1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

یار غار سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، لمحات زندگی

محمدابوبکرصدیق نے 'متفرق مقالات وتحاریر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ جون 8, 2015

  1. ‏ جون 8, 2015 #21
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حضور کی رکاب تھام لو

    صلح حدیبیہ جو بظاہر دب کر ہوئی، صحابہ ہرگز تیار نہ تھے، لیکن حضور صلى الله عليه وسلم نے وحی الٰہی کی بنا پر یہ صلح کی تھی۔ حضرت عمر سے بھی نہ رہا گیا، آخر حضور سے سوال و جواب بھی کیا، جس کا زندگی بھر انہیں افسوس رہا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کے پاس بھی جاکر عدم اطمینان کا اظہار کیا، لیکن ابوبکر تو نبوت کے رمز شناس تھے مقام صدیقیت پر فائز تھے، اور حضور کے ہر قول و فعل پر آمنّا وصَدّقنا کہنا اپنے لیے مایہٴ افتخار سمجھتے تھے، انھوں نے حضرت عمر سے کہا کہ عمر! حضور کی رکاب تھام لو، آپ نے جو کچھ کیا ہے، وہ اللہ کے حکم سے کیاہے، دین ومسلمانوں کے فائدے کے لیے کیا ہے۔(۲۶)
  2. ‏ جون 8, 2015 #22
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    انہی کا یہاں آنا مناسب تھا

    فتح مکہ کے موقع پرجس میں ہزاروں قدسیوں کا قافلہ، مکہ میں فاتحانہ داخل ہورہا تھا، حضور … کے ساتھ ابوبکر بھی ایک حصے کے علم بردار تھے، عام معافی کا دن تھا، کفار مکہ حضور صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں کے بے پایاں حسن سلوک کو دیکھ کر اسلام سے متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکے،چنانچہ مسلمان ہونے کا تانتا بندھ گیا۔ عثمان ابوقحافہ جو حضرت ابوبکر کے والد ہوتے تھے، ابھی تک مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے، بینائی بھی جاتی رہی تھی، حضرت ابوبکر ان کو پکڑے ہوئے در رسالت میں پہنچے اور کلمہ پڑھانے کی درخواست کی، تو حضور نے فرمایاکہ ابوبکر! ان کو آنے کی کیا ضرورت تھی مجھے خبر کردیتے، میں ہی ان کی خدمت میں حاضر ہوجاتا۔ اور وہیں کلمہ پڑھوادیتا، لیکن حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ نہیں، اے اللہ کے رسول! انہی کا یہاں آنا مناسب تھا۔ ابوقحافہ مسلمان ہوئے اور حضرت عمر کی خلافت تک باحیات رہے۔(۲۷)
  3. ‏ جون 8, 2015 #23
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    خدا و رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں

    اس طرح اسلامی مملکت پھیلتی گئی، لیکن ۹ھ رجب میں، سرحد کے شمال کی جانب سے تشویش ناک خبریں موصول ہونے لگیں، کہ بازنطینی بادشاہ ہرقل، مسلمانوں پر حملہ آور ہونے والا ہے، ادھر شدید گرمی، بلکہ ہوکا عالم ہے۔ صحابہ بے سروسامانی کے عالم میں ہیں۔ ابھی تو مختلف جنگوں سے فارغ ہوئے ہیں، جس میں جسم کا انگ انگ ٹوٹ رہا ہے، ابھی سب سے زیادہ ضرورت تجارت و معیشت کی بحالی کی تھی، لیکن اسی عالم میں ایک منادی مسجد نبوی سے اعلان کرتا ہے کہ : لوگو! دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیارہوجاؤ، اور جو بھی نقد اثاثہ ہو جہادی فنڈ میں جمع کردو،لوگوں نے تمام ضرورتوں کو بالائے طاق رکھ کر، اپنی اپنی بساط کے مطابق مال و اسباب جمع کرنے شروع کیے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فوج کے ایک ثلث کا پورا خرچ اپنے ذمے لیا، نیز ایک ہزار اونٹ ستر گھوڑے، اور ایک ہزار طلائی دینارنقد پیش کیے، حضرت عمر بن الخطاب کے پاس بھی اس موقع پر غیرمعمولی اسباب تھے، سب کا نصف لاکر حضور کی خدمت میں پیش کردیا، اور اس طرح ایک گونہ اطمینان محسوس کیا کہ آج اپنے ساتھیوں سے سبقت لے جائیں گے، لیکن دوسرے ایک نحیف و کمزور صحابی دور سے اپنے سارے سامان لادے ہوئے آرہے ہیں، حضور دریافت فرماتے ہیں کہ اہل وعیال کے لیے کتنا چھوڑا ہے، انتہائی سادگی سے فرماتے ہیں کہ اللہ و رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ وہ صحابی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی تھے۔(۲۸)
    علامہ اقبال نے اسی واقعہ کو اپنی موٴثر نظم میں اس طرح پرویا ہے۔

