1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کیا حضرت موسیٰ نے امت محمدیہ میں ہونے کی دعا فرمائی ؟؟

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 22, 2014

  • by خادمِ اعلیٰ, ‏ جولائی 22, 2014 1:36 صبح
  • ‏ جولائی 22, 2014 #1
    خادمِ اعلیٰ

    خادمِ اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    رکنیت :
    ‏ جون 28, 2014
    مراسلے :
    352
    موصول پسندیدگیاں :
    457
    نمبرات :
    63
    پیشہ :
    طالب علم
    مقام سکونت :
    سانگلہ ہل
    مختلف کتابوں میں سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے ، اور یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے اللہ سے دعا فرمائی تھی کہ انہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا فرد بنا دے تو اللہ نے فرمایا تو اس نبی کا امتی نہیں بن سکتا کیونکہ تیرا زمانہ پہلے ہے اور انکا بعد میں . اور اس روایت سے نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نازل نہیں ہو سکتے وغیرہ وغیرہ .
    دوستو : یہ روایت " ابو نعیم اصفہانی " کی کتاب " حلیتہ الاولیاء " سے نقل کی جاتی ہے

    اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود امام اصفہانی نے اسکے ایک راوی " ایوب الجبابری " کے بارے میں لکھ دیا ہے کہ " اس کی حدیث میں کجی اور ٹیڑھا پن ہے اور اسکی حدیث منکر ہوتی ہے " اسکے ایک اور راوی " سعید بن موسی " کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ " ابن حبان نے کہا کہ یہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا " نیز حافظ ابن حجر عسقلانی نے یہ حضرت موسیٰ والی دعا والی حدیث نقل کرکے لکھا ہے کہ " یہ حدیث موضوع ہے " (لسان المیزان جلد 4 صفحہ 77 )
    اس طرح اس روایت کا ایک راوی " ٹیڑھی اور منکر حدیثیں " بیان کرنے والا ، اور دوسرا راوی " موضوع حدیثیں " بنانے والا ہے . لہذا یہ روایت ناقابل اعتبار ہے .
    ایک اور مزے کی بات
    مرزا غلام قادیانی لکھتا ہے کہ :
    " قران شریف سے ثابت ہے کہ ہر نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " لتؤمنن به ولتنصرنه " پس اس طرح تمام انبیاء علیہ اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوۓ " ( خزائن جلد 21 صفحہ 300 )
    میں مرزائی مربیوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر بالفرض حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی دعا والی حدیث صحیح ہے تو پھر مرزا نے تمام انبیاء علیہ اسلام کو امت محمدیہ میں داخل کرکے اس حدیث کا انکار کیوں کیا ؟؟
    آخری تدوین : ‏ جولائی 22, 2014
    • Like Like x 4
    • Dumb Dumb x 1
  • Categories: Uncategorized

تبصرے

خادمِ اعلیٰ نے 'احادیث ضعیفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جولائی 22, 2014

  1. خادمِ اعلیٰ
    مختلف کتابوں میں سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے ، اور یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے اللہ سے دعا فرمائی تھی کہ انہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا فرد بنا دے تو اللہ نے فرمایا تو اس نبی کا امتی نہیں بن سکتا کیونکہ تیرا زمانہ پہلے ہے اور انکا بعد میں . اور اس روایت سے نتیجہ یہ نکالا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نازل نہیں ہو سکتے وغیرہ وغیرہ .
    دوستو : یہ روایت " ابو نعیم اصفہانی " کی کتاب " حلیتہ الاولیاء " سے نقل کی جاتی ہے

    اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود امام اصفہانی نے اسکے ایک راوی " ایوب الجبابری " کے بارے میں لکھ دیا ہے کہ " اس کی حدیث میں کجی اور ٹیڑھا پن ہے اور اسکی حدیث منکر ہوتی ہے " اسکے ایک اور راوی " سعید بن موسی " کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ " ابن حبان نے کہا کہ یہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا " نیز حافظ ابن حجر عسقلانی نے یہ حضرت موسیٰ والی دعا والی حدیث نقل کرکے لکھا ہے کہ " یہ حدیث موضوع ہے " (لسان المیزان جلد 4 صفحہ 77 )
    اس طرح اس روایت کا ایک راوی " ٹیڑھی اور منکر حدیثیں " بیان کرنے والا ، اور دوسرا راوی " موضوع حدیثیں " بنانے والا ہے . لہذا یہ روایت ناقابل اعتبار ہے .
    ایک اور مزے کی بات
    مرزا غلام قادیانی لکھتا ہے کہ :
    " قران شریف سے ثابت ہے کہ ہر نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ " لتؤمنن به ولتنصرنه " پس اس طرح تمام انبیاء علیہ اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوۓ " ( خزائن جلد 21 صفحہ 300 )
    میں مرزائی مربیوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر بالفرض حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی دعا والی حدیث صحیح ہے تو پھر مرزا نے تمام انبیاء علیہ اسلام کو امت محمدیہ میں داخل کرکے اس حدیث کا انکار کیوں کیا ؟؟
    • Like Like x 5
    • Bad Spelling Bad Spelling x 1
  2. سید کاشف حسین گیلانی
    ماشاءاللہ بہت اعلی
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر