1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ

    تحفظ ناموس رسالتﷺ و ختم نبوت پر دنیا کی مایہ ناز کتب پرٹائپنگ ، سکینگ ، پیسٹنگ کا کام جاری ہے۔آپ بھی اس علمی کام میں حصہ لیں

    ختم نبوت لائبریری پراجیکٹ
  3. ہمارا وٹس ایپ نمبر whatsapp no +923247448814
  4. [IMG]
  5. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

31 ماہ میں امام الدین کے اہل و عیال سے کسی کے مرنے کی پیشگوئی

ضیاء رسول امینی نے 'تذکرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ اکتوبر 31, 2016

  1. ‏ اکتوبر 31, 2016 #1
    ضیاء رسول امینی

    ضیاء رسول امینی منتظم اعلیٰ رکن عملہ ناظم پراجیکٹ ممبر رکن ختم نبوت فورم

    فراڈ ہو تو ایسا۔ پڑھ کے دماغ نہ گھوم جائے تو کہنا
    ہر بار مرزا قادیانی کی کتابوں سے نئے سے نیا گند برآمد ہوتا ہے ، اسکی وجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ ہم کچھ باتوں پر زیادہ غور نہیں کرتے کہ یہ تو معمولی سی بات ہے اسکی کیا تحقیق کرنی ممکن ہے ایسا ہوگیا ہو، جیسا کہ مذکورہ فراڈ جس میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ میں نے پیش گوئی کی تھی کہ 31 ماہ میں میرے رشتہ دار امام الدین کے اہل و عیال و اولاد پر سخت مصیبت پڑے گی یعنی ان میں کوئی مرد یا عورت بچہ یا بوڑھا فوت ہوجائے گا، اس معاملے کو پہلی بار دیکھ کے توجہ نہ دئیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ 31 ماہ کا وقت دیا ہوا تھا اور اتنے لمبے عرصے میں ممکن ہے کسی بھی فیملی کے اہل وعیال و اولاد میں سے کوئی فوت ہوجائے اس کا مشاہدہ ہم اپنی زندگیوں میں بھی کرتے ہیں آئے روز کوئی نہ کوئی رشتہ دار وفات پا جاتا ہے، اس لیے یہ سوچ کے توجہ نہیں دی کہ ممکن ہے 31 ماہ میں کوئی فوت ہوگیا ہو یہ پیشگوئی نہیں اٹکل پچو ہے لیکن آج پھر تذکرہ دیکھ رہا تھا تو اس بات کی تھوڑی تحقیق کرنے کا سوچا پھر جو انکشاف ہوا آپ کے سامنے رکھتا ہوں
    مرزا قادیانی کی پیشگوئیاں آپ پڑھ کر دیکھیں کہ ان کا پورا ہونا تو لکھا ہوا ملے گا مگر وہ پیش گوئی کب کی گئی تھی اس کا کوئی ثبوت کہیں نہیں ملتا بس کوئی واقعہ ہوجانے کے بعد جھوٹ بول دیتا تھا کہ میں نے اس بارے پیش گوئی کی تھی اور وہ پیش گوئی پوری ہوگئی،
    یہ والی پیش گوئی کہ 31 ماہ میں امام الدین کے عزیز و اقارب میں کوئی مرے گا کسی جگہ بھی موجود نہیں یہ پہلی بار تب منظر عام پر آئی جب امام الدین کی بھتیجی فوت ہوئی اس کے فوت ہونے کے بعد مرزا قادیانی نے لکھ دیا کہ میں نے اس کے بارے 31 ماہ پہلے پیشگوئی کی تھی۔ جس کی تاریخ مرزا قادیانی نے 5 اگست 1885 بتائی اور یہ 5 مارچ 1888 تک یعنی 31 ماہ میں یہ پیشگوئی پوری ہونی تھی
