1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کیا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر ڈالا گیا ؟

خادمِ اعلیٰ نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ دسمبر 22, 2014

  1. ‏ دسمبر 22, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    کیا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر ڈالا گیا ؟

    مرزا قادیانی نے امت اسلامیہ کے بر خلاف یہودیوں اور عام طور پر عیسائیوں میں مشہور اس عقیدہ کو ااپنایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو آپ کے دشمن یہود پکڑنے میں کامیاب ہوئے اور آپ کو صلیب پر ڈالا گیا ، جبکہ قرآن کریم نے صاف طور پر " ماصلبوہ " کے لفظ سے آپ کے صلیب پر ڈالے جانے کی تردید کی ہے اور ایک دوسری جگہ قرآن نے " واذکففت بنی اسرائیل عنک " ( المائدہ 110 ) کے لفظ بول کر صاف بتادیا کہ یہود کو آپ تک پہنچنے ہی نہیں دیا گیا تھا ، مرزائی دھوکے باز یہاں کہتے ہیں کہ صلب کا معنی ہوتا ہے کہ صلیب پر کسی کو قتل کر دینا تو " ماصلبوہ " سے صرف اس بات کی نفی ہے کہ آپ کو صلیب پر قتل کیا گیا ، آپ کو صلیب پر ڈالے جانے کی نفی نہیں ۔ اس کا جواب تو علماء نے یہ دیا کہ اگر عربی میں کسی کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ اسے صلیب پر ڈالا ہی نہیں گیا تو اس کے لئے بھی یہی لفظ " ماصلبوہ " ہی بولا جائے گا ، اگر کوئی اور لفظ ہے تو مرزائی بتائیں، لیکن میں اس کی مثال یہ دیتا ہوں کہ یہ سب کو پتہ ہے کہ پھانسی دینا یہ ہوتا ہے کہ کسی کہ گلے میں پھندا ڈال کر اسے کے پاؤں کے نیچے سے تختہ کھینچنا اور اس کا دم گھٹ کا مر جانا ، لیکن اگر کسی کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اسے پھانسی نہیں دی گئی تو کیا اس کا مطلب ضرور یہ ہوگا کہ اس کے گلے میں پھندا ڈالا گیا ، تختہ کھینچا گیا لیکن اس کی موت نہیں ہوئی یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے گلے میں پھندا ہی نہیں ڈالا گیا اور تختہ دار پر کھڑا ہی نہیں کیا گیا ؟ یقیناََ عام طور پر یہ دوسرا مطلب ہی لیا جائے گا ۔ مرزا قادیانی نے قرآن کریم کے اس واضح مواقف کے مقابلے میں اور آپنے حق میں جو دلیل پیش کی ہے وہ یہ ہے ۔ :
    میرے ساتھ میری شہادت کے واسطے اس وقت لاکھوں انسان موجود ہیں ، قوموں کی قومیں اپنی متواتر اور متفقہ شہادت پیش کر رہی ہیں ، اگر کسی کو شک وشبہ ہوتو یہودی موجود ہیں ، نصرانی موجود ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ ان کا اس بارہ میں کیا عقیدہ ہے ، دونوں متخاصم موجود ہیں ان س پوچھ لو کہ آیا اس بات کے قائل ہیں جو تم پیش کرتے ہو ۔ دیکھو تواتر قوی کو بغیر کسی زبردست دلیل اور حجت نیرہ کے توڑ دینا اور اس کی پراہ نہ کرنا بھاری غلطی ہے " ( ملفوظات جلد 5 صفحات 692 ، 691 )
    یہاں مرزا صاف طور پر اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر ڈالا گیا تھا یہودیوں اور عیسائیوں کو دلیل کے طور پر پیش کر رہا ہے یعنی وہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کے پاس اس بارے میں قرآن وحدیث سے یا اسلامی مصادر سے کوئی دلیل نہیں ، لیکن مرزا قادیانی کی یہ شہادت کسی کام کی نہیں کیونکہ اگر موجودہ بائبل کا مطالعہ کیا جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے شاگردوں یا پیرکاروں میں سے ایک گواہ بھی ایسا نہیں ملتا جو واقعہ صلیب کا عینی شاہد ہو اور جس نے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر دیکھا ہو ، بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے تمام شاگرد بھاگ گئے تھے بلکہ آخری شاگرد تو بقول بائبلاپنے کپڑے چھوڑ کر بھاگ نکلا تھا ، بائبل میں موجود چاروں انجیلیں جن کی طرف منسوب کی جاتی ہیں یعنی " متَی ، مرقس ، لوقا ، اور یوحنا " ان میں سے کوئی بھی موقع پر موجود نہیں تھا جس نے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو خود صلیب پر پڑے دیکھا ہو ، کیا دنیا کی کوئی عدالت کسی واقعہ کے بارے میں کسی ایسے گواہ کی شہادت قبول کرتی ہے جو موقع پر موجود ہی نہ ہو بلکہ پہلے ہی بھاگ گیا ہو ؟ مرزا قادیانی کے اس دھوکے کو زائل کرنے کے لئے آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ قدیم ترین عیسائی فرقوں کا یہ اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو ہر گز صلیب پر نہیں ڈالا گیا تھا ، یہ ہم نہیں کہتے بلکہ عیسائی علماء نے لکھا ہے : ۔

