1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

45 تا 46اقوال:محمدی بیگم سے پہلے کتنی بیویاں تھیں؟ محمدی بیگم سے نکاح کے لیے اس کے ماموں کو لالچ دیا

محمدابوبکرصدیق نے 'منکوحہ آسمانی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 4, 2015

  1. ‏ نومبر 4, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    محمدی بیگم سے پہلے کتنی بیویاں تھیں؟ محمدی بیگم سے نکاح کے لیے اس کے ماموں کو لالچ دیا

    ابوعبیدہ: جناب والا محمدی بیگم کے نکاح سے پہلے آپ کے نکاح میں کتنی بیویاں تھیں؟
    قول:۴۵… ’’میری کل تین بیویاں بیاہ ہوئی تھی۔ جن کے متعلق میرے الہامات ذیل شاہد عدل ہیں۔ ’’یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ہیں۔ پہلا نام آدم، یہ وہ ابتدائی نام ہے جب کہ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کاذکر فرمایا۔ (اس بیوی کو باوجود مبشرہ بالجنۃ ہونے کے مرزاقادیانی نے بعد میں محمدی بیگم کے نکاح کی زد میں لاکر طلاق دے دی تھی۔ ناقل) پھر دوسری زوجہ کے وقت میں (خدا نے میرا نام) مریم رکھا… اور تیسری زوجہ (محمدی بیگم ہے۔ ناقل) جس کا انتظار ہے۔‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)
    ابوعبیدہ: مرزاقادیانی آپ کے اس الہام کی رو سے تو پہلی بیوی قطعاً دین دار اور جنتی معلوم ہوتی ہے۔ مگر آپ نے اس الہام الٰہی کے خلاف اس کو دشمن دین سمجھ کر طلاق دے دی۔ میں اس معمہ کو حل نہیں کر سکا۔ جمع بین النقیضین معلوم ہوتی ہے۔
    آمدم برسرمطلب۔ میرا خیال ہے کہ شاید آپ کو محمدی بیگم کی پیش گوئی میں غلطی لگ رہی ہے۔ جب خدا نے اس کا نکاح سلطان محمد کے ساتھ کر دیا تو اب آپ کیا امید رکھتے ہیں؟
    مرزاقادیانی: صاحب! مجھے بھی الہام در الہام کے ذریعہ خدا نے بتایا ہے کہ وہ بیوہ ہوکر میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ دیکھو میرا الہام ذیل اور اس کی بحث۔
    قول:۴۶… ’’(الہام) ’’بکر وثیب‘‘ یعنی مقدریوں ہے کہ ایک بکر (کنواری) سے شادی ہوگی اور پھر بعدہ ایک بیوہ سے۔ میں اس الہام کو یاد رکھتا ہوں۔‘‘
    (اس بیوہ سے مراد محمدی بیگم کے سوا اور کون ہوسکتی ہے۔ ناقل)
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴، خزائن ج۱۱ ص۲۹۸)
    ابوعبیدہ: جناب! کہتے ہیں کہ ایسے مشکل کاموں میں متعلقین کو انعام واکرام دینے سے بہت دفعہ کام نکل جاتا ہے۔ آپ نے اگر محمدی بیگم کے ماموں مرزاامام الدین صاحب کو کچھ انعام دیا ہوتا تو وہ ضرور آپ کا کام کرادیتا۔ کیونکہ وہ بہت بارسوخ آدمی تھا۔ (مرزاامام الدین۔ مرزاقادیانی کا چچازاد بھائی تھا)
    مرزاقادیانی: ماسٹر صاحب! اس کا جواب میرے مرید میاں عبداﷲ سنوری اور میرے صاحبزادے مرزابشیر احمد کی زبانی سنئے:
    قول میاں عبداﷲ سنوری ’’ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرادینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہ ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب محمدی بیگم کا والد مرزااحمد بیگ ابھی زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں… حضرت صاحب سے کچھ انعام کا خواہاں بھی تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔‘‘
    (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۹۲،۱۹۳، روایت نمبر۱۷۹)
    قول مرزا بشیر احمد ولد مرزاقادیانی
    ’’یہ شخص (مرزا امام الدین ماموں محمدی بیگم) اس معاملہ میں بدنیت تھا اور حضرت صاحب سے صرف کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔ (صاحب! اس طرح تو وہ پیش گوئی کو پورا کر رہا تھا۔ یعنی اس کی بیوگی کا سامان مہیا کر رہا تھا۔ محمدی کا پہلے کہیں نکاح ہوتا تو وہ بیوہ ہوکر آپ کے والد کے نکاح میں آتی نا۔ پس وہ تو اچھا کر رہا تھا نہ کہ بدنیت کہلانے کا مستحق تھا۔ ابوعبیدہ) مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں (باوجود کوشش کے ہمیں وہ احتیاطیں معلوم نہیں ہوسکیں، افسوس۔ ابوعبیدہ) ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔‘‘
    (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۹۲،۱۹۳، روایت نمبر۱۷۹)

اس صفحے کی تشہیر