کتنا معجزہ نما کمال ہے کہ گیارہ سال میں کیا کیا بنے اور کیا بنایا۔ مگر پھر بھی ہزار ششم کے گیارہ ختم نہ ہوئے۔
    مرزائیو! سچ ہے کہ:؎

    ایں کرامت ولی ماچہ عجب
    گربہ شاشید گفت باراں شد

    جھوٹ (۱۵۴)

    ”میں کسی عقیدہ متفق علیہا اسلام سے منحرف نہیں ہوں“(روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 31)

    نور: مرزا صاحب کا دعوی نبوت، وفات مسیح و تکفیر جمیع مسلمین اور ختم نبوت اور دیگر اصولِ اسلام و ضروریاتِ دین کے انکار کے باوجود یہ کہنا کہ ” میں کسی عقیدہ متفق علیہ سے منحرف نہیں ہوں“ صریح کذب بیانی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔

    جھوٹ (۱۵۵)

    ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ایک دلیل بلکہ بارہ مستحکم دلیلوں اور قرائن قطعیّہ سے ہم کو سمجھا دیا تھا کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فوت ہو چکا اور آنے والا مسیح موعود اِسی امت میں سے ہے“(روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 46)

    نور: غلمدیت اگر اپنے ”روحانی باپ“ کی صدق مقالی سے دنیا کو روشناس کرانا چاہتی ہے تو ان بارہ مستحکم دلیلوں و قطعی قرینوں کا اسلامی کتب سے نکال کر منظر عام پر پیش کرے؟۔

    جھوٹ (۱۵۶)

    ”اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کریم میں اس بات کی کہاں تشریح یا اشارہ ہے کہ روح القدس مقرّبوں میں ہمیشہ رہتا ہے اور ان سے جدا نہیں ہوتا تو اس کا یہ جواب ہے کہ سارا قرآن کریم ان تصریحات اور اشارات سے بھرا پڑا ہے“(روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 76)

    نور: نفس مسئلہ کی صحت و سقم کے قطع نظر کرتے ہوئے مرزا صاحب کا یہ فرمانا کہ ”سارا قرآن کریم ان تصریحات اور اشارات سے بھرا پڑا ہے“ مبالغہ گوئی و لاف زنی ہے جو کذب و دروغ کی حدود سے باہر نہیں ہو سکتا۔

    جھوٹ (۱۵۷)

    ”اور نبی کی اجتہادی غلطی بھی درحقیقت وحی کی غلطی ہے کیونکہ نبی تو کسی حالت میں وحی سے خالی نہیں ہوتا ......اس لئے جب اس کے اجتہاد میں غلطی ہو گئی تو وحی کی غلطی کہلائے گی نہ اجتہاد کی غلطی“(روحانی خزائن جلد ۵- آئینہ کمالات اسلام: صفحہ 353)

    نور: مرزا صاحب کے اس ”دروغ بے فروغ“ کے ثبوت میں آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ سے اغماض کرتے ہوئے مرزا صاحب کا ہی دوسرا قول پیش کرتا ہوں تاکہ غلمدیت کے گھر کو گھر کے چراغ ہی سے آگ لگ جائے اور اس کے پھپھولے سینہ کے داغ سے جل اٹھے۔ ارشاد ہے:

    ”ایک نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے مگر خدا کی وحی میں غلطی نہیں ہوتی“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 573)
  10. ‏ مارچ 25, 2015 #20
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    جھوٹ (۱۵۸)

    ”ایسا ہی دو۲ زرد چادروں کی نسبت بھی وہ معنے کئے جائیں کہ جو برخلاف بیان کردہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب رضی اللہ عنہم و تابعین و تبع تابعین و ائمہ اَہل بیت ہوں“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 374)

    نور: حدیث نبوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ جو آیا ہے کہ آپ دو زرد رنگ کی چادروں میں ملبوس ہو کر آسمان سے نازل ہوں گے تو مرزا صاحب نے ان دو چادروں سے اوپر اور نیچے کی دو بیماریوں مراد لے کر یہ فرمایا کہ میں ان اوپر اور نیچے کی دونوں بیماریوں میں مبتلاء ہوں۔ دیکھو (اخبار بدر مورخہ 7؍جون 1906ء صفحہ 5)، (منظور الہٰی صفحہ 328)، (روحانی خزائن جلد ۱۷- اربعین: صفحہ 471) اور اپنی اسی ”مراد“ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام و تابعین و تبع تابعین و ائمہ اہل بیت رضوان اللہ اجمعین کا فرمودہ بیان کیا ہے جو سراسر کذب و افتراء ہے۔ اس لیے ”مرزائیت“ کے فرزندوں کا یہ فرض ہے کہ اس امر کو ثابت کریں کہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام و تابعین و تبع تابعین و ائمہ اہل بیت رضوان اللہ اجمعین نے کس جگہ یہ فرمایا ہے کہ یہاں زرد رنگ کی چادروں سے مراد اوپر اور نیچے کی دو بیماریاں ہیں؟۔ ورنہ خوب یاد رکھو کہ:

    ”جھوٹے پر خدا کی لعنت“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 275)

    جھوٹ (۱۵۹)

    ”سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں ۔انبیاء علیھم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 320)

    نور: مرزائیت اپنے ”پیغمبر اعظم“ کو سچا ثابت کرنے کے لیے انبیاء علیہم السلام کے اتفاق کو جو زرد چادر کے متعلق ہوا ہے صحف آسمانی یا کم از کم کتب اسلامی سے دکھلائے کہ کب اور کہاں اور کتنے انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہوا ہے؟۔ اللہ اکبر!