    یہ پیشگوئی تذکرہ کے صفحہ 103 پر درج ہے، اور اس کے نیچے حوالہ دیا ہوا ہے تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ 102 اعلان 20 مارچ 1888
    جی دوستو کچھ سمجھ آئی؟ چلو میں سمجھاتا ہوں
    یہاں تذکرہ کے اس صفحہ ہر حوالہ وہ دیا جانا چاہیے تھا جس دن یہ پیش گوئی کی گئی تھی یعنی 5 اگست 1885 یا اس سے پہلے کا کوئی حوالہ دیا جانا چاہیے تھا کہ دیکھو وہاں یہ پیش گوئی کی گئی تھی، لیکن حوالہ یہاں دیا جارہا ہے 20 مارچ 1888 کے کسی اعلان کا، یعنی پیشگوئی پوری کرنے کے بعد کے اعلان کا حوالہ۔ :v یہاں 1885 کے کسی اشتہار یا کتاب وغیرہ کا حوالہ ہونا چاہیے تھا جہاں یہ پیش گوئی موجود ہوتی۔ مگر ایسی کوئی پیشگوئی کی ہوتی تب ناں
    اب نیچے حاشیے میں چلیں تذکرہ کے اسی صفحے کے
    یہاں پیشگوئی کیسے پوری ہوئی اس کا ذکر ہے، یعنی اوپر 1885 کے الہامات میں پیشگوئی کا ذکر ہے اور نیچے حاشیے میں وہ پیش گوئی کیسے پوری ہوئی اس کا ذکر ہے، لیکن دجل تلبیس کا بہترین نمونہ ملاحظہ فرمائیں کہ حوالہ نیچے بھی وہی دیا گیا ہے جو اوپر دیا ہوا ہے یعنی 20 مارچ 1888 کے اعلان کا ، لیکن ایک ہی حوالے کو مختلف انداز میں لکھا کہ اوپر صرف تبلیغ رسالت کا صفحہ 102 لکھا ہے اور نیچے تبلیغ رسالت کا صفحہ 103 کردیا ہے اور ساتھ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 144 کا حوالہ بھی ڈال دیا ہے ، اوپر والا حوالہ چھوٹا لگ رہا ہے اور حاشیے والا بڑا یعنی سرسری نظر سے کوئی دیکھے تو اس کو لگے کہ 2 مختلف حوالے ہیں جبکہ دونوں جگہ ایک ہی حوالہ ایک ہی اعلان ۔۔۔۔۔ یعنی پیش گوئی کیے جانے اور پیش گوئی پورا ہونے والے دونوں حوالے 20 مارچ 1888 کے ہیں
    اور تبلیغ رسالت بھی مجموعہ اشتہارات ہی ہے :v صرف جب اس کو مجموعہ اشتہارات کا نام دیا گیا تو صفحات کی ترتیب تبدیل کردی گئی
    اسے کہتے ہیں مرزائیت
    اب جب مجموعہ شتہارات جلد اول صفحہ 144 پہ جاتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں بھی 20 مارچ 1888 کا اشتہار درج ہے یعنی پیش گوئی پوری کردینے کے بعد کا اور اس میں بھی یہی لکھا ہوا ہے کہ 1885 میں میں نے پیشگوئی کی تھی جو اب پوری ہوگئی، میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا کہ پیش گوئی کی کب تھی اس کا کوئی حوالہ نہیں ہر جگہ یہی لکھا ہوا ہے کہ 1885 کو میں نے پیش گوئی کی تھی اور اب پوری ہوگئی :v
