1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘

لو فار آل نے 'احمدیہ کارنر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مئی 28, 2016

  1. ‏ مئی 28, 2016 #1
    لو فار آل

    لو فار آل رکن ختم نبوت فورم

    ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘


    راشد علی اور اس کے پیر نے تحریر کیا ہے

    ’’ قادیانی محور:۔

    غرضیکہ قادیانیت/ احمدیت کی صورت میں ایک ایسی جماعت پیدا کر دی گئی ہے جس کی تمام تر توجّہ کا محور حضور ﷺ سے ہٹ کر مرزا غلام احمد کی ذات ہو گئی ہے۔آپ اس سے مرزا کی ذات کے بارہ میں کوئی گفتگو کریں وہ سیدھا سرکار دوعالم ﷺ کی ذات پر لے جائے گا۔ انگریزوں کی سرپرستی و تحفّظ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن و حدیث میں اپنی مرضی کے مطابق اپنے لئے تحریف کا دروازہ کھولا اور پھر اندر داخل ہو کر وہ دروازہ بند کر لیا کہ

    ’’ اللہ تعالیٰ کی بعض مصلحتوں کا تقاضا ہے کہ اب میرے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
    اب جو اُن کی نبوّت پر ایمان نہ لائے کافر جہنمی اور طوائف کی اولاد!


    ’’ ہم قرآنِ کریم کو خدا کا کلام اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ آپ ( مرزا صاحب) کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ ہم محمّد ﷺ کی نبوّت پر اسلئے ایمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔( تقریر میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان اخبار الفضل قادیان ج ۱۳ نمبر۳ مورخہ ۱۱ جولائی۱۹۴۵)۔‘‘(بے لگام کتاب)

    یہ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے جو انہوں نے جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ اور آپ کی جماعت کے ہر فرد کی توجّہ کا محور خدا تعالیٰ کے بعد سیّد المرسلین، خاتم النبییّن حضرت محمّد مصطفی ﷺ کی ذاتِ بابرکات ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ کے ساتھ ہر احمدی روح کی گہرائیوں سے ہمنوا ہے کہ

    وہ پیشوا ہمارا ، جس سے ہے نور سارا
    نام اس کا ہے محمّد دلبر مرا یہی ہے
    سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا
    وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے
    اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
    وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے


    (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ)

    اور بعد از خدا بعشق ِ محمّد مخمرّم
    گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم


    :i۔پہلے نبوّت کا دروازہ کھولا۔ پھر اس میں داخل ہو کر اندر سے بند کر لیا

    جہاں تک آنحضرت ﷺ کے بعد نبوّت کے دروازہ کا تعلق ہے، اس کو کھولنے کا سوال تو تب پیدا ہوتا ، اگر یہ پہلے بند ہوتا۔اس دروازہ کو خود آنحضرت ﷺ نے ایک طرح کی نبوّت کے لئے کھلا رکھا ہے اور ایک طرح کی نبوّت کے لئے ہمیشہ ہمیش کے لئے بند کر دیا ہے۔یعنی آپ کے بعد کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آ سکتا۔ ایسے نبی کے لئے دروازہ بند ہے۔لیکن ایسا نبی جو آپ کا امّتی ہو، آپ کا تابع اور مطیع ہو اس کے لئے آپ نے یہ ایک دروازہ کھلا رکھا ہے۔امّت میں ایسے امّتی نبی کا آنا قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہے اور آنحضرت ﷺ کے فرمودات میں بھی۔چنانچہ انہی سچّائیوں کی بناء پر شیخ اکبر حضرت امام محی الدین ابنِ عربی ؒ فرماتے ہیں


    ’’ فالنبوّۃ ساریۃٌ الیٰ یوم القیامۃ فی الخلق و ان کان التشریع قد انقطع۔ فالتشریع جزءٌ من اجزاء النبوّۃ۔‘‘( فتوحاتِ مکّیہ۔ جلد ۲ صفحہ ۱۰۰ باب۷۳ سوال ۸۲)

    ترجمہ:۔نبوّت مخلوق میں قیامت کے دن تک جاری ہے گو تشریعی نبوّت منقطع ہو گئی ہے۔پس شریعت، نبوّت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔

    اسی طرح دنیائے اسلام کے مشہور صوفی اور ممتاز متکلّم حضرت امام عبد الوہاب شعرانی ؒ فرماتے ہیں۔
    ’’اعلم انّ مطلق النبوّۃ لم ترتفع و انّما ارتفع نبوّۃ التشریع۔‘‘ ( الیواقیت والجو اہر۔الجزء الثانی صفحہ۳۹۔مطبعہ مصطفی البابی الحلبی مصر)


    ترجمہ:۔جان لو کہ نبوّت مطلق طور پر نہیں اُٹھی، جو نبوّت اٹھی ہے وہ تشریعی نبوّت ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ کریم، احادیثِ نبویّہ اور اقوالِ آئمّہ سلف سے یہ قطعی ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد غیر تشریعی نبوّت کا دروازہ ایک امّتی کے لئے کھلا رکھا گیا تھا جسے مسیح اور مہدی کا عالی نام اور ارفع مقام بھی عطا کیا گیا۔

    اگر راشد علی اور اس کے پیر کو اس بات پر اعتراض ہے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کے بعد کوئی اور نبی کیوں نہیں تو وہ خود ثابت کر کے دکھائیں کہ مسیح موعود و مہدی معہود کے بعد بھی کسی نبی کا ذکر موجود ہے۔ اگر وہ ایسا ثبوت پیش نہیں کر سکتے تو انہیں ایسے اعتراض کا حق ہی کوئی نہیں اور نہ ہی انہیں قرآنِ کریم اورآنحضرت ﷺ کی پیش کردہ سچائیوں پر اورآ ئمّہ سلف کی پیش کردہ وضاحتوں پر کوئی تکلیف ہونی چاہئے۔

    ii :۔قرآن کریم پر اور آنحضرت ﷺ پر ایمان مسیحِ موعود علیہ السلام کے ذریعہ ملا

    اپنے اعتراض میں انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہٗ کے جس خطبہ جمعہ کا اقتباس پیش کیا ہے، وہ سیاق و سباق کو ہٹا کر پیش کیا ہے۔ نیز اس میں بریکٹ بھی خود ڈالی ہے۔ حالانکہ دعوٰی وہ یہ کرتے ہیں کہ وہ حوالہ جات کو نہ سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں توڑتے مروڑتے ہیں۔

    بہرحال مذکورہ بالا اقتباس سے پہلے کی عبارت یہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں۔

    ’’ ہم نے اس( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ ناقل) کے کلام میں وہ صداقت دیکھی جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی چیز نہیں کرسکتی اور اگر سچّ پوچھو تو ہمیں قرآن کریم پر، رسول کریم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر بھی اسی کے ذریعہ ایمان حاصل ہوا۔‘‘

    اور اس زیرِ بحث اقتباس کا سباق یہ ہے۔ فرمایا

    ’’ نادان ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم کیوں حضرت مسیح موعودؑ کو نبی مانتے ہیں اور کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔وہ نہیں جانتا کہ قرآن پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے حاصل ہوا اور محمّد صلّی اللہ علیہ آلہ وسلّم کی نبوّت پر یقین اس کی نبوّت کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘

    اس سیاق و سباق میں اس مضمون پر کوئی اعتراض نہیں اٹھ سکتا کیونکہ قرآنِ کریم اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان، آخری زمانہ میں مسیح ومہدی ؑ کے بغیر ممکن نہ تھا۔ چنانچہ جب سورۃ جمعہ کی آیت وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ نازل ہوئی تو صحابہؓ نے عرض کی۔ یا رسو ل اللہؐ! وہ کون ہیں ؟ ( جو بعد میں آنے والے ہیں)۔ آپ ؐ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔

    ’’ لو کان الا یمان عند الثرّ یا لنالہٗ رجلٌ او رجالٌ من ھٰؤلآء‘‘(بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ جمعہ)ترجمہ:۔ اگر ایک وقت ایمان ثریّا تک بھی اُڑ گیا تو ان میں سے ( یعنی عجمیوں میں سے) ایک یا اس سے زیادہ لوگ اسے واپس لے آئیں گے۔

    لہذا ہمیں تو اسی کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ، آنحضرت ﷺ اور قرآنِ کریم پر ایمان نصیب ہوا ہے جس کے بارہ میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کی پیشگوئی تھی۔

    بس فرق یہ ہے کہ جماعتِ احمدیہ نے قرآنِ کریم پر ایمان اور عمل اور آنحضرت ﷺ سے عشق اور آپؐ کی اعلیٰ و ارفع ذات کا عرفان اور آپؐ کی سنّتِ مبارکہ پر عمل آپ ؐ ہی کی پیشگوئیوں کے مطابق، آپؐ ہی کے امّتی اور غلام، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔ جبکہ راشد علی نے ماہی گیروں کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے، روٹی دیر سے ملنے پر مغلوب الغضب ہو کر روٹی لانے والے بچّے پر چاقو نکال لینے والے اور دن رات سگریٹ نوشی کرنے والے پیر، عبد الحفیظ سے جھوٹ اور تلبیس کے سوا اور کچھ نہیں سیکھا۔

    :iii۔احمدیت کی تمام تر توجّہ کا محور آنحضرت ﷺ نہیں بلکہ مرزا غلام احمد کی ذات ہے

    راشد علی اور اس کے پیرنے لکھا ہے کہ

    ’’ غرضیکہ قادیانیت/ احمدیّت کی صورت میں ایک ایسی جماعت پیدا کر دی گئی جس کی تمام تر توجّہ کا محور حضورﷺ سے ہٹ کر مرزاغلام احمد کی ذات ہو گئی ہے ہر قادیانی اس مرض میں گرفتار ہے۔ آپ اس سے مرزا کی ذات کے بارہ میں گفتگو کریں وہ سیدھا سرکارِ دو عالم ﷺ کی ذات پر لے جائے گا۔‘‘

    راشد علی کا یہ بیان اس کی خود تردیدی اور تضاد بیانی کا شاہکار ہے۔ ایک طرف تو وہ یہ کہتا ہے کہ ’’ تمام تر توجہ کا محور حضور ﷺ سے ہٹ کر مرزا غلام احمد کی ذات ہو گئی۔‘‘ اور ساتھ ہی وہ اس کو ردّ کرتے ہوئے یہ بھی لکھ رہا ہے کہ ’’ ہر قادیانی اس مرض میں گرفتار ہے آپ اس سے مرزا کی ذات کے بارہ میں گفتگو کریں وہ سیدھا سرکارِ دو عالمﷺ کی ذات پر لے جائے گا۔‘‘

    اس کا یہ بیان اس کے اس اقرار کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہر احمدی کی تمام تر توجہ کا محور دراصل رسو ل اللہﷺ کی ہی ذاتِ بابرکات ہے کیونکہ ہر احمدی کو یہ مرض لاحق ہے کہ وہ ہر بات کو رسول اللہ ﷺ کی ذات پر لے جاتا ہے۔ البتہ راشد علی معترض ایسا ہے کہ اپنی باتوں کو شیطان کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ وہ اس کی توجّہ کا محور ہے۔

    ہر احمدی ہر بات کو اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کی ذات پر کیوں لے کر جاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ؐ سچّائی اور صداقت کا ایک ایسا معیار ہیں کہ آپؐ کے بغیر کسی کی سچّائی اور صداقت کا ثبوت قائم نہیں ہو سکتا۔آپؐ ہی کی تصدیق کسی کی صداقت پر مہر ثبت کرتی ہے۔ اسلئے جب کوئی مسیحِ زماں و مہدی دوراں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلٰوۃ والسلام پر کوئی اعتراض کرتا ہے یا آپ پر کوئی الزام لگاتا ہے تو احمدی فوراً اس کیس کو اپنے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمّد مصطفی ﷺ کے پاس لے جاتا ہے۔ جب آپ ؐ کی جناب سے اس اعتراض کے جھوٹا ہونے کا ثبوت مل جاتا ہے تو وہ اس معترض کو جھوٹا قرار دے کر مردود کر دیتا ہے۔پس راشد علی کو میرا مشورہ ہے کہ وہ بھی اس ’’مرض میں گرفتار ‘‘ہو جائے تو جھوٹ اور شیطان سے آزاد ہو سکتا ہے۔ اور اگر اپنی ہر بات ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمّد ﷺ کے پاس لے جائے تو ہدایت حاصل کر سکتا ہے۔

    بہرحال راشد علی نے از خود احمدی کی ایک ایسی خوبی اور صفت کو بیان کر دیا ہے جس پر سیّد المرسلین خاتم النبییّن حضرت محمّد مصطفی ﷺ کی مہرِ تصدیق ثبت ہے۔ پس کیا خوب فرمایا ہے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے کہ
    بعد از خدا بعشقِ محمّد مخمرّ م
    گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
    ترجمہ: خدا تعالیٰ کے بعد میں محمّدﷺ کے عشق میں سرشار ہوں۔اگر یہ کفر ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔


    اور اگر یہ مرض ہے تو یہ بہت ہی برکتوں والا ہے اور ہمیں بہت ہی پیارا ہے۔
    • Dislike Dislike x 1
  2. ‏ مئی 28, 2016 #2
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    آپ کی اس پوسٹ کا مختصرا خلاصہ یہ ہے کہ آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نبوت بند نہیں ہوئی اور نبوت جاری ہے۔
    یہ شاید آپ کے مطابق مرزا قادیانی کی شاعری ہے اور مرزا قادیانی آپ کے مطابق نبی تھا لیکن قرآن کی سورۃ یٰسین میں اللہ فرماتے ہیں کہ وہ انبیاء کو شاعری نہیں سکھاتے
    وما علمنہ الشعروماینبغی لہ ھوالا ذکروقرآن مبین۔
    (سورۃ یٰسین آیت29)
    اب چند دلائل ختم نبوت کے

    ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما۔“ (سورۂ احزاب:40)
    ترجمہ: ”محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہے اورا للہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
    تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصبِ نبوت پر فائز نہیں کیا جائیگا۔
    خاتم النبیین کی نبوی تفسیر

    حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔“(ابوداؤد، ترمذی) اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ”خاتم النبیین“ کی تفسیر ”لانبی بعدی“ کے ساتھ خود فرمادی ہے۔اسی لئے حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت چند احادیث نقل کرنے کے بعد آٹھ سطر پر مشتمل ایک نہایت ایمان افروز ارشاد فرماتے ہیں۔ چند جملے آپ بھی پڑھ لیجئے۔
    ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اکرم نصلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث متواتر کے ذریعہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تاکہ لوگوں کو معلوم رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس نے بھی اس مقام (یعنی نبوت) کا دعویٰ کیا وہ بہت جھوٹا‘ بہت بڑا افترا پرداز‘ بڑا ہی مکار اور فریبی‘ خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہوگا‘ اگرچہ وہ خوارق عادات اور شعبدہ بازی دکھائے اور مختلف قسم کے جادو اور طلسماتی کرشموں کا مظاہرہ کرے۔“ (تفسیر ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ جلد3 صفحہ494)
    خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے

    حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا مسئلہ ختم نبوت سے متعلق مؤقف کیلئے یہاں پر صرف دوصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی آرأ مبارکہ درج کی جاتی ہیں۔ حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا”اور لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخرالنبیین ہیں۔“ (ابن جریر صفحہ 16جلد 22) حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ سے آیت خاتم النبیین کے بارہ میں یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ”اللہ تعالیٰ نے تمام انبیأ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رسولوں میں سے جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے آخری ٹھہرے۔“ (درّ منثور صفحہ204 جلد5) کیا اس جیسی صراحتوں کے بعد بھی کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟ اور بروزی یا ظلی کی تاویل چل سکتی ہے؟
    1) حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول، اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں اور اس کا منکر یقینااجماع امت کا منکر ہے۔“
    (الاقتصاد فی الاعتقاد صفحہ 123)
    2) علامہ سید محمود آلوسی تفسیر روح المعانی میں زیر آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں:اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے، احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے، پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔“ (روح المعانی ص 39 ج 22)
    3) امام حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ”یہ آیت اس مسئلہ میں نص ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بدرجہ اولیٰ نہیں ہوسکتا، کیونکہ مقام نبوت مقام رسالت سے عام ہے۔ کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا او ر اس مسئلہ پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث وارد ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہے۔
    (تفسیر ابن کثیر صفحہ493، جلد3)
    4) امام قرطبی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ”خاتم النبیین کے یہ الفاظ تمام قدیم و جدید علماء کے امت کے نزدیک کامل عموم پر ہیں۔ جو نص قطعی کے ساتھ تقاضا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (تفسیر قرطبی صفحہ196 جلد14) پس عقیدۂ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے اور ہر دور میں امت کا اس پر اجماع و اتفاق چلا آیا ہے. سورۂ احزاب کی آیت 40 آیت خاتم النبیین کی تشریح و توضیح پہلے گزر چکی ہے،
    اب دوسری آیات ملاحظہ ہوں:
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (سورہ مائدہ: 3)
    ترجمہ: ”آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا‘ اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا‘ اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔“
    نوٹ:…… یوں تو ہر نبی اپنے اپنے زمانہ کے مطابق دینی احکام لاتے رہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل زمانہ کے حالات اور تقاضے تغیرپذیر تھے‘ اس لئے تمام نبی اپنے بعد آنے والے نبی کی خوشخبری دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے اختتام سے دین پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا تمام نبیوں کی نبوتوں اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے پر مشتمل ہے، اسی لئے اس کے بعد ”واتممت علیکم نعمتی“ فرمایا، علیکم یعنی نعمت نبوت کو میں نے تم پر تمام کردیا، لہٰذا دین کے اکمال اور نعمت نبوت کے اتمام کے بعد نہ تو کوئی نیا نبی آسکتا ہے اور نہ سلسلہئ وحی جاری رہ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ اے امیر المومنین: ”قرآن کی یہ آیت اگر ہم پر نازل ہوتی ہم اس دن کو عید مناتے“ (رواہ البخاری) ،اور حضور علیہ السلام اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اکیاسی(81) دن زندہ رہے (معارف صفحہ41 جلد3) اور اس کے نزول کے بعد کوئی حکم حلال و حرام نازل نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ کتاب کامل و مکمل،آخری کتاب ہے
    اب جو سوال میں نے اوپر پوچھا ہے اس کا جواب ضرور دیجیئےگا
    • Like Like x 2
  3. ‏ مئی 28, 2016 #3
    شفیق احمد

    شفیق احمد رکن ختم نبوت فورم

    لو فار آل۔۔۔۔قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو جاؤ۔۔۔۔۔یہ غلاظت کے ڈھیر مربی آپ کو جہنم کی یاترا کروانے پر تلے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس پوسٹ میں مربی نے حضرت ابن عربی رح کی تحریروں کو کانٹ چھانٹ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت ابن عربی رح غیر تشریعی نبوت کے قائل تھے۔۔۔۔۔۔۔مندرجہ ذیل حضرت ابن عربی رح کی صاف تحریروں کو پڑھو اور اپنی موٹی عقل کا ماتم کرو۔۔۔۔


    واعلم ان لنا من اللہ الالھام لاالوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اللہ ﷺ وقد کان الوحی قبلہ ولم یجیء خبر الھی ان بعدہ وحیاََ کما قال ولقد اوحی الیک اولی الذین من قبلک ولم یذکر وحیاََ بعدہ وان لم یلزم ھذا وقد جاء الخبر النبوی الصادق فی عیسیٰ علیہ اسلام وقد کان ممن اوحی الیہ قبل رسول اللہ ﷺ لایؤمنا الامنا ای بسنتنا فلہ الکشف اذا نزل والالھام کما لھذہ الامۃ

    جان لو کہ ہمارے لئے ( یعنی اس امت کے لئے ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف الہام ہے وحی نہیں ۔ وحی کا سلسلہ آنحضرت ﷺ کی وفات پر ختم ہوچکا ہے ۔ آپ سے پہلے بے شک یہ وحی کا سلسلہ موجود تھا ۔ اور ہمارے پاس کوئی ایسی خبر الہٰی نہیں پہنچی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی کوئی وحی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وحی کی گئی تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف ۔ ( الزمر :65 ) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے بعد کسی وحی کا ذکر نہیں فرمایا ۔ ہاں آنحضرت ﷺ کی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے بارے میں سچی خبر پہنچی ہے ، اور آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی طرف آنحضرت ﷺ سے پہلے وحی کی گئی تھی ۔ آپ جب امت کی قیادت کریں گے تو ہماری شریعت کے مطابق عمل کریں گے ۔ آپ جب نازل ہوں گے تو آپ کے لئے مرتبہء کشف بھی ہوگا اور الہام بھی جیسا کہ یہ مقام ( اولیاء ) امت کے لئے ہے ۔( الفتوحات المکیہ ، جلد 3 صفحہ 238 )




    ولھذا قال ﷺ ان الرسالۃوالنبوۃ قد انقطعت وما انقطعت الامن وجہ خاص انقطع منھا مسمی النبی والرسول الذلک قال فلا رسول بعدی ولا نبی ثم ابقی منھا المبشرات وابقی حکم المجتھدین وازال عنھم الاسم

    آپ ﷺ نے فرمایا کہ بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوچکی ، یہ ختم ہونا ایک خاص وجہ سے ہے ، ا ب نبی اور رسول کا نام ختم ہوچکا ہے ( یعنی اب کسی کو نبی یا رسول نہیں کہا جا سکتا ) اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی م پھر آپ ﷺ نے مبشرات کو باقی رکھا اور مجتہدین کے حکم کو باقی رکھا لیکن ان سے ( نبی اور رسول ) کا نام دور کر دیا ۔( الفتوحات المکیہ ، جلد3 صفحہ 380 )


    وانما انقطع الوحی الخاص بالرسول والنبی من نزول الملک علی اذنہ وقبلہ وتحجیر اسم النبی والرسولجو

    وحی نبی اور رسول کے ساتھ خاص تھی کہ فرشتہ ان کے کان یا دل پر ( وحی لے کر ) نازل ہوتا تھا وہ وحی بند ہوچکی ، اور اب کسی کو نبی یا رسول کا نام دینا ممنوع ہوگیا ۔( الفتوحات المکیہ ، جلد 3 صفحہ 381 )

    مجھے بتاؤ کہ جب شیخ رح خود فرما رہے ہیں کہ اب کسی کو نبی یا رسول کا نام دینا ممنوع ہے اور وحی بند ہے تو تم لوگ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ابن عربی آپ ﷺ کے بعد نئے نبی کی آمد کو جائز سمجھتے تھے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    • Like Like x 2

اس صفحے کی تشہیر