1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

2019انگریز اور برصغیر

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2019انگریز اور برصغیر

    انگریز نے جب برصغیر اور عالم اسلام میں اپنا پنجہ استبداد جمانا شروع کیا تو اس کی راہ میں دو باتیں رکاوٹ بننے لگیں۔ ایک تومسلمانوں کی نظریاتی وحدت دینی معتقدات سے غیر متزلزل وابستگی اور مسلمانوں کا وہ تصور اخوت جس نے مغرب ومشرق کو جسد واحد بنا کے رکھ دیا تھا۔ دوسری بات مسلمانوں کا لافانی جذبہ جہاد جو بالخصوص عیسائی یورپ کے لئے صلیبی جنگوں کے بعد وبال جان بنا ہوا تھا اور آج ان کے سامراجی منصوبوں کے لئے قدم قدم پر سدراہ ثابت ہورہا تھا اور یہی جذبہ جہاد تھا جو مسلمانوں کی ملی بقاء اور سلامتی کے لئے گویا حصار اور قلعہ کا کام دے رہا تھا۔ انگریزی سامراج ان چیزوں سے بے خبر نہ تھی۔ اس لئے اپنی معروف ابلیسی سیاست لڑاؤ اور حکومت کرو (Divide and Rule) سے عالم اسلام کی جغرافیائی اور نظریاتی وحدت کو ٹکڑے کرنا چاہا۔ دوسری طرف عالم اسلام بالخصوص برصغیر میں نہایت عیاری سے مناظروں اور مباحثوں کا بازار گرم کر کے مسلمانوں میں فکری انتشار اور تذبذب پیدا کرنا چاہا اور اس کے ساتھ ہی انگریزوں پر سلطان ٹیپو شہیدؒ، سید احمد شاہ شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے بعد جماعت مجاہدین کی مجاہدانہ سرگرمیاں علماء حق کا ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر جہاد کا فتویٰ دینا اور بالآخر ۱۸۵۷ء کے جہاد آزادی نہ صرف ہندوستان بلکہ باہر عالم اسلام میں مغربی استعمار کے خلاف مجاہدانہ تحریکات سے یہ حقیقت اور بھی عیاں ہوکر سامنے آگئی کہ جب تک مسلمانوں کے اندرجذبہ جہاد قائم ہے، سامراج کبھی بھی اور کہیں بھی اپناقدم مضبوطی سے نہیں جما سکے گا۔ مسلمانوں کی یہ چیز نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں یورپ کے لئے وبال جان بنی ہوئی تھی۔

اس صفحے کی تشہیر