1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

5 تا 8 اقوال: اپنی نبوت کے دلائل اپنی سچائی کا معیار مقرر کرتے ہوئے

محمدابوبکرصدیق نے 'منکوحہ آسمانی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 4, 2015

  1. ‏ نومبر 4, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    اپنی نبوت کے دلائل اپنی سچائی کا معیار مقرر کرتے ہوئے

    ابوعبیدہ: جناب کیا آپ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کچھ دلائل بھی پیش کر سکتے ہیں؟
    قول:۵… ’’خدا نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)
    ابوعبیدہ: جناب عالی! خدا اپنے مأمور من اﷲ کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کس قسم کی دلیل دیا کرتا ہے؟ قرآن اور توریت سے دلیل بیان فرمائیے۔
    قول:۶… ’’قرآن کریم اور توریت نے سچے نبی کی شناخت کے لئے یہ… علامت قرار دی ہے کہ اس کی پیش گوئیاں وقوع میں آجائیں یا اس کی تصدیق کے لئے پیش گوئی ہو۔‘‘
    (نشان آسمانی ص۳۴، خزائن ج۴ ص۳۹۴)
    دلیل قرآنی: ’’فلا تحسبن اﷲ مخلف وعدہ رسولہ (ابراہیم:۴۷)‘‘
    {یعنی ایسا ہرگز گمان نہ کر کہ اﷲتعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔}
    دلیل توریت: دیکھو کتاب استثناء باب۱۸۔
    ابوعبیدہ: جناب کی سچائی ہم کس طریق سے معلوم کریں؟ ممکن ہے کہ ایک مدعی اپنے دعاوی میں جھوٹا اور شیطانی ملہم ہو۔
    قول:۷… ’’بدخیال لوگوں کو واضح ہوکہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک (کسوٹی) امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۸، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۹)
    ابوعبیدہ: اگر جناب کی پیش گوئیاں پوری نہ ہوئی ہوں تو پھر جناب کے متعلق ہم کیا رائے قائم کریں؟
    قول:۸… ’’کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۳ ص۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۷۳)

اس صفحے کی تشہیر