1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

(کوئی غلط طور پر مذہب کا اظہار کرے تو کاروائی ہوسکتی ہے)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 2, 2014

  1. ‏ نومبر 2, 2014 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (کوئی غلط طور پر مذہب کا اظہار کرے تو کاروائی ہوسکتی ہے)
    مرزاناصر احمد: اگر اس کے اس فعل کے نتیجے میں آپ کے پختہ یقین کے بعد وہ کسی اور کا حق مار رہا ہے تو آپ کو جس کا حق مارا جارہا ہے اس کے حق کی حفاظت کرنی چاہئے۔
    Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you.
    Mr. Chairman: The delegation is permitted to leave for 15 minutes. We will again meet ....
    (چیئرمین: وفد کو ۱۵منٹ کے لئے جانے کی اجازت ہے)
    A Member: 15 minutes?
    (ایک ممبر: صرف پندرہ منٹ؟)
    Mr. Chairman: But the honourable members may keep sitting. At 12-15, the Delegation is expected to come back in the Assembly. The honourable member may keep sitting.
    (جناب چیئرمین: اب سوابارہ بجے ملاقات ہوگی۔ معزز اراکین تشریف رکھیں۔ توقع ہے کہ وفد سوابارہ بجے واپس آجائے گا)
    (The delegation left the chamber)
    (وفد ہال سے باہر چلا گیا)
    Mr. Chairman: I would request the honourable members .... Mian Attaullah, just only for two minutes, just for one minute. Give me time then I am going to take recess.52Saiyid Abbas Husain Shah Gardezi and Sardar Aleem, just I wanted to say one thing. I wanted to thank the honourable members. And this is my personal observation .... Mr. Attorney- General, Maulana Zafar Ahmad, just one minute. I think we are .... I am at least quite satisfied with the method of Attorney- General. And we are grateful. Let it be placed on record. And I think most of our problems are over; and supplementary problems and everything will, of course, be taken up the way it is being conducted. I am, as a lawyer, more than satisfied and I think this is the opinion of the House. Thank you very much. We meet at 12:15. Thank you very much.
    (جناب چیئرمین: معزز ممبران سے چند منٹ کے لئے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد وقفہ کریں گے۔ میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ میں معزز ممبران کا شکریہ کے ساتھ میرا ذاتی تأثر یہ ہے کہ کم ازکم میں ذاتی طور پر اٹارنی جنرل کے طریقہ کار سے مطمئن ہوں۔ ہم ممنون ہیں یہ بات ریکارڈ پر آنی چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری اکثر باتیں اور مسائل ختم ہیں اور دیگر ضمنی باتیں بھی اس طرح طے ہو جائیں گی۔ جس طرح سے چل رہے ہیں۔ میں بحیثیت وکیل کے بے انتہاء مطمئن ہوں اور سمجھتا ہوں کہ آپ سب کی بھی یہی رائے ہو گی۔ (ممبران جی ہاں) چیئرمین شکریہ بہت تو اب سوابارہ بجے ملاقات ہوگی)
    ----------
    (The Special Committee adjourned for 15 minutes to re-assemble at 12:15pm)
    (سپیشل کمیٹی سوابارہ بجے تک کے لئے ملتوی ہوئی)
    ----------
    {The Special Committee re-assembled after the break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.}
    (کمیٹی چائے کے وقفہ کے بعد دوبارہ جمع ہوگئی۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے کرسی صدارت سنبھالی)
    Mr. Chairman: I will request the honourable members to be in their seats and we will proceed just when the quorum is complete.
    (جناب چیئرمین: معزز ممبران سے درخواست کروںگا اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں۔ کارروائی کورم پورا ہونے پر شروع ہوگی)
    Prof. Ghafoor Ahmad: has pointed out that there should not be appreciation by the Chair; so it may be amended accordingly. The House is satisfied with the conduct of the Attorney- General. Only this much should be written, the rest should be deleted.
    (پروفیسر غفور نے فرمایا ہے کہ چیئرکی طرف سے تعریفی اعتراف نہیں ہونا چاہئے۔ ریکارڈ کو اس لئے درست کر لیا جائے۔ ہاؤس مطمئن ہے کہ جناب یحییٰ بختیار کا طریقہ کار صحیح ہے۔ بس ریکارڈ ہیں بھی کچھ لکھنا چاہئے باقی حذف کر دیں)
    پروفیسرصاحب نے Point out کیا ہے کہ Chair کی طرف سے Appreciation نہ ہو۔ ہاؤس کی Satisfication ہو۔ With he conduct of the Attorney- General تشریف لا رہے ہیں۔ جی؟ نہیں۔ I think that is .... Yes?

