1. Photo of Milford Sound in New Zealand
  2. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  3. Photo of Milford Sound in New Zealand
  4. Photo of Milford Sound in New Zealand

احتسابِ قادیانیت جلدنمبر 14 (توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام )

محمدابوبکرصدیق نے 'توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسی علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 1, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ فروری 4, 2015 #21
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 5 :
    (۱)’’دوسری قرأت اس آیت میں بجائے ’’قبل موتہ قبل موتہم‘‘ موجود ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۴، خزائن ج۲۲ ص۳۶)
    ۲… ’’ابی بن کعب کی قرأت سے ثابت ہوا کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں پھرتی۔ بلکہ اہل الکتاب کی طرف راجع ہے۔‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۴۷، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

    قادیانی اعتراض 6 :
    بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور یہ قول بالکل ضعیف ہے۔ محققین میں سے ایک نے بھی اس کو تسلیم نہیں کیا۔
    (حمامتہ البشریٰ ص۴۸، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

    قادیانی اعتراض 7:
    ’’چونکہ علماء اسلام اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت اختلاف کرتے ہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ سب اصل حقیقت سے بے خبر ہیں۔‘‘
    (ملخص از عسل مصفیٰ ج۱ ص۴۱۹، ۴۲۰)
    ناظرین! اسی قدر اعتراضات قادیانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ ذیل میں بالترتیب جوابات عرض کرتا ہوں۔

    جوابات:
    اعتراض نمبر 5 کا جواب:
    مرزاقادیانی کا پانچواں اعتراض یہ ہے کہ قرأۃ ابی بن کعب میں ’’قبل موتہ‘‘ کی بجائے ’’قبل موتہم‘‘ آیا ہے۔ جس سے مراد ’’اہل کتاب کی موت سے پہلے‘‘ ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ مرزاقادیانی کے دجل وفریب کی قلعی ذیل میں یوں کھولی جاتی ہے۔
    ۱… یہ روایت ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ٹھہرانے والا وہ بزرگ ہے۔ جو مرزاقادیانی کے نزدیک نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔ (یعنی مفسر ومحدث ابن جریر)

    (چشمہ معرفت ص۲۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱)
    نیز اسی مفسر ابن جریر کے متعلق مرزاقادیانی کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کا فتویٰ ہے۔
    ’’اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘

    (اتقان ج۲ ص۳۲۵)
    ’’معتبر علماء امت کا اجماع ہے۔ اس بات پر کہ امام ابن جریر کی تفسیر کی مثل کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔‘‘
    اس روایت کو ضعیف ٹھہرا کر مفسر ابن جریر نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباسؓ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ’’قبل موتہ‘‘ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ہے۔ نہ کہ کتابی کی موت۔

    (تفسیر ابن جریر)

    اعتراض نمبر 6 کا جواب:
    ۲… خود مرزاقادیانی نے ’’موتہ‘‘ کی ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا تسلیم کیا ہے۔
    (ازالہ اوہام ص۳۷۲،۳۸۶، خزائن ج۳ ص۲۹۱،۲۹۹)
    ہاں کلام اﷲ کے الفاظ کو نعوذ باﷲ ناکافی بتلا کر ایسے ایسے مخدوفات نکالے ہیں کہ تحریف میں یہودیوں سے بھی گوئے سبقت لے گیا ہے۔ بہرحال ہمارا دعویٰ سچا رہا کہ ’’ہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔
    ۳… نورالدین خلیفۂ اوّل مرزاقادیانی اپنی کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ص۷۲ میں اسی آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔
    ’’اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا۔ ساتھ اس کے (حضرت مسیح علیہ السلام کے) پہلے موت اس کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔‘‘ اس سے بھی ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ بے ثبوت ہے۔ کیونکہ ہم نے اس کے خلاف اس کے اپنے مسلمات اور معتبر آئمہ تفسیر کے اقوال پیش کئے ہیں۔

    اعتراض نمبر 7 کا جواب:
    ۴… جمہور علماء اسلام ہمیشہ ’’قبل موتہ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر استدلال کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ سابق میں ہم بیان کر آئے ہیں۔
    ۵… بخاری شریف کی صحیح حدیث اس روایت کی تردید کر رہی ہے۔ جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں۔
    ۶… اگر ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری جائے تو پھر معنی آیت کے یہ ہوں گے۔ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔‘‘ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کروڑہا اہل کتاب کفر پر مر رہے ہیں۔
    چنانچہ خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ’’ہر ایک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر واصل جہنم ہو چکے ہیں۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۳۶۷، خزائن ج۳ ص۲۸۸)
    پس مجبوراً ماننا پڑتا ہے کہ قبل موتہ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ ہے۔
    ۷… ’’لیؤمنن‘‘ میں لام قسم اور نون ثقلیہ موجود ہے۔ جو ہمیشہ فعل کو آئندہ زمانہ سے خاص کر دیتے ہیں۔ پس معنی اس کے یہ ہوں گے۔ ’’البتہ ضرور ایمان لے آئے گا۔‘‘ اگر ہر کتابی کا اپنی موت سے پہلے ایمان مقصود ہوتا تو پھر عبارت یوں چاہئے تھی۔
    ’’من یؤمن بہ قبل موتہ‘‘ جس کے معنی قادیانیوں کے حسب منشاء ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ یعنی ہر ایک اہل کتاب ایمان لے آتا ہے۔ اپنی موت سے پہلے۔ اگر قادیانی ہمیں اس قانون کا غلط ہونا ثابت کردیں تو ہم علاوہ مقررہ انعام کے مبلغ دس روپے اور انعام دیں گے۔ انشاء اﷲ قیامت تک کسی معتبر کتاب سے اس کے خلاف نہ دکھا سکیں گے۔
    ۸… آیت کا آخری حصہ ’’ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘
    {اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر شہادت دیں گے۔} قادیانی بھی اس حصہ آیت کے معنی کرنے میں ہم سے متفق ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود ونصاریٰ کے کس حال کی گواہی دیں گے۔ اگر آیت کے معنی قادیانی تفسیر کے مطابق کریں۔ یعنی یہ کہ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہمیں بتلائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے شہادت دیں گے اور کیا دیں گے؟
    ہاں اگر اسلامی تفسیر کے مطابق مطلب بیان کیا جائے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں تمام یہود ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر ان کی موت کے بعد باقی نہ رہے گا تو پھر واقعی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی شہادت دے سکیں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن عرض کریں گے۔ ’’کنت علیہم شہیداً مادمت فیہم‘‘ جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان پر نگہبان تھا۔
    ۹… ’’قبل موتہ‘‘ میں ’’قبل‘‘ کا لفظ بڑا ہی قابل غور ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض علماء کا خیال ہے اور انہیں میں مرزاغلام احمد قادیانی بھی ہے کہ اس ایمان سے مراد ایمان اضطراری ہے جو غرغرہ (نزع) کے وقت ہر ایک کتابی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ دو وجہوں سے باطل ہے۔ اگر ایمان اضطراری مراد ہوتا تو اﷲتعالیٰ اپنی فصیح وبلیغ کلام میں ’’قبل‘‘ کی بجائے ’’عند موتہ‘‘ فرماتے۔ یعنی موت کے وقت ایمان لاتے ہیں اور وہ ایمان واقعی قابل قبول نہیں ہوتا۔ لیکن جس ایمان کا اﷲتعالیٰ بیان فرمارہے ہیں۔ وہ ایمان اہل کتاب کو اپنی موت سے پہلے حاصل ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ واقعات کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہی معنی صحیح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔
    ۱۰… مرزاغلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز تفسیر سے بھی ہم اپنے ناظرین کو محظوظ کرنا چاہتے ہیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ:
    ’’کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کئے ہیں۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔‘‘ یعنی تمام یہودی اور عیسائی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ فی الحقیقت انہوں نے مسیح کو صلیب نہیں دیا یہ ہمارا ایک اعجازی بیان ہے۔

    (ازالہ اوہام طبع اوّل ص۳۷۲،۳۷۶، خزائن ج۳ ص۲۹۱،۲۹۳)
    مجھے یقین ہے کہ ناظرین اوّل تو مرزاقادیانی کی پیچیدہ عبارت کا مطلب ہی نا سمجھ سکیں اور اگر سمجھ جائیں تو سوچیں کہ یہ عبارت کلام اﷲ کے کون سے الفاظ کا ترجمہ ہے۔

    چیلنج
    مرزاقادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص۵۴،۵۵،خزائن ج۶ ص۳۵۰،۳۵۱) پر صاف اقرار کرتے ہیں کہ ’’کلام اﷲ کا صحیح مفہوم ہمیشہ دنیا میں موجود رہا اور رہے گا۔‘‘
    نیز مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ خداتعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت ایسے آئمہ واکابر کے ذریعہ سے کی ہے جن کو ہر ایک صدی میں فہم القرآن عطاء ہوتا ہے۔

    (ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸)
    ہمارا چیلنج یہ ہے کہ اگر مرزاقادیانی میں کچھ بھی صداقت کا شائبہ ہے تو وہ یا ان کی جماعت اس آیت کی یہ تفسیر حدیث سے یا ۱۳۵۳ھ سال کے مجددین امت وعلماء مفسرین کے اقوال سے پیش کریں۔ ورنہ بمطابق ’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبؤا مقعدہ من النار‘‘
    (ترمذی ج۲ ص۱۲۳، باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن)
    یعنی فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ جس کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی۔ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا۔
    خود مرزاقادیانی تفسیر بالرائے کے متعلق لکھتے ہیں:
    ’’مؤمن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۳۲۸، خزائن ج۳ ص۲۶۷)
    پھر فرماتے ہیں:
    ’’ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا مسلمانوں کو اس سے بچائے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۷۴۵، خزائن ج۳ ص۵۰۱)
    پس یا تو مرزائی جماعت مرزاقادیانی کے بیان کردہ معنی کسی سابق مجدد یا مفسر امت کی کتاب سے ثابت کرے یا مرزاقادیانی کا اور اپنا ملحد اور محرف ہونا تسلیم کرے۔
  2. ‏ مارچ 31, 2015 #22
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 5 (وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا)(الزخرف:۶۱)
    قرآنی دلیل نمبر:۵…’’وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا (الزخرف:۶۱)‘‘
    معزز ناظرین! مذکورہ بالا آیت بھی دیگر آیات کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی پر ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے۔ ہم اپنی طرف سے کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ بلکہ جیسا کہ ہمارا اصول ہے۔ اس آیت کی تفسیر بھی ہم مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے مسلمات ہی سے پیش کریں گے۔تا کہ ان کے لئے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔

    ۱…تفسیر بالقرآن
    ۱… ہم پہلی آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی اور نزول جسمانی قرب قیامت میں ثابت کر آئے ہیں۔ پس ان آیات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں اور بالیقین کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (قرب) قیامت کے لئے ایک نشانی ہے۔ ’’انہ‘‘ میں ’’ہ‘‘ کی ضمیرکو بعض نے قرآن کریم کی طرف پھیرا ہے۔ مگر یہ بہت ہی بڑی بے انصافی ہے۔ (اس کی تائید میں ملاحظہ ہو قول ابن کثیر مجدد صدی ششم فہویأتی) آخر ضمیر کا مرجع معلوم کرنے کا بھی کوئی قانون ہے یا نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہورہا ہے اور ان کی خوبیاں بیان ہورہی ہیں۔ انہیں میں سے ایک یہ خوبی ہے کہ ان کی ذات شریف ہر لحاظ سے قیامت کے پہچاننے کی نشانی ہے۔ تفصیل اس کی یوں ہے۔
    ان کی پیدائش بے باپ محض کلمہ ’’کن‘‘ سے اور ان کے معجزات ’’احیاء موتی او خلق طیرو غیرہا‘‘ خدا کی قدرت احیاء موتیٰ کا عملی ثبوت ہو کر وقوع قیامت پر دلالت قطعیہ پیش کرتا ہے اور ان کا اس وقت تک زندہ رہ کر دوبارہ آنا خدا کی طرف سے لوگوں کی راہنمائی کے لئے قرب قیامت کی علامت ہے۔

    ۲…تفسیر آیت از حدیث
    ’’حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے سنن ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند امام احمد میں مرفوعاً مروی ہے کہ جس رات رسول کریمﷺ کو معراج ہوئی اس رات آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام وموسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام سے ملے تو قیامت کے متعلق تذکرہ ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال شروع ہوا تو ان کو قیامت کا کوئی علم نہ تھا۔ (کہ کب ہوگی) پھر موسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوا تو ان کو بھی اس کا کوئی علم نہ تھا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نوبت آئی۔ تو آپ نے کہا کہ قیامت کے وقوع کا علم تو سوائے خدا کے کسی کو نہیں۔ لیکن خداتعالیٰ نے مجھے قیامت کے نزدیک کا عہد کیا ہوا ہے۔ پس آپ نے دجال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں نازل ہوں گا تو اس کو قتل کروں گا۔‘‘
    دیکھو مسند احمد ج۱ ص۳۷۵، ابن ماجہ ص۲۹۹، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم، ابن جریر، حاکم وبیہقی، بحوالہ درمنثور اور بھی بہت سی احادیث اس کی تائید میں وارد ہیں۔ جن میں سے کچھ پہلے بیان ہوچکی ہیں اور بقیہ ’’حیات عیسیٰ از احادیث‘‘ کے ذیل میں بیان کی جائیں گی۔

    ۳…تفسیر از صحابہ کرام وتابعین عظام
    حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر ’’عن ابن عباسؓ فی قولہ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامۃ (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘
    حضرت ابن عباسؓ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’قیامۃ‘‘ سے پہلے تشریف لانا ہے۔
    ب… حضرت ابوہریرہؓ کی تفسیر ’’عن ابی ہریرہؓ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسیٰ علیہ السلام یمکث فی الارض اربعین سنۃ… یحج ویعتمر (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘
    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔ وہ زمین میں ۴۰ سال رہیں گے… حج کریں گے اور عمرہ بھی کریں گے۔
    ج… ’’عن مجاہدؓ وانہ لعلم للساعۃ قال آیۃ للساعۃ خروج عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم قبل یوم القیامۃ (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘
    حضرت مجاہدؓ جو شاگرد ہیں حضرت ابن عباسؓ کے۔ وہ بھی اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت سے پہلے قیامت کے لئے ایک نشان ہے۔
    د… ’’عن الحسنؓ وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسیٰ علیہ السلام (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘
    حضرت امام حسنؓ مجددین امت واولیاء امت کے سرتاج فرماتے ہیں کہ مراد اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔

    ۴…تفسیر از مجددین امت محمدیہؓ
    ۱… امام حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں بذیل آیت کریمہ فرماتے ہیں:
    ’’وقولہ سبحانہ وتعالیٰ وانہ لعلم للساعۃ تقدم تفسیر ابن اسحاق ان المراد من ذالک ما یبعث بہ عیسیٰ علیہ السلام من احیاء الموتیٰ وابراء الاکمہ والابرص وغیر ذالک من الاسقام وفی ہذا نظر وابعد منہ ماحکاہ قتادہ عن الحسن البصری وسعید ابن جبیر ان الضمیر فی انہ عائد الی القرآن بل الصحیح انہ عائد الیٰ عیسیٰ علیہ السلام فان السیاق فی ذکرہ ثم المراد بذالک نزولہ قبل یوم القیامہ کما قال تبارک وتعالیٰ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ علیہ السلام ثم یوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا ویؤید ہذا المعنی القرأۃ الاخریٰ وانہ لعلم للساعۃ ای امارۃ ودلیل علی وقوع الساعۃ قال مجاہد وانہ لعلم للساعۃ ای آیۃ للساعۃ خروج عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ وہکذا روی عن ابی ہریرہ وابن عباس وابی العالیہ وابی مالک وعکرمہ والحسن وقتادہ والضحاک وغیرہم وقد تواترت الاحادیث عن رسول اﷲﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامۃ اماماً عادلاً وحکماً مقسطاً‘‘
    اﷲتعالیٰ کے قول ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کے متعلق ابن اسحاق کی تفسیر گذر چکی ہے کہ مراد اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مثل مردوں کا زندہ کرنا، کوڑھوں اور برص والوں کو تندرست کرنا اور علاوہ اس کے دیگر امراض سے شفا دینا ہے۔ اس میں اعتراض اور اس سے زیادہ ناقابل قبول وہ ہے جو قتادہ نے حسن بصری ، سعید ابن جبیر سے بیان کیا ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ سیاق وسباق انہیں کے ذکر میں ہے۔ پس مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے… اور ان معنوں کی دوسری قرأت تائید کرتی ہے جو یہ ہے۔ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہے اور دلیل ہے۔ قیامت کے واقع ہونے پر۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں۔ ’’قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘
    اسی طرح ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوعالیہؓ، ابومالکؓ، عکرمہؓ، حسنؓ، قتادہؓ، ضحاکؓ وغیرہم بزرگان دین سے روایت ہے۔ حدیثیں رسول کریمﷺ سے حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل، حاکم اور منصف کی حالت میں نازل ہونے کی خبر دی ہے۔

    ۵…تفسیر آیت از امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم
    ۱… ’’وان عیسیٰ علیہ السلام (لعلم للساعۃ) شرط من اشراطہا تعلم بہ فسمی الشرط الدال علی الشیٔ علما لحصول العلم بہ وقرأ ابن عباس لعلم وھو العلامۃ… وفی الحدیث ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل علیٰ ثنیۃ فی الارض المقدسۃ یقال لہا افیق وبیدہ حربۃ وبہا یقتل الدجال فیأتی بیت المقدس فی الصلوٰہ الصبح والامام یؤم بہم فیتأخر الامام فیقدمہ عیسیٰ علیہ السلام ویصلی خلفہ علیٰ شریعۃ محمدﷺ‘‘
    (تفسیر کبیر ج۲۷ ص۲۲۲، بذیل آیت کریمہ)
    ’’عیسیٰ علیہ السلام قیامت معلوم کرنے کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے… ابن عباسؓ نے اس کو ’’لعلم للساعۃ‘‘ پڑھا ہے۔ جس کے معنی نشانی کے ہیں… اور حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارض مقدس میں افیق کے مقام پر نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا اور اس سے دجال کو قتل کریں گے۔ پس وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ درآنحالیکہ لوگ صبح کی نماز میں ہوں گے اور امام ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا۔ پس وہ پیچھے ہٹیں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام ان کو آگے کر دیں گے اور ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ اسلامی طریقہ سے۔‘‘
    تفسیر از امام لغت صاحب لسان العرب
    ’’وفی التنزیل فی صفۃ عیسیٰ صلوات اﷲ علیٰ نبینا وعلیہ (وانہ لعلم للساعۃ) وھی قرأۃ اکثر القراء وقراء بعضہم (انہ لعلم للساعۃ) والمعنی ان ظہور عیسیٰ علیہ السلام ونزولہ الیٰ الارض علامۃ تدل علیٰ اقتراب الساعۃ
    (لسان العرب ج۹ ص۳۷۲، بحرف علم)‘‘
    قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں آیا ہے۔ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ اور یہ اکثر قاریوں کی قرأت ہے اور ان میں سے بعض نے اس کو ’’لعلم للساعۃ‘‘ بھی پڑھا ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اور ان کا نازل ہونا زمین کی طرف ایسا نشان ہے جو قیامت کے نزدیک ہونے پر دلالت کرے گا۔
    لسان العرب کی عظمت واہمیت معلوم کرنا ہوتو مرزامحمود احمد قادیانی کا بیان ذیل ملاحظہ کریں۔
    ’’پس ان لغات (لغت کی چھوٹی چھوٹی کتب) کا اس معاملہ میں کوئی اعتبار نہیں۔ بلکہ اعتبار انہیں لغات کا ہوگا۔ جو بڑی ہیں اور جن میں تفصیل سے معنی بتائے جاتے ہیں اور عربی کی سب سے بڑی لغت تاج العروس ہے اور دوسرے نمبر پر لسان العرب ہے۔‘‘

    (حقیقت النبوۃ ص۱۱۵، ۱۱۶ حاشیہ)
    معزز ناظرین! ہم نے اپنی تائید میں مندرجہ زیل بزرگ ہستیوں کے بیانات پیش کئے ہیں۔
    ۱… اﷲ تبارک وتعالیٰ۔
    ۲… حضرت سید المرسلین محمد مصطفیﷺ۔
    ۳… حضرات صحابہ کرام بالخصوص حضرت ابن عباسؓ۔
    ۴… امام احمد، مجدد صدی دوم۔
    ۵… امام ابن جریرؒ۔
    ۶… امام حاکم نیشاپوری، مجدد صدی چہارم۔
    ۷… امام بیہقی مجدد صدی چہارم۔
    ۸… صاحب درمنثور امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم۔
    ۹… امام ابن کثیر مجدد صدی ششم۔
    ۱۰… امام فخر الدین رازی مجدد صدی ششم۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘
    یہ وہ اصحاب ہیں کہ حسب فتویٰ مرزاقادیانی ان افراد کے فیصلہ سے انحراف کرنے پر فوراً دائرہ اسلام سے خارج ہوکر مرتد، ملحد اور فاسق ہو جائیں گے۔ دیکھو قادیانی اصول وعقائد مندرجہ تمہید۔
    قادیانی جماعت ذرا ہوش سے ہمارے دلائل پر غور کرے۔ اگر خلوص سے کام لیں گے تو انشاء اﷲ حق کا قبول کرنا آسان ہو جائے گا۔
    اب ہم قادیانی اعتراضات پیش کرتے ہیں۔ جو فی الواقع ہم پر نہیں بلکہ مذکورۃ الصدر بزرگ ہستیوں پر وارد کر کے اس بات کا اعلان کرنا ہے کہ قادیانی خدا کو مانتے ہیں نہ رسول کو۔ صحابہ کرامؓ کو مانتے ہیں نہ مجددین امت کو۔ یوں ہی ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم ان سب کا ماننا اور مطیع رہنا اپنے ایمان کا جزو قرار دیتے ہیں۔

    قادیانی اعتراض نمبر:۱
    از مرزاغلام احمد قادیانی ’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کا ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۲۴، خزائن ج۳ ص۳۲۲)
    مرزاقادیانی نے کوئی دلیل ’’انہ‘‘ کی ضمیر کو قرآن شریف کے لئے متعین کرنے کے حق میں بیان نہیں کی۔ سوائے اس کے کہ ’’ہ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ماننے سے مرزاقادیانی کی مسیحیت معرض ہلاکت میں آجاتی ہے۔ اگر ہم ثابت کر دیں کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے تو مرزاقادیانی کی یہ ’’حق بات ہے‘‘ کی حقیقت الم نشرح ہوکر رہ جائے گی۔ سنئے!
    جواب نمبر:۱…
    سیاق وسباق میں بحث صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہستی سے ہے نہ قرآن کریم سے۔ پس جس کا ذکر ہی نہیں۔ اس کی طرف خواہ مخواہ ضمیر کو پھیرنا اگر سکھا شاہی نہیں تو اور کیا ہے۔
    جواب نمبر:۲…
    ہم نے قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر دیا ہے کہ ’’انہ‘‘ سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہے۔ اگر مرزاقادیانی اس کا انکار کریں گے تو حسب فتویٰ خود کافر وفاسق ہو جائیں گے۔
    جواب نمبر:۳…
    حضرت ابن عباسؓ ’’انہ‘‘ کی ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتے ہیں۔ جن کے متعلق مرزاقادیانی کا ارشاد ہے۔ ’’ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرتﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)
    اب کس کا منہ ہے جو حضرت ابن عباسؓ جیسی عظیم الشان ہستی کا فیصلہ رد کرے۔
    جواب نمبر:۴…
    مرزاقادیانی یا ان کی جماعت اپنی تائید میں اور ہماری مخالفت میں ۸۶گذشتہ مجددین مسلمہ قادیانی میں سے کسی ایک کو بھی پیش نہیں کر سکتے۔
    جواب نمبر:۵…
    خود مرزاقادیانی نے ’’انہ‘‘ کی ضمیرکو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا قبول کیا ہے۔
    (حمامتہ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)
    جواب نمبر:۶…
    خود مرزاقادیانی کے مرید ’’انہ‘‘ کی ضمیر کے قرآن کی طرف پھیرنے سے منکر ہیں۔ چنانچہ سرور شاہ قادیانی ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء میں لکھتے ہیں۔ ’’ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ (مثیل مسیح) ساعت کا علم ہے۔‘‘
    نوٹ:
    قادیانی سرور شاہ کا مبلغ علم اسی بات سے اظہر من الشمس ہوا جاتا ہے کہ مسیح کے ساتھ مثیل کی دم اپنی طرف سے بڑھا دی ہے۔ اگر ایسا کرنا جائز قرار دیا جائے تو قرآن شریف کی تفسیر ہر ایک آدمی اپنے حسب منشاء کر سکتا ہے۔ مثلاً جہاں رسول کریمﷺ کا اسم مبارک ہے۔ وہاں بھی کہہ دیا جائے کہ اس سے مثیل محمد مراد ہیں جو قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باﷲ) مرزاقادیانی ہیں۔

    جواب نمبر:۷…
    مرزاقادیانی کے بڑے فرشتہ احسن امروہی مرزاقادیانی کی تردید میں یوں فرماتے ہیں:
    الف…
    ’’دوستو! یہ آیت ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سورۃٔ زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘
    (اخبار الحکم مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۹ئ)
    ب…
    ’’آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر ’’انہ‘‘ کی طرف قرآن شریف یا آنحضرتﷺ کے راجع نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔‘‘
    (اعلام الناس حصہ دوم ص۵)
    اعتراض نمبر:۲…
    ازمرزاقادیانی ’’ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کوملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو… اگر خداتعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تب ان کا آسمان سے نازل ہونا مردوں کے جی اٹھنے کے لئے بطور دلیل یا علامت کے ہوگا۔ تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خداتعالیٰ لوگوں کو کیوںکر ملزم سکتا ہے۔ کیااس طرح اتمام حجت ہوسکتا ہے؟ کہ دلیل تو ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام ونشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے سے ہی منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم کیوں یقین نہیں کرتے۔ کیا ان کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہوسکتا کہ یا الٰہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا۔ جس کی وجہ سے ’’فلا تمترن بہا‘‘ کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۲۳، خزائن ج۳ ص۳۲۱،۳۲۲)
    جواب…
    مرزاقادیانی کا یہ اعتراض ناشی ازجہالت ہے۔ اپنی کم علمی سے ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کو ’’فلا تمترن بہا‘‘ کے لئے دلیل ٹھہرا لیا اور پھر اس دلیل کے غلط ہونے پر منطقی بحث شروع کر دی۔
    کاش! مرزاقادیانی نے تفسیر اتقان اپنے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی کتاب ہی میں کلمہ ’’ف‘‘ کی بحث پڑھ لی ہوتی۔ پھر یقینا ایسا مجہول اعتراض نہ کرتے۔ اس کا جواب ہم کئی طرز سے دیں گے۔
    اس آیت کا شان نزول جو مرزاقادیانی نے خط کشیدہ الفاظ میں ظاہر کیا ہے۔ وہ محض ایجاد مرزاہے۔ ورنہ اصلی شان نزول ملاحظہ ہو اور کلام اﷲ کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔
    ’’ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون وقالوا الہتنا خیرام ہو ماضربوہ لک الا جدلا بل ہم قوم خصمون ان ہوالا عبد انعمنا علیہ وجعلناہ مثلاً لبنی اسرائیل۰ ولو نشاء لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون۰ وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا واتبعون ہذا صراط مستقیم (الزخرف:۵۷تا۶۱)‘‘
    {اور جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے متعلق (معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیاگیا۔ تو یکایک آپ کی قوم کے لوگ (مارے خوشی کے) چلانے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں۔ یا عیسیٰ علیہ السلام۔ ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے تو محض جھگڑنے کی غرض سے بلکہ یہ لوگ (اپنی عادت سے) ہیں ہی جھگڑالو۔ عیسیٰ علیہ السلام تو محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے (کمالات نبوت سے اپنا) فضل کیا تھا اور ان کو بنی اسرائیل کے لئے ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا تھا اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم میں سے فرشتوں کو پیدا کر دیتے کہ وہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو قیامت (کے قرب) کا نشان ہیں۔ پس تم لوگ اس میں شک مت کرو اور تم لوگ میرا اتباع کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔}
    معزز ناظرین! مرزاقادیانی کی چالاکی ملاحظہ ہو کہ بمطابق مثل ’’چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد‘‘ خود شان نزول اس آیت کی کلام اﷲ کی انہیں آیات میں موجود ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مشرکین کے بتوں کے متعلق ایک مثال ہے۔ باوجود اس کے مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ یہاں بحث قیامت سے ہے۔ قیامت کی بحث تو یہاں ہے ہی نہیں۔ وہ تو یونہی جملہ معترضہ کے طور پر مذکور ہے۔ چنانچہ ہم مرزاقادیانی کے اپنے مانے ہوئے مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی روایت سے مرزاقادیانی کے تسلیم کردہ حبرالامت امام المفسرین ابن عباسؓ کا بیان کردہ شان نزول پیش کرتے ہیں۔
    ’’آنحضرتﷺ نے ایک روز سورۂ انبیاء کی آیت ’’انکم وما تعبدون من دون اﷲ حصب جہنم (انبیائ:۹۸)‘‘ کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیںَ وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبداﷲ بن زبعری نامی ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ علیہ السلام کو نبی اور ہمارے بتوں سے اچھا سمجھتے ہو۔ اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا۔ عبداﷲ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب خوش ہوئے۔ اس پر اﷲتعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
    باوجود اس قدر تصریح کے اگر پھر بھی قادیانی اپنی اس نامعقول دلیل پر جمے رہیں تو ہمارا جواب بھی الزامی رنگ میں سن لیں اور کان کھول کر سنیں۔‘‘
    ۱… مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’قرآن شریف میں ہے: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تمہیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔‘‘

    (اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۳۰)
    ۲… اﷲتعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مصدق رسول کو بھی بطور ہدایت فرماتا ہے۔
    ’’ان الساعۃ آتیۃ فلا یصدنک عنہا من لا یؤمن بہا (طہ:۱۶)‘‘
    اے موسیٰ علیہ السلام! قیامت بے شک وشبہ آنے والی ہے۔ خبردار کوئی بے ایمان تجھے اس کے ماننے سے روک نہ دے۔ یہاں اگر قادیانی طرز کلام کا اتباع کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قیامت کے آنے کی دلیل یا نشانی تو بیان نہیں کی گئی۔ صرف اس کے آنے کا اعلان کیاگیا ہے۔ پھر یہ اعلان اگلے حصہ آیت کے لئے دلیل ہوسکتا ہے۔ قادیانی جو جواب اس سوال کا دیں گے وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔
    ۳… ’’مرزاقادیانی نے ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی کہ محمدی بیگم دختر احمد بیگ ہوشیارپوری ضرور بضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ پھر اس کے متعلق الہامات بھی شائع کئے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا۔ ’’انا زوجناکہا‘‘ یعنی اے مرزا ہم نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا ہے۔‘‘

    (انجام آتھم ص۶۰، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    انتظار کرتے کرتے مرزاقادیانی تھک گئے۔ آخر ۱۸۹۱ء میں مرزاقادیانی سخت بیمار ہوئے۔ موت کے خیال پر جب محمدی بیگم والی پیش گوئی میں جھوٹا ہونے کا خیال گزرا تو الہام ہوا۔
    ’’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘‘ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔
    دیکھئے! یہاں مرزاقادیانی کے خدا نے مرزاقادیانی کو یقین دلانے کو صرف اتنا ہی کہا۔ ’’الحق من ربک‘‘ حالانکہ ابھی نکاح نہیں ہوا۔ پہلے ہی سے اس کے ہونے کا اعلان کر کے محض اعلان ہی کو دلیل قرار دیا جارہا ہے۔ جس دلیل سے مرزاقادیانی کے لئے ایک پیش گوئی کا اعلان دلیل ہوگیا آئندہ حکم کے حق ہونے کا۔ اسی دلیل سے یہاں بھی ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ دلیل سمجھ لیں۔ ’’فلاتمترن بہا‘‘ کی (ذرا غور سے سمجھئے) مگر یہ سب بیان ہمارا الزامی رنگ میں ہے۔ ورنہ مرزاقادیانی کا یہ اعتراض مبنی ہے علوم عربیہ سے جہالت مطلقہ پر۔

    مضحکہ خیز تفسیر قادیانی: تفسیر از مرزاغلام احمد قادیانی
    ۱… ’’یہ کیسی بدبودار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ ’’ساعۃ‘‘ سے قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ’’ساعۃ‘‘ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔‘‘
    (اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۲۹)
    ۲… ’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۲۴، خزائن ج۳ ص۳۲۲)
    ۳… ’’ان فرقۃ من الیہود اعنی الصدوقین کانوا کافرین بوجود القیامۃ فاخبرہم اﷲ علیٰ لسان بعض انبیاء ان ابنا من قومہم یولد من غیر اب وہذا یکون آیۃ لہم علی وجود القیامۃ فالی ہذا اشار فی آیۃ وانہ لعلم للساعۃ‘‘
    یہود کا ایک فرقہ صدوقین نامی قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ پس اﷲتعالیٰ نے بعض نبیوں کے واسطے سے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم میں سے ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا اور وہ قیامت کے وجود پر دلیل ہوگا۔ پس اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ اﷲتعالیٰ نے اس آیت ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ میں۔

    (حمامتہ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)
    نوٹ:
    مرزاقادیانی نے اسلامی تفسیر کی تردید میں جو دلیل بیان کی ہے۔ (دیکھو اعتراض نمبر۲ از مرزاقادیانی) اگر وہ صحیح قرار دی جائے تو ناظرین وہی عبارت تھوڑے سے تغیر کے ساتھ مرزاقادیانی کی اس تفسیر کے رد میں پڑھ لیں۔ اجمالاً ہم لکھ دیتے ہیں۔ صدوقین منکر قیامت تھے۔ قیامت کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آئندہ زمانہ میں ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا۔ جب تک دلیل موجود نہ ہو۔ دعویٰ کے تسلیم کر لینے کا مطالبہ کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟
    ۴… ’’ان المراد من العلم تولدہ من غیر اب علی طریق المعجزۃ کما تقدم ذکرہ فی الصحف السابقۃ‘‘

