1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

کیا ریڈیو سگنل خلا سے موصول ہو سکتا ہے؟

محمد المکرم نے 'علم منطق و فلسفہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 12, 2020

  1. ‏ فروری 12, 2020 #1
    محمد المکرم

    محمد المکرم رکن ختم نبوت فورم

    کیا ریڈیو سگنل خلا سے موصول ہو سکتا ہے؟

    تحریر : محمد مکرم

    اس سوال کے جواب کو جاننے کے لئے پہلے یہ ضروری ہے کہ تھوڑا ریڈیو سگنل کو جان لیا جائے یعنی کہ کیسے ریڈیو پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ سگنل کے ذریعے پہنچتا ہے ،اہل علم خواتین و حضرات جانتے ہیں کہ ہماری زمین کے گرد غلاف پائے جاتے ہیں ٹروپو سفیر ،تھرمو سفیر ،اوزون وغیرہ وغیرہ ان ہی میں ایک آئنو سفیر بھی ہے یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اگر آئنو سفیر کا وجود نہیں ہوتا تو زمین پہ مواصلات کا کوئی نظام نہیں ہوتا کیوں کہ آئنو سفیر ریڈیو کی لہروں کو ریفلیکٹ اور جذب کرتا ہے جس کی وجہ سے زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یہ ریڈیو لہریں سفر کرتی ہیں اور پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ با آسانی پہنچتے ہیں ،

    اب آتے ہیں اصل نقطے پہ دنیا کے ایک بہت بڑے ادارے کی جانب سے خلا میں بھیجے گئے مخصوص آلات کے زریعے آئے دن عجیب و غریب تصاویر اور خبریں منظر عام پہ آتی رہتی ہیں جو خلا سے متعلق ہوتی ہیں جیسے کہ فلاں سیارے کی تصویر اور خلا سے نامعلوم ریڈیو سگنل کا موصول ہونا اور لاکھوں میل دور ہماری کہکشاں سے بھی باہر کسی اور کہکشاں کے کسی نامعلوم سیارے کا دریافت ہوجانا اور وہاں سے نام نہاد ایلین کی طرف سے نامعلوم سگنل کا موصول ہونا وغیرہ وغیرہ اور اس پہ ستم ظریفی یہ کہ لاکھوں میل دور اس نامعلوم سیارے پہ موجود اجزاء کی بلکل درست مقدار کا بھی حیرت انگیز طور پہ معلوم ہوجانا ،

    میں کوئی سائنس داں وغیرہ تو نہیں لیکن ایک عام سا طالب علم ضرور ہوں لہٰذا سوال کرنے کا حق مجھے بھی حاصل ہے ،تو دوستوں ریڈیو سگنل کس طرح کام کرتے ہیں یہ بات اوپر درج ہے اگر اس ہی بات کو مد نظر رکھ کر سوچا جائے تو کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ خلا سے کوئی پیغام زمین تک آجائے؟ یا کسی بھی قسم کا ڈیٹا لاکھوں میل دور خلا کے کسی نامعلوم حصے سے زمین تک پہنچ سکے؟ کیا خلا کے گرد بھی یہ مخصوص غلاف موجود ہے جو ریڈیو لہروںکو ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں اور ایک سیارے سے دوسرے سیارے پہ بھیجنے کا کام کرتا ہے؟ اب دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں کہ خلا کے متعلق پائی جانے والی مخصوص تصاویر اور نظریات فقط ایک افسانہ ہے یا پھر دنیا کے اس بہت بڑے ادارے نے خلا کی لامحدود وسعتوں میں جھانکنے اور ان سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا کوئی پراسرار غیرمعمولی طریقہ کار دریافت کر لیا ہے جسے شاید دنیا کی نظر سے پوشیدہ رکھا گیا ہے ،

    اس تحریر کو پڑھنے کے بعد شاید کچھ خواتین حضرات آپے سے باہر ہو جائیں اور اس بڑے ادارے کے دفاع میں یہ کہہ کر لوگوں کی ذہن سازی کرنے لگیں کہ یہ مولوی کی باتیں ہیں،نوٹ کر لیں میں تمام مولوی حضرات کے بارے میں نہیں کہہ رہا تو دوستوں ذرا اپ خود ہی سوچیں کیا اس زمانے کا کوئی مولوی یہ جانتا ہوگا کہ زمین کے گرد غلاف بھی موجود ہیں اور ان میں سے ایک غلاف ریڈیو لہروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کا کام بھی کرتا ہے لیکن اس کے برعکس ماضی کے عظیم مسلمان عالموں کے کارنامے تو خیر عظیم ہیں اور ان ہی عظیم کارناموں کی وجہ سے دنیا آج اس قابل ہوئی ہے کہ جہالت کے اندھیروں سے نکل کر روشنی کے سفر پہ گامزن ہے قصہ مختصر اگر الجبرا کا وجود نہیں ہوتا تو نا کمپیوٹر ہوتا نا اس سے متعلق دیگر آلات، لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم مسلمان بہت کم ان عظیم لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے اگر یہ کہا جائے تو بلکل غلط نہیں ہوگا کہ سائنسی علوم کی بنیاد ہی ان عظیم لوگوں نے رکھی ہے ،

    منسلک فائلیں :

اس صفحے کی تشہیر