1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

کیا قادیانی مرزائی کبھی امت اسلامیہ کا حصہ تھے؟

محمود بھائی نے 'مسلم اور قادیانی مناظرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 16, 2014

  1. ‏ اکتوبر 16, 2014 #1
    محمود بھائی

    محمود بھائی پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    کیا قادیانی مرزائی کبھی امت اسلامیہ کا حصہ تھے؟

    دوستو! حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی جماعت کبھی بھی امت اسلامیہ کا حصہ نہ تھی کہ انہیں 1974ء میں باہر نکالا گیا، بلکہ جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں کہ 1974ء میں صرف ان کا امت اسلامیہ سے خارج ہونا پاکستان کے دستور میں ڈالا گیا ۔
    اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1974ء میں مرزائیوں کی صرف ایک جماعت کو نہیں بلکہ ’’قادیانی‘‘ اور ’’لاہوری‘‘ دو گروہوں کو ’’غیر مسلم اقلیت‘‘ قرار دیا گیا ، اور ان دونوں گروہوں میں بقول ان کے مرزا قادیانی کی نبوت پر شدید اختلاف بھی ہے ، کیا اپنے آپ کو تہترواں فرقہ کہنے والے بتاسکتے ہیں کہ ان دونوں (قادیانیوں اور لاہوریوں) میں سے تہترواں فرقہ کون سا ہے اور چہترواں کون سا؟ جب کہ یہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود اور مہدی معہود ہے ۔ نیز مرزا قادیانی کی جماعت میں اِن دونوںکے علاوہ دوسرے گروہ بھی معرض وجود میں آئے جیسے ناصر احمد سلطانی کی ’’جماعت احمدیہ حقیقی‘‘ ، مرزا رفیع احمد کو مجدد وقت ماننے والی جماعت ’’سر سبز احمدیت‘‘ ، عبدالغفار جنبہ کی ’’جماعت احمدیہ اصلاح پسند‘‘ وغیرہ ، نیز خود مرزا قادیانی کی زندگی میں اس کے ایک مرید عبداللہ تیماپوری نے بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھااور اس کی کتابیں اسی ’’ریاض ہند پریس امرتسر‘‘ سے شائع ہوتی رہیں جہاں سے مرزا کی کتابیں شائع ہوتی تھیں ، تو ان سب مرزائی فرقوں میں سے وہ تہترواں فرقہ کون سا ہے جو جنتی ہے؟ ۔
    مرزائی پاکٹ بُک کے مصنف نے ایک مسئلے میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے ایک عنوان قائم کیا ہے ’’فیصلہ کا آسان طریقہ‘‘ اور پھرلکھا ہے :۔
    ’’حدیث شریف میں ہے کہ لا یجمع امتي علی ضلالۃ یعنی میری امت کبھی گمراہی پر اجماع نہیں کر سکتی‘‘ ۔
    (مرزائی پاکٹ بُک، صفحہ 609)
    ہم بھی ’’فیصلے کے اسی آسان طریقہ‘‘ کے مطابق ہی یہ کہتے ہیں کہ امت اسلامیہ کا اس پر اجماع ہوچکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار غیر مسلم ہیں اور امت اسلامیہ سے خارج ہیں، اسی بناء پر ان کا حرمین شریفین میں داخلہ بھی بند کیا گیا ، اور خود مرزائی پاکٹ بُک میں بیان کردہ اِس حدیث شریف کے مطابق یہ نا ممکن ہے کہ امت محمدیہ کسی غلط بات پر اکٹھی ہوجائے، لہذا امت اسلامیہ کی طرف سے اس حدیث شریف کی رُو سے قادیانیوں مرزائیوں کے امت اسلامیہ سے خارج ہونے کا اجماعی فیصلہ بالکل ٹھیک ہے ۔
    مرزائی کلمہ بھی جدا ہے اور اردو زبان میں ہے
    مرزا قادیانی کے مشیر اور پہلے مرزائی خلیفہ حکیم نورالدین بھیروی نے صریح الفاظ میں اقرار کیا ہے کہ مرزا قادیانی کا کلمہ بھی جدا ہے ، چنانچہ مرزا بشیر احمد ایم اے بیان کرتا ہے کہ:۔