    (تتمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)
    العلم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ہے۔ بطور معجزہ کے جیسا کہ پہلے کتابوں میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔
    نوٹ:
    مرزاقادیانی معلوم ہوتا ہے۔ فن مناظرہ اور اس کے اصولوں سے جاہل مطلق تھے۔ دلیل تو وہ قابل قبول ہوتی ہے۔ جو مخالفت کے ہاں قابل قبول ہو بلکہ جس کا رد کرنا مخالف سے آسان نہ ہو۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا جس کو مخالف صحیح تسلیم نہیں کرتا۔ یہ مرزاقادیانی جیسے پنجابی نبی ہی کی شان ہوسکتی ہے۔ ورنہ دلیل تو ایسی ہو کہ مخالف کے نزدیک بھی وہ قابل قبول اور حجت ہوسکے۔ جیسا کہ ہم حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں قادیانی مسلمات پیش کر کے قادیانی افراد سے قبول حق کی اپیل کر رہے ہیں۔
    تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بقول مرزاقادیانی یہودی (صدوقین) قیامت کے وجود سے منکر تھے۔ ان کے سامنے بقول مرزاقادیانی قیامت کے وجود پر دلیل یہ پیش کی جاتی ہے۔ دیکھو ہم نے ایک لڑکا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ یہودی تو اس دلیل ہی کے ٹھیک اور حجت ہونے سے منکر تھے۔ وہ تو کہتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باﷲ نقل کفر کفر نباشد) ولد الزنا تھے۔ جو دلیل خودمحتاج دلیل ہو۔ وہ دلیل کیا ہوئی۔ پس مرزاقادیانی کی تفسیر بھی قرآن کریم کے ساتھ تلعب ثابت ہوئی۔
    ۵…تفسیر سرور شاہ قادیانی (نام نہاد) صحابی مرزا
    مرزاقادیانی کا ایک بہت بڑا نام نہاد صحابی سرور شاہ قادیانی اپنے نبی مرزاقادیانی کی تردید عجیب طرز سے کرتا ہے۔ لکھتا ہے:
    ’’مسیح کے بے باپ ولادت دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعۃ (قیامت) کا علم ہے۔‘‘

    (ضمیمہ اخبار بدر قادیانی ۱۹۱۱ئ، ۴،۶)
    ۶… تفسیر از احسن امروہی جو مرزاقادیانی کا (نام نہاد) صحابی تھا اور مرزاقادیانی کا فرشتہ کہلاتا تھا۔
    (دیکھو نمبر۷ جواب اعتراض نمبر۱ کی ذیل میں)
    محترم ناظرین! میں نے قادیانی جماعت کی چھ تفسیریں جن میں سے چار مرزاقادیانی کی اپنی ہیں۔ آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔ ان کا باہمی تضاد اور مخالفت اظہر من الشمس ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ کلام اﷲ سے دو آیتیں اور مرزاقادیانی اور ان کے حواری کے اقوال اور انجیل کی تصدیق پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔
    ۱… پہلی آیت (سورۂ حجر:۷۲) کی ہے: ’’انہم لفی سکرتہم یعمہون‘‘ وہ اپنی بیہوشی میں گمراہ پھر رہے ہیں۔
    ۲… دوسری آیت (نسائ:۸۲) میں ہے: ’’ولو کان من عند غیر اﷲ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً‘‘ اگر یہ کلام اﷲ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ہمیں بہت اختلاف پاتے۔
    مرزاقادیانی اور ان کی جماعت اپنی خود غرضی کے لئے اسلامی تفسیر کو چھوڑ کر گمراہی میں سرگرداں ہیں۔ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔
    مرزاقادیانی کہتے ہیں:
    ۱… ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘

    (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)
    ۲… ’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)
    ۳… ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)
    نوٹ:
    مرزاقادیانی نے اس آیت کی جس قدر تفسیریں کی ہیں۔ ان میں سے ہم نے صرف چار پیش کی ہیں اور دو ان کے حواریوں کی درج کی ہیں۔ سب کی سب کا آپس میں تضاد وتناقض ظاہر ہے۔ پس مرزاقادیانی معہ اپنے جانشینوں کے اپنے ہی فتویٰ کی رو سے پاگل، منافق، جھوٹے اور مخبوط الحواس ثابت ہوئے۔ مرزاقادیانی کے حواری مرزاخدا بخش مصنف ’’عسل مصفیٰ‘‘ میں لکھتے ہیں اور علماء اسلام کی تفسیر میں اختلاف مذعومہ کے بارہ میں لکھتے ہیں۔
    ’’یہ چھ قسم کے معنی علماء متقدمین ومتاخرین نے کئے ہیں اور یہی معانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علماء ومفسرین کو یقینی معنی معلوم ہوتے تو وہ کیوں اس قدر چکر کھاتے اور کیوں دور از قیاس آرائیں ظاہر کرتے۔ جب ہم غور سے ان معانی پر نظر کرتے ہیں تو سیاق کلام اور نیز مشاہدہ کے خلاف پاتے ہیں۔‘‘
    (عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص۴۱۹)
    ناظرین! قادیانی تفسیر کے متعلق یہی عبارت پڑھ دیں۔ صرف ’’علماء متقدمین ومتاخرین‘‘ کی بجائے ’’مرزاقادیانی اور ان کے حواری‘‘ سمجھ لیں۔

    (جاری ہے)
  3. ‏ مارچ 31, 2015 #23
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بقیہ : حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 5 (وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا)(الزخرف:۶۱)

    تصدیق از انجیل
    حضرات! یہ تو آپ بخوبی سمجھتے ہیں کہ کلام اﷲ، انجیل یا توریت کی نقل نہیں ہے۔ بلکہ ایک بالکل الگ اور براہ راست سلسلہ وحی ہے۔ پس جہاں کہیں قرآن کریم اور انجیل کے مضمون میں مطابقت لفظی یا معنوی عرصہ ظہور میں آجائے وہاں وہی معنی قابل قبول ہوں گے جو متفق علیہ ہیں۔ خود مرزاقادیانی ہماری تصدیق میں لکھ گئے ہیں۔
    ’’فاسئلو اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘
    یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو۔ تااصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔

    (ازالہ اوہام ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳)
    سو ہم نے جب موافق اس حکم کے نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو مندرجہ ذیل عبارت پر نظر پڑی۔
    ’’جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آکر بولے۔ ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان۔ ’’انہ لعلم للساعۃ (قرآن کریم)‘‘ یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے… اس وقت اگر تم میں سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے… میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے… پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے۔ تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندھ کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن مریم کا آنا ہوگا… ابن مریم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔‘‘

    (انجیل متی باب:۲۴، آیت:۳۱تا۳۳)
    یہی مضمون (انجیل مرقس باب:۱۳) اور (انجیل لوقا باب:۲۱) میں مرقوم ہے۔ انجیل کے اس مضمون سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔
    ۱… حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام خود دوبارہ نازل ہوں گے۔ کیونکہ اپنے تمام مثیلوں سے بچنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔
    ۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا قیامت کی نشانی ہے۔
    ۳… جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔
    ۴… حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اچانک نازل ہوں گے۔
    ۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آئیں گے۔ یہی مضمون کلام اﷲ میں موجود ہے۔ جیسا کہ ہم تصریح کر چکے ہیں۔ پس قادیانی جماعت پر لازم ہے کہ مرزاقادیانی کے بیان کردہ معیار کے مطابق حق کو قبول کر کے مرزائیت سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دیں۔

    نتیجہ
    مرزاقادیانی اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں:
    ’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔ لہٰذا یہ بحث بھی (کہ مسیح اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا۔ جو دنیا میں اسے حاصل تھا) اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶)
    ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا ثابت کر دیا ہے۔ پس حسب قول مرزاقادیانی ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ نازل ہونا جبھی مانا جاسکتا ہے۔ جب کہ ان کا آسمان پر اسی جسم کے ساتھ جانا تسلیم کر لیا جائے۔ ’’فالحمد ﷲ علیٰ ذالک‘‘
  4. ‏ مارچ 31, 2015 #24
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 6 (اذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم اذکر نعمتی علیک المائدۃ:۱۱۰)

    قرآنی دلیل نمبر:۶…
    ’’اذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلیٰ والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکہلا (المائدۃ:۱۱۰)‘‘
    {جب کہے گا اﷲتعالیٰ اے عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے یاد کر ان نعمتوں کو جو کیں میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر۔ جب کہ میں نے مدد دی تجھ کو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ باتیں کرتا تھا تو لوگوں سے پنگھوڑے میں اور بڑی عمر میں۔}
    محترم بزرگو! میں نے لفظی ترجمہ کر دیا ہے۔
    اب میںقادیانیوں کے مسلمہ مجددین امت امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم اور امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم کی تفسیرسے اس آیت کی تفسیر پیش کرتا ہوں۔
    اگر قادیانی کوئی اعتراض کریں تو رسالہ ہذا کی تمہید میں قادیانی اصول وعقائد نمبر۴ سامنے رکھ دیں۔ تاکہ شاید اپنے ہی منہ سے کافر وفاسق بننے سے شرما کر اسلامی تفسیر کی تائید میں رطب اللسان ہو جائیں۔
    اس
    آیت کی تفسیرمیں امام جلال الدین مجدد صدی نہم فرماتے ہیں۔
    ’’اذا ایدتک (قویتک) بروح القدس (جبرائیل) تکلم الناس حال من الکاف فی ایدتک فی المہدای طفلا وکہلا یفید نزولہ قبل الساعۃ لانہ رفع قبل الکھولۃ کما سبق فی آل عمران‘‘
    (جلالین ص۱۱۰، زیر آیت کریمہ)
    ’’یاد کر اے عیسیٰ علیہ السلام وہ وقت جب کہ ہم نے قوت دی تم کو ساتھ جبرائیل علیہ السلام کے درآنحالیکہ تو باتیں کرتا تھا۔ بچپن میں اور کہولت کی حالت میں۔ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کہولت (ادھیڑ عمر) سے پہلے اٹھائے گئے تھے۔ جیسا کہ آل عمران میں گزر چکا ہے۔‘‘
    حضرات! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اﷲتعالیٰ (سورۂ بقرہ:۸۷،۲۵۳) میں دو جگہ فرماتے ہیں:
    ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ امام موصوف اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    ’’وایدناہ قویناہ بروح القدس من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ الی الروح المقدسۃ جبرائیل لطہارتہ یسیر معہ حیث سار‘‘
    ہم نے قوت دی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ جو جاتا تھا۔ جہاں وہ جاتے تھے۔
    (جلالین ص۱۴، زیر آیت کریمہ)
    اس آیت کی
    تفسیر امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم فرماتے ہیں:
    ’’نقل ان عمر عیسیٰ علیہ السلام الی ان رفع کان ثلاثا وثلاثین سنۃ وستۃ اشہر وعلیٰ ہذا التقدیر فہو ما بلغ الکھولۃ والجواب من وجہین… والثانی ھو قول الحسین بن الفضل الجلیؒ ان المراد بقولہ وکہلا ان یکون کہلا بعد ان ینزل من السماء فی آخرالزمان ویکلم الناس ویقتل الدجال قال الحسین بن الفضل وفی ہذہ الایۃ نص فی انہ علیہ السلام سینزل الیٰ الارض‘‘
    (تفسیر کبیر جز۸ ص۵۵)
    ’’نقل کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر جب وہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ ساڑھے تینتیس برس تھی اور اس صورت میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں کہولت (ادھیڑ عمر) تک نہیں پہنچے تھے۔ (پس کہولت میں کلام کرنے کا مطلب کیا ہوا) اس کا جواب دو طریقوں سے ہے… دوسرا جواب امام حسین بن الفضل الجبلی کا قول ہے کہ مراد ’’کھلا‘‘ سے یہ ہے کہ وہ کہل (ادھیڑ عمر کا) ہوگا۔ جب کہ وہ نازل ہوگا۔ آسمان سے آخری زمانہ میں اور باتیں کرے گا۔ لوگوں سے اور قتل کرے گا دجال کو۔ امام حسین بن الفضل کہتے ہیں کہ یہ آیت نص ہے۔ اس بات پر کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔‘‘

    تشریحی نوٹ از خاکسار ابوعبیدہ مؤلف رسالہ ہذا
    اﷲتعالیٰ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے غیرمعمولی انعامات یاد کرا رہے ہیں۔ غیرمعمولی انعامات سے مراد میری وہ انعامات ہیں جو عام انسانوں کو حاصل نہیں۔ ورنہ ہیں وہ بھی انعام ہی۔ مثلاً آنکھیں، ناک، منہ، دانت، دماغ، لباس، والدین، اولاد، خوراک، پھل وغیرہ۔
    ناظرین! قرآن کریم کی سورۂ مائدہ کا آخری رکوع کھول کر ان انعامات کا تذکرہ پڑھیں۔ اس کی سب غیرمعمولی نعمتیں ہیں۔ میں ساری نعمتوں کو یہاں گن دیتا ہوں۔
    ۱… روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کی تائید کا ہر وقت ساتھ رہنا۔
    ۲… بچپن (پنگھوڑے) میں کلام بلاغت نظام کرنا۔
    ۳… ادھیڑ عمر میں کلام بلاغت نظام کرنا۔
    ۴… کتاب، حکمت اور توریت وانجیل کا پڑھنا۔
    ۵… معجزہ خلق طیر (پرندوں کا بنانا)
    ۶… معجزہ احیاء موتیٰ (مردوں کو زندہ کرنا) ’’وابراء اکمہ وابرص‘‘
    ۷… بنی اسرائیل کے شر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ رکھنا۔
    ناظرین! ان نعمتوں میں سے نمبر۳، ۷ تو ابھی زیر بحث ہیں۔ ان کے علاوہ بقیہ نعمتوں کا خیال کیجئے۔ سب کی سب ایسی نعمتیں ہیں جن سے عام انسان محروم ہوتے ہیں۔ نبوت وکتاب کا ملنا، معجزات کا غیرمعمولی ہونا تو سبھی کو مسلم ہے۔ بچپن میں باتیں کرنے سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مراد اس سے ناتجربہ کار نوجوان آدمی کا کلام ہے۔ یہ معنی کئی وجوہات سے مردود ہیں۔
    ۱… سورۂ مریم میں اﷲتعالیٰ نے جب مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کی بشارت دی اور پھر حمل ہوکر آخری وضع حمل کی نوبت آئی تو حضرت مریم ایک الگ جگہ میں جاکر دردزہ اور خوف طعن وتشنیع کے مارے عرض کرنے لگیں کہ اے کاش میں اس موقعہ سے پہلے مر کر بھولی جاچکی ہوتی تو اﷲتعالیٰ کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اے مریم غم نہ کر… اگر تو کسی آدمی کو دیکھے (جو تجھ پر طعن کرے اور اس کے بارہ میں سوال کرے) تو کہہ دینا کہ آج میں نے اﷲ کی خاطر (چپ رہنے کا) روزہ رکھا ہوا ہے۔ آج تو ہرگز بات نہ کروں گی۔ پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر قوم کے پاس لے آئی۔ قوم نے جب دیکھا تو کہنے لگی کہ اے مریم تو یہ طوفان (بے باپ کا لڑکا) کہاں سے لے آئی ہے۔ اے ہارون کی بہن، تیرا باپ زانی نہیں تھا اور تیری ماں بھی زانیہ نہ تھی۔ پس تو یہ لڑکا کہاں سے لے آئی ہے۔ پس حضرت مریم علیہا السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو۔ انہوں نے کہا۔ ہم اس بچے سے کیسے کلام کریں جو ابھی پنگھوڑے میں پڑا ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کلام کر کے اپنی اور اپنی ماں کی زنا کے الزام سے بریت کا اعلان کیا۔
    (ملحض از تفسیر جلالین ص۲۵۵، زیر آیت کریمہ)
    ۲… ذیل کی حدیث نبوی ہماری تائید کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہی ہے۔
    ’’عن ابی ہریرہ عن النبیﷺ قال لم یتکلم فی المہد الا ثلاثۃ عیسیٰ و… الیٰ آخر الحدیث‘‘
    (بخاری ج۱ ص۴۸۹، باب واذکر فی الکتاب مریم)
    ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تین بچوں کے سوا کسی نے ماں کی گود میں شیرخوارگی کی حالت میں کلام نہیں کیا۔ ایک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اور … آخری حدیث تک۔‘‘ بخاری شریف مرزاقادیانی کے نزدیک اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے۔ اس میں یہ حدیث موجود ہے۔
    ۳… حضرت ابن عباسؓ جو مرزاقادیانی کے نزدیک قرآن شریف کے جاننے والوں میں سے اوّل نمبر پر تھے۔ وہ فرماتے ہیں۔
    ’’عن ابن جریحؒ قال قال ابن عباسؓ (ویکلم الناس فی المہد) قال مضجع الصبی فی رضاعۃ‘‘
    (تفسیر ابن جریر ج۳ ص۲۷۱، درمنثور ج۲ ص۲۵)
    ’’یعنی حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ مراد اس آیت میں دودھ پینے کی حالت میں بچے کا پنگھوڑے میں کلام کرنا ہے۔‘‘
    دیکھئے! یہ قول وتفسیر حضرت ابن عباسؓ کی ہے اور روایت کیا ہے اس کو اوّل ابن جریر نے جو مرزاقادیانی کے نزدیک ایک زبردست محدث اور مفسر تھے اور دوسرے امام جلال الدین سیوطیؒ نے جو مجدد صدی نہم تھے۔ پس جو آدمی اس روایت کے قبول کرنے سے انکار کرے وہ حسب فتویٰ مرزاقادیانی کا فروفاسق ہو جائے گا۔
    ۴… خود مرزاقادیانی نے اس تفسیر کو قبول کر لیا ہے۔
    ’’اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تو صرف مہد (پنگھوڑے) میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے (پسر مرزا) نے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)
    ۵… پنگھوڑے میں باتیں کرنا تین وجہوں سے عقلاً بھی صحیح معلوم ہوتا ہے۔
    الف… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بطور معجزہ بغیر باپ کے ہوئی تھی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے نفخہ سے واقع ہوئی تھی۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ سورۂ مریم میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا قول نقل فرماتے ہیں۔ ’’لاہب لک غلاماً زکیا‘‘ یعنی اے مریم میں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔ خود مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کو بہت جگہ قبول کر لیا ہے۔
    (ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)
    اب ایک منٹ کے لئے ہم ناظرین کو سورۂ طٰہٰ کی سیر کراتے ہیں۔ اس کے رکوع۵ کا مطالعہ کریں۔ وہاں سامری اور اس کے گؤسالہ کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام سامری سے گفتگو فرماتے ہیں۔
    ’’قال فما خطبک یسامری۰ قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا وکذالک سولت لی نفسی‘‘
    موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔ اس نے کہا کہ مجھ کو ایسی چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہ آئی۔ پھر میں نے اس فرستادہ خداوندی (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھرخاک اٹھالی تھی۔ سو میں نے وہ مٹھی خاک اس قالب کے اندر ڈال دی اور میرے جی کو یہی بات پسند آئی۔ (اس مٹی کے ڈالنے سے اس میں ایک آواز پیدا ہوگئی)
    (تفسیر ابن عباس مندرجہ درمنثور ج۴ ص۳۰۷)

