1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

کلمۃ الفصل اور تکفیر امت مسلمہ

حمزہ نے 'مرزا بشیر احمد ایم اے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 7, 2017

  1. ‏ جنوری 7, 2017 #1
    حمزہ

    حمزہ رکن عملہ پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    کلمۃ الفصل مرزا بشیر احمد ایم اے کا لکھا ہوا رسالہ ہے جو 1915ء کے ماہ مارچ و اپریل کے ریویو آف ریلیجنز جلد 14 نمبر 3،4 میں شائع ہوا تھا۔ یہ رسالہ اس وقت جماعت قادیانی مرزائی کی آفیشل ویب سائیٹ پر مرزا بشیر احمد ایم اے کے ضمرے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کتاب سے میں دو اقتباسات پیش کرتا ہوں جو آج کل کے مرزائی حضرات کا منہ بند کرنے کہ لیے کافی و شافی ہوں گے کہ مرزائی امت مسلمہ کو کافر اور دائرہ اسلام سے باہر تصور کرتے ہیں۔

    "اگر ہم حضرت مسیح موعود کی شروع کی کتابو ں میں کسی ایسی تحریر کو پڑھیں جس میں لکھا ہو کہ میرے انکار سے کفر لازم نہیں آتا تو ہم کو دھوکہ نہ کھانا چاہیے کیونکہ بعد میں حضرت مسیح موعود کی اس رائے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام سے بدل دیا جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود عبد الحکیم خان مرتد کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”بہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابلِ مواخذہ ہے تو یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے خدا کا حکم چھوڑ دوں۔ اس سے سہل تر بات یہ ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں۔ ہاں اگر کسی وقت صریح الفاظ میں اپنی توبہ شائع کریں اور اس خبیث عقیدہ سے باز آ جاویں تو رحمت الہٰی کا دروازہ کھلا ہے۔ وہ لوگ جو میری دعوت کے ردّ کرنے کے وقت قرآن شریف کی نصوصِ صریحہ کو چھوڑتیں اور خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشانوں سے مُنہ پھیرتے ہیں انکو راستباز قرار دینا اسی شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔“
    حضرت مسیح موعودکی اس تحریر سے بہت سی باتیں حل ہو جاتی ہیں: اول یہ کہ حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع دی بلکہ حکم دیا کہ تو اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھ۔ دوسرے یہ کہ حضرت صاحب نے عبدالحکیم خان کو جماعت سے اس واسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا تھا۔ تیسرے یہ کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہنے کا عقیدہ ایک خبیث عقیدہ ہے۔ چوتھے یہ کہ جو ایسا عقیدہ رکھے اس کے لیے رحمت الٰہی کا دروازہ بند ہے، پانچویں یہ کہ جو شخص مسیح موعود کی دعوت کو رد کرتا ہے وہ قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے اور خدا کے کھلے نشانات سے منہ پھیرتا ہے۔ چھٹے یہ کہ جو مسیح موعود کے منکروں کو راستباز قرار دیتا ہے اس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔ اب کون ہے جو مسیح موعود کی کسی پہلی تحریر کو پیش کر کے آپ کے انکار کی اہمیت کو گرانا چاہے؟"(کلمۃ الفصل جلد 14 صفحہ 126 ماہ مارچ و اپریل 1915ء)
    ایک اور جگہ لکھتا ہے:
    "پھر اپنے رسالہ کے صفحہ چھ پر مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے مگر دائرہ اسلام سے اس وقت تک خارج نہیں ہوتا جب تک لا الہ الا اللہ کا انکار نہ کرے۔“ اگر مولوی صاحب موصوف کا واقعی یہی اعتقاد ہے تو پھر ان کے نزدیک یہ فقرہ بھی درست ہونا چاہیے کہ: ” نبی کریم ﷺ کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے مگر دائرہ اسلام سے اس وقت تک خارج نہیں ہوتا جب تک لا الہ الا اللہ کا انکار نہ کرے۔“
    تُف ہے ایسے اسلام پر جس کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس میں وہ خبیث روحیں بھی شامل ہیں جن کا کام ہی آنحضرت ﷺ کو دن رات گالیاں نکالنا ہے اور جو قرآن کو انسان کا کلام اور محمدﷺ کی مفتریات خیال کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک۔"(کلمۃ الفصل جلد 14 صفحہ 183 ماہ مارچ و اپریل 1915ء)
    ان حوالاجات کی مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں خود مرزائی حضرات بتائیں کہ جو لوگ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے وہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمان ہو سکتے ہیں؟

اس صفحے کی تشہیر