    قدیم ترین عیسائی فرقوں کا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر ڈالے جانے سے انکار
    مشہور مستشرق مسٹر جورج سیل ( George Sale ) جس نے قرآن کریم کا انگریزی میں ترجمعہ کیا ہے ، سورہ آل عمران کی آیت : 54 ( ومکروا ومکر اللہ ) کے تحت لکھتا ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ : ۔
    عیسائیوں کا فرقہ بی سی لیڈین جو عیسائیت کے نہایت شروع میں تھا مسیح علیہ اسلام کے مصلوب ہونے سے انکار کرتا تھا اور ان کا اعتقاد تھا کہ آپ کی جگہ سائمن کو صلیب دی گئی ، ایسے ہی فرقہ سیرانتھین جو ان سے بھی پہلے تھا اور کارپاکریشن جو مسیح علیہ اسلام کو صرف انسان مانتے تھے ( یعنی خدا نہیں مانتے ۔ناقل ) ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ اسلام کو صلیب پر نہیں ڈالا گیا بلکہ ان کے حواریوں میں سے ایک شخص جو آپ کا ہم شکل تھا صلیب پر ڈالا گیا ، مصنف فوٹیس نے بھی رسولوں کے سفر نامے سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور انجیل برنباس میں بھی ایسا ہی لکھا ہے " ۔ ( جورج سیل کا ترجمعہ قرآن ، صفحہ 61 سورت نمبر 3 مطبوعہ لندن سنہ 1825 )
    اس حوالے میں انجیل برنباس کا ذکر آیا ہے تو آئیے دیکھتے ہیں اس میں واقعہ صلیب کے بارے میں کیا لکھا ہے :۔
    پس جب اللہ نے آپنے بندے کو خطرے میں دیکھا ، اپنے سفیروں ،جبریل ،، مخیائیل اور رفائیل اور اوریل کا حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیں ، تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف دکھائی دینے والے کھڑکی سے لے لیا پس وہ اس کو اٹھا کر لے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے " (انجیل برنباس ، انگریزی/ اٹالین ، فصل 215 ، آیات 4 تا 6 طبع آکسفورڈ سنہ 1907 )
    یہودا ، زور کے ساتھ اس کمرے میں داخل ہوا جس میں سے یسوع کو اٹھا لیا گیا تھا اور شاگرد سب سو رہے تھے ، پس یہودا بولی اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہوگیا یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا کہ وہی مسیح ہے " :۔ ( انجیل برنباس فصل 216 ، آیات 1 تا 3 )
    تب وہ لوگ اسے جمجمہ پہاڑ پر لے گئے جہاں کہ مجرموں کو پھانسی دینے کی ان کی عادت تھی ، اور وہاں اس یہودا کو ننگا کرکے صلیب پر لٹکایا اس کی تحقیر میں مبالغہ کرنے لگے " ( انجیل برنباس ، فصل 217 ۔ آیات 77تا78 )
    معلوم ہوا کہ قدیم ترین عیسائی فرقے اور خاص طور پر وہ جو موحد تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو خدا نہیں سمجھتے تھے وہ اس بات کا انکار کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر ڈلا گیا تھا ، اسی طرح انجیل برنباس میں بھی یہی بات لکھی ہے کہ فرشتوںنے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو آپ کے گھر کی کھڑکی سے اٹھا لیا تھا ، اور انجیل برنباس کا حوالہ خود مرزا غلام قادیانی نے یہ ثابت کرنے کے لئے دیا تھا کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی " محمد " مذکور ہے اور اس نے اس انجیل کو قابل اعتماد تسلیم کیا ہے جیسا کہ پہلے بیان میں ہوا ، لہٰذا مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر ڈالے جانے کا عقیدہ عیسائیوں کے توتر قوی سے ثابت ہونے کا دعویٰ بھی ایک جھوٹ ہے ۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک صحیح روایت
    یہی بات مشہور مفسراور امام حدیث عبدالرحٰمن بن محمد بن الرازی المعروف بہ ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ ( وفات : 327 ھ ) نے صحیح سند کے ساتھ ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، یہ ایک طویل روایت ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : ۔
    فاُلقیی علیہ شبہ عیسیٰ ورُفع عیسیٰ من روزنۃ بیتہ الی السماء " اس جوان پر حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی شکل ڈال دی گئی اور آپ کو آپ کے گھر کی کھڑکی سے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا ۔ ( تفسیر ابن ابی حاتم جلد 3 صفحہ 1110 )
    یہی روایت بحوالہ ابن ابی حاتم حافظ ابن کثٰیر دمشقی رحمتہ اللہ علیہ ( وفات : 774 ھ ) نے اپنی تفسیر میں ذکر کی ہے اور لکھا ہے :۔
