1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

2044مسئلہ فلسطین اور قیام اسرائیل سے لے کر اب تک

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 15, 2015

  1. ‏ فروری 15, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2044مسئلہ فلسطین اور قیام اسرائیل سے لے کر اب تک
    اخبار الفضل قادیان ج۹ نمبر۳۶ رقمطراز ہے: ’’اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی کریمa کی رسالت ونبوت کے منکر ہیں… اور عیسائی اس لئے غیرمستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النّبیین کی رسالت کا انکار کر دیا تو یقینا یقینا غیراحمدی (مسلمان) بھی مستحق تولیت نہیں۔ اگر کہا جائے کہ حضرت مرزاصاحب کی نبوت ثابت نہیں تو سوال ہوگا، کن کے نزدیک؟ اگر جواب یہ ہے کہ نہ ماننے والوں کے نزدیک، تو اس طرح یہود کے نزدیک مسیح اور آنحضرت کی، اور مسیحوں کے نزدیک آنحضرت کی نبوت اور رسالت بھی ثابت نہیں۔ اگر منکرین کا فیصلہ ایک نبی کو غیر ٹھہراتا ہے تو کروڑوں عیسائیوں اور یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باﷲ کہ آنحضرت منجانب اﷲ رسول نہ تھے۔ پس اگر غیراحمدی بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی تولیت کے مستحق تمام نبیوں کے ماننے والے ہی ہوسکتے ہیں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے سوا خدا کے تمام نبیوں کا مومن اور کوئی نہیں۔‘‘
    صرف یہی نہیں بلکہ جب فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو ان کے صدیوں پرانے وطن سے نکال کر عربوں کے سینے میں مغربی سامراجیوں کے ہاتھوں اسرائیل کی شکل میں خنجر بھونکا جا رہا ہے تو قادیانی امت ایک پورے منصوبہ سے اس کام میں صیہونیت اور مغربی سامراجیت کے لئے فضا بنانے میں مصروف تھی ایک قادیانی مبلغ لکھتا ہے: ’’میں نے یہاں کے ایک اخبار میں اس پر آرٹیکل دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کی زمین ہے جو یہودیوں کو عطا کی گئی تھی۔ مگر نبیوں کے انکار اور 2045بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو ہمیشہ کے واسطے وہاں کی حکومت سے محروم کر دیا اور یہودیوں کو سزا کے طور حکومت، رومیوں کو دے دی گئی اور بعد میں عیسائیوں کو ملی۔ پھر مسلمانوں کو، اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلاش کرنا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا۔ سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن اور آزادیٔ مذہب کو ہم دیکھ چکے ہیں۔ آزما چکے ہیں اور آرام پارہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لئے نہیں ہے۔ بیت المقدس کے متعلق جو میرا مضمون یہاں (انگلستان) کے اخبار میں شائع ہوا ہے۔ اس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ اس کے متعلق وزیراعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مسٹر لائڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔‘‘
    (الفضل قادیان ج۵ نمبر۷۵، مورخہ ۱۹؍مارچ ۱۹۱۸ئ)
    فلسطین کے قیام میں مرزائیوں کی عملی کوششوں کے ضمن میں مولوی جلال الدین شمس اور خود مرزابشیرالدین محمود کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ غالباً ۱۹۲۶ء میں مولوی جلال الدین شمس مرزائی مبلغ کو شام بھیجا گیا۔ وہاں کے حریت پسندوں کو پتہ چلا تو قاتلانہ حملہ کیا۔ آخر تاج الدین الحسن کی کابینہ نے شام بدر کر دیا۔ جلال الدین شمس فلسطین چلا آیا اور ۱۹۲۸ء میں قادیانی مشن کیا اور ۱۹۳۱ء تک برطانوی انقلاب کی حفاظت میں عالمی استعمار کی خدمت بجالاتا رہا۔ تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد قادیانی سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۱۷ء میں قیام فلسطین کے برطانوی منصوبے کے اعلان کے بعد مرزابشیرالدین محمود نے ۱۹۲۴ء میں فلسطین میں قیام کیا اور فلسطین کے ایکٹنگ گورنر سرکلٹین سے سازباز کر کے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور جلال الدین شمس قادیانی کو دمشق میں یہودی مفادات کا نگران مقرر کیاگیا۔

