1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

کیا امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام شرک کر سکتی ہے؟

ابوعبداللہ نے 'شرک و بدعت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 30, 2020

  1. ‏ مارچ 30, 2020 #1
    ابوعبداللہ

    ابوعبداللہ رکن ختم نبوت فورم


    ہم اھل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ
    امت مسلمہ بطور مجموعی کبھی شرک اکبر( اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا)کی مرتکب نہیں ہو سکتی ۔ البتہ قرب قیامت میں مسلمانوں کے کچھ قبائل بتوں کی عبادت کر کے شرک اکبر کے مرتکب ہوں گے ۔وہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے
    بخاری شریف کی حدیث مبارکہ ہے :۔

    حدثنا قتیبة بن سعید، حدثنا اللیث بن سعد، عن یزید بن ابی حبیب، عن ابی الخیر، عن عقبة بن عامر :
    " ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خرج یوما، فصلی علی اھل احد صلاته علی المیت، ثم انصرف الی المنبر، فقال : انی فرطکم، و انا شھید علیکم وانی واللہ لا نظر الی حوضی الآن، وانی قد اعطیت مفاتیح خزائن الارض او مفاتیح الارض،وانی واللہ مااخاف علیکم ان تشرکوا بعدی ، ولٰکنی اخاف علیکم ان تنافسوا فیھا "

    صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب ما یحذر من زھرة الدنیا والتنافس فیھا، رقم الحدیث 6426 ،
    ( یہ روایت بخاری شریف کے متفرق ابواب کے تحت کل 6 مرتبہ آئی ہے)
    تخریج حدیث
    (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا ﷺ و صفاته، رقم الحدیث 5976، سنن الکبریٰ،کتاب الجنائز، جماع ابواب الشھید ومن یصلی علیه و یغسل، باب ذکر روایة من روی انه صلی علیھم بعد ثمان سنین تودیعالھم، رقم الحدیث 6677، مسند احمد، مسند الشامین ، حدیث عقبه بن عامر الجھنی عن النبی ﷺ، رقم الحدیث 16893، المعجم الکبیر، باب العین،من اسمه عقیل، عقبه بن عامر الجھنی، ما اسند عقبه بن عامر، ابوالخیر مرثد بن عبد اللہ الیزنی عن عقبه، رقم الحدیث767، سنن النسائی، کتاب الجنائز ، باب الصلاة علی الشھداء، رقم الحدیث 1954)

    ترجمہ :

    حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک دن گھر سے باہر تشریف لائے پس آپ ﷺ نے اھل احد کے اوپر نماز پڑھی جیسی میت پر نماز پڑھی جاتی ہے۔ پھر آپ ﷺ منبر کی طرف واپس آئے، پس آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں، اور میں تمہارے حق میں شہادت دینے والا ہوں۔اور بے شک اللہ کی قسم ! میں ضرور اب بھی اپنے حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں، اور بے شک مجھے تمام زمینوں کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں،یا فرمایا: تمام زمینوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں۔ اور بے شک اللہ کی قسم !مجھے تم پر اس کا خطرہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے۔ لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرو گے۔
    علماء کرام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ قرآن و احادیث کی نصوص طیبہ میں ناسخ و منسوخ بھی ہیں اور راجح و مرجوح بھی ۔ قرآنی آیات کی بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ الرحمٰن نے الاتقان فی علوم القرآن میں ایسی 20 آیات قرآنی کا تذکرہ کیا ہے جو منسوخ ہو چکی ہیں۔ اسی طرح احادیث طیبہ میں بھی بعض احادیث منسوخ ہیں جن کا حکم یا عمل اسلام کے ابتدائی دور میں تھا لیکن آخری دور میں کسی اور عمل کے سبب ان کا حکم منسوخ ہو گیا مثال کے طور پر تطبیق کا عمل ۔ یا بعض احادیث راجح ہیں اور بعض مرجوح ۔ یعنی جن پر امت کا عمل ہے اور جنہیں امت نے ترک کر دیا۔ اس تمہید سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ظاہری حیات طیبہ کے آخری زمانہ میں جو عمل کیا یا حکم فرمایا وہی مقبول ہے۔
    مذکورہ حدیث حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ کے آخری دنوں کی ہے۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر فرما رہے ہیں کہ ما اخاف علیکم ان تشرکوا بعدی یعنی مجھے تم پر اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے۔ صادق القول نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس سے نکلا ہر ایک لفظ اٹل ہے۔ اور یوں تو آپ ﷺ کی ہر ایک بات شک و شبہہ سے بالاتر ہے لیکن جب آپ ﷺ کسی بات پر قسم کھا لیں تو اس میں شک و شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟
    یہ اس امت کی بدنصیبی ہے کہ اس میں چند گروہ ایسے پیدا ہوئے جنہیں کائنات کے صادق ترین اور افضل البشر کی قسم پر بھی اعتبار نہیں بلکہ عجیب گو مگو اور شش و پنج کی کیفیت میں گرفتار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری زمانہ مبارکہ کی یہ حدیث اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام بطور مجموعی کبھی شرک نہیں کر سکتی ۔ اور بطور مسلم اور امتی ہمیں اس بات کا کامل و اکمل یقین ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر ایک فرمان سچا اور برحق ہے۔
    جیسے اس حدیث طیبہ میں شرک نہ کرنے کا ذکر ہے ویسے ہی ایک حدیث میں ایسے لوگوں کا بھی تذکرہ موجود ہے جو کلمہ گو مسلمانوں پر شرک کا فتویٰ لگائیں گے۔ چنانچہ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں بحوالہ مسند ابی یعلیٰ موصلی علیہ الرحمہ ،حضرت خذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل فرماتے ہیں :۔
    "قال رسول اللہ ﷺ : ان مما اتخوف علیکم رجل قرأ القرآن حتی اذا رویت بھجته علیه وکان رداؤہ الاسلام اعتراہ الی ما شاء اللہ انسلخ منه و نبذہ وراء ظھرہ و سعی علی جارہ بالسیف ورماہ بالشرك۔ قال قلت یا نبی اللہ ایھما اولی بالشرك المرمی او الرامی ؟ قال : بل الرامی۔
    اسنادہ جید
    سورۃ الاعراف تحت الآیه 177
    حضرت خذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : مجھے تمہارے بارے میں اس آدمی کا اندیشہ ہے جو قرآن کا علم رکھتا تھا یہاں تک کہ قرآن کی رونق اور شگفتگی اس کے چہرے پر عیاں تھی ، اس کی چادر اسلام تھی جس کو اس نے اوڑھے رکھا پھر وہ کترا کر اس سے نکل گیا اور اس نے اسے پس پشت ڈال دیا۔ اپنے پڑوسی کو تلوار لے کر قتل کرنے کے درپے ہو گیا اور اس پر شرک کی تہمت لگانے لگا۔ میں نے عرض کی یا نبی اللہ ﷺ !ان دونوں میں کون شرک کا زیادہ مستحق ہےتہمت لگانے والا یا جس پر تہمت لگائی گئی ؟ فرمایا : بلکہ تہمت لگانے والا ۔
    اس روایت کی اسناد جید ہیں۔ یعنی یہ صحیح حدیث ہے۔
    مخبر صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم تھا کہ ایک گروہ ایسا اٹھے گا جو کلمہ گو مسلمانوں پر شرک کی تہمت لگائے گا اسی لیے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس کا رد فرما دیا کہ میری امت شرک نہیں کر سکتی اور واضح بتا دیا کہ میری امت پر شرک کی تہمت لگانے والا خود مشرک ہے۔ اس لیے معمولات اھل سنت پر اپنی کم فہمی کے سبب بلاوجہ شرک کی تہمت لگانے والوں کو آپ غور کرنا چاہیئے کہ وہ کس راہ پر چل رہے ہیں۔ اور اس شخص کے مصداق کیوں بن رہے ہیں جس کے متعلق مخبر صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندیشہ ظاہر فرمایا۔
    خلاصہ کلام :
    بخاری و مسلم اور ابن کثیر کی مذکورہ روایات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کبھی بطور مجموعی شرک نہیں کر سکتی۔ اور امت مسلمہ پر شرک کا فتویٰ لگانے والا خود مشرک ہے۔

    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر