1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

(۹۹وجوہ کفر)

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 28, 2015

  1. ‏ فروری 28, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    (۹۹وجوہ کفر)
    تیسرا شبہ یہ ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ فقہائے نے ایسے شخص کو مسلمان ہی کہا ہے جس کی کلام میں ۹۹وجہ کفر کی موجود ہو اور صرف ایک وجہ اسلام کی، اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا منشاء بھی یہی ہے کہ فقہاء کے بعض الفاظ دیکھ لئے گئے اور اس کے معنی سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی اور ان کے وہ اقوال دیکھے جن میں صراحتاً بیان کیاگیا ہے کہ یہ حکم اپنے عموم پر نہیں ہے۔ بلکہ اس وقت ہے جب کہ قائل کا صرف ایک کلام مفتی کے سامنے آوے اور قائل کا کوئی دوسرا حال معلوم نہ ہو اور نہ اس کے کلام میں کوئی ایسی تصریح ہو۔ جس سے معنی کفر متعین ہو جائے تو ایسی حالت میں مفتی کا فرض ہے کہ معاملہ تکفیر میں احتیاط برتے اور اگر کوئی خفیف سے خفیف احتمال ایسا نکل سکے جس کی بناء پر یہ کلام کلمہ کفر سے بچ جائے تو اس احتمال کو اختیار کر لے اور اس شخص کو کافر نہ کہے۔ لیکن اگر ایک شخص کا یہی کلمہ کفر اس کی سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات والفاظ مختلفہ موجود ہو جس کو دیکھ کر یہ یقین ہو جائے کہ یہی معنی، معنی کفری مراد لیتا ہے یا خود اپنے کلام میں معنی کفری کی تصریح کر دے تو باجماع فقہاء اس کو ہرگز مسلمان نہیں 2251کہہ سکتے بلکہ قطعی طور پر ایسے شخص پر کفر کا حکم لگایا جائے گا۔
    چوتھا شبہ یہ ہے کہ اگر کوئی کلمہ کفر کسی تاویل کے ساتھ کہا جاوے تو کفر کا حکم نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بھی وہی تصریحات فقہا سے ناواقفیت کا رکن ہے۔ حضرات فقہائے اور متکلمین کی تصریحات موجود ہیں کہ تاویل اس کلام اور اس چیز میں مانع تکفیر ہوتی ہے جو ضروریات دین میں سے نہ ہو۔ لیکن ضروریات دین میں اگر کوئی تاویل کرے اور اجماعی عقیدہ کے خلاف کوئی نیا معنی تراشے تو بلاشبہ اس کو کافر کہا جائے گا۔ اسے قرآن مجید نے الحاد اور حدیث نے اس کا نام زندیقی رکھا ہے۔ زندیق اسے کہتے ہیں جو مذہبی لٹریچر بدلے یعنی الفاظ کی حقیقت بدل دے۔ مرزاصاحب نے جیسا کہ اوپر دکھلایا جاچکا ہے بہت سے اسلامی عقائد کے حقائق بدل دئیے ہیں۔ گو ان کے الفاظ وہی رہنے دئیے ہیں۔ اس لئے ان کو حسب تصریحات مذکورہ بالا کافر ہی قرار دینا پڑے گا اور ان عقائد کے تحت ان کا اتباع کرنے والا بھی اس طرح ہی کافر سمجھا جائے گا۔
    مدعا علیہ کی طرف سے گواہان مدعیہ پر ایک یہ اعتراض بھی وارد کیاگیا ہے کہ وہ دیوبندی عقائد سے تعلق رکھنے والے ہیں اور علمائے دیوبند کے خلاف فتویٰ تکفیر شائع ہو چکا ہے۔ اس لئے ایک شخص جو خود کافر ہو وہ کس طرح دوسرے کے متعلق کفر کا فتویٰ دے سکتا ہے؟ اس کا جواب مدعیہ کی طرف سے ایک تو یہ دیا گیا ہے کہ اس کے تمام گواہان دیوبندی صاحبان نہیں ہیں۔ مثلاً شیخ الجامعہ صاحب، مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی نجم الدین صاحب۔ دوسرا دیوبندی صاحبان کے خلاف فتویٰ تکفیر ایک غلط فہمی کی بناء پر دیاگیا تھا جو بعد میں واپس لیا جاچکا ہے۔ اگر یہ صحیح نہ بھی ہو تو بھی مدعا علیہ کی حجت اس بناء پر صحیح نہیں کہ ان کی رائے کو بطور فتویٰ قبول نہیں کیاگیا۔ بلکہ ان کے پیش کردہ دلائل پر مدعا علیہ کے پیش کردہ دلائل کے مقابلہ میں تنقید کی جاکر رائے قائم کی گئی ہے۔ اس لئے چاہے وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ ان کی ذاتی رائے پر کوئی عمل نہیں کیاگیا۔ بلکہ دیکھا گیا ہے کہ قرآن شریف اور احادیث کی رو سے کس 2252فریق کے دلائل صحیح ہیں اور کس کے غلط۔ اس لئے ان کے خلاف اگر کوئی فتویٰ تکفیر ہو بھی تو اس معاملہ پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔
    اس کے علاوہ مدعا علیہ کی طرف سے یہ کہاگیا ہے کہ مدراس ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ قرار دیا تھا کہ اس سوال کو کہ عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا نہ، علماء اسلام ہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا علمائے اسلام کی تحقیق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جن لوگوں نے اس مقدمہ میں شہادتیں دی ہیں اور اس پر فتویٰ کفر لگایا ہے وہ خود بھی مسلمان ہیں یا نہ؟ اور اس طرح فیصلہ کرنے والے کا مسلمان ثابت ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کا جواب یہ ہے ہر دو فریق کا ادعا ہے کہ وہ مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن چند اہم اور بنیادی مسائل کے متعلق ہر دو فریق کا اختلاف ہے اور وہ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔ لہٰذا اس بارہ میں عام دنیاوی اصول کے مطابق رائے اس فرقہ کی غالب سمجھی جائے گی جس میں اکثریت ہو۔ یہ اکثریت بحق مدعیہ پائی جاتی ہے۔ اس لئے فریق مدعیہ کی رائے ہی غالب رہے گی اور اسے مسلمان اور اقلیت کو کافر سمجھا جائے گا۔ لہٰذا اس قرارداد کے تحت مدعیہ کے کسی گواہ کے خارجی طور پر مسلمان ثابت کئے جانے کی ضرورت نہیں اور فیصلہ کنندہ بھی اس ذیل میں مسلمان شمار ہوگا۔ علاوہ ازیں مدعا علیہ نے اپنی بحث میں جب مدراس ہائیکورٹ کے فیصلہ کو شرعاً درست تسلیم کر کے اپنے اوپر حجت مان لیا ہے تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ شرعاً عدالت ہذا کا فیصلہ اس پر حجت نہ ہوسکے۔
    گواہان مدعیہ پر مدعا علیہ کی طرف سے کنایتہ اور بھی کئی ذاتی حملے کئے گئے ہیں۔ مثلاً انہیں علماء سوء کہا گیا اور یہ کہاگیا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے خود ہی ایسے مولویوں کو جو ذریۃالبغایا میں مخاطب ہیں بندر اور سور کا لقب دیا ہے اور دوسری حدیث میں فرمایا ہے کہ وہ آسمان کے نیچے سب سے بدتر مخلوق ہوں گے۔ لیکن ملاحظہ مسل سے ہر عقلمند آدمی اندازہ لگاسکتا ہے کہ طرفین کے علماء میں سے ان احادیث کا صحیح مصداق کون ہیں۔
    2253مرزاصاحب کے دعویٰ نبوت کے سلسلہ میں ایک اور مسئلہ پر بھی مختصر بحث کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ مرزاصاحب اپنے آپ کو اس لئے بھی نبی سمجھتے ہیں کہ انہیں مسیح موعود ہونے کا بھی دعویٰ ہے اور مسیح موعود کو چونکہ احادیث میں نبی اﷲ کہاگیا ہے۔ اس لئے مرزاصاحب نبی اﷲ ہوئے۔ اس کے متعلق جیسا کہ اوپر دکھلایا گیا ہے مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح موعود حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں اور آخر زمانہ میں وہی آسمان سے نزول فرمائیں گے اور وہ چونکہ پہلے سے نبی اﷲ ہیں۔ اس لئے پھر بھی نبی اﷲ ہوں گے۔مگر وہ عمل شریعت محمدیہ پر کریں گے۔ اپنی شریعت پر نہیں چلیں گے۔ اس کی مثال مدعیہ کی طرف سے یہ دی گئی ہے کہ جیسے کسی دوسرے علاقہ کا گورنر کسی دوسرے گورنر کے علاقہ میں چلا جائے تو وہاں اپنے عہدہ کے لحاظ سے گووہ گورنر شمار ہوگا۔ لیکن دوسرے گورنر کے علاقہ میں وہ اس گورنر کی حکومت کے تابع ہوکر رہے گا۔ اپنے علاقہ کے قوانین یا آئین پر عمل پیرا نہیں ہو سکے گا۔ اس لئے رسول اﷲ ﷺ چونکہ قیامت تک کے لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔ اس لئے قیامت تک آپ ﷺ کی شریعت ہی نافذ رہے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس شریعت کے تحت عمل پیرا ہوں گے۔
    اس مثال سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امتی نبی ہونا تو واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن آج کل کے تعلیم یافتہ لوگوں کو نزول مسیح کا عقیدہ بہت عجب معلوم ہوتا ہے اور ان کے ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ کس طرح ایک شخص کئی ہزار سال کے بعد دنیامیں واپس آسکتا ہے۔ شک نہیں کہ علوم جدیدہ کی روشنی میں یہ مسئلہ بہت کچھ قابل اعتراض معلوم ہوتا ہے اور جیسا کہ مولانا محمود علی صاحب اپنی کتاب ’’دین وآئین‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اس قسم کے اعتراضات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جواب دینے والے بالعموم یہ روش اختیار کرتے ہیں کہ جن قباحتوں کے چہرہ پر موجودہ مسلمات کا روغن قازمل دیا جاتاہے۔ ان کو قباحت سمجھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں دیکھتے اور جس جملہ کے ساتھ فلسفہ اور سائنس کا نقارہ بجتا ہوا سن پاتے ہیں اپنے ہوش وحواس کو اس کے مقابلہ پر قائم رکھنے کی جرأت نہیں کرتے اور ایک مجرم کی طرح اپنی بریت کی یہی صورت دیکھتے ہیں کہ اپنے فعل کو دلیری کے ساتھ حق بجانب ثابت کرنے کے بجائے ہاتھ جوڑ کر اس کے ارتکاب سے 2254انکار کریں اور مذہب کی حمایت میں صرف یہ کہہ کر دامن چھڑائیں کہ جس مسئلہ پر اعتراض ہے وہ اسلامی اصول میں داخل نہیں۔‘‘ مولانا موصوف آگے لکھتے ہیں ایسے اعتراضوں کے ایسے جواب آج کل فیشن میں داخل ہیں اور جواب دینے والے گویا یقین کر لیتے ہیں کہ تہذیب جدید جس امر پر قبیح ہونے کا فتویٰ صادر کرتی ہے اس میں کوئی حسن باقی نہ رہا ہوگا۔ ان کا بس چلتا ہے تو قرآن اور حدیث پر۔ ان دونوں سے جس طرح بن پڑتا ہے رہائی پانے کی سبیل نکال لیتے ہیں۔ اپنے ذاتی خیالات کو اسلام اور ایسے اسلام کو سب اعتراضوں سے پاک تصور کر لیتے ہیں۔
    مسئلہ نزول مسیح بھی اس قبیل کا ہے کہ جس پر اس قسم کے اعتراض وارد کئے جاتے ہیں۔ لیکن جو شخص قرآن پر اعتقاد رکھتا ہے اسے اس پر یقین رکھنے میں کوئی تردد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن مجید میں ایک شخص کو سو سال کے بعد زندہ کرنے کا واقعہ موجود ہے۔ اس طرح اصحاب کہف تین سو سال سے زائد عرصہ تک غار میں بحالت خواب پڑے رہے۔ اس لئے وہ امور اگر ذات باری کے لئے ناممکنات میں سے نہ تھے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں بھیجنا بھی اس کے آگے کوئی مشکل نہیں۔
    حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش جس طرح غیرمعمولی طریق پر ہوئی۔ اس طرح ان کے نزول کو بھی غیرمعمولی طریق پر وقوع میں آنا تصور کیا جاسکتا ہے۔ باقی رہا اس پیش گوئی کی صداقت کا سوال سو اس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر یہ پیش گوئی صحیح نہ ہوتی تو مرزاصاحب نے جہاں کئی دیگر متواترات کا انکار کیا تھا۔ وہاں اس کا بھی انکار فرمادیتے۔ لیکن وہ بھی اس کی صحت سے انکار نہیں کر سکے اور اس کی ممکن سے ممکن جو بھی تاویل ہوسکتی تھی وہ بیان کرنے میں انہوں نے کوئی دریغ نہیں کیا۔ لیکن اوپر کی بحث سے پایا جاتا ہے کہ قرآن واحادیث کی رو سے وہ تاویل درست ثابت نہیں ہوئی اور سوائے اس کے کہ یہی عقیدہ رکھا جائے کہ اس پیش گوئی کی رو سے حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔ اس کا اور کوئی حل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان کے سوا آنحضرت ﷺ کے بعد اور کوئی نیا نبی نہیںہوسکتا۔ اس لئے اس 2255عقیدہ کو اگر قائم رکھا جاوے تو جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت زندہ ہوں گے۔ انہیں خود اس پیش گوئی کی تصدیق ہو جائے گی اور جو اس سے قبل فوت ہوں گے نہ خداوندتعالیٰ ان کے ساتھ وہی معاملہ فرمائے گا کہ جو ان سے قبل اس عقیدہ پر وفات پاتے رہے۔ البتہ اس عقیدہ کو چھوڑنے والا ضرور گنہگار ہوگا۔ کیونکہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کا مکذب سمجھا جائے گا۔
    باقی رہا یہ سوال کہ آیا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فرمایا بھی ہے یا نہ۔ کیونکہ شکی طبیعتیں یہ کہہ سکتی ہیں کہ احادیث کی تدوین چونکہ بہت مدت کے بعد ہوئی۔ اس لئے کیونکر پورے اطمینان سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ راویوں کو احادیث کے پورے الفاظ یاد رہے ہیں یا یہ کہ ان الفاظ سے رسول اﷲ ﷺ کی مراد وہی تھی جو کہ ان راویوں نے سمجھی۔ اس کا جواب تو علماء ہی بہتر دے سکتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کا موٹا جواب یہ ہے کہ اگر یہ حدیث ہو صحیح اور ہم نے اس کا عقیدہ دیا چھوڑ تو قیامت کے دن ہم جوابدہ ہوں گے اور اگر یہ حدیث صحیح نہ بھی ہو تو اس پر محض ایک عقیدہ رکھنے سے جو قرآن کے کسی صورت میں بھی مخالف نہیں پایا جاتا۔ ہمارا کیا بگڑتا ہے۔ لہٰذا بہرحال ہمیں اس پر عقیدہ رکھنا لازمی ہے۔‘‘
    مدعا علیہ کی طرف سے ایک یہ مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مانا جاوے تو اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ رسول اﷲ ﷺ کی امت میں سے ایسا کوئی شخص اہلیت نہ رکھتا تھا کہ اسے لوگوں کی اصلاح کے لئے مامور فرمایا جاتا اور اس سے امت کی توہین لازم آئے گی۔
    اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کی طرف سے کسی شخص کا مامور ہونا اس کے کسی استحقاق کی بناء پر نہیں ہوتا۔ دوسرا احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت امت کی حالت بہت ابتر ہوگی۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ اس وقت تک کوئی بھی اس فرض کے سرانجام دینے کا اہل نہ پایا جاوے۔ اس لئے مخلوق کی اصلاح کے لئے سابقہ انبیائوں میں سے ہی ایک کو واپس لایا جانا ضرور 2256سمجھا گیا ہو۔ یہ باتیں مشیت ایزدی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس لئے ان میں کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔
    ہمارے دلوں میں شکوک دراصل اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم ہدایت قرآنی پر پوری طرح پابند نہیں ہیں۔ اگر ہم تمام احکام ربانی پر عمل کریں تو اس حالت کے نتائج ہی اعتراض کرنے والوں کو خاموش کر دیتے ہیں اور جیسا کہ مولانا محمود علی صاحب نے اپنے ایک اور مضمون میں تحریر فرمایا ہے۔ جب تک مسلمان ’’لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنہ‘‘ پر عامل رہے۔ انہیں نہ خود کوئی تکلیف پیش آئی اور نہ دوسروں پر اثر ڈالنے کے لئے کسی دشواری کا سامنا ہوا اور جب قوم کی قوم ہی ایک رنگ میں رنگین ہو تو ایسا منظر شکوک کو غبار بنا کر اڑادیتا ہے اور اعتراض کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ مگر افسوس جیسا کہ مولانا اپنی کتاب محولہ بالا میں تحریر فرماتے ہیں کہ سب سے بڑی ضروری بلکہ زندگی کا واحد مقصد آج کل یہ قرار پاگیا ہے کہ انسان زندگی کی ہر ساعت اور ہر ثانیہ کے اندر تمام تر توجہ اس مادی سامان کے مہیا کرنے اس کو کام میں لانے اور اس کے نتائج سے لطف اٹھانے پر مبذول رہے اور موجودہ زندگی کے بعد کوئی خیال اور اس کے لئے کسی عمل اور کسب کا کوئی ارادہ اور اس دنیا سے باہر کی ہستی کے ساتھ تعلق رکھنے کا کوئی وہم بھی دل میں نہ آنے پاوے اور اپنی تمام کوششوں کا محور اس دنیا کو اور یہاں کی چند روزہ زندگی کو سمجھنا صحیح اصول کار ہے۔ یہ حالت کیوں پیش آئی۔
    اس کا جواب بھی مولانا محمود علی صاحب کی ایک تحریر سے دیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’قرآن کے پیش کرنے والے جو زبان سے کہتے ہیں وہ کر کے نہیں دکھلاتے اور وعظ ونصیحت میں فصاحت قرآنیہ پر انسانی طرز کلام کو ترجیح دے کر منطقی موشگافیوں اور شاعرانہ مبالغوں سے کام لیتے ہیں اور رہنمائی سے زیادہ اپنے فضل وکمال کی نمائش چاہتے ہیں۔ حالانکہ اہل ایمان پر نہ بحث نہ مناظرہ فرض ہے نہ منطقیانہ موشگافیوں اور فلسفیانہ معرکہ آرائیوں کی ضرورت۔ وہی روشنی ہدایت جو کلام الٰہی نے پیش کی ہے۔ اس طرز ادا سے جو اس ہادی برحق نے اختیار کی ہے ہر عالم وجاہل 2257تک پہنچا دینے کی ضرورت ہے۔ سب کا ہدایت پانا اور تمام مخلوق کا ایک راہ اختیار کرنا ممکن نہیں۔ ورنہ کلام الٰہی میں اب بھی وہی کشش ہے اور قرآن کریم کے اندر جذب قلوب کا وہی اثر غافل انسانوں کو خواب غفلت سے جگانے والا اور تشنگان ہدایت کو شراب معرفت سے سیراب کرنے والا اگر ہے تو صرف قرآن کریم اور اس کلام مبارک کا ایک ایک لفظ چشم بینا کو محو حیرت کرنے اور دل دانا کا دامن کھینچنے میں وہ تاثیر دکھاتا ہے جو آئینہ پر جمال یار اور پرکاہ پر کہربا۔
    مدعا علیہ کی طرف سے اس بات پر بہت زور دیاگیا ہے کہ علماء وائمہ کی اندھی تقلید درست نہیں۔ یہ ٹھیک ہے قرآن مجید میں ہر شخص کو خود بھی تدبر کرنا چاہئے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام قواعد ودیگر لوازمات کو جو معنی اخذ کرنے کے لئے ضروری ہیں پس پشت ڈال کر اپنی سمجھ پر چلنا شروع کر دیا جاوے۔ جیسا کہ خود مدعا علیہ کے اپنے گواہان کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک تو آیت ’’وبالآخرۃ ہم یوقنون‘‘ کے یہ معنی کرتا ہے کہ یوم آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور دوسرا آخرت کے معنی زمانہ آخر کی وحی بتلاتا ہے۔ ذرا احمدی صاحبان خود بھی سوچیں کہ انہوں نے دین کو کیا مذاق بنا رکھا ہے؟ اس بحث کے بعد اب اصل معاملہ متنازعہ کو طے کرنے کے لئے یہ بتلانا ہے کہ اسلام کے وہ کون سے بنیادی اصول ہیں کہ جن سے اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہو جاتا ہے یا یہ کہ کن اسلامی عقائد کی پیروی نہ کرنے سے ایک شخص مرتد سمجھا جاسکتا ہے اور کہ عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتا ہے یا نہ؟

اس صفحے کی تشہیر