1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کیا رسول اﷲﷺ صرف مولویوں کے رسول ہیں؟

غلام نبی قادری نوری سنی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 3, 2017

  1. ‏ جنوری 3, 2017 #1
    غلام نبی قادری نوری سنی

    غلام نبی قادری نوری سنی رکن ختم نبوت فورم

    کیا رسول اﷲﷺ صرف مولویوں کے رسول ہیں؟
    Jylland-Posten میں آقائے دوجہاںﷺ کے بارے میں گستاخانہ کارٹون کی اشاعت کے بعد کہنے کو تو ساری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کابل سے مکہ تک اور اسلام آباد سے بیروت تک صرف وہ لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں جنہیں ہم حقارت سے مولوی اور مغرب نفرت سے بنیاد پرست کہتا ہے۔ کوئی سا ٹی وی چینل آن کرلیجئے اور کوئی سا اخبار اٹھا لیجئے آپ کو ایک لمحے میں معلوم ہوجائے گا کہ یہ لوگ جن کا قرار لٹ گیا ہے اور جن کے دل لہو رورہے ہیں جو سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور جن کی آنکھوں میں درد کے ڈورے اتر آئے ہیں۔ سب مولوی داڑھیوں والے مولوی اور عبائوں والے مولوی۔ آپ کو کوئی کلین شیو نظر نہیں آئے گا کوئی پینٹ شرٹ اور ٹائی والا نظر نہیں آئے گا۔ منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنے والے کسی انسانیت دوست سیکولر کو آپ نے ان مظاہروں میں نہیں دیکھا ہوگا۔ ہیومن رائٹس کا کوئی چمپئن باہر نہیں نکلا‘ کابل کے چڑیا گھر کے بندر کی بھوک پر پریشان ہونے والے اور مارگلہ کے خوبصورت جنگل کے پارک میں بڑے شیر کی ازدواجی تنہائی پر لاکھوں روپے کی کانفرنسیں کرنے والے وہ احباب بھی گھر کی دہلیز سے باہر نہ آسکے جن کی نرم دلی اور مزاج کی حساسیت پر ہم لوگ رشک کیا کرتے تھے‘ نہ نواز شریف گرجے نہ بے نظیر برسیں۔ میدان سیاست سے لے کر بت کدہ دانش تک ایک سکوت طاری رہا اور کچھ مصالح غالب رہے۔ وہ سیکولر طبقہ جس نے طالبان کے ہاتھوں بامیان میں بدھا کی تباہی پر یہ کہہ کر ہم جیسوں سے داد پائی تھی کہ کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنا ظلم ہے۔ ساری دنیا کے مسلم جذبات کو چپ چاپ گھائل ہوتے دیکھتا رہا۔ اس سے یہ تک نہ ہوسکا کہ ایک مذمتی بیان ہی جاری کردیتا۔ ڈالروں کو مقصود حیات اور مغرب کو رب نہیں کہنا مجھے عام پاکستانی سے یہ سوال کرنا کہ کیا رسول اﷲﷺ صرف مولویوں کے رسول ہیں؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں سوچنا چاہئے کہ توہین نبی رحمتﷺ پر بے قرار ہوکر گھروں سے نکلنے کی سعادت صرف مولویوں کے حصے میں کیوں آئی؟
    بعض احباب یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کا احتجاج غیر حکیمانہ اقدام ہے کیونکہ ڈنمارک کی حکومت اپنے اخبار کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتی۔ مغرب میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور ڈنمارک کی حکومت سے ایسا مطالبہ کرنا ایک فضول مشقت ہے۔ یہ احباب اپنی نجی محفلوں میں صبر کا درس دیتے ہوئے کارٹون کو مغربی روایات سمجھ کر بھول جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اپنی روایات کو بھول جاتے ہیں یہ معلوم تاریخ کا بدترین فکری سرنڈر ہے۔ ڈنمارک کی آبادی میرے آبائی ڈویژن سرگودھا جتنی ہے اور ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ہم اس حقیر اور معمولی آبادی کی روایات کے معبد کی دہلیز پر اپنا سب کچھ قربان کردیں۔