    اب ذرا آگے چلیے صفحہ 144 والا اشتہار ایک صفحہ پہلے یعنی صفحہ 143 سے شروع ہورہا ہے جس میں یہی بتایا جارہا ہے کہ میری پیشگوئی پوری ہوگئی۔ یہاں ایک اور دھوکہ پکڑا گیا کہ 143 صفحہ کے نیچے لکھا ہوا ہے کہ اس پیش گوئی کا معاہدہ جو کہ 1885 میں کیا گیا تھا وہ اسی جلد کے صفحہ 95 پر درج ہے
    شکر ادا کیا کہ چلو معلوم ہوگا کہ پیش گوئی تھی کیا کیونکہ مرزا قادیانی پیش گوئی کچھ کرتا تھا لیکن ہوتا کچھ اور تھا پھر کہہ دیتا تھا میں نے ایسا ہی کہا تھا جیسے لیکھرام کی پیش گوئی میں اسکے مرنے کے بعد مرزے نے چھری کا اضافہ کردیا کہ میں نے کہا تھا چھری سے مارا جائے گا جو کہ سفید جھوٹ ہے
    جب صفحہ 195 پر دیکھا تو وہاں آریوں سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ کچھ پیش گوئیاں کروں گا جن کو ایک سال کے عرصہ میں پورا کرکے دکھلاوں گا، وہاں معاہدہ ایک سال کا تھا اور اس میں بھی کسی جگہ ذکر تک نہیں کہ 31 ماہ میں امام الدین کے اہل و عیال میں سے کوئی فوت ہوجائے گا، صرف اتنا تھا کہ ایک سال کے اندر کچھ پیش گوئیاں پوری کر دکھاوں گا، لیکن جب امام الدین کی بھتیجی فوت ہوئی تو مرزے نے کہ دیا کہ میں نے 31 ماہ کے اندر امام الدین کے اہل و عیال میں سے کسی کے مرنے کی پیش گوئی کی تھی جو کہ پوری ہوگئی۔
    یہ ہے مرزا غلام قادیانی۔ آپ کا دماغ گھوم گیا ہوگا کہ کس قدر دھوکے باز آدمی تھا مرزا
    ۔۔۔ اب ایک سوال پیدا ہوگا آپ کے ذہن میں کہ تذکرہ میں تو یہ الہام یعنی پیش گوئی 1885 کے الہاموں میں درج ہے، جب یہ بتایا ہی مرزا نے 1888 میں تھا تو 1885 کے الہامات میں یہ کہاں سے آگئی؟
    تو جناب وہ اس لیے کہ تذکرہ تو بعد میں ترتیب دیا گیا مرزے کے مختلف الہاموں کو اکٹھا کرکے اس لیے جب تذکرہ ترتیب دیا گیا تو وہاں 1885 کے الہامات میں یہ پیش گوئی بھی گھسا دی گئی کیونکہ مرزا قادیانی نے 1888 میں کہہ جو دیا تھا کہ 1885 میں یہ الہام یعنی پیش گوئی ہوئی تھی مجھے :v
    اب چلتے ہیں اشتہاروں کے نیچے گواہوں کی طرف تو جناب مرزا قادیانی کی طرف سے 3 گواہ اس کے اپنے مرید تھے ان پر تو مزید بحث کی ضرورت نہیں انہوں نے وہی کرنا تھا جو مرزے نے کہنا تھا اور مرزے کی انہیں کرتوتوں کی وجہ سے ان میں سے ایک گواہ محمد حسین بٹالوی نے کچھ ہی عرصہ بعد مرزا قادیانی پر لعنت ڈال کے اس سے علیحدہ ہوگیا تھا۔
    اب رہے ہندوو گواہ تو ان کا بھی سن لیں کہ ان کے ساتھ مرزے نے کیا فراڈ کیا