    تنے میں وہ رفیق نبوت بھی آگیا
    جس سے بنائے عشق و محبت ہے استوار

    لے آیا اپنے ساتھ وہ مرد وفا سرشت
    ہرچیز جس سے چشم جہاں میں ہو اعتبار

    ملک یمین ودرہم ودینار ورخت وجنس
    اسپ قمر، سم و شتر وقاطر وحمار

    بولے حضور چاہیے فکر عیال بھی
    کہنے لگا وہ عشق ومحبت کا راز دار

    اے تجھ سے دیدئہ ومہ وانجم فروغ گیر
    اے تیری ذات باعث تکوین روزگار

    پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
    صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
  4. ‏ جون 8, 2015 #24
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    پہلا امیر حج

    ۹ہجری کو عام الوفود بھی کہا جاتا ہے،کیوں کہ اب اسلام کا غلغلہ ہوچکا ہے اور لوگوں کا ایک تانتا ہے، جو وفود کی شکل میں مدینہ آرہے ہیں۔ پھر دین اسلام سے روشناس ہوکر حلقہ اسلام سے وابستہ ہورہے ہیں۔ اسی سن میں حج فرض ہوا، تو حضور صلى الله عليه وسلم نے امیر حج کے لیے ابوبکر کا انتخاب کیا اور تین سو صحابہ پرامیر حج بناکر مکہ روانہ کیا۔ مسلمانوں نے آپ کی امارت میں آزادانہ طورپر مناسک حج ادا کیے۔(۲۹)
  5. ‏ جون 8, 2015 #25
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آنکھوں سے اشک رواں

    پھر آئندہ سال ۱۰ ہجری میں اعلان عام ہوا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بنفس نفیس حج کے لیے تشریف لے جارہے ہیں، اس لیے لوگوں کا ایک انبوہ بعض روایتوں کے مطابق ایک لاکھ سے زائد کا مجمع مکہ میں جمع ہوا (۳۰) رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا یہ آخری حج تھا، اس لیے حجة الوداع کہا جاتا ہے۔ حضور نے اس موقع پر کئی وقیع خطبے دیے، جن میں دین تمام اہم اصولوں کو کھول کھول کر بیان کیے، اسی موقع پر الیوم اَکْمَلْتُ لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً، نازل ہوئی حضور نے لوگوں کو اس آیت کی خوش خبری دی، سب لوگ خوش بھی ہوئے، لیکن بندئہ ابوبکر تھا، جو پھوٹ پھوٹ کر روئے جارہا تھا، ساتھیوں کو تعجب بھی ہورہا تھا کہ ابھی تو اشک رواں کا کوئی موقع نہیں، لیکن وہ تو صدیقیت کے مقام پر فائز تھا۔ سمجھ رہا تھا کہ دین کی تکمیل کے بعد اب رسول صلى الله عليه وسلم کی اس دار فانی میں کیا ضرورت ہے۔ اب اللہ پاک اپنے پاس بلانے والا ہے۔
  6. ‏ جون 8, 2015 #26
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    مرض وفات اور سترہ نماز کی امامت

