1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

51 تا 54 اقوال: محمدی بیگم کا شوہرپیشنگوئی کے مطابق کیوں نہ مرا؟، مرزا کا نکاح زمین پر ہی ہونا تھا۔

محمدابوبکرصدیق نے 'منکوحہ آسمانی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ نومبر 4, 2015

  1. ‏ نومبر 4, 2015 #1
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    محمدی بیگم کا شوہرپیشنگوئی کے مطابق کیوں نہ مرا؟، مرزا کا نکاح زمین پر ہی ہونا تھا۔

    ابوعبیدہ: جناب عالیٰ! آپ کی پیش گوئی کے مطابق احمد بیگ کے داماد صوبیدار میجر سلطان محمد آف پٹی نے ۱۸۹۵ء میں فوت ہوجانا تھا۔ مگر وقت مقررہ پر کیوں نہیں مرا؟
    مرزاقادیانی: ماسٹر صاحب! مرزاسلطان محمد آف پٹی کی پیش گوئی تو انذاری تھی۔
    قول:۵۱… ’’وہ اپنے خسر کی موت کے بعد بہت ڈرگیا کہ قریب تھا کہ وہ اس حادثہ کے معلوم ہونے پر مر جاتا اور اس کو اپنی جان کا فکر لگ گیا اور محمدی بیگم کے ساتھ نکاح ہوجانے کو وہ ایک آسمانی آفت (اس آفت کو دور کرنے کا آسان علاج تھا۔ محمدی بیگم کو طلاق دے کر آپ کے حوالے کر دیتا اور عیش کرتا رہتا۔ ٹھیک ہے نا صاحب۔ ابوعبیدہ) سمجھنے لگ گیا۔ اس واسطے اس کی موت میں تأخیر واقع ہوگئی۔‘‘
    (انجام آتھم ص۲۲۰،۲۲۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    ابوعبیدہ: جناب کی پیش گوئی بابت موت سلطان محمد خاوند محمدی بیگم واقعی انذاری تھی۔ جس کا ملخص یہ ہے کہ جو شخص محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرے گا۔ وہ اڑھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا۔ ٹھیک ہے نا مرزاقادیانی! کیونکہ آپ نے اپنے قول نمبر۳۲ میں یہی فرمایا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ محمدی بیگم کا خاوند پیش گوئی کی زد میں صرف محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کر لینے کی وجہ سے آیا تھا۔ ورنہ نکاح سے پہلے تو آپ کو سلطان محمد آف پٹی سے غالباً کوئی جان پہچان بھی نہ تھی۔ سلطان محمد کا جرم صرف یہی تھا کہ اس نے ایک ایسی لڑکی سے نکاح کر لیا۔ جس کے ساتھ خدا نے آپ کا نکاح آسمان پر باندھا ہوا تھا اور آپ کے قول کے مطابق چونکہ محمدی بیگم کا آپ کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم تھا۔ اس واسطے اس کے خاوند کا مرنا بھی تقدیر مبرم ہونا چاہئے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
    مرزاقادیانی: ہاں صاحب! بالکل ٹھیک ہے۔ میرے مذکورہ بالا اقوال اس پر شاہد عادل کا حکم رکھتے ہیں۔
    ابوعبیدہ: صاحب! میری عرض یہ ہے کہ سلطان محمد کی موت میں تاخیر ازروئے پیش گوئی ہو نہیں سکتی تھی۔ اس کا جرم تھا آپ کی آسمانی بیوی کے ساتھ نکاح کر لینا۔ اس کی سزا موت کی صورت میں مقدر ہوچکی تھی۔ سلیس اردو میں یوں سمجھیں کہ اگر سلطان محمد سے محمدی کے ساتھ نکاح کرنے کا جرم سرزد ہوا تو وہ اڑھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا۔ اس نے موت کی پرواہ نہ کی اور نکاح کر لیا۔ اب پیش گوئی کے مطابق اسے ضرور اڑھائی سال کے اندر مرنا چاہئے تھا۔
    مرزاقادیانی: (خاموش ہوگئے)
    ابوعبیدہ: مرزاقادیانی مدت کے سوال کو جانے دیجئے اور سلطان محمد کا اپنی موت سے بے پرواہ ہوکر محمدی کے ساتھ نکاح کر لینا بھی تسلیم سہی۔ ہم آپ کا یہ عذر بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ سلطان محمد بعد میں موت سے ڈرگیا۔ لہٰذا نہ مرا۔ اب اگر وہ ساری عمر موت سے ڈرتا رہا تو پھر تو آپ کے اصول سے ہمیشہ موت کا شکار ہونے سے بچتا رہے گا اور اس طرح انذاری پیش گوئی کی اس خاصیت سے وہ فائدہ اٹھاتا رہا۔ تاآنکہ جناب اس دنیا سے تشریف لے جائیں۔ اس صورت میں محمدی بیگم کا نکاح جناب سے کیسے ہو سکے گا؟ میرے خیال میں آپ میری اس دلیل کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔
    مرزاقادیانی: ماسٹر صاحب! میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب سلطان محمد آف پٹی میری زندگی میں نہیں مرے گا۔ ذرا میرے الہامات سابقہ کا پھر مطالعہ کیجئے۔ بالخصوص ’’فسیکفیکہم اﷲ ویردھا الیک لا تبدیل لکلمات اﷲ‘‘ اگر سلطان محمد میری زندگی میں نہ مرے تو الہام میں ’’یردھا‘‘ کے الفاظ بالکل بے معنی ٹھہرتے ہیں۔ باقی رہا سلطان محمد کا ہمیشہ ڈر ڈر کر جان بچاتے رہنا سو یہ ناممکن ہے۔ سنئے!
    قول:۵۲… ’’تحقیق میرے رشتہ دار بالخصوص سلطان محمد وغیرہ۔ دوبارہ فساد کریں گے اور خبث وعناد میں ترقی کریں گے۔ پس اس وقت خداتعالیٰ اس مقدر امر کو نازل کرے گا۔ کوئی آدمی اس کی قضا کو رد نہیں کر سکتا اور میں دیکھتا ہوں کہ وہ پھر پہلی عادتوں کی طرف مائل ہورہے ہیں اور ان کے دل سخت ہوگئے ہیں… اور خوف کے دنوں کو پھر بھلا دیا ہے اور ظلم اور تکذیب کی طرف پھر عود کر رہے ہیں۔ پس عنقریب خدا کا امر ان پر نازل ہوکر رہے گا۔‘‘
    (انجام آتھم ص۲۲۳،۲۲۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    قول:۵۳… ’’میں نے تمہیں یہ نہیں کہا کہ بس اسی جگہ سارا معاملہ ختم ہو جائے گا۔ (یعنی سلطان محمد کے ڈرنے اور پھر موت سے بچ جانے پر ہی معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ ناقل) اور بس یہی نتیجہ تھا جو ظاہر ہوگا اور محمدی بیگم اور اس کے خاوند کی پیش گوئی بس اس پر ختم ہوگئی۔ بلکہ اصلی پیش گوئی اپنے حال پر قائم ہے اور کوئی آدمی کسی حیلہ یا مکر سے اسے روک نہیں سکتا اور یہ پیش گوئی خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے اور عنقریب وہ وقت آئے گا۔ مجھے قسم ہے خدا کی کہ محمدی بیگم کے خاوند کے مرنے اور اس کے بعد محمدی بیگم کے میرے نکاح میں آنے کی پیش گوئی سچی ہے۔ پس عنقریب تم دیکھ لو گے۔ میں اس پیش گوئی کو اپنے سچایا جھوٹا ہونے کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور میں نے جو کچھ کہا الہام اور وحی سے معلوم کر کے کہا ہے۔‘‘
    (انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    ابوعبیدہ: مرزاقادیانی! ماشاء اﷲ آپ کو تو اپنے الہام اور وحی پر پورا پورا اعتماد بلکہ ایمان ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ واقعات کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی۔ کیسا اچھا ہوتا۔ اگر محمدی بیگم کی پیش گوئی اس بیچاری کو بیوہ کر کے آپ کے نکاح میں لانے کی بجائے کنواری حالت میں ہی آپ کے ساتھ نکاح ہو جانے تک محدود رہتی نہ سلطان محمد درمیان میں آتا نہ اس کی موت کا سوال پیدا ہوتا۔
    مرزاقادیانی: ماسٹر صاحب! میرا خدا بڑا قادر مطلق اور حکیم ہے۔ سنئے اصل حقیقت۔
    قول:۵۴… ’’خداتعالیٰ نے لفظ ’’فسیکفیکہم اﷲ‘‘ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ میں احمد بیگ کی بیٹی کو تمام رکاوٹیں دور کر کے واپس لاؤں گا۔ اصل مقصود ہی پیش گوئی کا محمدی بیگم کے خاوند کو ہلاک کرنا ہے اور باقی رہا محمدی بیگم کا اس قدر زبردست رکاوٹ کو دور کر کے میرے نکاح میں لانا۔ یہ پیش گوئی کی عظمت کو بڑھانے کے واسطے ہے۔‘‘
    (انجام آتھم ص۲۱۶،۲۱۷، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

اس صفحے کی تشہیر