1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

کیا چودھویں صدی میں ’’مسیح موعود‘‘ کا ظہور ناگزیر تھا؟

مرتضیٰ مہر نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جنوری 24, 2015

  1. ‏ جنوری 24, 2015 #1
    مرتضیٰ مہر

    مرتضیٰ مہر رکن ختم نبوت فورم

    مرزا غلام قادیانی ایک جگہ کہتا ہے کہ ’’اہل کشف مسلمانوں میں سے جن کا شمار ’’ہزار‘‘ سے بھی کچھ زیادہ ہوگا اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے اور نیز خداتعالیٰ کی کلام کے ’’استنباط‘‘ سے بالاتفاق یہ کہہ گئے ہیں کہ مسیح موعود ’’چودھویں صدی‘‘ کے سر سے ہرگز ’’تجاوز‘‘ نہ کرے گا ۔ اور ممکن نہیں کہ ایک گروہ کثیر اہل کشف کا کہ جو تمام اوّلین اور آخرین کا مجمع ہے وہ سب جھوٹے ہوں اور ان کے تمام ’’استنباط‘‘ بھی جھوٹے ہوں ۔ (بحوالہ روحانی خزائن ج 17ص326)

    اوّل تو مرزا کو چاہیے تھا کہ پہلے بتاتا کہ اہل کشف کی دین میں کیا اساس ہے اور کیا کسی غیر نبی کا کشف دین میں حجت ہو سکتا ہے ؟اس کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں چاہیے تھاجو نہیں دیا گیا ۔ دین اسلام میں ظن حجت نہیں ہے اسلام میں حجت یقین ہے اور یقین سوائے نبی و رسول کے کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتا اور یہ بات مرزا کو بھی مسلم ہے کہ کشف صحیح بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی(حقیقت الوحی ص1،خزائن ج 22ص3)جس سے ثابت ہوا کہ کسی کا کشف صرف ظن کا درجہ رکھتا ہے نہ یقین کا ۔ اسلئے مرزا کا اہل کشوف کو بطور حجت پیش کرنا ہی مرزا کے اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ اور جاہل ہونے کی دلیل ہے ۔جبکہ قرآن میں یہ احکامات موجود ہیں ۔

    ﴿ وَقالوا ما هِىَ إِلّا حَياتُنَا الدُّنيا نَموتُ وَنَحيا وَما يُهلِكُنا إِلَّا الدَّهرُ‌ ۚ وَما لَهُم بِذ‌ٰلِكَ مِن عِلمٍ ۖ إِن هُم إِلّا يَظُنّونَ ٢٤ ﴾... سورة الجاثية

    "اور کہا انہوں نے: نہیں وہ مگر دنیاوی زندگی، ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ، اور ان کو اس کا کچھ بھی علم نہیں، وہ تو صرف ظن و تخمین میں مبتلا ہیں۔"

    (۶) ﴿إِن نَظُنُّ إِلّا ظَنًّا وَما نَحنُ بِمُستَيقِنينَ ٣٢ ﴾... سورة الجاثية

    "ہم صرف گمان ہی کرتے ہیں اور ہم یقین نہیں رکھتے"

    (۷) ﴿ وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ...٣٦ ﴾... سورة الاسراء

    "جس بات کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے مت پڑو۔"

    «إياکم والظن فإن الظن أکذب الحديث» ( بخاری مع الفتح: ۵/۳۷۵/مسلم: ۶۴۸۲)
    "ظن سے بچو، بیشک 'ظن' سب سے بڑا جھوٹ ہے"
    تو ثابت یہ ھوا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ’’ظن‘‘ یعنی تکوں کے پیچھے لگنا جائز نہیں ۔ اور ان کی پیروی کرنا گمراہی ہے ۔
    ’’مرزا نے اپنی تحریر میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اہل کشوف جن کا شمار ’’ہزار‘‘ سے بھی کچھ زیادہ ہے حالانکہ قادیانی مربی جو مرزا کی اس تحریر کو صحیح ثابت کرنے کے لئے حوالے پیش کرتے ہیں اُن میں ’’مسیح موعود‘‘ کا ذکر نہیں ہوتا بلکہ ’’مہدی موعود‘‘ کا ذکر ہوتا ہے ۔ حالانکہ مرزانے جو لفظ استعمال کیا تھا وہ’’ مسیح موعود ‘‘کا ہے نہ ’’مہدی موعود‘‘ کا ۔ قادیانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم مرزاکو مہدی بھی مانتے ہیں اور مسیح بھی لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ وہ علماء کی تحریروں کو اور اُن کے عقیدے کو توڑ مروڑ کے پیش کر رہے ہیں کیونکہ وہ بے چارے تو مسیح و مہدی کو الگ الگ مانتے ہیں ۔ اب یہ کہہ سکتے ہیں کہ بے شک وہ اہل کشف تھے لیکن اُن پر پوری حقیقت نہیں کھلی جس کی وجہ سے اُنہوں نے مہدی و مسیح کو الگ الگ مانا لیکن اپنے مسیح کے اس قول پر غور نہیں کیا جاتا ’’ اور ممکن نہیں کہ ایک گروہ کثیر اہل کشف کا کہ جو تمام اوّلین اور آخرین کا مجمع ہے وہ سب جھوٹے ہوں اور ان کے تمام ’’استنباط‘‘ بھی جھوٹے ہوں ‘‘ ۔جب تمام اہل استنباط کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح و مہدی الگ الگ ہیں تو پھر وہی اہل کشوف جھوٹے پتہ نہیں کیوں ہو جاتے ہیں۔

    قادیانیوں کو یہ بھی چاہیے تھا کہ اپنے مسیح کی بات اور دعوے کو سچا ثابت کرنے کے واسطے کم از کم ہزار (1000)سے اوپر نہیں تو (1000)ہی حوالے پیش کرتے چلو رعایت کر دیتے ہیں ہزار نہیں تو (500)سہی لیکن چونکہ جھوٹ کا ثبوت نہیں ہوتا اسلئے ہم مرزائیوں کو معذور سمجھتے ہیں کہ وہ مرزا کے دعوے پر ثبوت پیش کر کے اُسے لعنت سے بچا سکیں ۔

    تیسرا دعویٰ مرزا غلام قادیانی کا جو ہے وہ یہ ہے کہ ’’خداتعالیٰ کی کلام کے ’’استنباط‘‘ سے بالاتفاق یہ کہہ گئے ہیں کہ مسیح موعود ’’چودھویں صدی‘‘ کے سر سے ہرگز ’’تجاوز‘‘ نہ کرے گا‘‘۔یعنی یہ بات یقینی ہے ۔ مرزا کے نزدیک استنباط کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا یہ استدلال کہ ’’مسیح موعود‘‘ چودھویں صدی کے سر سے ہرگز تجاوز نہ کرے گا قرآن و حدیث کی روشنی میں ہوگا۔مسیح موعود کے ظہور کے سلسلے میں جو تکوں سے لبریز حوالے جات پیش کئے جاتے ہیں اُن کی تعداد دس یا بارہ سے زیادہ نہیں ہوتی ہم ہر ایک کو ڈسکس نہیں کرینگے کیونکہ اس سے مضمون کے لمبا ہونے کا خدشہ ہے دوسرا یہ کہ وہ مرزا کے دعوے کے معیار کے مطابق نہیں ہے وہ مہدی سے متعلق حوالے ہیں جبکہ مرزا کا دعویٰ مسیح موعود سے متعلق کشف و استنباط کا تھا ۔ (اور مرزا کے نزدیک مہدی کا ظہور یقینی نہیں جس پر دلائل آگے آئینگے) اس لئے ایسے غیر متعلقہ اور بے معنی حوالہ جات کو تھوڑے علم اور عقل والا انسان سرسری نگاہ سے ہی بھانپ سکتا ہے کے مرزائی دعوے سے میل نہیں کھاتے۔ اسلئے صرف دو حوالوں کو یہاں ڈسکس کیا جائے گا ۔ اُن میں ایک حوالہ ایسا ہے جس کے پیشِ نظر آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مرزا کے قول کی روشنی میں شرائط کے مطابق ہے گو مکمل طور پر نہیں اور نہ ہی یہ بھی دجل و فریب سے بری ہے’’ لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘اس میں شرائط نہیں پائی جاتیں مزید یہ کہ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا کہ مترادف ایک روایت مجددین والی نقل کر کے نیچے نواب حسن صادق کا یہ قول درج کیا جاتا ہے جس کا مقصد مغالطہ دینا ہے کہ حسن صادق نے یہ رائے حدیث سے اُخذ کی تھی اور مرزا کا یہ قول کہ وہ کلام الٰہی سے استنباط کریں گے عین مطابق ہے لیکن اصل یہ ہے کہ یہ رائے مرزائیوں نے خود سے اُخذ کی لیکن اسے حسن صاحب کی جانب منسوب کر دیا ۔مرزائی حوالہ جو نواب حسن صادق کی جانب منسوب کیا جاتا ہے کچھ یوں ہے۔’’چودھویں صدی شروع ہونے میں دس سال باقی ہیں اگر اس صدی میں مہدی اور عیسیٰ ؑ کا ظہور ہو جائے تو وہی صدی کے مجدد و مجتہد ہونگے ۔ (حجج الکرامہ ص 139از نواب صدیق حسن خان قادیانی حوالہ) لیکن موصوف کہنا چاہتا ہے کہ اس سے مرزا کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ’’چودھویں صدی‘‘ کے سر سے ہرگز ’’تجاوز‘‘ نہ کرے گا‘‘۔ کیونکہ ایسی کوئی قطعی بات حسن صادق صاحب نے نہیں کی اور نہ ہی ایسا اُن کا عقیدہ رہا ہے جیسا کہ حسن صادق کی ہی اس عبارت سے سمجھا جا سکتا ہے ۔

