1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

کیا انسان واقعی چاند پہ گیا ہے ؟

محمد المکرم نے 'علم منطق و فلسفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 12, 2020

  1. ‏ فروری 12, 2020 #1
    محمد المکرم

    محمد المکرم رکن ختم نبوت فورم

    کیا انسان واقعی چاند پہ گیا ہے ؟

    تحریر : محمد مکرم

    یہ ایک ایسا سوال ہے جو عرصہ دراز سے ایک معمہ بنا ہوا ہے اور نہ جانے کب تک بنا رہے گا،اکثریت کا خیال اس بارے میں یہ ہے کہ انسان واقعی چاند پہ جا کر واپس زمین پہ آچکا ہے لیکن اس کے برعکس ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اسے نہ صرف غلط بلکہ اسے ایک ترقی یافتہ ملک کی جانب سے عظیم جعلسازی بھی سمجھتا ہے ،میرے خیال میں اتنی تمہید کافی ہے،تو خواتین و حضرات چاند کے بارے میں زمانہ قدیم سے ہی بڑی پرسرار داستانیں وابستہ ہیں جن کا ذکر اس مختصر سی تحریر میں کرنا تو بلکل ممکن نہیں ہے لیکن تھوڑی بہت روشنی ضرور ڈالی جا سکتی ہے، جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہوگا کہ مصنف حضرات اپنے رومانوی ناولوں میں محبوب کو چاند سے تشبی دیتے ہیں کوئی چاند کی چاندنی محبوب کو بتاتا ہے کوئی چاند جیسا حسین چہرہ لکھتا ہے تو کوئی چاندنی راتوں کی منظر کشی اس طرح کرتا ہے کہ انسان تصوراتی دنیا میں کھو کر دنیا و مافیہا سے وقتی طور پہ بیگانہ ہو جاتا ہے ،خیر مجھے تو ان ناولوں کو پڑھنے کا ابھی تک کوئی تجربہ نہیں ہوا بس تھوڑا تجزیہ ضرور کیا ہے اس لئے ذرا تحریر کو مرچ مسالا لگانے کے لئے لکھ دیا ہے کیوں کہ آج کل مرچ مسالے کے بغیر کام نہیں چلتا، اب آتے ہیں اصل نقطے پہ ویسے تو چاند پہ جانے کی داستان کے رد میں کافی شواہد انٹرنیٹ پہ موجود ہیں جس سے مجھ جیسا عام سے عام بندہ بھی قائل ہو جاتا ہے کہ واقعی چاند پہ جانا ممکن نہیں ہے اور ایسا بلکل درست بھی ہے ،ایک بات اور میں لکھ دوں کہ میں کوئی سائنسداں نہیں ہو میں ایک عام طالب علم ہوں اور اتنا تو سب ہی جانتے ہونگے کہ ایک عام انسان کو بھی سوچنے کا اور اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہوتا ہے لہٰذا میں اس ہی حق کو استعمال کرتے ہوئے یہ تحریر لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں ،
    جیسا کہ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ زمین کے اوپر جو حفاظتی لیرز ہیں جیسے کہ اوزون ان ہی لیرز میں سے ایک آینوسفیر ہے جس کی وجہ سے ریڈیو سگنلز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور اس ہی لیر آینوسفیر کی وجہ سے مواصلات کا نظام چلتا ہے اور اگر کسی وجہ سے اس لیر کا خاتمہ ہوگیا تو دنیا میں مواصلات کا نظام ناکارہ ہو کر رہ جائے گا ،اب میرا سوال یہ ہے کہ چاند سے ریڈیو پیغام کس اصول کے تحت زمین تک موصول ہوگا ؟کیوں کہ چاند کے گرد اور زمین اور چاند کے درمیان یعنی خلا میں ایسی کوئی لیر موجود نہیں ہے تو یہ ریڈیو پیغام کیونکر زمین تک پہنچے گا؟دوسری بات کشش ثقل کی طاقت اتنی قوی ہے کہ اس نے خلا میں اتنے بڑے بڑے عظیم الشان سیاروں ستاروں کو کنٹرول میں لیا ہوا ہے تو ذرا سوچیں کیا ایک حقیر سا سپیس شپ اس عظیم طاقت کا سینہ چیر کر زمین کی حدود سے باہر نکل سکتا ہے ؟بات کو مزید آسان کر دیتا ہوں سمندر کی ہی مثال لے لیں جس کے پانی کی مقدار اور قوت کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے لیکن کشش ثقل نے اسے بھی تھامے رکھا ہے تو کیا سپیس شپ سمندر سے زیادہ وزنی اور طاقتور ہے ؟
    ان سب لیرز کی طرح الله رب العلمین نے مزید پروٹیکشن کا حصار بھی جانداروں اور زمین کی حفاظت کے لئے قائم کیا ہوا ہے جسے سائنسی زبان میں وین ایلن بیلٹ کہا جاتا ہے جس کا کام زمین پہ رہنے والوں کو سورج کی تابکار شعاؤں سے بچانا ہے اور ساتھ ہی خلا میں پھرتے آوارہ پتھروں جن کو اسٹورائد کہتے ہیں ان کو زمین کی پہنچ سے دور رکھنا ہے ، اب ایک مجھ جیسا عام انسان بھی یہ باآسانی سوچ لے گا کہ اس حفاظتی حصار سے نکل کر کیا کوئی جاندار ایک لمحہ بھی صحیح سلامت رہ سکتا ہے؟یا کوئی سپیس شپ ان تابکار شعاؤں کو برداشت کر لے گی اور کیا کوئی آوارہ اسٹورائد اسے اپنی زد میں نہیں لے لیگا ؟ اگر کوئی کہتا ہے کہ ہاں یہ جو سوالات ہیں یہ بے بنیاد ہیں تو پھر ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان اور حقیر سی سپیس شپ ان تابکار شعاؤں اور اسٹورائد سے بچ سکتے ہیں تو پھر عظیم الشان زمین کے لئے یہ پروٹیکشن کس لئے ؟
    ایک بار پھر عرض کردوں کہ میں کوئی سائنس داں نہیں ایک عام سا طالب علم ہوں ہو سکتا ہے یہ سوالات میں نے کم علمی کی وجہ سے گڑھ لئے ہوں لہٰذا اہل علم خواتین و حضرات کو اس بات کا اختیار ہے کہ اگر میں واقعی غلط ہوں تو میری رہنمائی فرما دیں ،شکریہ kia insan chand pah gaya hay.jpg

اس صفحے کی تشہیر