    ’’ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے۔ مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘۔
    (سیرت المہدی، جلد اول، حصہ سوم، صفحہ 824، روایت نمبر 974)
    غور فرمائیں اِن الفاظ پر کہ ’’ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے‘‘ اور پھر اس نے مرزا کا کلمہ ہرگز ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ نہیں لکھا بلکہ ایک نیا کلمہ اردو میں لکھا ہے، یہ اس بات کی ناقابل تردید دلیل ہے کہ حکیم نورالدین کے نزدیک نبی کے بدلنے سے کلمہ بھی بدل جاتا ہے ، لہذا قادیانیوں کا یہ شور ڈالنا کہ ہمارا کلمہ وہی ہے جو مسلمانوں کا ہے صرف ایک دھوکہ ہے ۔
    قادیانیوں کی موجودہ حالت زار
    یہ ایک حقیقت ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کو ایک دن بھی آزادی کا نصیب نہیں ہوا، مرزاکی پیدائش سے موت تک اور اس کے بعد 1947 تک وہ سکھوں اور انگریز کے غلام رہے، تقسیم ہند کے وقت وہ قادیان جسے مرزا نے ’’دار الامان‘‘ کہا تھا قتل وفساد کا مرکز بن گیا، سکھوں نے قادیانیوں کو زبردستی ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا، اس وقت کا قادیانی خلیفہ مرزا محمود بھاگ کر مسلمانوں کے پیچھے پیچھے موجودہ پاکستان میں آگیا اور دریائے چناب کے کنارے ایک علاقے ’’چک ڈھگیاں‘‘ پر ڈیرے ڈال دیے اور اس کا نام بدل کر قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد حضرت مریم وعیسیٰ علیہما السلام کی پناہ گاہ کے لئے بولے گئے قرآنی لفظ {ربوۃ} کی نسبت سے ’’ربوہ‘‘ رکھ دیا ، اوراب یہ قادیانیوں کا ’’دار الامان‘‘ بن گیا ، لیکن مسلمان اس بددیانتی کو برداشت نہ کرسکے اور اسمبلی نے اس کا نام بدل کر ’’چناب نگر‘‘ رکھ دیا ، مرزا قادیانی اور اس کی اولاد اتنی بد نصیب ہے کہ یہ جگہ بھی ان کے لئے ’’دار الامان‘‘ نہ بن سکی اور ان کا چوتھا خلیفہ مرزا طاہر رات کی تاریکی میں ربوہ سے نکلا اور اپنے جدی پشتی آقاؤں کے پاس پناہ لینے لندن فرار ہوگیا ، اس طرح یہ وہ بد نصیب لوگ ہیں جنہیں ایک لمحہ بھی آزادی کا نصیب نہیں ہوا، پہلے وہ متحدہ ہندوستان میں انگریز کے غلام بلکہ اس کی غلامی کو اپنے مذہب کا حصہ بتاتے تھے ، پھر پاکستان میں مسلمانوں کے غلام بنے اور پھر دوبارہ پاکستان سے بھاگ کر واپس انگریزی سلطنت کی غلامی میں آگئے ، یاد رہے قادیانی آئینِ پاکستان کو بھی نہیں مانتے اور برملا کہتے ہیں کہ ’’ہم مسلمان ہیں‘‘ جبکہ آئین پاکستان کی رُو سے وہ ’’غیر مسلم اقلیت‘‘ ہیں اس طرح ان قادیانیوں کو جوپاکستانی شہریت رکھتے ہیں اور آئین پاکستان کی اس شق کو نہیں مانتے اگر آئینِ پاکستان کا باغی کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا ۔
    یہاں مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کی وہ بات یاد آرہی ہے جو اس نے یہودیوں کے بارے میں لکھی تھی ، آپ بھی پڑھیں :۔
    ’’…ذلت ومسکنت ان کے شامل حال ہوگی اور وہ دوسری طاقتوں کی پناہ میں زندگی بسر کریں گے‘‘۔
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، رخ 21، صفحہ 409)
    ( بشکریہ جا،الحق بھائی)

اس صفحے کی تشہیر