    53SUPPLY OF COPIES OF THE CROSS- SUPPLY OF COPIES OF THE CROSS- EXAMINATION

    Malik Mohammad Jafar: Sir, can I make a submission?
    Mr. Chairman: Yes, yes.
    Malik Mohammad Jafar: Sir, after this cross-examination ....
    Mr. Chairman: Yes.
    Malik Mohammad Jafar: .... I assume that there will be a debate and naturally that debate will be conducted on the basis of the examination in chief or the cross-examination.
    (ملک محمد جعفر: جناب! ایک عرض ہے کہ اس جرح کے اختتام پر میں سمجھتا ہوں کہ ایک مباحثہ ہوگا جو جرح کی بنیاد اور عدالتی بیان پر منحصر ہوگا۔ تو اس بیان کی نقول تیار ہونی چاہئے تاکہ ان کا ہم مطالعہ کر سکیں)
    Mr. Chairman: Yes, correct.
    Malik Mohammad Jafar: So, I think that the copies of this statement ....
    Mr. Chairman: Yes.
    Malik Mohammad Jafar: .... should, as the statement goes, ....
    Mr. Chairman: Yes, I am looking ....
    Malik Mohammad Jafar: .... should be prepared so that they can study and ....
    Mr. Chairman: I am looking in to the matter. So far as the examination-in-chief is concerned, every member has got the copy.
    Malik Mohammad Jafar: Yes. I am mentioning the Cross- examination.
    Mr. Chairman: Yes. For the Cross- examination. I will have to make double arrangements. I will discuss this matter with my Secretariat. Today, I will discuss it and I will see that 54the entire record is available before the debate opens. I think the debate will be after 20th.
    (جناب چیئرمین: میں انتظام کر رہا ہوں اپنے سیکرٹریٹ سے مشورہ کروں گا کہ اس کارروائی کی کاپیاں تیار ہو جائیں)
    Malik Mohammad Jafar: Yes.
    Mr. Chairman: By that time we will prepare the record.
    Malik Mohammad Jafar: Yes; and copies should be supplied.
    Mr. Chairman: Copies of the Cross- examination.
    (Interruption)
    No, no, that has been decided by the Steering Committee; the questions shall remain with the Attorney- General.
    Sardar Moula Bakhsh Soomro: We should be given a copy ....
    (سردار مولابخش: جب کاپیاں تیار ہو جائیں تو ہمیں بھی دی جائیں)
    (Interruption)
    (ان کو اندر بلوالیں)
    No, Sir, after writing, Sir, we should be given a copy after you have finished.
    جناب چیئرمین: ان کو باہر بلوالیں۔
    ایک رکن: جناب والا!… (مداخلت)
    ----------

    SUPPLEMENTARY QUESTION FOR CROSS- EXAMINATION

    Mr. Chairman: اچھا، ایک سیکنڈ One thing I may also point out. ایک سیکنڈ، ایک سیکنڈ کہ جتنے Questions ہیں سپلمینٹری these may be handed over to Mr.Aziz Bhatti and to Moulana Zafar Ahmad Ansari, so that the Attorney- General is not disturbed by the Chits. So during the break, the Attorney- General will receive these questions and will examine them and whatever possible course 55is adopted Attorney- General will adopt.
    Yes. Sahibzada Safiullah.
    (جناب چیئرمین: تمام ضمنی اور اضافی سوالات عزیزبھٹی صاحب کو اور ظفر احمد انصاری صاحب کو دے دئیے جائیں کہ وقفہ کے دوران رقعہ جات جناب یحییٰ بختیار کے لئے مخل نہ ثابت ہوں۔ پھر جناب یحییٰ بختیار وہ طریقہ بروئے کار لائیں گے کہ ان سوالات پر بحث ہو سکے)
    جی! صاحبزادہ صفی اﷲ۔

    CORRECTION OF RECORD OF THE CROSS- EXAMINATION

    صاحبزادہ صفی اﷲ: جناب والا! میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں…
    جناب چیئرمین: جی!
    صاحبزادہ صفی اﷲ: … کہ عام طریقہ تو پہلے سے یہ ہے کہ جب یہاں اسمبلی میں تقاریر ہوتی ہیں تو رپورٹر صاحبان وہ تقاریر جو ہمیں وہ بھیجتے ہیں تاکہ اس کی تصحیح کریں۔ تو اب کیا طریقہ ہے؟ یعنی یہ رپورٹ جو ہے اب بھی ان کو بھیجے جائیں گے تصحیح کے لئے؟
    جناب چیئرمین: کن کو؟ کن کو؟
    صاحبزادہ صفی اﷲ: یہ جو ہیں۔
    جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ ان کو نہیں دی جائیں گی۔ آپ کو دی جائیں گی۔
    صاحبزادہ صفی اﷲ: اچھا۔
    جناب چیئرمین: آپ سب کو، Cross- examination کی۔
    صاحبزادہ صفی اﷲ: نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ تصحیح کے لئے یہ رپورٹر جو رپورٹ کرتے ہیں تقریروں کو، تو ان کو بھی دی جائیں گی تاکہ وہ تصحیح کریں اپنے اپنے؟
    جناب چیئرمین: نہ، نہ۔ No, no. This is the privilege of the members.
    صاحبزادہ صفی اﷲ: ہاں! یہ ٹھیک ہے۔
    جناب چیئرمین: ہاں! Members only.
    صاحبزادہ صفی اﷲ: میں بھی…
    56جناب چیئرمین: ممبرز کا یہ پرولیج ہے، صرف ممبرز کا۔
    صاحبزادہ صفی اﷲ: نہیں۔ اس میں کوئی تبدیلی کریں گے؟
    جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ اس میں یہ کریں گے کہ ہم خود اس کو Correct کر لیں گے۔ ریکارڈ کو ٹیپ کے ذریعے۔ اس کے بعد ممبرز میں تقسیم کردیں گے۔
    Should I call the delegation.
    Moulana Syed Mohammad Ali.
    مولانا سید محمد علی رضوی: سوالوں سے پہلے ایسا موقع دے دیا جاتاکہ وہ اپنے سوال کی پوری طرح تشریح سنا دیتے، اس کے بعد ان سے اسی انداز سے پوچھا جاتا تو تکلیف نہیں ہوتی۔
    Mr. Chairman: I think the method is being properly practised. چونکہ کئی Questions ایسے ہوتے ہیں جن میں آدھا سوال کیا جاتا ہے۔ آدھا جواب لیا جاتا ہے۔ and then skip over to another question.
    مولانا سید محمد علی رضوی: ان کے سامنے نہیں۔
    Mr. Chairman: They may be called. اچھا ان کو بلالیں۔

