1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

2039تصنیفی ذخیرہ

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2039تصنیفی ذخیرہ
    درحقیقت جب ہم مرزاغلام احمد کی ربع صدی کی تصنیفی وعلمی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی تمام تحریری اورتقریری سرگرمیوں کا محور صرف یہی ملتا ہے کہ انہوں نے چودہ سوسال کا ایک متفقہ، طے شدہ اجماعی ’’مسئلہ حیات ونزول مسیح‘‘ کو نشانہ تحقیق بنا کر اپنی ساری جدوجہد وفات مسیح اور مسیح موعود ہونے کے دعویٰ پر مبذول کر دی۔ مسلمانوں کو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث اور ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کی طرح ظلی وبروزی اور مجازی گورکھ دھندوں میں الجھانا چاہا۔ جدلیات اور سفسطوں کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر۔ یہ مرزاصاحب کے علمی وتبلیغی خدمات کا دوسرا نام ہے۔ اگر ان کی تصنیفات سے ان کے متضاد دعویٰ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل ومباحث نکال لئے جائیں تو جو کچھ بچتا ہے وہ جہاد کی حرمت اور حکومت انگلشیہ کی اطاعت دلی وفاداری اور اخلاص کی دعوت ہے۔ جب کہ ہندوستان پہلے سے ذہنی وفکری اور سیاسی انتشار کا مرکز بنا ہوا تھا اور عالم اسلام مغرب مادہ پرست تہذیب اور خود فراموش تمدن کی لپیٹ میں تھا۔ مگر ہمیں مرزاصاحب کی تصانیف اور ’’علمی خدمات‘‘ میں انبیاء کرام کے طریق دعوت کے مطابق کوئی بھی وقیع اور کام کی بات نہیں ملتی۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنے قلم اور زبان کے ذریعہ مذہبی اختلافات اور دینی جھگڑوں کے شکار ہندوستانی مسلمانوں کو مزید ذہنی انتشار اور غیرضروری مذہبی کشمکش میں ڈال کر ان کا شیرازۂ اتحاد پاش پاش کرنے کی کوشش کی۔
    2040

    ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
    وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

    (اقبال: ضرب کلیم)

اس صفحے کی تشہیر