    ’’میں کہتا ہوں کہ ظہور مہدی ، نزول عیسیٰ علیہ اسلام ، خروج و دجال یا انکے علاوہ وہ واقعات و فتن جن کے آخری زمانے میں وقوع کے بارے میں اخبار و آثار بالاجمال وارد ہیں ۔ ان کی تاریخ کا تعین اپنی طرف سے کرنا خواہ کشف سے ہو ۔ یا حساب نجوم سے ۔ وہمی تخلیاتی آثار سے یا مفہوم لغت سے ۔ نصوص کے سرقہ سے ہو یا دلائل کی تاویل سے بہرحال کلام نبوی کی تحریف ہے ۔ یہ ساری چیزیں بلاشبہ ہونگی لیکن ان کا وقت خدائے عالم الغیب والشہادت کے سوا کسی کو معلوم نہیں ۔نہ آئندہ معلوم ہونے کی اُمید ہے ۔ جو شخص اس کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے ۔ اور جو شخص اس کی تائید و تصدیق کرے وہ خطا کار ہے ۔‘‘(حجج الکرامہ فی آثار قیامتہ ص430)

    اب ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ مرزائی حوالہ ٹھیک نہیں اگر ٹھیک ہے تو پھر اُسے حسن صادق صاحب کے ہی اس عقیدے کی رو سے سمجھا جائے گا ۔ اور اُن کے عقیدے کی رو سے مہدی اور مسیح کے ظہور کا وقت تعین کرنا کلامِ الٰہی میں تحریف ہے ۔اور مزید یہ کہ اگر اوپر والا حوالہ ٹھیک بھی ہو تو اُن کی وہ رائے قطعی اور یقینی نہیں جیسا کہ مرزا کا دعویٰ تھا کہ ’’چودھویں صدی‘‘ کے سر سے ہرگز ’’تجاوز‘‘ نہ کرے گا‘‘۔اور مرزا کا دعویٰ ثابت نہ ہوا۔

    لیکن ایک بات قطعی اُن کے قول سے سمجھی جا سکتی ہے کہ اُن کے مطابق بھی مہدی و مسیح دو الگ الگ شخصیتیں ہیں نہ ایک حالانکہ مرزا کے نزدیک یہ اہل کشوف ایسے ہیں جن کے استنباط کو جھٹلایانہیں جا سکتا اور مقام بھی ایسا کہ دین میں اٹل مقام رکھتے ہیں۔ بہرحال مرزا کی یہ تحریر پڑھ کر مرزائی دوغلے معیار و ایمان کا جائزہ لیں ۔ ’’ممکن نہیں کہ ایک گروہ کثیر اہل کشف کا کہ جو تمام اوّلین اور آخرین کا مجمع ہے وہ سب جھوٹے ہوں اور ان کے تمام ’’استنباط‘‘ بھی جھوٹے ہوں‘‘۔

    مزید ایک حوالہ مرزائیوں کا چیک کریں اور ان کی عقل کی داد دیں ۔’’ظہور مہدی تیرھویں صدی پر ہونا چاہیے تھا۔ مگر یہ صدی پوری ہو گئی ۔ مگر مہدی نہ آئے ۔ اب چودھویں صدی ہمارے سر پر ہے شاید اللہ تعالیٰ اپنا فضل و عدل و رحم کرم فرمائے چار چھ برس کے اندر مہدی ظاہر ہو جائیں۔‘‘(اقتراب الساعتہ از نواب نورالحسن خان صاحب ص 221مطبع مفید عام 1301ہجری) (نوٹ: چونکہ یہ مرزائی حوالہ ہے جو ہو بہو نقل کیا گیا ہے اسلئے اس کی صحت کا میں ذمہ دار نہیں ہوں)

