1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

2338عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حسین کا قتل

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 2, 2015

  1. ‏ مارچ 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2338عبدالکریم کی مظلومی اور محمد حسین کا قتل
    سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم(ایڈیٹر مباہلہ) کا ہے۔ جس کی داستان، داستان درد ہے۔ یہ شخص مرزا کے مقلدین میں شامل ہوا اورقادیان میں جاکر مقیم ہوگیا۔ وہاں اس کے دل میں (مرزائیت کی صداقت کے متعلق) شکوک پیدا ہوئے اور وہ مرزائیت سے تائب ہو گیا۔ اس کے بعد اس پر ظلم و ستم شروع ہوا۔ اس نے قادیانی معتقدات پر تبصرہ تنقید کرنے کے لئے ’’مباہلہ‘‘ نامی اخبار جاری کیا۔ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک تقریر میں جو دستاویز ڈی۔ زیڈ(الفضل مورخہ یکم اپریل ۱۹۳۰ء میں درج ہے)مباہلہ شائع کرنے والوں کی موت کی پیش گوئی کی ہے۔ اس تقریر میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیاگیا ہے جو مذہب کے لئے ارتکاب قتل پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ اس تقریر کے بعد جلد ہی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن وہ بچ گیا۔ ایک شخص محمد حسین جو اس کا معاون تھا اور ایک فوجداری مقدمہ میں جو عبدالکریم کے خلاف چل رہاتھا، اس کا ضامن بھی تھا۔ اس پر حملہ ہوا اور قتل کر دیاگیا۔ قاتل پر مقدمہ چلا اوراسے پھانسی کی سزا کا حکم ملا۔

اس صفحے کی تشہیر