    جب دین کی تکمیل ہوگئی، تو نبی کا کام پورا ہوچکا ہے،کچھ اشارہ غیبی سے بھی اس طرف متنبہ کردیاگیا، اس لیے آپ نے بھی ساری تیاریاں مکمل کرلی، ۱۸ یا ۱۹/صفر کو جنت البقیع تشریف لے گئے، مدفونین کے لیے دیر تک دعائے مغفرت کی، واپسی پر طبیعت ناساز ہوگئی، ابتدائی دنوں میں آپ صلى الله عليه وسلم خود تشریف لاتے اور نماز پڑھاتے، لیکن جب نقاہت زیادہ ہوگئی، تو حضرت ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں، ہر چند کہ حضرت ابوبکر رقیق القلب تھے ان سے رسول اللہ کی موجودگی میں کھڑا ہونا دشوار تھا۔ حضرت عائشہ وصفیہ رضی اللہ عنہا بھی مصر تھیں کہ حضرت عمر کو حکم دیا جائے، لیکن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سختی سے حکم دیا کہ ابوبکر نماز پڑھائیں، اس طرح آپ کی زندگی میں ہی، رحلت سے قبل تک ۱۷ / نمازوں کی امامت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی۔(۳۱)
  7. ‏ جون 8, 2015 #27
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    سب دریچے بند کردیے جائیں سوائے ایک دریچے کے

    جیساکہ پہلے عرض کیاجاچکا ہے کہ مسجد نبوی کے اردگرد رہائشی پلاٹ سے حضرت ابوبکر کو بھی ایک حصہ ملا تھا، جس میں انھوں نے ایک مکان بنوایا تھا، اس کی ایک کھڑکی مسجد کی جانب کھلتی تھی۔ حضور صلى الله عليه وسلم نے دوران مرض ایک روز افاقہ محسوس کیا تو مسجد تشریف لائے،اور منبر پر تشریف رکھ کر فرمانے لگے کہ اللہ پاک نے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ چاہے تو دنیا کو اختیار کرے یا پھر آخرت کو ترجیح دے، چنانچہ اس بندئہ خدانے آخرت کو ترجیح دیا۔ یہ سن کر مجمع میں سے حضرت ابوبکر کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو ابلنے لگے، حضور نے فرمایاکہ: ابوبکر! صبر سے کام لو، پھر فرمایا کہ: سب دریچے بند کردئیے جائیں صرف ابوبکر کا دریچہ کھلا رہے گا، پھر حضرت ابوبکر کے احسانات حضور نے گنوائے۔(۳۲)
  8. ‏ جون 8, 2015 #28
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    عمر بیٹھ جاؤ

    حضرت ابوبکر کے ذمے ایک تو نماز کی امامت کی ذمہ داری آئی، دوسرے حضور صلى الله عليه وسلم کی علالت کی وجہ سے وہ اپنے گھر - جو مقام ”سُنْح“ میں تھا - نہ جاسکے، ایک روز صبح کی نماز کے بعد حضور سے اجازت لے کر ”سُنح“ چلے گئے، اتنے میں حضور کا وصال ہوگیا۔ یہ خبر آگ کی طرح پھیلی، حضرت ابوبکر دوڑے ہوئے تشریف لائے، مسجد نبوی پہنچے تو دیکھا کہ صحابہ بدحواس ہیں، حضرت عمر ننگی تلوار لیے کھڑے ہیں، اور اعلان کررہے ہیں کہ جو کوئی کہے گا کہ محمد کی وفات ہوگئی ہے، اس کی گردن تن سے اڑادوں گا۔ حضرت ابوبکر اولاً حجرئہ مبارکہ میں تشریف لے گئے، رخ انور سے چادر ہٹائی، پیشانی کو بوسہ دیا اور طِبْتَ حیًا میتًا کہتے ہوئے باہر تشریف لائے۔ حضرت عمر ابھی تک لوگوں کو دھمکارہے تھے۔ حضرت ابوبکر نے کہاکہ: عمر! بیٹھ جاؤ، حضرت نہ بیٹھے، بڑا ہی نازک وقت تھا، کسی کے حواس ٹھکانے نہ تھے۔ حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور تقریر شروع کی کہ: اے لوگو! تم میں سے جو لوگ محمد (صلى الله عليه وسلم) کی عبادت کیا کرتا تھا، وہ سن لے کہ محمد وفات پاچکے ہیں، اورجو کوئی اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا، تو اس کا معبود حی لایموت ہے۔ پھر آپ نے ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل اخیر تک پڑھی، مجمع یکایک چونک اٹھا، حضرت عمر میں سکت نہ رہی کہ کھڑے رہ سکیں، لڑکھڑاکر زمین پر گرگئے، اور اس طرح لوگوں کو یقین آگیا کہ حضور کا وصال ہوچکا ہے۔(۳۳)