    نکتہ عجیبہ

    حضرات! حضرت جبرائیل علیہ السلام کے نقش قدم سے مٹی میں خدا نے یہ تاثیر رکھی ہوئی ہے کہ وہ ایک بے جان دھات کے ڈھانچے میں آواز پیدا کر سکتی ہے۔ پس قابل غور یہ امر ہے۔ وہی جبرائیل اپنی پھونک سے حضرت مریم کو باذن الٰہی حمل ٹھہراتا ہے۔ اس نفخہ جبرائیلی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے گود میں باتیں کرنا اس گؤسالہ بے جان کے بولنے سے زیادہ مشکل ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پنگھوڑے میں باتیں کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ کیونکہ گؤسالہ ایک تو بے جان تھا۔ اس میں جان پڑ گئی۔ پھر گؤسالہ بولنے بھی لگا۔ یہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انسان ہونے کی حیثیت سے آخر بولنا ہی تھا۔ نفخ جبرائیلی سے پنگھوڑے میں باتیں کرنے کی اہلیت پیدا ہوگئی اور یہی نفخ جبرائیلی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع علی السماء میں مناسبت پیدا کرنے کا باعث ہوگیا۔
    ب… اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کو لوگوں کے لئے ایک نشان (آیۃ) بنانا چاہتے تھے۔ چنانچہ سورۂ مریم میں مذکور ہے۔
    ’’ولنجعلہ‘‘ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے اس واسطے پیدا کیا ہے تاکہ ہم ان لوگوں کے لئے اپنا ایک نشان بنائیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے بھی ہماری اس تفسیر کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
    (ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)
    پس اﷲتعالیٰ نے گود میں باتیں کراکر پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان فیض ترجمان سے ان کی پیدائش کا معجزانہ ہونا ثابت کیا۔ اگر گود میں ان کا کلام کرنا تسلیم نہ کیا جائے تو ان کی پیدائش بے پدر کو الٰہی نشان ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کے بغیر خود پیدائش بے باپ بغیر ثبوت کے رہ کر ناقابل قبول ہو جائے گی۔ جو دلیل خود دلیل کی محتاج ہو وہ دلیل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

    چنانچہ خود مرزاقادیانی دلیل کی تعریف میں اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔
    ج… مرزاقادیانی نے تریاق القلوب میں لکھا ہے: ’’کہ میرے اس لڑکے (پسر مرزا) نے ماں کے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں ہیں۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)
    غور کیجئے! ماں کے پیٹ میں باتیں کرنا زیادہ مشکل ہے یا گود میں دودھ پیتے بچے کا باتیں کرنا۔ یقینا اوّل الذکر صورت تو ناممکن محض ہے۔ کیونکہ کلام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہوا موجود ہو۔ منہ، ہونٹ، زبان وغیرہم حرکت کر سکتے ہوں۔ پھیپھڑے کام کر رہے ہوں۔ باوجود اس کے جب مرزامبارک، پسر مرزا نے اپنی ماں کے پیٹ کے اندر دو مرتبہ باتیں کیں تھیں اور لاہوری وقادیانی مرزائیوں نے مرزاقادیانی کے قول کو تسلیم کر لیا ہے تو انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گود میں باتیں کرنا کیوں ناممکن اور مستبعد نظر آتا ہے۔ اب ’’کھل‘‘ (یعنی ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا) کے متعلق چند نکات بیان کر کے نتیجہ ناظرین کی فہم رسا پر چھوڑتے ہیں۔
    ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا کروڑہا انسانوں سے ہم روزمرہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ پس فرشتے کا حضرت مریم علیہ السلام کو یوں کہنا کہ ’’ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں کہ تیرا لڑکا ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا۔‘‘ ایک ایسی بات کی بشارت دینا ہے جو بے شمار لوگوں کو حاصل ہے۔ بشارت کسی غیرمعمولی امر میں ہوا کرتی ہے یا اس وقت جب کہ کوئی آدمی معمولی نعمت سے محروم ہوا جارہا ہو۔ مثلاً کوئی آدمی نابینا ہو جائے تو ایسے وقت میں آنکھ کا،مل جانا بے شک بشارت ہوسکتا ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں کو کیا عیسیٰ علیہ السلام کی کہولت کے زمانہ میں کوئی ’’لکنت‘‘ کا اندیشہ تھا کہ خدا نے ’’لکنت‘‘ کے دور ہونے کی بشارت دی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کہولت میں ایک خصوصیت تھی۔ جس کی وجہ سے اﷲتعالیٰ نے کہولت کے زمانہ میں باتیں کرنا بھی خاص نعمتوں میں شمار کیا۔ وہ یہ کہ باوجود ہزارہا سال تک آسمان پر رہنے کے جب وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے تو اس وقت بھی کہولت کا زمانہ ہوگا۔ چونکہ ان کی عمر اور جسم پر زمانہ کا اثر نہیں ہوا ہوگا۔ اس لحاظ سے اس نعمت کا تذکرہ کر کے شکریہ کا حکم دے رہے ہیں۔ ورنہ اگر دوسرے انسانوں کی طرح ہی انہوں نے بھی کہولت میں باتیں کرنی ہوتیں تو پھر دوسری عام انسانی نعمتوں کو بھی پیش کیا ہوتا۔ مثلاً یوں کہا ہوتا۔ ’’اے عیسیٰ علیہ السلام ہماری نعمتوں کو یاد کر۔ ہم نے تمہیں دو آنکھیں دی تھیں۔ دوکان عطا کئے تھے۔ کھانے کو رنگارنگ پھل دئیے تھے۔ تم جوانی میں بولتے تھے۔ ہم نے تمہیں لباس دیا تھا۔ سوچنے کو دماغ مرحمت فرمایا۔ وغیرہ ذالک!‘‘ مگر نہیں ایسا نہیں فرمایا۔ کیونکہ عام نعمت کو ذکر کرنا بھی عام رنگ ہی میں موزوں ہوتا ہے۔

    تصدیق از مرزاقادیانی

    ’’اس پیش گوئی (نکاح آسمانی) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اﷲﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ: ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد بھی ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا۔‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ)
    حضرات! غور فرمائیے کہ محض تزوج واولاد کا عام طور پر ذکر ہے۔ مرزاقادیانی نے کھینچ تان کر تزوج اور اولاد کے لئے ایک خصوصیت ثابت کر دی۔ کیونکہ یہ دونوں باتیں مسیح موعود کے متعلق ہیں۔ ’’ویکلم الناس فی المہد وکہلا‘‘ میں تو خداتعالیٰ خصوصیت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی خاص خاص نعمتوں کو پیش کر رہے ہیں۔ پس کہل کے معنی عام کہل یعنی سے وہ اعتراض بدرجہ اولیٰ عود کر آئے گا۔ جو مرزاقادیانی کی مذکورہ بالا عبارت میں مذکور ہے۔ یعنی کہولت (ادھیڑ عمر) میں باتیں کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک کہولت میں باتیں کرتا ہے۔ کہولت میں باتیں کرنے سے مراد وہ خاص کہولت ہے جو باوجود ہزارہا سال گزر جانے کے قائم رہی ہو اور مرزاقادیانی کی پادر ہوا دلائل وفات مسیح علیہ السلام کو خس وخاشاک میں ملانے والی ہو۔
    نوٹ: ہماری پیش کردہ اسلامی تفسیر پر قادیانیوں کے دجل وفریب کا کوئی وار نہیں چلتا۔ کیونکہ ہم نے کہولت کی تعریف کو مبحث بننے ہی نہیں دیا۔ کہولت کے جو کچھ بھی معنی ہوں وہ ہمیں منظور ہیں۔ ہماری پیش کردہ تفسیر ماشاء اﷲ ہر حال میں لاجواب ہے۔ فالحمد ﷲ علی ذالک!
  5. ‏ مارچ 31, 2015 #25
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 7 ( واذ کففت بنی اسرائیل عنک (مائدۃ:۱۱۰))
    قرآنی دلیل نمبر:۷
    ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینات فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین (مائدۃ:۱۱۰)‘‘
    {(اے عیسیٰ علیہ السلام) یاد کر اس وقت کو جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے (یعنی تمہارے قتل وہلاک کرنے سے) باز رکھا۔ جب تم ان کے پاس نبوت کی دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معجزات بجز کھلے جادو کے اور کچھ بھی نہیں۔}
    ہم پہلے اپنی پیش کردہ اسلامی تفسیر کی تائید میں قادیانیوں کے مسلمہ مجدد صدی ششم امام ابن کثیر وامام فخر الدین رازی اور مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطی رحمہم اﷲ تعالیٰ کی تفسیریں پیش کرتے ہیں تاکہ قادیانی زبان میں حسب قول مرزا مہر سکوت لگ جائے۔
    ۱… تفسیر امام فخرالدین رازیؒ:
    ’’روی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لما اظہر ہذہ المعجزات العجیبۃ قصد الیہود قتلہ فخلصہ اﷲ تعالیٰ منہم حیث رفعہ الیٰ السمائ‘‘
    (تفسیر کبیر جز۱۲ ص۱۲۷، زیر آیت کریمہ)
    ’’روایت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ عجیب وغریب معجزات دکھائے تو یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ پس اﷲتعالیٰ نے ان کو یہود سے خلاصی دی۔ اس طرح کہ ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔‘‘
    ۲… تفسیر امام جلال الدین سیوطیؒ: ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک۰ حین ہموا بقتلک‘‘
    (تفسیر جلالین ص۱۱۰، زیر آیت واذ کففت بنی اسرائیل)
    ’’(یاد کر ہماری اس نعمت کو جب کہ) ہم نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے جس وقت ارادہ کیا یہودیوں نے تیرے قتل کا۔‘‘
    مطلب اس کا صاف ہے۔ کف کا فعل اسی وقت واقع ہوگیا۔ جب کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ابھی صرف ارادہ ہی کیا تھا۔ کوئی عمل کارروائی نہیں کرنے پائے تھے۔
    ۳… تفسیر ابن کثیرؒ:
    ’’ای واذکر نعمتی علیک فی کفی ایاہم عنک حین جئتہم بالبراہین والحجج القاطعۃ علیٰ نبوتک ورسالتک من اﷲ الیہم فکذبوک واتہموک بانک ساحر وسعوا فی قتلک وصلبک فنجیتک منہم ورفعتک الیّٰ وطہرتک من دنسہم وکفیتک شرہم‘‘
    (ابن کثیر ج۲ ص۱۱۵، زیر آیت کریمہ)
    ’’یعنی اے مسیح علیہ السلام تو وہ نعمت یاد کر جو ہم نے یہود کو تم سے دور ہٹائے رکھنے سے کی۔ جب تو ان کے پاس اپنی نبوت ورسالت کے ثبوت میں۔ یقینی دلائل اور قطعی ثبوت لے کر آیا تو انہوں نے تیری تکذیب کی اور تجھ پر تہمت لگائی کہ تو جادوگر ہے اور تیرے قتل وسولی دینے میں سعی کرنے لگے تو ہم نے تجھ کو ان میں سے نکال لیا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور تجھے ان کی میل سے پاک رکھا اور ان کی شرارت سے بچا لیا۔‘‘
    محترم ناظرین! ان تین اکابر مفسرین مسلمہ مجددین قادیانی کی تفسیر کے بعد مزید بیان کی ضرورت نہیں۔ مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں یہاں درج کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
    ۱… کف کے لفظی معنی ہیں باز گردانیدن یعنی روکے رکھنا۔
    ۲… قرآن شریف میں یہ لفظ مندرجہ ذیل جگہوں میں استعمال ہوا ہے۔
    الف… ’’ویکفوا ایدیہم (نسائ:۹۱)‘‘
    ب… ’’فکف ایدیہم عنکم (مائدہ:۱۱)‘‘
    ج… ’’کفوا ایدیہم (نسائ:۷۷)‘‘
    د… ’’وکف ایدی الناس عنکم (فتح:۲۰)‘‘
    و… ’’ھو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم (فتح:۲۴)‘‘
    ان تمام آیات کو مکمل طور پر پڑھ کر دیکھ لیا جائے۔ سیاق وسباق پر غور کر لیا جائے۔ کف کے مفعول کو عن کے مجرور سے بکلی روکا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ فتح کی آیۃ ’’وھو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیہم‘‘ ہی کو لے لیجئے۔ ’’اور وہ (اﷲ) وہی ہے جس نے روک رکھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے مکہ کے قریب میں، بعد اس کے کہ اﷲتعالیٰ نے قابو دیا تم کو ان پر۔‘‘ اس آیت میں صلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے اور قادیانی بھی بلانکیر اس امر کو صحیح مانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ میں مطلق کوئی لڑائی بھڑائی مسلمانوں اور کفار کے درمیان نہیں ہوئی۔
    تفصیل کے لئے دیکھئے جلالین، ابن کثیر اور تفسیر کبیر یہاں قادیانیوں کے مسلمہ مجددین ہماری تائید میں رطب اللسان ہیں۔
    دوسری آیت سورۂ مائدہ کی ملاحظہ ہو۔
    ’’یایہا الذین آمنوا اذکروا نعمۃ اﷲ علیکم اذہم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیہم فکف ایدیہم عنکم‘‘
    اے مسلمانو! تم اﷲتعالیٰ کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی۔ جب کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے۔
    ناظرین! جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں کفار یہود نے ہلاک کرنے کی تدبیر کی اور قتل کے ارادے سے سارا انتظام کر لیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح یہود بنی نضیر نے رسول کریمﷺ کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا۔ یہود بنی نضیر کو اﷲتعالیٰ نے اپنے ناپاک ارادہ میں بکلی ناکام رکھا۔
    (دیکھو قادیانیوں کے مسلمہ امام ومجدد ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر بذیل آیت ہذا)
    اﷲتعالیٰ نے حضرت رسول کریمﷺ کی حفاظت کے فعل کو کف کے لفظ سے ظاہر فرمایا۔ وہی لفظ اﷲ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے بچانے کے لئے استعمال فرمایا۔ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘
    رسول کریمﷺ کو یہود کے شر سے بکلی محفوظ رکھنے پر اﷲتعالیٰ مسلمانوں کو شکریہ کا حکم دے رہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہورہا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم تک پہنچنے سے روک لیا۔ پس اس پر ہمارا شکریہ ادا کرو۔ اندریں حالت کوئی وجہ نہیں کہ ’’کف‘‘ کے معنی ہر قسم کے شر اور تکلیف سے بچانے کے نہ کریں۔

