1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

25 تا 28 اقوال: محمدی بیگم کا رشتہ مانگنے پر آپ کو کیا جواب ملا، اس کا خاندان دینی لحاظ سے کیسا تھا

محمدابوبکرصدیق نے 'منکوحہ آسمانی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 4, 2015

  1. ‏ نومبر 4, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    محمدی بیگم کا رشتہ مانگنے پر آپ کو کیا جواب ملا، اور اس کا خاندان دینی لحاظ سے کیسا تھا

    ابوعبیدہ: جناب عالی! کیا آپ مہربانی کر کے فرمائیں گے کہ آپ کے طلب رشتہ کے جواب میں محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے آپ کو کیا کہا۔
    مرزاقادیانی! کیا پوچھتے ہو۔ قصہ بڑا لمبا ہے۔ خیر سنئے! نکاح کی درخواست پر مرزااحمد بیگ۔
    قول:۲۵… ’’تیوری چڑھا کر چلا گیا۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۳، خزائن ج۵ ص ۱۶۱)
    ابوعبیدہ: جناب عالیٰ اس واقعہ کی تفصیل سے مطلع فرمائیے۔ تاکہ میں کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکوں۔
    قول:۲۶… ’’نام بردہ (مرزااحمد بیگ والد محمدی بیگم) کی ایک ہمشیرہ ہمارے چچا زاد بھائی غلام حسین نامی سے بیاہی گئی۔ غلام حسین عرصہ ۲۵سال سے… مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے۔ مرزااحمد بیگ کی ہمشیرہ کے نام سرکاری کاغذات میں درج کروائی گئی تھی… اب مرزااحمد بیگ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے چاہا کہ وہ زمین جو چار پانچ ہزار روپے کی ہے۔ اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرادیں۔ چنانچہ وہ ہبہ نامہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بغیر میری رضامندی کے بے کار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ نے بہ تمام تر عجز وانکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تاکہ ہم راضی ہوکر ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۷)
    ابوعبیدہ: جناب تو ایک درویش آدمی ہیں۔ جناب نے بلاحیل وحجت دستخط کر دئیے ہوں گے۔
    قول:۲۷… ’’قریب تھا کہ ہم دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ… جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے… استخارہ کیا گیا… اس قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزااحمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کرو اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک ومروت تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا۔‘‘ (یعنی اپنی بیٹی محمدی بیگم جس کی عمر ۹سال ہے۔ میرے نکاح میں دو گے تو میں ہبہ نامہ پر دستخط کر وں گا۔ ناقل)
    (تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۷)
    ابوعبیدہ: خوب! جناب نے بڑا غضب کیا۔ مجھے اب سمجھ آئی ہے کہ آپ کے پاس سے وہ تیوری چڑھا کر کیوں چلاگیا؟ آخر وہ بھی تو مغل تھا۔ بیل کو کنوئیں میں خصی کرنے کا مصداق کیوں بنتا۔ واقعی کوئی غیرت مند انسان اپنی گوشہ جگر کو کسی قیمت پر بھی فروخت کرنے کو تیار نہیں ہوا سکتا۔
    اچھا تو فرمائیے! مرزااحمد بیگ اور ان کے خاندان کی دینداری کے متعلق جناب کی کیا رائے ہے؟
    مرزاقادیانی: ماسٹر صاحب! آپ جانتے ہیں ہم روزانہ نماز میں خدا سے عہد کرتے ہیں۔ ’’ونخلع ونترک من یفجرک‘‘ ہم بے دینوں سے دوستی اور مودت کا مظاہرہ کیسے کر سکتے ہیں۔ مرزااحمد بیگ اور ان کے خاندان کے ساتھ ہمارے تعلقات اور عقیدت میرے مندرجہ ذیل مکتوبات سے ظاہر وباہر ہے۔
    قول:۲۸… ’’مشفقی مکرمی اخویم مرزااحمد بیگ سلمہ اﷲ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ،
    میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کرو۔ تاکہ میرے دل کی محبت اور خلوص ہمدردی جو آپ کی نسبت میرے دل میں ہے۔ آپ پر ظاہر ہو جائے۔ میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ (محمدی بیگم کا میرے ساتھ نکاح کر دینے) سے انحراف نہ فرمائیں… آپ کے سب غم دور ہوں… اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمائیں۔ والسلام!‘‘
    (خاکسار احقر عباد اﷲ غلام احمد عفی عنہ مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۸۹۲ء، کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۴،۱۲۵)
    ۲… خط مرزاقادیانی بنام مرزاعلی شیر بیگ جو محمدی بیگم کے پھوپھا تھے۔
    ’’مشفقی مرزاعلی شیر بیگ سلمہ اﷲ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ،
    خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح کا فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔‘‘
    (راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ۲؍مئی ۱۸۹۱ء، کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۵)

اس صفحے کی تشہیر