    TIMINGS OF SITTINGS FOR THE CROSS- EXAMINATION

    Mr. Chairman: We will sit upto 1:30... (Interruption)....
    جی! کس کا جی؟

    10:30to 11:30 in the morning and then 12 : 30 to 1 : 30 and then from 6 : 00 to 7 :15 and then from 8 : 00 to 9 : 30.
    (جناب چیئرمین: ہم دوپہر ڈیڑھ بجے تک بیٹھیں گے۔ صبح ساڑھے دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک۔ پھر ساڑھے بارہ سے ڈیڑھ بجے تک۔ پھر شام کو چھ سے سواسات بجے تک اور پھر آٹھ سے رات نو یا ساڑھے نو تک۔
    ایک رکن: 9:30؟
    جناب چیئرمین: ہاں! ایک ایک گھنٹے کا یا سواسوا گھنٹے کا۔ پھر بریک ہوتا رہے گا۔
    (The Delegation entered the Chamber)

    57CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI GROUP DELEGATION

    Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, the Attorney- General.
    (جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل)
    Mr. Yahya Bakhtiar: So, Sir, you agree that a Christian boy or girl, who has applied for admission to a Medical College, should not be deprived of his right of admission because of false declaration of a Muslim boy?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو کیا جناب! آپ کو اتفاق ہے کہ ایک عیسائی لڑکا یا لڑکی جس نے میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے درخواست دی ہے۔ اس کو داخلے کا حق حاصل ہے اور اس کو محروم نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس نے مسلمان ہونے کا جھوٹا ڈکلریشن دیا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: That is an exceptional case and exception can only prove the rules. They are not converted into a general rules.
    (مرزاناصر احمد: یہ ایک غیرمعمولی نوعیت کا کیس ہے۔ استثنیات سے تو صرف اصول ثابت ہوئے ہیں جو کہ عام ضوابط میں تبدیل نہیں ہوسکتے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: I request you, Sir, that if, in such a case, the Principal finds that the declaration is false, he should or should not interfere, he should or should not question that?
    (جناب یحییٰ بختیار: جناب! عرض یہ ہے کہ کیا ایسے کیس میں جب کہ پرنسپل کو علم ہو جائے کہ ڈکلریشن جھوٹا ہے تو کیا وہ مداخلت کرے یا نہ کرے۔ کیا وہ سوال جواب کرے یا نہ کرے)
    Mirza Nasir Ahmad: If one is sure. And one seldom is.
    (مرزاناصر احمد: ہاں اگر اس کو بالکل یقین ہو جو کہ شاذ نادر ہوتا ہے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Just I presume that the Principal is sure. Of course, if he is false, then the question does not arise. If the Principal knows that the declaration is false ....
    (جناب یحییٰ بختیار: میں فرض کرتا ہوں کہ پرنسپل کو یقین ہے۔ اگر اس کو یقین نہیں ہے تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اگر اسے علم ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے)
    Mirza Nasir Ahmad: If he is sure, then justice must be done.
    (مرزاناصر احمد: اگر اس کو یقین ہے تو انصاف کیا جانا چاہئے)
    Mr. Yahya Bakhtiar: So you agree?
    (جناب یحییٰ بختیار: تو آپ اس بات سے متفق ہیں؟)
    Mirza Nasir Ahmad: But I am .... I agree with it. but I want to add that such exceptions can only prove the rule.
    (مرزاناصر احمد: میں متفق ہوں۔ مگر یہ اضافہ کرتا ہوں کہ ایسے غیرمعمولی کیس صرف ضابطہ کو ثابت کرتے ہیں)
    Mr. Yahya Bakhtiar: Then, Sir, whether you call it an exception or something which has happened quite often, but you will kindly agree that this freedom to announce ....
    (جناب یحییٰ بختیار: خواہ آپ اس کو غیرمعمولی طور پر پیدا ہونے والا وقوعہ کہیں یا ایسا اکثر وقوع پذیر ہوتا رہتا ہو۔ کچھ بھی ہو۔ آپ مانتے ہیں کہ اس نوعیت کی آزادی …)
    Mirza Nasir Ahmad: In certain exceptional cases, Yes.

اس صفحے کی تشہیر