    (ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج۹ نمبر۲ ص۲۴،۲۵، ملخص نومبر، دسمبر ۱۹۷۳ئ، از تاریخ احمدیت مؤلفہ دوست محمد شاہد)
    2046۱۹۴۷ء تک قادیانی سرگرمیاں فلسطین میں پھلتی پھولتی رہیں۔ مولوی اﷲ دتہ جالندھری، محمد سلیم چوہدری، محمد شریف، نور احمد، منیر رشید احمد چغتائی جیسے معروف قادیانی تبلیغ کے نام پر عربوں کو محکوم بنانے کی مذموم سازشیں کرتے رہے۔ ۱۹۳۴ء میں مرزامحمود خلیفہ قادیان نے اپنے استعماری صیہونی مقاصد کی تکمیل کے لئے تحریک جدید کے نام سے ایک تحریک کی بنیاد رکھی اور جماعت سے سیاسی مقاصد کے لئے اس تحریک کے لئے بڑی رقم کا مطالبہ کیا۔ (تاریخ احمدیت ص۱۹) تو بیرون ہند قادیانی جماعتوں میں سب سے زیادہ حصہ فلسطین کی جماعت نے لیا اور تاریخ احمدیت کے مطابق فلسطین کے جماعت حیفہ اور مدرسہ احمدیہ کبائبیر نے قربانی اور اخلاص کا نمونہ پیش کیا اور مرزامحمود نے اس کی تعریف کی (ایضاً ص۴۰) بالآخر جب برطانوی وزیر خارجہ مسٹر بالفور کے ۱۹۱۷ء کے اعلان کے مطابق ۱۹۴۸ء میں بڑی ہوشیاری سے اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تو چن چن کر فلسطین کے اصل باشندوں کو نکال دیا گیا۔ مگر یہ سعادت صرف قادیانیوں کو نصیب ہوئی کہ وہ بلاخوف وجھجھک وہاں رہیں اور انہیں کوئی تعرض نہ کیا جائے۔ خود مرزابشیرالدین محمود نہایت فخریہ انداز میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’عربی ممالک میں بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں جیسی ان (یورپی اور افریقی) ممالک میں ہے۔ پھر بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہوگئی ہے اور وہ یہ کہ فلسطین کے عین مرکز میں اگر مسلمان رہے تو وہ صرف احمدی ہیں۔‘‘
    (الفضل لاہور ص۵، مورخہ ۳۰؍اگست ۱۹۵۰ئ)
    ’’مرزامحمود کی جماعت کو اس طرح کی اہمیت کیوں نہ ملتی۔ جب کہ مرزامحمود خلیفہ دوم نے فلسطین میں یہودی ریاست اسرائیل کے قیام واستحکام میں صیہونیوں سے بھر پور تعاون کیا۔‘‘
    (ماہنامہ الحق ج۹ ش۲، نومبر دسمبر ۱۹۷۳ئ، بحوالہ تاریخ احمدیت از دوست محمد شاہد قادیانی)
    ’’اور جب عربوں کے قلب کا یہ رستا ہوا ناسور اسرائیل قائم ہوا۔ تمام مسلمان ریاستوں نے اس وقت سے اب تک اس کا مقاطعہ کیا۔ پاکستان کا کوئی 2047سفارتی یا غیرسفارتی مشن وہاں نہیں۔ اس لئے کہ اسرائیل کا وجود بھی پاکستان کے نزدیک غلط ہے۔ پاکستان عربوں کا بڑا حمایتی ہے۔ مونٹ اکرمل کبائبیر وغیرہ میں ان کے استعماری اور جاسوسی سرگرمیوں کے اڈے قادیانی مشنریوں کے پردے میں قائم ہوئے۔ یہ تعجب اور حیرت کی بات نہیں تو کیا ہے؟ کافی عرصہ تک جس اسرائیل میں کوئی عیسائی مشن قائم نہیں ہوسکا اور بعد میں کچھ عیسائی مشنیں قائم ہوئیں۔ اسرائیل کے سب سے بڑی ربی شلوگورین نے آرچ بشپ آف کنٹربری، ڈاکٹر ریمزے اور کارڈینل پادری ہی نان سے خصوصی ملاقات کر کے ان پر زور دیا کہ اسرائیل میں عیسائی مشنریوں پر پابندی عائد کریں۔‘‘
    (ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک ج۹ ش۲ ص۲۶، بحوالہ مارننگ نیوز کراچی، مورخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۷۳ئ)
    عیسائی مشنوں کے خلاف اسرائیل میں منظم تحریک چلی۔ عیسائی مراکز پر حملے ہوئے دکانوں اور بائبل کے نسخوں کا جلانا معمول بن گیا۔ مگر ۱۹۲۸ء سے لے کر اب تک ۴۶سال میں یہودیوں نے قادیانیوں کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائی، نہ ان کے لٹریچر کو روکا، نہ کوئی معمولی رکاوٹ ڈالی۔ جو اس کا واضح ثبوت ہے کہ وہ مرزائیوں کو اپنے مفادات کی خاطر تحفظ دے رہے ہیں۔
    اسلام کی تبلیغ کے نام پر مسلمانوں اور پاکستان کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل میں قادیانیوں کا مشن ایک لمحہ فکر یہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اس لمحہ فکریہ کا عربوں کے لئے مختلف وقفوں سے بے چینی اور اضطراب اور پاکستان سے سؤظن کا باعث بن جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مشن عرب ریاستوں کی جاسوسی، فوجی راز معلوم کرنے، عالم اسلام کے معاشی، اخلاقی حالات اور دینی جذبات معلوم کرنے عرب گوریلوں کے خلاف کارروائیاں کرنے اور عالمی استعمار اور یہودی استحصال کے لئے راہیں تلاش کرنے میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔

اس صفحے کی تشہیر