1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

2353مرزا ناصر احمد صاحب کا اقرار

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 2, 2015

  1. ‏ مارچ 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2353مرزا ناصر احمد صاحب کا اقرار
    دوران جرح میں جب مرزا ناصر احمد صاحب نے یہ کہا کہ جو شخص اپنے کو مسلمان کہتا ہے۔ کسی دوسرے شخص یا اسمبلی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس کو غیر مسلم قرار دے۔ جب اسی سلسلہ میں محترم اٹارنی جنرل نے ان پر سوال کیا کہ ایک شخص ہیپی اورعیسائی ہے۔ لیکن وہ غلط طور پر مفاد کی خاطر اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور اس کی یہ فریب دہی اور بے ایمانی دیکھ کر اس کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا جاتا ہے۔ تو کیا عدالت کو یہ حق نہیں کہ قطعی ثبوت ملنے کے بعد اس کے فریب کا پردہ چاک کرکے اس کو غیر مسلم، ہیپی یا عیسائی قرار دے دیں۔
    مرزا ناصر احمد نے بڑی ٹال مٹول کے بعد عدالت کے اس حق کو تسلیم کیا۔ گویا اس طرح مرزا ناصر احمد نے اقرار کرلیا کہ کسی بااختیار ادارے کو یہ حق حاصل ہے کہ نبوت کے بعد وہ کسی شخص کے دعوے کو غلط قرار دے دے۔
    اب اس اقرار کے بعد قومی اسمبلی کو جس کاکام قانون سازی ہے، یہ حق کیوں حاصل نہیں کہ وہ مرزائیوں کے غلط دعویٔ اسلام کا بھانڈا پھوڑ کر عوام کو ان کے فریب سے بچائے؟

اس صفحے کی تشہیر