    وھذا اسناد صحیح الی ابن عباس " اس روایت کی سند حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک صحیح ہے :۔ ( تفسیر ابن کثیر جلد 2 صفحہ 450 )
    نتیجہ یہ کہ قدیم ترین عیسائی فرقے اور انجیل برنباس اس بات پر متفق ہیں کہ دشمن ہرگز حضرت مسیح علیہ اسلام تک نہیں پہنچ سکے تھے اور اللہ نے آپ کو اس سے پہلے ہی آپ کے گھر کی کھڑکی سے آسمان پر اٹھا لیا تھا ، نیز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی صحیح سند کے ساتھ یہی بات منقول ہے ، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ : ۔
    ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بھی ہے " ( خزائن جلد 3 صفحہ 225 )
    لیجیئے ! مرزا قادیانی کا تواتر قوی تو دھڑام سے زمیں بوس ہوگیا ، نیز اگر یہودی وانصاٰری کا کسی بات پر متفق ہونا اس کے ٹھیک ہونے کی شہادت ہے تو پھر مرزا قادیانی کو یہ بھی تسلیم کرنا چاہئے تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی صلیب پر موت ہوگئی تھی کیونکہ یہ بھی اس کے تواتر قوی سے ثابت ہے اور دونوں فریقوں ( یہودی اور عیسائی ) کا متفقہ موقف ہے ۔
    اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ، جورج سیل یا برنباس حواری بھی تو واقعہ صلیب کے عینی شاہد نہیں تو پھر ان کی شہادت کیسے معتبر ہے ؟ تو عرض ہے کہ مرزا کی پیش کردہ شہادت سے یہ شہادت بہرحال وزنی ہے کیونکہ انجیل برنباس کو خود مرزا قادیانی نے تسلیم کیا ہے ، اور اس میں کسی قسم کی تحریف ہونے کو غلط بتا چکا ہے ، نیز ایک عیسائی عالم اقرار کر رہا ہے کہ قدیم عیسائی فرقے اس بات کے ہرگز قائل نہیں تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر ڈالا گیا تھا ، اور پھر ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اکیلی شہادت تو یہود وانصاٰری اور بائبل وغیرہ سب پر بھاری ہے کیونکہ بقول مرزا قادیانی وہ قرآن کریم کو سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے تھے ، اور سب سے اہم یہ ہمارے پیش کردہ دلائل قرآن کریم کے مطابق ہیں کیونکہ قرآن کریم نے صاف طور پر فرمایا " ماصلبوہ " وہ آپ کو صلیب پر نہ ڈال سکے ۔ اور " واذکففت بنی اسرائیل عنک " جب ہم نے بنی اسرائیل ( یہود ) کو آپ سے دور رکھا وغیرہ ۔
    الغرض ! اگر " ماصلبوہ " کا مطلب ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو صلیب پر ڈالا گیا تھا لیکن موت اس پر نہ ہوئی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ نہ فرماتے کہ اللہ نے آپ کو پہلے ہی آپ کے گھر کی کھڑکی سے آسمان پر اٹھا لیا گیا ، ہم نے عیسائی مصادر اور اسلامی مصادر سے اپنا دعویٰ ثابت کیا ، لیکن مرزائی جماعت کا کوئی فرد قرآن وحدیث یا اقوال صحابہ ومفسرین اور محدثین امت سلامیہ سے کوئی ایک دلیل نہیں پیش کر سکتا جس میں سے ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو دشمنوں نے پکڑ لیا تھا اور صلیب پر ڈال کر آپ کو اذیت دی تھی ، بلکہ عیسائیوں کی موجودہ چاروں انجیلوں کی مصنفین میں سے کسی ایک کا موقع پر موجود نہ ہونا ہی ثابت کرسکتا ہے کہ ان کی شہادت کا کوئی اعتبار ہو ۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین

    نوٹ :
    حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے دشمنوں کے پہنچنے سے پہلے ہی آسمان پر اٹھا لئے جانے پر قدیم عیسائی فرقوں اور انجیل برنباس اور امت اسلامیہ کا اتفاق ہے ، ہاں اس بات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ جس شخص کو دشمنوں نے عیسیٰ سمجھ کر صلیب پر ڈالا تھا وہ آپ کا شاگردتھا یا آپ کا دشمن جس نے آپ کے ٹھکانے کے بارے میں مخبری کی تھی ، بعض کے نزدیک وہ آپ کا دشمن تھا اور بعض کے نزدیک آپ کا آپنا شاگرد تھا جس نے آپ کے لئے آپنی جان کی قربانی دی تھی ، لیکن بہرحال اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ جسے صلیب پر ڈالا گیا وہ یقیناََ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام نہیں تھے ۔
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر