1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

13 تا 16 اقوال: اگر کسی اور نے نکاح کیا تو؟ کیا اس پیشنگوئی میں تاویل ہو سکتی ہے؟

محمدابوبکرصدیق نے 'منکوحہ آسمانی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 4, 2015

  1. ‏ نومبر 4, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اگر کسی اور نے نکاح کیا تو؟ کیا اس پیشنگوئی میں تاویل ہو سکتی ہے؟

    ابوعبیدہ: مرزاقادیانی! اگر کسی اور شخص نے محمدی بیگم سے نکاح کر لیا تو پھر آپ کی پیش گوئی کا حشر کیا ہوگا؟
    قول:۱۳… ’’اگر (احمد بیگ نے) نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۸)
    ابوعبیدہ: مرزاقادیانی! میں نے جناب سے یہ دریافت کیا ہے کہ اگر محمدی بیگم کا نکاح احمد بیگ کسی اور جگہ کر دے تو آپ کے حق میں اس کا کیا اثر پڑے گا۔ کسی ذلت یا خواری کا ڈر تو نہیں؟
    قول:۱۴… ’’ملخصاً محمدی بیگم کا بغیر میرے کسی دوسرے کے نکاح میں آنا دوسرے الفاظ میں مجھ پر ’’عیسائیوں کو ہنسانا ہے‘‘ مجھے ذلیل وخوار کرنا ہے۔ ’’مجھے روسیاہ‘‘ کرنا ہے۔ ’’اپنی طرف سے مجھ پر تلوار چلانا‘‘ ہے۔ محمدی بیگم کا کسی دوسرے کے نکاح میں چلا جانا گویا ’’مجھے آگ میں ڈالنا ہے‘‘ میری ’’پیش گوئی کو جھوٹا کرنا‘‘ ہے۔ ’’عیسائیوں کا پلہ بھاری کرنا‘‘ ہے۔‘‘
    (خط مرزاغلام احمد از لدھیانہ بنام علی شیر بیگ مورخہ ۲؍مئی ۱۸۹۱ء کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۵)
    نوٹ: مرزاعلی شیر بیگ محمدی بیگم کا پھوپھا تھا۔ اس کی لڑکی عزت بی بی مرزاقادیانی کے بیٹے فضل احمد صاحب کے نکاح میں تھی۔ (ابوعبیدہ)
    ابوعبیدہ: مرزاقادیانی آپ کی الہامی عمر ثمانین۔ حولاً اور قریباً ’’من ذالک‘‘ یعنی کم وبیش ۸۰،۸۵ سال ہوگی۔
    (ازالہ اوہام ص۶۳۵، خزائن ج۳ ص۴۴۳)
    وفات جناب کی ہوئی تھی ۱۹۰۸ء میں۔ اس لحاظ سے جناب کی عمر اس پیش گوئی کے وقت یعنی قریباً ۱۹۰۸ء میں غالباً ۶۰یا۷۰کے درمیان ہوگی۔ میں جناب سے دریافت کرتا ہوں کہ جب آپ کی عمر ۶۰سے اوپر تھی تو محمدی بیگم کی عمر اس وقت کتنی تھی؟
    قول:۱۵… ’’یہ لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۸، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۰)
    ابوعبیدہ: میرا سوال اب جناب سے یہ ہے کہ کیا واقع میں یہ پیش گوئی پوری ہونے کا آپ کو یقین تھا۔ اب جناب یا آپ کے بعد آپ کے مرید اس میں کوئی تاویل تو نہ کرسکیں گے؟
    مرزاقادیانی! ماسٹر صاحب میں اپنے قول نمبر۹،۱۰ میں اس پیش گوئی کو اپنی صداقت کا معیار قرار دے چکا ہوں۔ اسی پیش گوئیوں کے بارہ میں میرا عقیدہ سنئے۔
    قول:۱۶… ’’جن پیش گوئیوں کو مخالف کے سامنے دعویٰ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ ایک خاص قسم کی روشنی اور ہدایت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت احدیت سے خاص طور پر توجہ کر کے ان کا زیادہ تر انکشاف کرا لیتے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۴، خزائن ج۳ ص۳۰۹)

اس صفحے کی تشہیر