    ایک عجیب نکتہ

    ان تمام مقامات میں جہاں فعل کف استعمال ہوا ہے۔ اس کا مفعول ایدی (ہاتھ) اور عن کا مجرور ضمیریں ہیں۔ مطلب جس کا یہ ہے کہ آپس میں دونوں فریقوں کا اجتماع ہوجانا تو اس صورت میں صحیح ہے۔ صرف باہمی جنگ وجدل اور قتل ولڑائی نہیں ہوتی۔ یعنی ایک فریق کے ہاتھ دوسرے تک نہیں پہنچتے۔ مگر اس مقام زیر بحث میں اس علاّم الغیوب نے قادیانیوں کا ناطقہ اپنی فصیح وبلیغ کلام میں اس طریقہ سے بند کیا ہے کہ اب ان کے لئے ’’نہ پائے رفتن ونہ جائے ماندن‘‘ کا معاملہ ہے۔ یہاں اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’اذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ (یعنی جب میں نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے) اور یوں نہیں فرمایا: ’’اذ کففت ایدی بنی اسرائیل عنک‘‘ (یعنی جب میں نے روک لئے ہاتھ بنی اسرائیل کے تجھ سے)
    ناظرین باتمکین! آپ اپنی ذہانت وفطانت کو ذرا کام میں لائیے اور کلام اﷲ کی فصاحت کی داد دیجئے۔ بقیہ تمام صورتوں میں دونوں مخالف پارٹیوں کا آپس میں ملنا اور اکٹھا ہونا مسلم ہے۔ وہاں ایک پارٹی سے اپنی مخالف پارٹی کے صرف ہاتھوں کو روکا گیا۔ اس واسطے تمام جگہوں میں ’’ایدی‘‘ کو ضرور استعمال کیاگیا ہے۔ مگر یہاں چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لینے کے سبب خدا تعالیٰ نے یہود کو اپنی تمام تدبیروں کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچنے سے روک لیا۔ اس واسطے ’’کف‘‘ کا مفعول بنی اسرائیل کو قرار دیا۔ ان کے ہاتھوں کا روکنا مذکور نہیں ہوا۔
    دوسرا نکتہ
    آیت: ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں ہم دلائل عقلی ونقلی سے ثابت کر چکے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے یہود کے مکر کے بالمقابل حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے تھے اور یہ آیت بطور بشارت تھی۔ اﷲتعالیٰ اسی وعدے کے پورا کرنے کا بیان فرمارہے ہیں۔ جس کو دوسری جگہ ان الفاظ میں ارشاد فرمایا۔ ’’واذ ایدتک بروح القدس‘‘ (یعنی جب ہم نے تمہیں مدد دی روح القدس کے ساتھ) ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔
    مرزاغلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز اور توہین آمیز تفسیر اور اس کا ردناظرین کی تفریح طبعی اور نکتہ فہمی کے لئے پیش کرتا ہوں۔
    ’’اسی طرح اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ ’’اذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ جب کہ بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدا نے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنی ’’اذ کففت‘‘ کے ہیں۔‘‘
    (نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)
    اسی مضمون کو مرزاقادیانی دوسری جگہ اس طرح لکھتے ہیں:
    ’’پھر بعداس کے مسیح علیہ السلام ان کے حوالہ کیاگیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے… تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح علیہ السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔ تاشام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آگئی… انہوں نے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا… سو پہلے انہوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑیں… جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح علیہ السلام کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مرچکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں اور ایک نے کہا میں ہی اس لاش کو دفن کروں گا۔ پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۸۰تا۳۸۲، خزائن ج۳ ص۲۹۵تا۲۹۷)
    اسی کتاب میں مزید تشریح یوں کی ہے: ’’مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہوگیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہ تھی۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۹۲، خزائن ج۳ ص۳۰۲)
    تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں: ’’اب تک خداتعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اس وقت بھڑکا تھا۔ جب کہ اس ’’وجیہہ‘‘ نبی کو گرفتار کراکر مصلوب کرنے کے لئے کھوپری کے مقام پر لے گئے تھے اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ ص۶۷، خزائن ج۱۷ ص۱۹۹،۲۰۰)
    میں اس قادیانی تفسیر پر مزید حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ صرف اتنا کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جب ہر ممکن ذلت وخواری میں مسیح علیہ السلام کو خدا نے مبتلا کرایا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے بے ہوش ہوگئے کہ دیکھنے والے انہیں مردہ تصور کر کے چھوڑ گئے۔ کیا اس کے بعد بھی خدا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ یوں کہے اور بالفاظ مرزا کہے۔ ’’یاد کر وہ زمانہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک لیا۔‘‘
    (نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)
    اس آیت کی ابتداء میں باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرماتے ہیں۔ ’’اذکر نعمتی‘‘ یعنی یاد کرمیری نعمتیں۔ انہیں نعمتوں میں سے ایک نعمت بنی اسرائیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کو بچانا بھی ہے۔
    میں پھر عرض کرتا ہوں کہ دنیا جہاں میں ایسے موقعوں پر سینکڑوں دفعہ ایک انسان دوسروں کے نرغہ سے بال بال بچ جاتا ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بال بال بھی بچ گئے ہوتے۔ جب بھی اس بچانے کو مخصوص طور سے بیان کرنا باری تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہ تھا۔ ایسا بچ جانا عام بات ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ اور عجیب طریقہ سے یہود کے درمیان سے بچ کر آسمان پر چلا جانا ایک خاص نعمت ہے۔ جس کو باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ورنہ اگر مرزاقادیانی کا بیان اور تفسیر صحیح تسلیم کر لی جائے تو کیا اس نعمت کے شکریہ کے مطالبہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوں کہنے میں حق بجانب نہ ہوں گے۔ یا اﷲ یہ بھی آپ کا کوئی مجھ پر احسان تھا کہ تمام جہان کی ذلتیں اور مصائب مجھے پہنچائی گئیں۔ میرے جسم میں میخیں ٹھونکی گئیں۔ میں نے ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ کے نعرے لگائے۔ یعنی اے میرے خدا۔ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔ پھر بھی تیری غیرت جوش میں نہ آئی۔ اندھیری رات میں وہ مجھے مردہ سمجھ کر پھینک گئے۔ میرے حواریوں نے چوری چوری میری مرہم پٹی کی۔ میں یہود کے ڈر سے بھاگا بھاگا ایران اور افغانستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں ہزار مشکلات کے بعد درۂ خیبر کے راستہ پنجاب، یوپی، نیپال پہنچا اور وہاں کی گرمی کی شدت برداشت نہ کر سکنے کے سبب کوہ ہمالیہ کے دشوار گزار دروںمیں سے گرتا پڑتا سرینگر پہنچا۔ وہاں ۸۷برس گمنامی کی زندگی بسر کر کے مرگیا اور وہیں دفن کر دیا گیا۔ اس میں آپ نے کون سا کمال کیا کہ مجھے نعمت کے شکریہ کا حکم دیتے ہیں۔ کیا یہ کہ میری جان جسم سے نہ نکلنے دی اور اس حالت کا شکریہ مطلوب ہے۔ سبحان اﷲ! واہ رے آپ کی خدائی!! ہاں ایسی ذلت سے پہلے اگر میری جان نکال لیتا تو بھی میں آپ کا احسان سمجھتا۔ اب کوئی سا احسان ہے۔ اگر تو کہے کہ میں نے تیری جان بچا کر صلیب پر مرنے اور اس طرح ملعون ہونے سے بچا لیا تو اس کا جواب بھی سن لیں۔
    ۱… کیا تیرا معصوم نبی اگر صلیب پر مر جائے تو واقعی تیرا یہی قانون ہے کہ وہ لعنتی ہوجاتا ہے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر جان بچانے کے کیا معنی۔
    ۲… باوجود اپنی اس تدبیر کے جس پر آپ مجھ سے شکریہ کا مطالبہ چاہتے ہیں۔ یہودی اور عیسائی مجھے ملعون ہی سمجھتے ہیں۔ آپ کی کس بات کا شکریہ ادا کروں۔
    ۳… اگر آپ کے ہاں نعوذ باﷲ ایسا ہی عجیب قانون ہے کہ ہر معصوم مظلوم پھانسی پر چڑھائے جانے اور پھر مرجانے پر ملعون ہوجاتا ہے اور آپ نے مجھے لعنتی موت سے بچانا چاہا تو معاف کریں۔ اگر میں یوں کہوں کہ آپ کا اختیار کردہ طریق کار صحیح نہ تھا۔ جیسا کہ نتائج نے ثابت کر دیا۔ جس کی تفصیل نمبر:۲ میں میں عرض کر چکا ہوں۔ اگر مجھے اپنی مزعومہ لعنتی موت سے بچانا تھا تو کم ازکم یوں کرتے کہ ان کی گرفتاری سے پہلے مجھے موت دے دیتے۔ تاکہ میری اپنی امت تو ایک طرف، یقینا یہودی بھی میری لعنتی موت کے قائل نہ ہو سکتے۔ پس مجھے بتایا جائے کہ میں کس بات کا شکریہ ادا کروں۔
    یہ ہے وہ قدرتی جواب جو قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذہن میں آنا چاہئے۔ بشرطیکہ قادیانی اقوال واہیہ کو ٹھیک تسلیم کر لیا جائے۔ ہاں اسلامی تفسیر کو صحیح تسلیم کر لیں تو وہ حالت یقینا قابل ہزارشکر ہے۔ ہزارہا یہود قتل کے لئے تیار ہو کر آتے ہیں۔ مکان کو گھیر لیتے ہیں۔ مکروفریب کے ذریعہ گرفتاری کا مکمل سامان کر چکے ہیں۔ موت حضرت مسیح علیہ السلام کو سامنے نظر آتی ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ یعنی ’’(اے عیسیٰ علیہ السلام) میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں اور آسمان پر اٹھانے والا ہوں۔‘‘ پھر اس وعدہ کو اﷲتعالیٰ پورا کرتے ہیں اور یوں اعلان کرتے ہیں۔ ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ یعنی ہم نے مسیح علیہ السلام کو جبرائیل فرشتہ کے ساتھ مدد دی۔ (جو انہیں اٹھا کر دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر آسمان پر لے گئے) دوسری جگہ اس وعدہ کا ایفاء یوں مذکور ہے۔ ’’ماقتلوہ یقیناً بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ (یہود نے یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اٹھا لیا اﷲتعالیٰ نے ان کو آسمان پر) اسی ایفاء وعدہ اور معجزانہ حفاظت کو بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس آیت میں ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام یاد کر ہماری نعمت کو جب ہم نے تم سے بنی اسرائیل کو روک لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر واجب ہے کہ گردن مارے احسان کے جھکا دیں اور یوں عرض کریں۔ ’’رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علیّ‘‘ یا اﷲ مجھے توفیق دے کہ میں واقعی تیری معجزانہ نعمتوں کا شکریہ ادا کروں۔

    قادیانی اعتراض اور اس کا جواب

    اعتراض از مرزاقادیانی: ’’دیکھو آنحضرتﷺ سے بھی عصمت کا وعدہ کیاگیا تھا۔ حالانکہ احد کی لڑائی میں آنحضرتﷺ کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔ اسی طرح اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدانے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنی ’’اذ کففت‘‘ کے ہیں۔ جیسا کہ ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ کے ہیں۔‘‘
    (نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)
    جواب از ابوعبیدہ نمبر:۱
    مضمون ما سبق میں اس کا حقیقی اور الزامی رنگ میں جواب موجود ہے۔
    جواب نمبر:۲…
    ’’عصم‘‘ کے معنی ہیں ’’بچا لینا‘‘ یعنی دشمن کا طرح طرح کے حملے کرنا اور ان حملوں کے باوجود جان کا محفوظ رکھنا۔ لیکن ’’کف‘‘ کے معنی ہیں روک لینا۔ یعنی ایک چیز کو دوسری تک پہنچنے کا موقعہ ہی نہ دینا۔ یہ دونوں آپس میں ایک جیسے کس طرح ہوسکتے ہیں؟ ہم اس پر بھی مفصل بحث کر کے ثابت کر آئے ہیں کہ کف کے استعمال کے موقعہ پر ضروری ہے کہ ایک فریق کو دوسرے فریق سے مطلق کسی قسم کا گزند نہ پہنچے۔ جب ہم شواہد قرآنی سے ثابت کر چکے ہیں کہ تمام قرآن کریم میں جہاں جہاں کف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مکمل حفاظت کے معنوںمیں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں کے خلاف اس آیت کے معنی کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟
    لیجئے! ہم خود مرزاقادیانی کا اپنا اصول ایسے موقعہ پر صحیح معنوں کی شناخت کا پیش کر کے قادیانی جماعت سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ایمان کی ضرورت ہے تو اسلامی تفسیر کے خلاف اپنی تفسیر بالرائے کو ترک کر دو۔
    ’’اگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے کل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا تو محل مبحوث فیہ میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا جو معنی … سارے قرآن شریف میں لئے گئے ہیں وہی معنی اس جگہ بھی مراد ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۲۹، خزائن ج۳ ص۲۶۷)
    ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں جہاں جہاں کف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ انہیں مذکورہ بالا معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پس محل نزاع میں اس کے خلاف معنی کرنا حسب قول مرزا الحاد اور فسق ہوگا۔
    جواب نمبر:۳…
    ایک لمحہ کے لئے ہم مان لیتے ہیں۔ نہیں بلکہ قادیانی تحریف کی حقیقت الم نشرح کرنے کے لئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ’’عصم‘‘ اور ’’کف‘‘ ہم معنی ہیں۔ پھر بھی قادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں گے۔ کیونکہ رسول کریمﷺ کے ساتھ وعدۂ ’’عصمت‘‘ جو خدا نے کیا۔ وہ مکمل حفاظت کے رنگ میں ظاہر کیا۔ یقینا قادیانی دجل وفریب کا ناطقہ بند کرنے کو ایسا کیاگیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ کی بشارت کے بعد رسول کریمﷺ کو کفار کوئی جسمانی گزند بھی نہیں پہنچا سکے۔
    قادیانی کا یہ کہنا کہ جنگ احد میں رسول کریمﷺ کا زخمی ہونا اور دانت مبارک کا ٹوٹ جانا اس بشارت کے بعد ہوا ہے۔ یہ ’’دو دو نے چارروٹیاں‘‘ والی مثال ہے اور قادیانی کے تاریخ اسلام اور علوم قرآنی سے کامل اور مرکب جہالت کا ثبوت ہے۔
    جنگ احد ہوا تھا شوال ۳ھ میں اور رسول کریمﷺ کو زخم اور دیگر جسمانی تکلیف بھی اسی ماہ میں لاحق ہوئی تھی۔ جیسا کہ قادیانی خود تسلیم کر رہا ہے۔ مگر یہ آیت سورۂ مائدہ کی ہے۔ جو نازل ہوئی تھی۔ ۵ھ اور ۷ھ کے درمیان زمانہ میں۔ دیکھو خود مولوی محمد علی امیر جماعت لاہوری اپنی تفسیر میں یوں رقمطراز ہے۔
    ’’ان مضامین پر جن کا ذکر اس سورۂ مائدہ میں ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہ رائے اکثر محققین کی بھی ہے کہ اس سورت کے اکثر حصہ کا نزول پانچویں اور ساتویں سال ہجری کے درمیان ہے۔‘‘
    (بیان القرآن ص۴۰۳، مطبوعہ ۱۴۰۱ھ)
    اب رہا سوال خاص اس آیت ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ کے نزول کا سواس بارہ میں ہم قادیانی نبی اور اس کی امت کے مسلم مجدد صدی نہم علامہ جلال الدین سیوطی کا قول پیش کرتے ہیں۔
    ’’واﷲ یعصمک من الناس فی صحیح ابن حبان عن ابی ہریرۃؓ انہا نزلت فی السفر واخرج ابن ابی حاتم وابن مردویہ عن جابر انہا نزلت فی ذات الرقاع باعلیٰ نخل فی غزوۃ بنی انمار‘‘
    (تفسیر اتقان جزو اوّل ص۳۲)
    مطلب جس کایہ ہے کہ غزوہ بنی انمار کے زمانہ میں یہ آیت سفر میں نازل ہوئی تھی۔ جب اس آیت کا وقت نزول غزوہ بنی انمار کا زمانہ ثابت ہوگیا تو اس کی تاریخ نزول کا قطعی فیصلہ ہوگیا۔ کیونکہ یہ بات تاریخ اسلامی کے ادنیٰ طالب علم سے بھی معلوم ہوسکتی ہے کہ غزوہ بنی انمار ۵ھ میں واقع ہوا تھا۔ مفصل دیکھو کتب تاریخ اسلام ابن ہشام وغیرہ۔
    لیجئے! ہم اپنی تصدیق میں مرزاقادیانی کا اپنا قول ہی پیش کرتے ہیں۔ تاکہ مخالفین کے لئے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’لکھا ہے کہ اوّل مرتبہ میں جناب پیغمبر خداﷺ چند صحابی کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کے لئے رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے ان سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔‘‘
    (الحکم ص۲، مورخہ ۲۴؍اگست ۱۸۹۹ئ، بحوالہ تفسیر القرآن موسومہ بہ خزینۃ العرفان قادیانی ص۵۹۲)

    مرزاغلام احمد قادیانی کا سیاہ جھوٹ
    پس مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ: ’’جنگ احد کا حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔‘‘ بہت ہی گندہ اور سیاہ جھوٹ ہے۔ اﷲتعالیٰ جھوٹوں کے متعلق فرماتے ہیں: ’’لعنۃ اﷲ علی الکذبین‘‘ اور خود مرزاقادیانی جھوٹ بولنے والے کے بارہ میں لکھتے ہیں:

    ۱…
    ’’جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)
    ۲…
    ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘
    (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳، خزائن ج۱۷ ص۵۶ حاشیہ)
    ۳…
    ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)
    ۴…
    ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)
    ۵…
    ’’جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔‘‘
    (ریویو جلد اوّل نمبر۴ بابت ماہ اپریل ۱۹۰۲ء ص۱۴۸)
    ۶…
    ’’جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۴)
    ۷…
    ’’جھوٹ ام الخبائث ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۷ ص۲۸، اشتہارات ج۳ ص۳۱)
    حضرات! فرمائیے اور اپنی مطہر اور پاکیزہ ضمیروں سے مشورہ کر کے جواب دیجئے کہ مرزاقادیانی کی حیثیت اپنے ہی فتویٰ کی رو سے کیا رہ جاتی ہے؟ نبی، محدث، مسیح، موعود اور مجدد تو درکنار کیا وہ شریف انسان بھی ثابت ہوسکتے ہیں؟
  6. ‏ مارچ 31, 2015 #26
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 8 ( اذ قالت الملئکۃ یمریم ان (آل عمران:۴۵))
    قرآنی دلیل نمبر:۸…
    ’’اذ قالت الملئکۃ یمریم ان اﷲ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیہا فی الدنیا والاٰخرۃ (آل عمران:۴۵)‘‘
    {جب کہا فرشتوں نے اے مریم اﷲ تعالیٰ تمہیں بشارت دیتے ہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی۔ جس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام وہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی باعزت ہوگا۔}
    اس آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال کا سارا راز اﷲتبارک وتعالیٰ نے ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ میں پنہاں رکھا ہوا ہے۔ ہمارا مسلک چونکہ قادیانی مسلمات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر دلائل قائم کرنا ہے۔ اس واسطے ہم سب سے پہلے ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کی قادیانی تشریح پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد قادیانی اقوال سے ثابت کریں گے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے۔ بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔
    ۱… مرزاقادیانی نے ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کے معنی لکھے ہیں۔ ’’دنیا میں راست بازوں کے نزدیک باوجاہت یا باعزت ہونا۔‘‘
    (ایام الصلح ص۱۶۴، خزائن ج۱۴ ص۴۱۲)
    ۲… مرزاقادیانی کے نزدیک ’’تمام نبی دنیا میں وجیہہ ہی تھے۔‘‘
    (ایام الصلح ص۱۶۶، خزائن ج۱۴ ص۴۱۴)
    ۳… (الف) مرزاقادیانی کے لاہوری خلیفہ اپنی تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں۔
    ’’وجیہ‘‘ کے معنی ہیں ذوجاہ یا ذووجاہۃ یعنی مرتبہ والا یا وجاہت والا۔
    (ب)’’اﷲتعالیٰ کے انبیاء سب ہی وجاہت والے ہوتے ہیں۔‘‘
    (تفسیر بیان القرآن ص۲۱۱، مطبوعہ ۱۴۰۱ھ)
    ناظرین باتمکین! اس آیت مبارکہ میں حضرت مریم علیہا السلام کو بطور بشارت کہاگیا ہے کہ وہ لڑکا (عیسیٰ علیہ السلام) دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی باعزت، بآبرو اور باوجاہت ہوگا۔ قابل توجہ الفاظ یہاں ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کے ہیں۔ ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ اس سے مراد صرف دنیوی وجاہت ہی ہے۔ جیسا کہ خود الفاظ ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہے ہیں۔ پھر دنیوی وجاہت سے بھی وہ معمولی وجاہت مراد نہیں ہوسکتی۔ جو دنیا میں کروڑہا انسانوں کو حاصل ہے۔ اس سے کوئی خاص وجاہت (عزت) مراد ہے۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت سے خاص کرنا اور اس کی بشارت کو خصوصیت کے ساتھ بطور پیش گوئی بیان کرنا شان باری تعالیٰ کے لائق نہیں۔ حضرت مریم علیہ السلام کو معمولی دنیوی وجاہت سے قبل از وقت اطلاع دینا قرین قیاس نہیں۔ روحانی وجاہت کا یقین تو حضرت مریم علیہ السلام کو کلمتہ منہ اور ’’وجیہا فی الاٰخرۃ‘‘ اور ’’غلاماً ذکیا‘‘ وغیرہ خطابات ہی سے حاصل ہوگیا تھا۔ ہاں ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کے الفاظ کے اضافہ سے یقینا باری تعالیٰ کا یہ مقصود تھا کہ اے مریم علیہ السلام اس دنیا میں اپنی قوم سے چند روز بدسلوکی کے بعد ہم انہیں تمام جہاں کی نظروں میں باعزت بھی کر کے چھوڑیں گے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب تک دنیوی وجاہت حاصل تھی یا نہ۔ اس کا جواب قادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔
    ’’وجیہا فی الدنیا والاٰخرۃ‘‘ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی زندگی میں وجاہت یعنی عزت، مرتبہ اور عام لوگوں کی نظر میں عظمت اور بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرو دوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی۔ بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔‘‘
    (رسالہ مسیح ہندوستان میں ص۵۳، خزائن ج۱۵ ص ایضاً)
    واقعی مرزاقادیانی سچ کہہ رہے ہیں۔ اس کی تصدیق دیکھنی ہو تو مرزاقادیانی کے بیانات بذیل آیت کریمہ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ گزر چکے۔ وہاں ملاحظہ فرمالیں۔

    تصدیق از محمد علی خلیفہ لاہوری قادیانی
    ’’یہاں اشارہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ شخص ذلیل ہوگیا۔ مگر ایسا نہ ہوگا۔ بلکہ اسے دنیا میں بھی ضرور وجاہت ہوگی اور آخرت میں بھی۔ جس قدر تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کی عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بظاہر انہیں ایک ذلت کی حالت میں چھوڑتی ہے۔ کیونکہ ان کا خاتمہ چوروں کے ساتھ صلیب پر ہوتا ہے۔ مگر اﷲتعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ انبیاء کو کچھ نہ کچھ کامیابی دے کر اٹھاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ’’وجیہاً فی الدنیا‘‘ فرمانا بھی یہی معنی رکھتا ہے کہ لوگ انہیں ناکام سمجھیں گے۔ مگر فی الحقیقت وہ کامیابی کے بعد اٹھائے جائیں گے۔ یہ کامیابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے بیت المقدس میں حاصل نہیں ہوئی۔‘‘
    (تفسیر بیان القرآن ص۲۱۱، مطبوعہ ۱۴۰۱ھ)
    معزز حضرات! جب یہ طے ہوگیا کہ واقعہ صلیب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت وعزت حاصل نہ تھی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب اور اس کے بعد کے زمانہ میں کیا انہیں یہ وجاہت دنیوی اس وقت تک نصیب ہوئی ہے یا نہ۔ اس کا جواب بھی قادیانی کے اپنے اقوال اور مسلمات سے پیش کرتا ہوں۔ یعنی ابھی تک دنیوی وجاہت اور عزت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔
    ۱… واقعہ صلیبی کو آیت ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ کے ذیل میں مذکور مرزاقادیانی کے الفاظ میں پڑھ لیا جائے۔ اگر مرزاقادیانی کا بیان صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے بڑھ کر دنیوی بے وجاہتی اور بے عزتی کا تصور انسانی دماغ کے تخیل سے محال ہے۔ یہی حال انجیل کے بیانات کو صحیح ماننے کا ہے۔ ہاں اسلامی حقائق کو قبول کر لینے سے واقعہ صلیبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیوی وجاہت کی ابتداء معلوم ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ یہود کے مکروفریب کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ میں آسمان پر اٹھایا جانا اور یہودنا مسعود کا اپنی تمام فریب کاریوں میں بدرجہ اتم فیل ہو جانا گویا وجاہت کی ابتداء ہے۔
    اب ہم واقعہ صلیب کے زمانہ مابعد کو لیتے ہیں۔ اس زمانہ میں یہود اور عیسائی بالعموم یہی عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور بالآخر قتل کئے گئے اور اس وجہ سے دونوں مذاہب کے ماننے والے یعنی یہودی اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باﷲ) لعنتی قرار دیتے ہیں۔ اگر قادیانی تصدیقات کی ضرورت ہو تو دیکھو ’’ومکروا ومکر اﷲ واﷲ خیر الماکرین‘‘ کی ذیل میں مذکور ہیں۔ پس کیا کروڑہا انسانوں کا آپ کو لعنتی قرار دینا موجب وجاہت ہے یا بے عزتی؟ پہلے تو صرف مخالف یہودیوں کی نظر ہی میں بے عزت تھے۔ مگر واقعہ صلیب سے لے کر اس وقت تک عیسائی بھی لعنت میں یہود کے ہمنوا ہوگئے۔

    قادیانی نظریہ وجاہت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی حقیقت
    ’’سچی بات یہ ہے جب مسیح علیہ السلام نے ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے شرف بخشاتو اس ملک میں خدا نے ان کو بہت عزت دی۔ حال ہی میں ایک سکہ ملا ہے۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام درج ہے۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آکر شاہانہ عزت پائی۔‘‘
    (مسیح ہندوستان میں ص۵۳، خزائن ج۱۵ ص ایضاً)
    ناظرین! مرزاقادیانی کے اس بیان کو ایجاد مرزا کہنا ہی زیادہ زیبا ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ مرزاقادیانی کا اپنا تخیل اور اپنے عجیب وغریب دماغ کی پیداوار ہے۔ قرآن، حدیث، تفاسیر، مجددین، انجیل اور کتب تواریخ یکسر اس بیان کی تصدیق اور تائید سے خالی ہیں۔ ہاں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی بھی ’’وجیہاً فی الدنیا‘‘ کی تفسیر دنیوی جاہ وجلال اور بادشاہت سے کرتے ہیں۔ کوئی قادیانی حضرات سے دریافت کرے کہ علاقہ ہیرودیس میں مسیح علیہ السلام ساڑھے تینتیس برس تک رہے اور بغیر وجاہت ودنیوی عزت کے رہے۔ دنیوی جاہ وجلال سے بھی عاری رہے۔ باوجود اس کے اس زمانہ میں جو انجیل نازل ہوئی۔ اس کے نام پر انجیل موجود ہے اور ساڑھے تینتیس سال کے حالات سے ساری انجیلیں بھری پڑی ہیں۔ اگر آپ کے بیان میں ذرہ بھر بھی صداقت کا نام ہو تو پنجاب میں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے شاہانہ عزت پائی۔ اس زمانہ کے حالات کہاں درج ہیں؟ آپ کے خیال میں واقعہ صلیبی کے ۸۷برس بعد تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ رہے۔ اس علاقہ میں آپ نے جس انجیل کی تعلیم دی وہ کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ بلکہ آپ کا بیان اگر صحیح مان لیا جائے۔ یعنی صلیب کے واقعہ کے ۸۷برس بعد تک حضرت مسیح گمنامی کی زندگی بسر کر کے کشمیر میں فوت ہوگئے تو کیا یہ بھی کوئی دنیوی وجاہت اور عزت ہے کہ جلاوطنی اور مسافری کے مصائب وآلام برداشت کر کے آخر ۸۷برس کے بعد بے نام ونشان فوت ہوگئے؟ سبحان اﷲ! کہ اتنی بڑی وجاہت کے باوجود اوراق تاریخ ان کے تذکرہ سے خالی ہیں۔ طرفہ تریہ کہ تواریخ کشمیر پر یہ الہامی ضمیمہ کسی طرح چسپاں نہیں ہوسکتا۔ بیّنوا وتوجروا!
    لیجئے! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ:
    ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
    ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘
    یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ مفصل دیکھو اسی آیت کی ذیل میں۔
    رسول کریمﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا حال ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔
    ’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اﷲﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتیٰ لا یقبلہ احدو تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃؓ فاقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘
    (بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
    ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا خدا کی قسم عنقریب ابن مریم ’’تم میں اتریں گے‘‘ حاکم عادل ہوکر۔ پھر وہ صلیب (عیسائیوں کے نشان مذہب) کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرا دیں گے اور بوجہ غلبہ اسلام جہاد کو موقوف کر دیں گے۔ (یعنی جب کفار ہی نہ رہیں گے تو جہاد کس سے کریں گے۔ البتہ شروع میں جہاد ضرور کریں گے) اور مال اتنا فراوان ہو جائے گا کہ کوئی شخص اسے قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ ساری دنیا کی نعمتوں سے اچھا ہوگا۔ پھر ابوہریرہؓ نے کہا کہ اگر تم (اس کی تصدیق کلام اﷲ سے) چاہو۔ تو پرھو آیت ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘
    دیکھئے ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی بشارت حضرت مریم علیہا السلام کو دی جارہی ہے اور جو اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔ بہرحال قادیانی مسلمات کی رو سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیوی وجاہت سے بکلی محروم رہے۔ حالانکہ قادر مطلق خدا کا سچا وعدہ ہے وہ پورا ہوکر رہے گا۔

    تصدیق از مرزاقادیانی
    حضرات! مرزاقادیانی کو جس زمانہ میں ابھی مسیح علیہ السلام ابن مریم بننے کا شوق نہیں چرایا تھا تو اس زمانہ میں ان کا بھی وہی عقیدہ تھا جو ستر کروڑ مسلمانان عالم کا ساڑھے تیرہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔ براہین احمدیہ اپنی الہامی کتاب میں مجدد ومحدث کا دعویٰ کرنے کے بعد یوں لکھتے ہیں:
    ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہر علی الدین کلہ‘‘
    یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
    (براہین احمدیہ ص۴۹۸،خزائن ج۱ ص۵۹۳ حاشیہ)
    ’’حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست ونابود کر دے گا۔‘‘
    (براہین احمدیہ ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱ حاشیہ)
    ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی طرف اﷲتعالیٰ حضرت مریم علیہ السلام کو توجہ دلارہے ہیں۔ چونکہ ابھی تک یہ وجاہت حضرت مسیح علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔ پس معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک دنیا پر نازل بھی نہیں ہوئے اور بقول مرزاقادیانی ’’نزول جسمانی رفع جسمانی کی فرع ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۲۹۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶)
    اس واسطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی بھی ثابت ہوگیا۔ ’’فالحمد ﷲ علی ذالک‘‘
  7. ‏ مارچ 31, 2015 #27
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 9 ( ان اعبدوا اﷲ ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً )(المائدہ:۱۱۶،۱۱۷)
    قرآنی دلیل نمبر:۹
    ’’واذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم أانت قلت للناس اتخذونی وامیّ الہین من دون اﷲ۰ قال سبحانک مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق۰ ان کنت قلتہ فقد علمتہ۰ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک۰ انک انت علاّم الغیوب۰ ماقلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اﷲ ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۰ وانت علی کل شیٔ شہیدا
    (المائدہ:۱۱۶،۱۱۷)‘‘
    {اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے۔ جب کہے گا اﷲتعالیٰ (نصاریٰ کو جھٹلانے کے لئے) کہ اے عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم (ان نصاریٰ میں جو تثلیث کا عقیدہ تھا۔ اس کا کیا سبب ہوا) کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوہ خدا کے معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے (توبہ توبہ) میں تو آپ کو (شریک سے) منزہ سمجھتا ہوں۔ (جیسا کہ آپ واقع میں بھی اس سے پاک اور منزہ ہیں تو ایسی حالت میں ) مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو آپ کو اس کا علم ہوگا۔ (مگر جب آپ کے علم میں بھی یہی ہے کہ میں نے ایسا نہیں کہا تو پھر میں اس بات سے بری ہوں) آپ تو میرے دل کے اندر کی بات کو بھی جانتے ہیں اور میں آپ کے علم میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کے جاننے والے آپ ہی ہیں۔ (سو جب اپنا اس قدر عاجز ہونا اور آپ کا اس قدر کامل ہونا مجھ کو معلوم ہے تو شرکت خدائی کا میں کیونکر دعویٰ کر سکتا ہوں) میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا۔ مگر صرف وہی جو آپ نے مجھے ان سے کہنے کو فرمایا تھا۔ (یعنی) یہ کہ تم اﷲ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ (یا اﷲ) میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں موجود رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا۔ تو صرف آپ ہی ان کے احوال پر نگہبان رہے اور آپ ہر چیز کی خبر رکھتے ہیں۔}
    معزز ناظرین! یہ وہ ترجمہ ہے جو کلام اﷲ، احادیث نبویہ، اقوال صحابہ، تفسیر مجددین امت محمدیہ سے مؤید ہے۔
    اب ہم ان آیات کی تفصیل یوں عرض کرتے ہیں اور سوال وجواب کے رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین بلاتکلیف سمجھ سکیں۔

    سوال نمبر:۱…
    اﷲتعالیٰ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان آیات کے نزول سے پہلے کر چکے تھے یا بعد میں کرنے کا اعلان ہے۔ اگر بعد میں کریں گے تو کب کریں گے؟
    جواب نمبر:۱…
    یہ سوال وجواب آیت کے نزول کے بعد قیامت کے دن ہوں گے۔ جیسا کہ اس کے بعد ساتھ ہی اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم (مائدۃ:۱۱۹)‘‘ یعنی یہی ہے وہ دن جب کہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ بولنا نفع پہنچائے گا۔
    ۲…
    اس آیت سے پہلے یہ آیت ہے: ’’یوم یجمع اﷲ الرسل فیقول ماذا أجبتم (مائدۃ:۱۰۹)‘‘ {جس دن جمع کرے گا اﷲ تعالیٰ تمام رسولوں کو۔ پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا۔} یہاں یوم سے مراد یقینا قیامت کا دن ہے۔
    ۳…
    صحیح بخاری باب التفسیر میں بھی اس سوال وجواب کا آئندہ ہی ہونا لکھا ہے۔
    ۴…
    تفسیر کبیر میں امام فخرالدین رازیؒ نے بھی یہی لکھا ہے۔ (مجدد صدی ششم کا فیصلہ)
    ۵… تفسیر جلالین میں امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم بھی اس سوال وجواب کو قیامت کے دن سے وابستہ کر رہے ہیں۔
    ۶… امام ابن کثیرؒ مفسر ومجدد صدی ششم بھی یہی ارشاد فرماتے ہیں۔
    ۷… غرضیکہ قریباً تمام مفسرین متفق الرائے ہیں کہ اﷲتعالیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان یہ سوال وجواب قیامت کے دن ہوں گے۔
    تصدیق از مرزاقادیانی
    ۸… مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹) پر خود تسلیم کیا ہے کہ ’’یہ سوال وجواب آئندہ قیامت کو ہوں گے۔‘‘