    1۔ پنڈت بھارا مل 2۔ پنڈت بیجناتھ 3 بشنداس برہمن 4 بشنداس کھتری
    مرزے قادیانی نے جب 1885 کو ایک سال کے اندر اندر پیشگوئیاں کرکے پوری کر دکھلانے کا اعلان کیا تو اس وقت پنڈت لیکھ رام اور مرزے کی کافی خط و کتابت اشتہار بازی ہوئی یہاں تک کہ لیکھرام مرزے کی پیش گوئیاں دیکھنے 2 ماہ تک قادیان میں آیا رہا مگر مرزا لگاتار ٹال مٹول کرتا رہا جیسا اسکی عادت تھی اور بالآخر وہ واپس چلا گیا تو مرزے نے قادیان کے ہی چند جاہل گوار اجنڈ قسم کے ہندووں کو بلوایا اور ایک کاغذ پر یہ کہہ کر دسخط کروائے کہ آپ کو الہام سنایا جائے گا، وہ دس میں سے یہ والے 4 جو اس اشتہار میں درج ہے اور ان کے علاوہ 6 اور بھی جو کہ کے سب کے سب مطلقا جاہل گوار تھے ۔ مرزا قادیانی نے ان میں سے ان چار لوگوں کے دستخط کروا لیے خالی کاغذ پر یہ کہہ کر کہ میں آپ کو الہام سناوں گا، وہ لوگ ایک تو ہندوو تھے دوسرا ان پڑھ ان کو اس بات کا بھی علم تک نہ تھا کہ الہام ہوتی کیا بلا ہے یہاں تک کہ وہ مرزا سے سن کر بعد میں الہام کو حرام کہتے تھے جسکو بھی بتاتے تھے، دستخط کروانے کے بعد مرزا قادیانی نے ان 10 کے نام سے خود ایک اشتہار شایع کردیا کہ ان دس لوگوں نے مجھے خط لکھا ہے کہ وہ حق کے طالب ہیں اور ایک سال تک آپ کے ساتھ رہیں گے اگر کوئی نشان دیکھا یا پیشگوئی پوری ہوئی تو وہ سب کے سامنے اسکی تصدیق کریں گے۔ اور پھر اس خط کا اشتہار میں جواب بھی دیا کہ مجھے منظور ہے آپ آجائیں ایک سال میرے پاس رہیں۔
    جب پنڈت لیکھرام اور دوسرے پڑھے لکھے ہندووں نے اشتہار دیکھا تو وہ پریشان ہوئے کہ یہ کون لوگ ہیں کون سے پنڈت ہیں جن کا نام تک نہیں سنا یہ مرزا کی کوئی چال نہ ہو، جب انہوں نے ان لوگوں کو ڈھونڈ لیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے کوئی خط نہیں لکھا ہم تو لکھنا پڑھنا جانتے تک نہں، ہمیں تو مرزا نے اپنے پاس بلایا تھا اور کہا تھا کہ اس کاغذ پہ اپنے اپنے نام لکھ دو آپ لوگوں کو میں حرام (الہام) سناوں گا اور آپ اس الہام کے گواہ ہوجانا، ہمیں تو بتایا بھی نہیں کہ حرام (الہام)ہوتا کیا ہے، تو پنڈت لیکھرام اور دوسرے آریوں نے اسی وقت 1886 میں ہی ایک اشتہار ''قادیان کے دس ہندوان کی کارسازی اور مرزا قادیانی کی افترا پروازی'' کے نام سے شایع کیا اور کہا کہ ہم نے کوئی خط مرزے کو ایسا نہیں لکھا جس کا مرزا نے اشتہار شایع کیا یہ مرزا قادیانی کا خود تراشا ہوا خط ہے۔
    اب مرزے کے پاس وہ کاغذ تھا جس پر ان 4 لوگوں نے اپنے نام لکھ کر دئیے تھے وہی نام ہی دستخط تھے انہیں کا ذکر مرزا قادیانی نے اپنی اس پیشگوئی کو پورا کرنے کے بعد کیا ہے ان چار لوگوں کے نام گواہ شد لکھ کے نیچے مرزا نے لکھے ہیں۔ جبکہ نہ ان کو کوئی پیشگوئی بتائی گئی، نا کوئی ایسی پیشگوئی کہیں شایع ہوئی ۔ اس طرح مرزا قادیانی کی اس من گھڑت پیش گوئی کا کچہ چٹھا پہ آپ کے سامنے ہے۔ ذرا سوچیں کس قدر عیار انسان تھا یہ

    1.jpg 22.jpg 14917057_525801320877931_6680094380799254992_o.jpg 1.jpg 22.jpg 232.jpg 14708181_525801140877949_2722958509807828756_n.jpg 14708181_525801140877949_2722958509807828756_n.jpg 14917057_525801320877931_6680094380799254992_o.jpg 232.jpg 1.jpg 22.jpg 232.jpg 14708181_525801140877949_2722958509807828756_n.jpg 14917057_525801320877931_6680094380799254992_o.jpg 14590367_1144008239011512_8182484774931838020_n.jpg
    آخری تدوین : ‏ اکتوبر 31, 2016

اس صفحے کی تشہیر