    یہ ہے یارغار کی زندگی کے لمحات، جس نے اسلام کے بعد سے لے کر، وفات نبوی تک کس جذبہ جانثاری و اولوالعزمی کا ثبوت پیش کیا۔ گویا کہ اپنی زندگی کی دھن ہی، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے وابستگی، وارفتگی کرلی تھی کہ لمحہ بھر کا فراق بھی کبھی گوارا نہ کرسکے۔
  9. ‏ جون 8, 2015 #29
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حوالہ جات

    اوپر نیلے رنگ سے جو نمبرز عبارت کے ساتھ ہائی لائیٹ کیے گئے ہیں ان نمبروں کی ترتیب کے حساب سے ان عبارتوں کے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔
    (۱) البدایہ والنہایہ: ۳/۲۸۔
    (۲) سیرت ابن اسحاق بحوالہ البدایہ والنہایہ: ۳/۲۷۔
    (۳) دیوان حسان بن ثابت شرح یوسف عید، ط: ۱۴۱۲ بیروت ، ص:۲۸۲، قافیة اللام، قصیدہ خیرالبریة۔
    (۴) ترمذی:۲/۲۰۸۔
    (۵) مجمع الزوائد:۹/۴۰۔
    (۶) البدایہ والنہایہ:۳/۱۱۳۔
    (۷) مجمع الزوائد:۹/۴۱۔
    (۸) بخاری: ۱/۵۲۰۔
    (۹) البدایہ والنہایہ:۳/۳۰۔
    (۱۰) تاریخ طبری:۲/۴۷۶، البدایہ والنہایہ:۳/۳۰۔
    (۱۱) ابوبکر صدیق مترجم محمد احمد پانی پتی ص:۴۸ بحوالہ عشرہ مبشرہ اردو:۴۷۔
    (۱۲) طبقات ابن سعد:۳/۱۷۲۔
    (۱۳) البدایہ والنہایہ:۳/۵۸ سیرت محمد بن اسحاق اردو ترجمہ:۲۶۴۔
    (۱۴) سیرت محمد بن اسحاق اردو:۲۶۴۔
    (۱۵) البدایہ والنہایہ:۳/۹۴-۹۵۔
    (۱۶) دیکھئے تفصیلات، البدایہ والنہایہ :۳/۱۷۷-۱۹۶، تاریخ طبری:۲/۵۰۴-۵۰۸۔
    (۱۷) معجم البلدان:۳/۳۰۱۔
    (۱۸) ترمذی:۲/۲۰۹۔
    (۱۹) عشرہ مبشرہ:۶۵۔
    (۲۰) بخاری شریف:۲/۵۶۴۔
    (۲۱) البدایہ والنہایہ:۳/۲۹۷۔
    (۲۲) بخاری شریف:۲/۵۸۴۔
    (۲۳) طبقات ابن سعد:۲/۱۵۱۔
    (۲۴) البدایہ والنہایہ:۴/۳۵۰۔
    (۲۵) البدایہ والنہایہ:۴/۱۶۶،۱۶۷۔
    (۲۶) مسلم:۲/۱۰۶۔
    (۲۷) سیرت حلبیہ اردو ترجمہ مولانا اسلم صاحب قاسمی استاذ حدیث دارالعلوم (وقف) دیوبند:۳/۲۶۹۔
    (۲۸) ترمذی:۲/۲۰۸۔
    (۲۹) بخاری:۲/۶۲۶۔
    (۳۰) الاصابہ مقدمہ:۴۔
    (۳۱) بخاری:۱/۹۳-۹۵۔
    (۳۲) بخاری:۱/۵۱۶، ترمذی:۲/۲۰۷۔
    (۳۳) بخاری:۱/۵۱۸، ۲/۶۴۰۔

    ---------------------------------
    ماهنامه دارالعلوم ، شماره 01-12 ، جلد: 92-93 ذى الحجة 1429 ھ – محرم 1430 ھ مطابق دسمبر 2008ء – جنورى 2009ء

اس صفحے کی تشہیر