1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

2011مجدد الف ثانیؒ کی عبارت میں مرزا کی صریح تحریف

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2011مجدد الف ثانیؒ کی عبارت میں مرزا کی صریح تحریف
    اس سلسلے میں سب سے پہلے مرزاغلام احمد صاحب کی یہ ڈھٹائی اور دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے اپنی نبوت ثابت کرنے کے لئے مجدد الف ثانیؒ کی ایک عبارت نقل کی ہے اور اس میں ایک لفظ خود اپنی طرف سے بڑھا دیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’بات یہ ہے کہ جیسا مجدد صاحب سرہندیؒ نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبی اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
    حالانکہ حضرت مجدد صاحبؒ کی جس عبارت کا حوالہ مرزاصاحب نے دیا ہے وہ یہ ہے: ’’واذ اکثر ہذا القسم من الکلام مع واحد منہم یسمّٰی محدثاً‘‘ اور جب اﷲ کی طرف سے اس قسم کا کلام کسی کے ساتھ بکثرت ہونے لگے تو اسے محدث کہا جاتا ہے۔
    (مکتوبات جلد دوم ص۱۹۹ نمبر۵۱)
    ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت مجدد صاحبؒ کی عبارت میں ’’محدث‘‘ کے لفظ کو مرزاصاحب نے کس طرح ’’نبی‘‘ کے لفظ سے بدل دیا۔ محمد علی لاہوری صاحب اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جب ہم مجدد صاحب سرہندیؒ کے مکتوبات کو دیکھتے ہیں تو وہاں یہ نہیں پاتے کہ کثرت مکالمہ ومخاطبہ پانے والا نبی کہلاتا ہے۔ بلکہ وہاں لفظ محدث ہے۔‘‘
    (النبوۃ فی الاسلام ص۲۴۸، لاہور طبع دوم)
    پھر آگے اس صریح خیانت کی تاؤیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ درحقیقت مرزاصاحب نے یہاںلفظ ’’نبی‘‘ کو محدث ہی کے معنی میں استعمال کیا ہے اور: 2012’’اگر اس توجیہ کو قبول نہ کیا جائے تو حضرت مسیح موعود پر یہ الزام عائد ہوگا کہ آپ نے نعوذ باﷲ اپنی مطلب براری کے لئے مجدد صاحب کی عبارت میں تحریف کی ہے۔‘‘ (النبوۃ فی الاسلام از محمد علی لاہوری ص۲۴۸)
    حالانکہ مرزاصاحب خود لفظ نبی کو اپنے کلام میں محدث کے معنی میں استعمال کرتے تو ایک بات بھی تھی، حضرت مجدد صاحبؒ کی طرف زبردستی لفظ ’’نبی‘‘ منسوب کر کے اسے ’’محدث‘‘ کے معنی میں قرار دینا کون سی شریعت، کون سے دین اور کون سی عقل کی رو سے جائز ہے؟ حیرت ہے ان لوگوں کی عقلوں پر جو مرزاصاحب کے کلام میں ایسی ایسی صریح خیانتیں دیکھتے ہیں اور پھر بھی انہیں نبی، مسیح موعود اورمجدد قرار دینے پر مصر ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر