1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کیا وحی جاری ہے ؟

محمد منیب الرحمٰن نے 'مفتی صاحب سے سوال پوچھئے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اگست 20, 2017

  1. ‏ اگست 20, 2017 #1
    محمد منیب الرحمٰن

    محمد منیب الرحمٰن رکن ختم نبوت فورم

    السلام علیکم !
    میرا سوال ہے کہ کیا آپ ﷺ کے بعد کسی پر وحی ہوسکتی ہے ؟ متفق علیہ حدیث ہے کہ جب حضرت عیسیؑ آسمان سے نازل ہونگے تو بعد از قتل دجال اللہ تعالئ آپ ؑ پر وحی کر کے یاجوج ماجوج کے بارے میں حکم بتائے گا ، براہ کرم اس حدیث کی رو سے وضاحت فرمائی جائے ۔

    حضرت عیسیٰ اللہ کے نبی ان لوگوں کے پاس آئیں گے جن کو اللہ نے دجال کے شر سے بچایا اور ان کے منہ پر ہاتھ پھیریں گے اور ان کو جنت میں جو درجے ملیں گے وہ ان سے بیان کرینگے لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ وحی بھیجے گا۔ حضرت عیسیٰ پر اے عیسیٰ میں نے اپنے بندوں بندوں کو نکالا کریں یا کہ پہلے ہے کہ ان سے کوئی لڑنہیں سکتا تو میرے (مومن) بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا
    ثُمَّ يَأْتِي نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی قَوْمًا قَدْ عَصَمَهُمْ اللَّهُ فَيَمْسَحُ وُجُوهَهُمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ أَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ يَا عِيسَی إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ وَأَحْرِزْ عِبَادِي إِلَی الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ۔
    سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 955 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 11 متفق علیہ 3
  2. ‏ اگست 20, 2017 #2

اس صفحے کی تشہیر