    آزادی اظہار کی مغربی روایات میں بلاشبہ کچھ خوبیاں ہیں لیکن آزادی اور مادر پدر آزادی میں فرق ہوتا ہے خود مغرب کے صحافیوں کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ ان کی یہ آزادی کہاں دم توڑ دیتی ہے۔ آج پورے یورپ میں کسی صحافی کی یہ جرات نہیں کہ وہ ہٹلر کا دفاع کرے۔ 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام کے ڈرامے کی حقیقت کے بارے میں سوال اٹھانا جرم ہے۔ کسی یورپی صحافتی کی جرات نہیں کہ وہ یہودیوں کے خلاف کچھ بھی لکھ سکے اس وقت بھی David Irving دنیا کی جیل میں گل سڑ رہا ہے۔ کیونکہ اس نے ہولوکاسٹ کے ڈرامے کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ کیسی آزادی صحافت ہے کہ سارے یورپ میں قانون نافذ کردیا گیا ہے کہ کوئی فرد کوئی صحافی‘ کوئی اخبار ہولوکاسٹ کو زیر بحث نہیں لاسکتا۔ یہ صحافی خدا اور اس کے رسولوں کے بارے میں تو بکواس کرسکتے ہیں مگر یہودیوں اور ان کے خود ساختہ ڈرامے ہولوکاسٹ کے بارے میں کچھ نہیں لکھ سکتے کیونکہ اس صورت میں انہیں جیل یاترا کرنا پڑتی ہے۔ برطانیہ کے ہائیڈ پارک کو دیکھ لیجئے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ کو جو جی میں بول دیجئے جی چاہے تو دیوتائوں کو گالی دے ڈالئے۔ آپ سے کوئی تعرض نہیں ہوگا لیکن اس جگہ بھی اگر آپ ملکہ برطانیہ کی شان میں گستاخی کریں گے تو برطانیہ کا قانون حرکت میں آجائے گا یعنی ملکہ برطانیہ کی عزت و احترام کے آگے آزادی رائے کا بلیدان دے دیا جائے گا۔
    مغرب کی آزادی کو جب مسلمانوں سے واسطہ ہو تو یہ مادر پدر آزاد بن جاتی ہے‘ شعائر کی بے حرمتی کی آزادی ‘ توہین رسالت کی آزادی‘ باراتوں پر بم مار کر دلہنوں کو خاک بنادینے کی آزادی‘ مدارس پر میزائل مار کر معصوم بچوں کو چیتھڑوںمیں تبدیل کردینے کی آزادی‘ ہر ظلم‘ ہر وحشت‘ ہر بربریت اور ہر درندگی کی آزادی۔
    آپ کو علم ہونا چاہئے کہ ڈنمارک کے اخبار کی معذرت کی حقیقت کیا ہے اور ڈنمارک حکومت کی مسلم دشمنی کی نوعیت کیا ہے۔
    ایک اخبار یہ اخبار معذرت کرچکا ہے اور دوسری جانب اس میں شائع ہونے والا کارٹون ہمارے یورپ کے اخبارات میں اہتمام کے ساتھ دوبارہ شائع ہورہے ہیں۔ یورپ کے معاملات ہماری طرح نہیں ہیں کہ ہر چیز بے ہنگم بے ڈھنگے انداز میں چل رہی ہو۔ وہاں کاپی رائٹ کا قانون پوری عملداری کے ساتھ موجود ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ Jyllands-Posten کی مرضی کے بغیر یورپ کا کوئی اخبار اس کو شائع کرسکے۔ گویا معذرت کے باوجود یہ اخبار مسلسل مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔
    ادھر ڈنمارک کا کردار بھی وہی ہے کہ چونکہ معاملہ مسلمانوں سے ہے‘ اس لئے ہر کسی کو کام کی آزادی ہے ورنہ ڈنمارک حکومت چاہے تو ڈنمارک کے قانون میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ اخبار کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ڈنمارک کے کرمنل کوڈ کی سیکشن 40,266-B اور 142 کے تحت یہ کارٹون ایک ایسا جرم ہے جس کے تحت کارٹونسٹ کو جرمانہ یا اڑھائی سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ لیکن ڈنمارک کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ اخبار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔
    ہر قوم کی ایک باٹم لائن ہوتی ہے اور ذلت کے بدترین موسموں میں بھی وہ اس باٹم لائن سے نیچے نہیں جاتی۔ اس کی تمام مجبوریاں‘ اس کی ساری مصلحتیں اور اس کی جملہ کمزوریاں اس باٹم لائن پر آکر دم توڑ دیتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر اس کی لغت کے مفاہیم بدل جاتے ہیں۔ زندگی بے معنی ہوجاتی ہے اور دھڑ پر رکھا سر ایک بوجھ بن جاتا ہے۔
    تو کیا ہم اس بات پر تیار ہیں کہ ہم ناموس رسالت اقدس کو اپنی باٹم لائن قرار دے سکیں؟

اس صفحے کی تشہیر