    نبی”کہلا کر یہ افترا اور یہ تحریف اور یہ خیانت اور یہ جھوٹ اور یہ دلیری اور یہ شوخی“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 278)

    جھوٹ (۱۶۰)

    (الف)”سورۂ تحریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس امت کا نام مریم رکھا گیا ہے“(روحانی خزائن جلد ۲۱- براہینِ احمدیہ حصہ پنجم: صفحہ 361)

    جھوٹ (۱۶۱)

    (ب)”اور اسی واقعہ کو سورۃ تحریم میں بطور پیشگوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس اُمت میں اس طرح پیدا ہو گا کہ پہلے کوئی فرد اس اُمّت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر بعد اس کے اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی جائے گی“(روحانی خزائن جلد ۱۹- کشتی نوح: صفحہ 49)

    نور: سورۂ تحریم میں یہ مضمون نہ صریح طور پر اور نہ اشارہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور نہ بطور پیشگوئی کمال تصریح کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔ اس لیے مرزا صاحب کا یہ بھی ایک دلیرانہ جھوٹ ہے۔ اور لطف یہ کہ پہلے حوالے(الف) میں تو آپ اس مضمونِ مذکورہ کا تعلق ماضی سے کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”بعض افراد اس امت کا نام مریم رکھا گیا ہے“ اور دوسرے حوالے(ب) میں زمانہ مستقبل سے متعلق کرکے ارشاد ہے کہ ”بطور پیشگوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس اُمت میں اس طرح پیدا ہو گا“۔ مرزا صاحب نے سچ فرمایا کہ:
    ”جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے“(ترجمہ روحانی خزائن جلد ۸- نورالحقّ: صفحہ 137)

    جھوٹ (۱۶۲)

    ”اسلام کے تمام اولیاء کا اس پر اتفاق تھا کہ اس مسیح موعود کا زمانہ چودھویں۱۴ صدی سے تجاوز نہیں کرے گا“(روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 333)

    نور: تمام اولیاء کے اس اتفاق کی زیارت میں بھی کرنا چاہتا ہوں، امید ہے غلمدیت اس کا پتہ بتا کر اپنے ”بانی سلسلہ“ کو کذب و دروغ کی آلائش سے پاک کرے گی۔ ورنہ دیکھو:
    ”ایسا کھلا کھلا جھوٹ بنانا ایک بڑے بدذات اور لعنتی کاکا م ہے“(روحانی خزائن جلد ۲۳- چشمہ مَعرفت: صفحہ 408)

    جھوٹ (۱۶۳)

    ”یہ عجیب بات ہے کہ چودھویں صدی کے سر پر جس قدر بجز میرے لوگوں نے مجدّد ہونے کے دعوے کئے تھے۔ جیسا کہ نواب صدیق حسن خان بھوپال اور مولوی عبد الحی لکھنؤ وہ سب صدی کے اوائل دنوں میں ہی ہلاک ہو گئے“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 462)

    نور: حضرت مولانا مولوی عبد الحٔی صاحب لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ اور جناب نواب صدیق حسن صاحب بھوپالی کا ”دعوی مجدیت“ کس کتاب میں ہے؟۔ غلمدیوں سے امید ہے کہ اس کا پتہ بتا کر اپنے ”مجدد صاحب“ کو سچا ثابت کریں گے۔

    جھوٹ (۱۶۴)

    ”سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اُس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی“(روحانی خزائن جلد ۱۷- تحفہ گولڑویَّہ: صفحہ 95)

    نور: چونکہ سچ اور جھوٹ کی یہ ”نشانیاں“ مرزا صاحب کے خاص ”مراقیانہ دماغ“ کی پیدوار ہیں اس لیے ناممکن تھا کہ کذب و دروغ کی نجاست سے پاک ہوں۔ کیوں کہ مرزا صاحب کے قول سے لازم آتا ہے کہ باری تعالیٰ، حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم، قرآن مجید اور دین اسلام وغیرہ جو بے نظیر و بے مثال ہیں، وہ سب کے سب جھوٹ ہوں(معاذ اللہ!) اور خود مرزا صاحب ہی معجزہ و خارق عادت کی دوسری جگہ ایسی تعریف کرتا ہے جس سے ان نشانیوں کی تکذیب ہوتی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

    ”خارق عادت اسی کو تو کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے“(روحانی خزائن جلد ۲۲- حقِیقۃُالوَحی: صفحہ 204)

    حقیقت یہ ہے کہ چوں کہ اس قول اور خود مرزا صاحب جیسے ”پیغمبر و متنبّی“ کا بھی کوئی نظیر نہیں ہے اس لیے دونوں کے کاذب ہونے میں کچھ شک نہیں۔

اس صفحے کی تشہیر