1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

2365مسلمان کی تعریف میں منقولہ احادیث

محمدابوبکرصدیق نے '1974ء قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ مارچ 2, 2015

  1. ‏ مارچ 2, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    2365مسلمان کی تعریف میں منقولہ احادیث

    پہلی تعریف: حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی بھیس میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر یوں گویاہوئے:
    ’’یامحمد! اخبرنی عن الاسلام قال الاسلام ان تشھدان لاالہ الا اﷲ وان محمدرسول اﷲ، وتقیم الصلوٰۃ، وتؤتی الزکوٰۃ وتصوم رمضان، وتحج البیت ان استطعت الیہ سبیلاً قال صدقت فعجبنا لہ یسئلہ ویصدقہ قال فاخبرنی عن الایمان قال ان تؤمن باﷲ وملٰئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ قال صدقت‘‘
    (مسلم شریف ج۱ص۲۷، کتاب الایمان)
    {اے محمد( ﷺ ) مجھے اسلام بتائیے، آپ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدؐ اﷲ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم رکھو اورزکوٰۃ دیتے رہو اور رمضان کے روزے رکھو اور حج بیت اﷲ کرو، اگر وہاں جانے کی طاقت ہو۔ اس شخص نے کہا آپ نے سچ کہا۔ ہم متعجب ہوئے کہ پوچھا بھی ہے، پھر تصدیق بھی کرتا ہے۔پھر اس نے کہا مجھے ایمان بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ تم اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اوراس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور قیامت کے دن پر اور تقدیر پر،چاہے اچھی ہویابری،اس شخص نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔}
    دوسری حدیث: ’’جاء رجل الی رسول اﷲ ﷺ من اھل نجد ثائرالراس نسمع دوی صوتہ لا نفقہ ما یقول حتی دنا فاذاھویسئل عن الاسلام فقال رسول اﷲ ﷺ خمس صلوٰۃ فی الیوم واللیلۃ فقال ھل علی غیر ھاقال لا الا ان تطوع قال رسول اﷲ ﷺ و صیام رمضان قال ھل علی غیرھا قال لاالا ان تطوع وقال وذکر لہ رسول اﷲ ﷺ الزکوٰۃ قال ھل علّی غیرھا قال لاالاّ ان تطوع قال فادبر الرجل وھویقول واﷲ لا ازید علی ہذا و لاانقص قال رسول اﷲ ﷺ افلح ان صدق‘‘

    (صحیح بخاری ج۱ص۱۱،۱۲،باب الزکوٰۃ من الاسلام)
    {نجد کا ایک آدمی سرور دو عالم ﷺ کے پاس آیا سر کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی گنگناہٹ، ہم سنتے تھے۔ مگر اس کامفہوم نہیں سمجھ رہے تھے۔یہاں تک کہ وہ قریب آگیا۔ دیکھا تو اس نے اسلام کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ رات،دن میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا کیا اس کے سوا کوئی اوربھی میرے ذمہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا، نہیں،ہاں نفل ہو سکتے ہیں۔ پھرآپؐ نے رمضان کے روزوں کا فرمایا۔ اس نے کہا کیا اس کے سوا کوئی چیز تو ضروری نہیں؟ آپؐنے فرمایا نہیں، ہاں نفل کرو۔(تو تمہارا اختیار ہے) پھر آپ ؐنے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس نے پھر وہی سوال کیا کہ کیا اس کے سواکچھ اور بھی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ،نہیں ہاں اگر نفل کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چلاگیا۔ خدا کی قسم! میں اس پر نہ زیادہ کروں گا، نہ کم کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے توکامیاب ہوکر فلاح پا گیا۔}
    تیسری حدیث: ’’من صلی صلوٰتنا و استقبل قبلتنا و اکل ذبیحتنا فذلک المسلم الذی لہ ذمۃ اﷲ وذمۃ رسولہ فلا تخفرو اﷲ فی ذمتہ‘‘