    آپ ملاحظہ کریں کہ نواب نورالحسن خان صاحب کا جو حوالہ پیش کیا گیا ہے یہ ثابت نہیں کرتا کہ آیا اُنہوں نے یہ رائے کشف کے ذریعہ قائم کی تھی یا بذریعہ استدلال قرآن و حدیث جیسا کہ استنباط کے لفظ سے سمجھا جا سکتا ہے جو مرزا نے اپنی تحریر میں استعمال کیا۔ بہرحال اُن کے مطابق تیرھویں صدی ظہور امام مہدی تھا حالانکہ مرزا نے جو لفظ اپنی تحریر میں استعمال کیا تھا وہ ظہور’’ مسیح موعود‘‘ کا تھا لیکن اسے بھی نظر انداز کریں بہرحال نواب نورالحسن کی رائے کہ مطابق تیرھویں صدی میں ظہور مہدی نہ ہو سکااور پھر انہوں نے چودھویں صدی کی امید لگائی لیکن مرزا کی ہمت کی داد دیں جنہوں نے پوری سینہ زوری کے ساتھ جھوٹا دعویٰ کیا ہے کہ’’ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی سے ہرگز متجاوز نہ ہوگا‘‘ ۔ حالانکہ ہم کو ایسا کوئی یقینی اور قطعی جملہ نواب صاحب کی اس پوری عبارت میں نہیں ملا اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ نواب صاحب کی ذاتی رائے تھی جو صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی اور کسی کی ذاتی رائے دین کے معاملات میں حجت نہیں ۔ اسلئے ایسے حوالے پتہ نہیں کیونکر پیش کر دیے جاتے ہیں جو ذرا بھی سود مند مرزائی دعوے کو نہ ہیں ۔

    مزید یہ کہ مرزا غلام قادیانی کہتا ہے محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے ۔ (روحانی خزائن ج 3ص344ازالہ اوہام حصہ دوم )ایک اور مقام پر مرزا کہتا ہے ’’مہدی کی حدیثیں سب مجروح اور مخدوش بلکہ اکثر موضوع ہیں اور ایک ذرہ ان کا اعتبار نہیں بعض ائمہ نے ان حدیثوں کے ابطال کے لئے خاص کتابیں لکھی ہیں اور بڑے زور سے ان کو رد کیا ہے اور جب کہ یہ حال ہے کہ خود مہدی کا آنا ہی معرضِ شک اور شبہ میں ہے تو پھر ابدال کا بیعت کرنا کب ایک یقینی امر ہو سکتا ہے ۔ جب اصل ہی صحیح نہیں تو فروع کب صحیح ٹھہر سکتے ہیں ۔ (روحانی خزائن ج 21ص357)تو ہم یہاں یہ کہنے میں حق بنجانب ہیں کہ مہدی کا آنا جب یقینی امر نہیں جب اُن روایات کا جس میں مہدی کا ظہور مذکور ہے ذرا بھی اعتبار نہیں اور مہدی کا ظہور ہی شک و شبہ سے خالی نہیں اور جب اصل ہی صحیح نہیں تو پھر کسی کا کشف اور استنباط کیسے صحیح ہو گیا اور اے جھوٹے مرزے غلام قادیانی یہ بھی بتا کہ جب مہدی کا آنا ہی یقینی امر نہیں ہے تو اُس کا چودھویں صدی سے ہرگز تجاوز نہ کرنے کیسے یقینی ہو گیا ؟حیاء اور غیرت کا نام و نشان بھی آپ کو مرزائی خدوخال میں نظر آیا ؟

    لیکن ایک سوال میں آخر پر مرزائی اُمت سے کرنا چاہوں گا کہ اگر مسیح موعود چودھویں صدی میں ظہور نہ کرتا تو کیا قرآن و حدیث کی تکذیب واقع ہو جاتی اگر ہاں تو وہ آیات قرآنی اور ذخیرہ احادیث کا پیش کیا جائے جن کی تکذیب ناگزیرتھی ۔ اگر کوئی مرزائی ایسا نہیں کر سکتا تو اُن کا یہ دعویٰ کہ جو اقوال ہیں یہ کلام الٰہی سے استنباط شدہ ہیں جھوٹ محض ہے ۔ لعنت اللہ علی الکاذبین ۔

    وما علينا الا البلاغ المبين۔
    • Like Like x 1

اس صفحے کی تشہیر