    (بخاری ج۱ص۵۶، باب فضل استقبال القبلۃ)
    {جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھایا۔ تو یہ وہ مسلمان ہے کہ اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری میں ہے۔ تو اﷲتعالیٰ کی ذمہ داری میں اس کے ساتھ دغا بازی نہ کرو۔}
    (یہ ترجمہ مرزا ناصرا حمد صاحب کا کیا ہواہے۔جو اس نے مودودی صاحب سے نقل کیاہے)
    ۴… ان تین حدیثی تعریفوں کے ساتھ اب مرزا قادیانی کی چوتھی تعریف بھی شامل کر دیں۔ جو مرزا ناصر احمد نے محضر نامے میں (ص۲۳تا ۲۶)نقل کی ہے۔
    اب ہم چاہتے ہیں کہ جن امور کو مرزاناصراحمد نے مسلمان کی تعریف سے جدا کرکے ضمنی طور پر بیان کر دیا ہے۔ ان کا ذکر بھی کر دیں تاکہ پھر اکٹھی سب پربحث ہو سکے۔
    ۵… خود مرزاناصراحمد نے (ص۷) پرقرآن پاک کی آیت لکھی ہے:
    ’’ولا تقولوا لمن القیٰ الیکم السلام لست مؤمنا (نسائ:۹۴)‘‘
    {اور جو شخص تمہیں سلام کہے۔ اس کو (آگے سے) یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں۔ }
    اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ سلام کہنے والے کو بھی آپ کافر یا غیر مسلم نہیں کہہ سکتے۔
    ۶… مرزاناصر احمد نے ایک اور روایت (ص۷)پرنقل کی ہے کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں جہنیہ قبیلہ کے نخلستان کی طرف بھیجا۔ہم نے صبح صبح ان کے چشموں پر ہی ان کو جا لیا۔ میں نے اورایک انصاری نے ان کے ایک آدمی کا تعاقب کیا۔ جب ہم نے اس کو جالیا اور اسے مغلوب کرلیا۔ تو وہ بول اٹھا۔ ’’لاالہ الااﷲ‘‘{خدا کے سوا کوئی معبود نہیں}اس بات سے میرا انصاری ساتھی اس سے رک گیا۔ لیکن میں نے اس پر نیزے کا وار کر کے اس کو قتل کر دیا۔ جب ہم مدینہ واپس آئے اور آنحضرت ﷺ کو اس بات کا علم ہوا۔ تو آپؐ نے فرمایاکہ اسامہ! کیا ’’لاالہ الااﷲ‘‘پڑھ لینے کے باوجود تم نے اسے قتل کردیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ! وہ صرف بچاؤ کے لئے یہ الفاظ کہہ رہا تھا۔ آپ ﷺ بار بار یہ دہرا ئے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش آج سے پہلے میں مسلمان ہی نہ ہوتا۔
    اور ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اس نے ’’لاالہ الا اﷲ‘‘ کااقرار کر لیا۔پھر بھی تو نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عر ض کیا، اے اﷲ کے رسول ! اس نے ہتھیار کے ڈر سے ایسا کیاتھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے اس کا دل چیر کے دیکھا کہ اس نے دل سے کہا یا نہیں؟ حضور ﷺ نے یہ بات اتنی بار دہرائی کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش آج میں مسلمان ہوا ہوتا۔

    (بخاری کتاب المغازی)
    اس سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ کلمہ پڑھ لینااسلام ہے۔ دل چیر کر دیکھنا تو مشکل ہے۔
    اب ہم چند اور روایات اسی قسم کی نقل کرتے ہیں۔
    ۷… ’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال لی رسول اﷲ ﷺ واعطانی نعلیہ وقال اذھب فمن لقیت من رواء ہذا الحائط یشھد ان لاالہ الا اﷲ مستیقنًا بھا قلبہ فبشرہ بالجنۃ‘‘
    (مسلم ج۱ص۴۵، باب الدلیل علی من مات علی التوحید)
    {حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے اپنے نعلین(چپل مبارک) عطاء فرمائے اورفرمایاکہ جاؤ جو ملے اور وہ لا الہ الا اﷲ سچے دل سے پڑھتا ہواس کو جنت کی بشارت دے دو۔}
    ’’عن ابی ذرؓ قال قال رسول اﷲ ﷺ ما من عبدقال لا الہ الا اﷲ ثم مات علی ذلک الا دخل الجنۃ قال وان زنی وان سرق قال وان زنی وان سرق‘‘
    (بخاری ج۲ص۸۶۷، باب الثیاب البیض)
    {حضرت ابوذرؓ کو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ بھی لا الہ الااﷲ کہے پھر اسی عقیدہ پر مر جائے تو وہ جنتی ہے۔ابوذرؓ نے پوچھا چاہے وہ زنا اور چوری بھی کرتا ہو؟ حضور ﷺ نے تین بار فرمایا ،اگرچہ وہ زنا اور چوری بھی کرتاہو۔ }

    (متفق علیہ دونوں روایتیں اختصار سے بیان ہوئی ہیں)
    (مشکوٰۃ ص۱۴،کتاب الایمان)
    ۸… ایک روایت میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ جب کسی شہر پر صبح کے وقت حملہ کرتے تو دیکھتے ،اگر وہاں سے آذان کی آواز آتی،توحملہ نہ کرتے۔
    اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آذان کہنے سے وہ مسلمان ثابت ہو رہے تھے۔
    ۹… حضرت صدیقؓ نے منکرین زکوٰۃ کے ساتھ جہاد کیا۔ جس سے معلوم ہوتاہے کہ زکوٰۃ نہ دینا یا اس کاانکار کفر ہے۔
    ۱۰… حضرت صدیقؓ نے منکرین ختم نبوت اور مدعیان نبوت سے جہاد کیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ ختم نبوت کا مسئلہ بھی جزو ایمان ہے اوراس کا منکر اسلام سے خارج ہو جاتاہے۔

اس صفحے کی تشہیر