    سوال نمبر:۲…
    اﷲ تعالیٰ کا سوال کیا ہے؟ اور اسے باوجود علاّم الغیوب ہونے کے اس سوال کی ضرورت کیا تھی؟
    جواب نمبر:۲… سوال ’’أنت قلت للناس اتخذونی وامیّ الٰہین من دون اﷲ‘‘ سے ظاہر ہے۔ یعنی یہ کہ اے عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں نے تمہیں اور تمہاری ماں کو میرے سوا کیوں خدا بنالیا۔ کیا انہیں ایسا کرنے کا حکم تم نے دیا تھا۔ بے شک اﷲتعالیٰ علاّم الغیوب ہے۔ اسے سب کچھ معلوم ہے۔ مگر یہ سوال صرف نصاریٰ کو الوہیت مسیح کے عقیدہ میں مسیح علیہ السلام (نصاریٰ کے مزعومہ خدا) کی اپنی زبانی مجرم ثابت کرنے کے لئے ہوگا۔ چنانچہ تفسیر کبیر میں ایسا ہی درج ہے۔ تفسیر جلالین میں قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی نہم اس آیت کی تفسیر اس طرح ارشاد فرماتے ہیں۔
    ’’واذ کر اذقال ای یقول اﷲ بعیسیٰ فی القیمۃ توبیخاً لقومہ‘‘ یعنی یاد کرو وہ وقت جب فرمائے گا اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ان کی قوم کو توبیخ (مجرم کو ڈاٹنے) کے لئے۔
    ایسا ہی تمام مفسرین مسلمہ قادیانی لکھتے چلے آئے ہیں۔

    سوال نمبر:۳…
    کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اﷲتعالیٰ کے اس سوال سے پہلے عیسائیوں کے عقائد کی خرابی کا علم ہوگا؟
    جواب نمبر:۳… ہاں جب تک آپ کو عیسائی عقیدہ کی خرابی کا علم نہ ہو۔ ان سے یہ سوال کرنا باری تعالیٰ کے علم پر نعوذ باﷲ حرف آتا ہے۔ ہمارے دلائل ذیل ملاحظہ ہوں۔
    ۱… خود سوال کی عبارت ایسا بتارہی ہے۔ یعنی استفہام توبیخی، بالخصوص جب کہ مجرم عیسائی سامنے کھڑے ہوں گے اور اﷲتعالیٰ ان کا حساب لے رہے ہوں گے۔ اس سوال سے پہلے یقینا عیسائیوں سے اﷲتعالیٰ نے ان کے باطل عقائد کی وجہ دریافت کی ہوگی اور انہوں نے یقینا یہی جواب دیا ہوگا کہ ہمارے عقائد ہمیں یسوع مسیح نے خود تعلیم کئے تھے اور واقعی موجودہ اناجیل میں ایسا ہی لکھا ہے۔ پس ضرور ہے کہ دعویٰ اور جواب دعویٰ کے بعد اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی امت کے خلاف شہادت دینے کے لئے سوال کریں گے۔ اندریں حالات کون بیوقوف یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کے باطل عقائد کا علم نہ ہوگا؟
    ۲… اﷲتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ’’یوم ندعوا کل اناس بامامہم (بنی اسرائیل:۷۱)‘‘ یعنی قیامت کے دن ہم تمام لوگوں کو اپنے اپنے نبیوں اور رہنماؤں سمیت بلائیں گے۔
    ’’یوم یحشرہم وما یعبدون من دون اﷲ فیقول أانتم اضللتم عبادی ہؤلاء ام ہم ضلوا السبیل (فرقان:۱۷)‘‘
    {قیامت کے دن اﷲتعالیٰ ان مشرکین کو اور جن کی وہ اﷲتعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہیں۔ ان سب کو جمع کرے گا تو ان سے کہے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا۔ یا وہ خود گمراہ ہوگئے تھے۔}
    ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو ساتھ لے کر باری تعالیٰ کے حضور میں پیش ہوں گے۔ کیا پیشی سے پہلے امتوں کے حالات سے ان کے نبی واقف نہ ہوں گے؟ ضرور ہوں گے ورنہ ان کے ساتھ ہونے کا فائدہ کیا ہے۔ خود مرزاقادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ: ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی امت کی نیکی وبدی پر شاہد تھے۔‘‘
    (شہادۃ القرآن ص۶۷، خزائن ج۶ ص۳۶۳)
    ۳… احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ امت محمدی کے افراد کے اعمال باقاعدہ بارگاہ محمدیﷺ میں پیش ہوتے ہیں۔ اسی طرح ظاہر ہے کہ ہر ایک صاحب امت رسول کو اﷲتعالیٰ ان کی امت کے حالات سے مطلع رکھتا ہو۔ ورنہ بتایا جائے کہ رسول کریمﷺ نے کس جگہ اپنی امت کے حالات سے اطلاع یابی کو اپنے ساتھ خصوصیت دی ہے اور دوسرے رسولوں کے محروم ہونے کی خبر دی ہے؟ جیسا کہ آپؐ نے اپنی فضیلتیں دوسرے انبیاء پر صاف صاف الفاظ میں بیان فرماتے وقت یہی مسلک اختیار فرمایا ہے۔
    ۴… اﷲتعالیٰ نے قادیانی معترضین کو لاجواب کرنے کے لئے پہلے ہی سے اعلان کر دیا ہے۔ ’’ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا (نسائ:۱۵۹)‘‘
    {یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اہل کتاب پر دن قیامت کے بطور شاہد پیش ہوں گے۔}
    اسی پیش گوئی کی تصدیق میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے۔ ’’وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم (مائدہ:۱۱۷)‘‘
    {یعنی میں ان پر شاہد رہا۔ جب تک میں ان میں موجود رہا۔}
    چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں حسب وعدہ باری تعالیٰ تشریف لائیں گے اور اپنی امت کا حال دیکھ چکے ہوں گے۔ اس واسطے اپنی شہادت کے وقت ان کے باطل عقائد سے ضرور مطلع ہوں گے۔
    ۵… اسی آیت کے آگے اﷲتعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کا قول نقل فرماتے ہیں۔ ’’ان تعذبہم فانہم عبادک‘‘
    یعنی اے باری تعالیٰ اگر آپ ان مشرکین نصاریٰ کو عذاب دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں۔
    کیا یہ اقرار اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ وقت سوال قوم کے باطل عقائد سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ ورنہ اس سوال سے انہیں کیسے پتہ لگ سکتا ہے کہ نصاریٰ نے شرک کیا تھا؟
    ۶… اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی امت کے باطل عقائد کا پتہ نہ ہوتا تو باری تعالیٰ کے سوال کے جواب میں موجود جواب نہ دیتے۔ بلکہ یوں عرض کرتے۔
    ’’یا اﷲ اپنی الوہیت کی طرف ان کو دعوت دینا تو درکنار مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے مجھے اور میری ماں کو خدا بنایا ہے یا نہ۔ مجھے تو آج ہی آپ کے ارشاد سے پتہ چلا ہے کہ ایسا ہوا ہے۔‘‘
    مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سوال کے جواب میں اپنی بریت ثابت کرنا اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ آپ کو اپنی امت کا حال خوب معلوم تھا۔
    ۷… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کے بگڑ جانے کا پتہ ہے اور اب یہ پتہ انہیں نزول کے بعد نہیں بلکہ قبل رفع لگ چکا تھا۔ ثبوت میں ہم قادیانیوں کی کتاب عسل مصفیٰ سے رسول کریمﷺ کی حدیث کا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔
    ’’دیلمی اور ابن النجار نے حضرت جابرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سفر کرتے کرتے ایک وادی میں پہنچے۔ جہاں ایک اندھا آدمی دیکھا جو ہل جل نہیں سکتا تھا اور وہ ایک مجذومی تھا اور جذام نے اس کے جسم کو پھاڑ دیا ہوا تھا۔ اس کے لئے کوئی سایہ کی جگہ نہیں تھی… وہ اپنے رب العالمین کا شکریہ ادا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے تو کس چیز پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے… اس شخص نے جواب دیا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں اﷲتعالیٰ کی حمد اس لئے کرتا ہوں کہ میں اس زمانہ اور وقت میں نہیں ہوا جب کہ لوگ تیری نسبت کہیں گے کہ تو خدا کا بیٹا اور اقنوم ثالث ہے۔‘‘
    (کنزالعمال ج۳ ص۳۴۲، حدیث نمبر۶۸۵۲، وعسل مصفیٰ جلد اوّل ص۱۹۱،۱۹۲)
    ناظرین! کیسا صاف فیصلہ ہے اور قادیانیوں کی مسلمہ حدیث ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے رفع سے پہلے عیسائیوں کے فساد عقائد کا پتہ تھا۔ اب جو الزام قادیانی ہم پر لگاتے تھے کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹ کا مرتکب ماننا پڑتا ہے۔ وہی الٹا ان پر عائد ہوتا ہے۔ کیونکہ بفرض محال وہ فوت ہوچکے ہیں۔ جب بھی وہ عیسائیوں کے فساد عقائد سے لاعلمی نہیں ظاہر کر سکتے۔ کیونکہ اس حدیث کی رو سے انہیں (قادیانیوں کے قول کے مطابق) وفات سے پہلے پتہ لگ چکا تھا کہ دنیا میں ان کی پرستش ہوگی۔

    تصدیق از مرزاغلام احمد قادیانی
    ۸… ’’میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیاگیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم میں پھیل گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام ص۲۵۴، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ’’خداتعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دکھایا گیا۔ یعنی اس کو آسمان پر اس فتنہ کی خبر دی گئی۔‘‘
    (آئینہ کمالات ص۲۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ۹… مرزاقادیانی نے اس بھی زیادہ صفائی کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی امت کے بگاڑ سے مطلع ہونا تسلیم کیا ہے۔
    (آئینہ کمالات اسلام ص۴۳۹،۴۴۰، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    ۱۰… ’’خداتعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دکھایا۔ یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری امت اور تیری قوم نے اس طوفان کو برپا کیا ہے… تب وہ نزول کے لئے بے قرار ہوا۔‘‘
    (آئینہ کمالات ص۲۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)
    الحمدﷲ! یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ قیامت کے دن سوال کرنے سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی امت کی خرابی عقائد کا علم ہوچکا ہوگا۔

    سوال نمبر:۴…
    کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوگا کہ کس طرح اور کیوں کر ان کی امت کے لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کو خدا ٹھہرالیا؟
    جواب… نہیں اس بات کا انہیں علم نہ ہوگا۔ ہاں اتنا پتہ ضرور ہوگا کہ ان عقائد باطلہ کی ایجاد ان کی موجودگی میں نہیں ہوئی۔ بلکہ اس زمانہ میں ہوئی جب وہ آسمان پر تشریف فرما تھے۔ دلائل ذیل ملاحظہ کریں۔
    ۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے۔ ’’وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘ یعنی اے اﷲتعالیٰ میں تیرے حکم (ما امرتنی بہ) کی شہادت دیتا رہا۔ جب تک میں ان کے درمیان مقیم رہا۔ جب تو نے مجھے اٹھا لیا۔ پس پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ چونکہ اپنی نگہبانی کے زمانہ میں ان کے عقائد باطلہ کے جاری ہونے سے وہ اپنی بریت ظاہر کر رہے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ وہ ان کے عقائد کے بگڑنے کا زمانہ اپنے آسمان پر رہنے کے زمانہ کو قرار دے رہے ہیں۔ پس ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو عیسائیوں کے عقائد باطلہ اختیار کر لینے کا علم تو ضرور تھا۔ یعنی یہ تو معلوم تھا کہ انہوں نے یہ عقائد ان کی عدم موجودگی یعنی رفع علی السماء کے زمانہ میں اختیار کئے تھے۔ مگر یہ معلوم نہ تھا کہ کیونکر اور کس طرح یہ عقائد ان میں مروج ہوگئے۔

    کلام اﷲ کی عجیب فصاحت
    ۱… اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ’’توفیتنی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس سے باری تعالیٰ کے اس وعدہ کے ایفاء کا زمانہ بتایا ہے جو باری تعالیٰ نے ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں کیا تھا اور ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ میں پورا کر دیا تھا۔ یعنی اس ’’توفی‘‘ کے وہی معنی ہیں جو ’’انی متوفیک‘‘ والی توفی کے ہیں۔ جس کے معنی ہم دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ موت کے نہیں بلکہ زندہ اٹھا لینے کے ہیں۔ (دیکھو بحث توفی)
    ۲… باری تعالیٰ نے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے توفی کے مقابلہ پر ’’دمت فیہم‘‘ استعمال کرایا ہے۔
    ناظرین! ذرا غور کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دو زمانوں کا ذکر کیا ہے۔
    ۱… ’’مادمت فیہم‘‘ کا، دوسرا ’’توفی‘‘ کا، الفاظ کی اس بندش نے قادیانی مسیحیت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ:
    الف… اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی جسمانی زندگی دو جگہوں میں نہ گزاری ہوتی تو ’’مادمت فیہم‘‘ (جب تک میں ان میں مقیم رہا) کا استعمال بالکل غلط ہے۔ بلکہ فرمانا چاہئے تھا۔ ’’جب میں زندہ رہا۔‘‘ جیسا کہ دوسری جگہ ایسے موقعہ پر فرمایا۔ ’’واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ جب تک کہ میں زندہ رہوں۔ اگر صرف ایک ہی دفعہ دنیا میں رہنا تھا تو آپ ’’مادمت فیہم‘‘ کیوں فرماویں گے؟ ’’فیہم‘‘ (ان کے درمیان) کے لفظ کا اضافہ بتا رہا ہے کہ کوئی ایسا زمانہ بھی ان کی زندگی میں آیا ہوگا۔ جب کہ وہ ’’ماکان فیہم‘‘ (ان میں موجود نہ تھے) کے مصداق بھی ہوں گے اور وہ زمانہ ان کے آسمان پر رہنے کا زمانہ ہوگا۔ جس عرصہ میں عیسائیوں نے اپنے عقائد باطلہ گھڑ لئے ہیں۔
    ۲… چونکہ جب تک ’’دام‘‘ کے بعد ’’حیا‘‘ کا لفظ نہ آئے۔ اس کے معنی زندہ رہنے کے نہیں ہوسکتے۔ بلکہ اس کے معنی صرف موجود رہنے کے ہوتے ہیں۔ اس واسطے اس کے بالعکس کے معنی صرف موت سے کرنا تحکم محض ہے۔ کیونکہ موجود رہنے کے خلاف، موجود نہ رہنا ہے۔ جو بغیر موت کے زندگی میں بھی ہوسکتا ہے۔ واﷲ اعلم قادیانی لوگوں کی عقل کو کیا ہو گیا ہے کہ موجود رہنے کے خلاف وہ مرنا کے سوا اور کچھ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔
    مثال نمبر:۱… وہ لاہور میں موجود نہیں ہے۔ قادیانی اس کے معنی کرتے ہیں وہ مرگیا ہے۔ حالانکہ اس کے معنی ہیں وہ کہیں باہر گیا ہوا ہے۔
    مثال نمبر:۲… جب رسول کریمﷺ معراج شریف پر تشریف لے گئے تھے تو آپﷺ اس زمانہ میں زمین پر موجود نہ تھے۔ پس کیا آپؐ اس وقت فوت ہوچکے تھے؟ ہر گز نہیں۔
    مثال نمبر:۳… جب جبرائیل علیہ السلام رسول کریمﷺ کے پاس تشریف لاتے تھے۔ تو اس وقت آپ (جبرائیل علیہ السلام) آسمان پر موجود نہ ہوتے تھے کیا اس وقت جبرائیل وفات یافتہ ہوتے تھے؟
    مثال نمبر:۴… ایک ہوا باز سات دن تک محو پرواز رہا۔ زمین میں موجود نہ رہا تو کیا وہ مرا ہوا تصور ہوگا؟ ہرگز نہیں۔
    مثال نمبر:۵… سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ زمین کے باہر چاند وغیرہ دیگر سیاروں اور ستاروں میں جا کروہاں کے حالات کی تفتیش کریں۔ اگر وہ وہاں چلے جائیں تو یقینا زمین میں موجود نہ رہیں گے۔ پس کیا وہ مرے ہوئے متصور ہوں گے؟ ہرگز نہیں۔ (اب خلائی تسخیر ہوگئی ہے۔ خلا باز ہفتوں وہاں رہتے ہیں اس وقت وہ زمین پر نہیں ہوتے کیا وہ فوت ہوجاتے ہیں؟ مرتب)
    بعینہ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کچھ زمانہ اس دنیا میں مقیم رہے۔ باقی زمانہ اس سے باہر آسمان پر۔ اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ اس دنیا سے باہر ضرور وہ موت ہی کا شکار رہے ہوں گے؟ ہاں اگر قادیانی مطلب صحیح ہوتا تو ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوں عرض کرتے۔ ’’مادمت حیا‘‘ اس وقت بقرینہ لفظ ’’حیا‘‘ توفی کے معنی ہم موت لینے پر مجبور ہو جاتے۔ چونکہ انہوں نے لفظ ’’فیہم‘‘ استعمال فرمایا ہے۔ اس واسطے توفی کے معنی موت دینا کرنے سے فصاحت کلام مانع ہے۔ لاہوری مرزائی محمد علی قادیانی اپنی تفسیر ج۱ ص۴۵۳ پر ’’مادام فیہم‘‘ کے ہی معنی کرتے ہیں۔ ’’فالحمد ﷲ رب العلمین ‘‘

    قادیانی اعتراضات اور ان کا تجزیہ
    اعتراض نمبر:۱… از مرزاقادیانی: ’’پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد واقع ہوگی۔ لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ سے پہلے یہ آیت ہے۔ ’’واذ قال اﷲ یا عیسیٰ أانت قلت للناس‘‘ اور ظاہر ہے کہ قال ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵)
    جواب نمبر:۱… مرزاقادیانی! یہ اعتراض آپ کا نیم ملاں خطرہ ایمان نیم حکیم خطرہ جان کا مصداق ہے۔ آپ تو فرمایا کرتے تھے کہ میں نے نحو ایک نہایت کامل استاد سے پڑھی تھی۔ سبحان اﷲ! ’’اذ‘‘ اور ’’اذا‘‘ کے استعمال کا تو پتہ نہیں اور دعویٰ ہے مجددیت، محدثیت، مسیحیت اور نبوت کا۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ حضرت ’’اذ‘‘ بعض اوقات ماضی پر داخل ہوکر اس کو مستقبل کے معنوں میں تبدیل کر دیا کرتا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے شرح ملا جامیؓ شرح کا فیہ وغیرہ۔ کتب نحو۔

    جادوہ وہ جو سرپر چڑھ کر بولے۔
    مرزاقادیانی! ہم آپ کی توجہ آپ کی شہرہ آفاق کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹) کی طرف منعطف کراتے ہیں۔ جہاں آپ نے ’’اذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم أانت قلت للناس‘‘ میں قال بمعنی یقول کا اقرار کر لیا ہے۔ پس آپ کی کون سی بات سچ سمجھیں۔ ہم دلائل سے ثابت کر آئے ہیں کہ یہ سوال وجواب قیامت کے دن ہوں گے۔ لیکن اگر ان کا وقوع عالم برزخ میں تسلیم کر بھی لیں تو اس سے آپ کو کیا فائدہ۔ ہمیں تو کوئی نقصان نہیں۔ نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ مثلاً اگر یہ سوال وجواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد فوراً ہی تسلیم کر لیا جائے تو اس وقت تو ابھی عیسائی آپ کے قول کے مطابق بگڑے ہی نہ تھے۔ پھر یہ سوال وجواب کیسے؟ مرزاقادیانی ذرا تو غور کیجئے۔ اس قدر خود غرضی بھی تو اچھی نہیں ہے۔ ’’من حفر البیٔر لا خیہ وقع فیہ‘‘ جو اپنے بھائی کے لئے کنواں کھودتا ہے۔ وہ خود اس میں گرتا ہے۔ آپ ہی پر صادق آتا ہے۔ عالم برزخ میں سوال کرنے کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بطور مجرم دربار خداوندی میں کھڑے ہوکر جواب دیاہوگا۔ جو کئی وجوہ سے باطل ہے۔
    ۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب مجرم ہی نہیں تو ان سے سوال کیوں ہوا ہوگا؟ مثلاً اگر زید کو بکر نے قتل کیا ہے تو عمرو سے کون سوال کرسکتا ہے کہ تو نے زید کو کیوں قتل کیا ہے؟
    ۲… جب ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مجرم نہیں تو ان کی پیشی بحیثیت مجرم خیال فاسد ہے۔ مجرم تو عیسائی ہیں ان کا ابھی حساب وکتاب شروع ہی نہیں ہوا۔ کروڑہا عیسائی ابھی زندہ موجود ہیں۔ کروڑہا ابھی پیدا ہونے والے ہیں۔ ان کے پیدا ہونے اور مرنے سے پہلے ہی ان کا حساب کتاب کیسے شروع ہوگیا تھا؟ کیونکہ یقینا مجرموں کا جرم ثابت کرنے یا ان کے راہنما سے سوال کر کے انہیں لاجواب کرنے کو یہ سوال ہونا چاہئے۔ مجرم ابھی موجود ہی نہیں۔ پھر گواہ کی کیا ضرورت ہے؟
    ۳… حساب وکتاب کا دن (یوم الدین) (یوم الحساب) تو یوم القیامۃ ہی ہے۔ تمام قرآن کریم اس کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال وجواب کے کیا معنی؟ ہائے خود غرضی تیرا ستیاناس تو حق کے دیکھنے سے انسان کو کس طرح معذور کر دیتی ہے۔
    ۴… پھر اگر تسلیم کر لیا جائے کہ حسب قول مرزاقادیانی یہ سوال وجواب عالم برزخ میں ہوچکا ہے تو ہم مرزاقادیانی اور اس کی پارٹی سے یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ عالم برزخ میں سوال وجواب موت کے بعد فوراً ہی شروع ہوجاتے ہیں یا کچھ زمانہ بعد۔ یقینا موت کے ساتھ ہی شروع ہو جانا چاہئے۔ کیونکہ وقفہ دینے میں کوئی حکمت اور راز منقول نہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال ان کی موت کے بعد فوراً ہی شروع ہوگیا تھا تو یہ سوال ہی سرے سے فضول ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس وقت تک تو ابھی عقیدہ الوہیت مسیح جاری ہی نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ آپ نے جابجا اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے۔ پس جرم ہی ابھی عرصہ ظہور میں نہیں آیا۔ بازپرس پہلے ہی سے کیسے شروع ہوگئی؟ مرزاقادیانی دیکھئے۔ اپنی مسیحیت کے لئے راستہ صاف کرنے کی غرض سے آپ کو کس قدر بھول بھلیوں میں پھنسنا پڑا ہے اور یہ سوال وجواب مرنے کے کچھ زمانہ بعد ہوئے تھے تو وہ کون سا زمانہ تھا؟ اس وقت خدا کو کون سی ضرورت پیش آگئی تھی۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ بریں عقل ودانش بباید گریست!
    ۵… دندان شک جواب۔ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ دروغ گورا حافظہ نباشد، دیکھئے خود مرزاقادیانی مندرجہ ذیل مقامات پر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سوال وجواب خدا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان قیامت کے دن ہوں گے۔
    الف… ’’اور یاد رکھو کہ اب عیسیٰ علیہ السلام تو ہرگز نازل نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو اقرار اس نے آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ کی ر و سے قیامت کے دن کرنا ہے۔‘‘
    (کشتی نوح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۷۶)
    ب… ’’فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘ اس جگہ اگر توفی کے معنی معہ جسم عنصری آسمان پر اٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف کی انہیں آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ہوگا۔ علاوہ ازیں قیامت کے دن یہ جواب ان کا۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۱، خزائن ج۲۲ ص۳۳)
    ج… ’’فان عیسیٰ یجیب بہذا الجواب یوم الحساب یعنی یقول فلما توفیتنی فی یوم یبعث الخلق ویحضرون کما تقرون فی القرآن ایہا العاقلون‘‘
    (الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۳، خزائن ج۲۲ ص۶۶۵)
    پس تحقیق عیسیٰ علیہ السلام یہ جواب دے گا۔ قیامت کے دن یعنی کہے گا۔ ’’فلما توفیتنی‘‘ کا جملہ دن قیامت کے جس طرح کہ اے عقل مندو تم قرآن کریم میں پڑھتے ہو۔
    ناظرین! اس سے بڑھ کر ثبوت میں کیا پیش کر سکتا ہوں کہ خود مرزاقادیانی کے اپنے اقوال ان کی تردید میں پیش کر رہا ہوں۔ اس سے آپ مرزاقادیانی کی مجددانہ، دیانت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ علماء اسلام کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے تو بڑے زور سے ازالہ اوہام میں لکھ مارا کہ یہ سوال وجواب قیامت کو نہیں بلکہ رسول پاکﷺ سے پہلے عالم برزخ میں ہوچکے تھے اور دلائل قرآنی اور نحوی سے ثابت کر مارا۔ پھر وہی مرزاقادیانی حقیقت الوحی اور کشتی نوح اور براہین احمدیہ حصہ۵ میں قرآنی دلائل اور نحوی اصولوں سے اس سوال وجواب کا ہونا قیامت کے دن سے وابستہ کر رہے ہیں۔ سبحان اﷲ وبحمدہ!

    ہر بیشہ گمان مبر کہ خالیست
    شاید کہ پلنگ خفتہ باشد​

    (جاری ہے)
  8. ‏ مارچ 31, 2015 #28
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بقیہ : حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 9 ( ان اعبدوا اﷲ ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً )(المائدہ:۱۱۶،۱۱۷)

    قادیانی اعتراض نمبر:۴…
    ’’فلما توفیتنی‘‘ میں توفی کے معنی سوائے مارنے یا موت دینے کے اور صحیح نہیں ہوسکتے۔ وجہ یہ ہے کہ بخاری شریف میں ایک حدیث ہے۔ جس میں رسول پاکﷺ نے اپنی نسبت بھی ’’فلما توفیتنی‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور آنحضرتﷺ کی توفی یقینا موت سے واقع ہوئی تھی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی موت کے ذریعہ سے ہونی چاہئے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۸۹۰،۸۹۱، خزائن ج۳ ص۵۸۵،۵۸۶)
    جواب از ابوعبیدہ
    مرزاقادیانی! بے علمی بالخصوص نیم ملائی آپ کی گمراہی کی بہت حد تک ضامن ہے۔ اس حدیث سے آپ کو کس قدر دھوکہ لگا ہے۔ مگر منشاء اس سے آپ کو علوم عربیہ سے ناواقفی ہے۔ اس رحمتہ اللعالمینﷺ نے کمال فصاحت سے کام لیتے ہوئے فرمایا ہے۔
    ’’فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘

    (بخاری ص۶۹۳، بحوالہ ازالہ اوہام ص۸۹۰، خزائن ج۳ ص۵۸۵)
    ’’پس میں کہوں گا اسی کی مثل جو کہا تھا بندہ صالح نے ان الفاظ میں ’’وکنت علیہم شہیدا‘‘ مرزاقادیانی! یہاں رسول کریمﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں وہی کہوں گا جو کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام نے بلکہ فرمایا۔ میں کہوں گا اس کی مثل۔ کیا دونوں میں فرق نہیں ہے۔ آپ کی تحریف کا راستہ بند کرنے کو آنحضرتﷺ نے کما فرمایا اور اگر آنحضرتﷺ فرما جاتے ’’فاقول ما قال العبد الصالح‘‘ یعنی میں کہوں گا وہی جو کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام نے۔ اس وقت البتہ آپ کو تحریف کے لئے گنجائش تھی۔ وہ بھی بے علموں کے سامنے۔ ورنہ علماء اسلام اس وقت بھی آپ کی کج فہمی کا علاج کر سکتے تھے۔ تفصیل اس کی ذیل میں عرض کرتا ہوں۔‘‘
    ۱… اگر آنحضرتﷺ فرماتے ’’فاقول ما قال العبد الصالح‘‘ تو اس کا مطلب یہ تھا کہ میں بھی وہی لفظ جواب میں عرض کروں گا جو عرض کر چکے ہوں گے عیسیٰ علیہ السلام یعنی اس حالت میں رسول پاکﷺ بھی فرماتے۔ ’’فلما توفیتنی‘‘ اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ توفی کے معنی جو یہاں ہیں وہی وہاں بھی مراد ہیں۔ اس کا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ میں بھی توفی کا لفظ استعمال کروں گا اس کے معنی دلائل سے معلوم ہوں گے۔ رسول کریمﷺ کی صورت میں واقعات کی شہادت کی رو سے توفی کا وقوع بذریعہ موت ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں واقعات وشواہد قرآنی کی رو سے رفع جسمانی سے ہوا۔ اس کی تشریح مثالوں سے زیادہ واضح ہوگی۔
    سراقبال بھی ڈاکٹر ہیں اور مرزایعقوب بیگ قادیانی بھی ڈاکٹر ہیں۔ پس اگر زید یوں کہے کہ میں مرزایعقوب بیگ کے متعلق بھی وہی لفظ استعمال کروں گا جو میں نے سراقبال کے متعلق کیا ہے۔ یعنی ڈاکٹر۔ اس صورت میں صرف ایک عام جاہل ہی مرزایعقوب بیگ کو P.H.D سمجھنے لگ جائے گا۔ ورنہ سمجھدار آدمی فوراً ڈاکٹر کے مختلف مفہوم کا خیال کرے گا۔ اسی طرح ماسٹر کا لفظ اگر زید اور بکر دونوں کے لئے استعمال کیا جائے تو کون بیوقوف ہے جو دنوں کو ایک ہی فن کا ماسٹر سمجھنے لگ جائے گا؟ (نوجوان شریف لڑکے کو بھی انگریزی میں ماسٹر کہتے ہیں۔ دیکھو کوئی انگریزی لغات) یا ممکن ہے زید اگر کسی غلام کا مالک ہے تو بکر درزی ہو۔ اسی طرح بے شمار الفاظ (افعال اور اسمائ) موجود ہیں اور ہر زبان میں موجود ہیں جو مختلف موقعوں پر مختلف معنی دیتے ہیں۔ پس اگر ’’ما‘‘ کا لفظ بھی آنحضرتﷺ استعمال فرماتے۔ جب بھی ہم مرزاقادیانی کا ناطقہ بند کر سکتے تھے۔ وہ اس طرح کہ رسول پاکﷺ کے الفاظ وہی کہنے کا اعلان کر رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے۔ مگر مفہوم یقینا محل استعمال کے مختلف ہونے سے مختلف ہوگا۔ بہرحال اس صورت میں مرزاقادیانی جہالت میں کچھ چالاکی کر سکتے تھے۔
    ۲… لیکن مرزاقادیانی! حدیث میں تو آنحضرتﷺ نے آپ کی چالاکی کا سدباب کرنے کے لئے ’’کما‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں کیا کہوں گا۔ حدیث میں ’’فلما توفیتنی‘‘ کے الفاظ تو بطور مقولہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منقول ہیں۔ اگر آپ کہیں رسول پاکﷺ بھی یہی الفاظ قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے تو پھر ’’کما‘‘ کی فلاسفی اور فصاحت کلام کی اہمیت کیا رہی؟ ’’کما‘‘ تشبیہ کے لئے ہے۔ تشبیہ بیان کی جارہی ہے۔ دونوں حضرات کے اقوال میں۔ اگر دونوں کے اقوال ایک ہی ہوں گے تو مشابہت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر تو عینیت آجاتی ہے۔ جو کما کے منشاء کے بالکل مخالف ہے۔ اردو میں اس مضمون کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ (۱)وہ میرا بھائی ہے۔ (۲)وہ میرے بھائی کی طرح ہے۔
    پہلے فقرہ میں کوئی مشابہت مذکور نہیں۔ اس واسطے وہ اور میرا بھائی ایک ہی شخص کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن دوسرے فقرہ میں دونوں کے درمیان مشابہت کا تعلق ہے۔ اس واسطے وہ اور میرا بھائی ایک نہیں ہوسکتے۔ بلکہ کسی امر مشترک کا بیان کرنا مقصود ہے۔ مثلاً علم میں، اخلاق میں، چال میں، طرز گفتگو میں یا کسی اور امر میں، پس وہ بے وقوف ہے۔ جو مشابہت کے وقت دونوں چیزوں کو ایک کہے۔ کیونکہ مشابہت دو مختلف چیزوں کے کسی امر خاص وصف میں اتحاد کی بناء پر ہوتی ہے۔ یعنی مشابہت کا ہونا۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دو چیزیں ایک نہیں بلکہ مختلف ہیں۔ حدیث زیر بحث میں مشابہت بیان کی جارہی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور رسول کریمﷺ کے اقوال کے درمیان، پس معلوم ہوا کہ دونوں کے اقوال ایک ہی الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوسکتے اور نہ ہی دونوں اقوال آپس میں ہم معنی ہوسکتے ہیں۔ ہاں کسی خاص وصف میں مشابہت ہونی لازمی ہے۔ دیکھئے۔ مرزاقادیانی نے خود تشبیہات کی حقیقت یوں درج کی ہے۔
    ’’تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۷۲، خزائن ج۳ ص۱۳۸)
    مرزاقادیانی! ہم آپ کی اس تحریر سے زیادہ کچھ نہیں کہتے۔ اسی اصول کے ماتحت اگر آپ ہم سے فیصلہ کرنا چاہیں تو ساری مشکل آپ کی حل ہو جاتی ہے۔ دونوں حضرات کے اقوال میں مشارکت ومماثلت ہم بیان کرتے ہیں۔ آپ انصاف سے غور کریں۔
    دونوں حضرات اپنی اپنی امت کی گمراہی کی ذمہ داری سے بریت کا اعلان کر رہے ہیںَ یعنی لوگوں کی گمراہی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں اور نہ ان کی گمراہی ان کے زمانہ میں واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کے گمراہ ہونے کے زمانہ میں دونوں حضرات موجود نہ تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بسبب رفع جسمانی اور حضرت رسول کریمﷺ بسبب ظاہری موت اپنے اپنے لوگوں سے جدا ہوئے تھے۔ مقصود اپنی عدم موجودگی کا بیان کرنا ہے اور یہ وجہ مشابہت ہے۔ جس کی بناء پر رسول کریمﷺ نے فرمایا۔ ’’فاقول کما قال العبد الصالح… الخ!‘‘

    ایک اور طرز سے
    مرزاقادیانی! اگر دونوں اولوالعزم حضرات کے اقوال کے درمیان ’’کما‘‘ تشبہی کے باوجود آپ دونوں کے کلام اور اس کے مفہوم کو ایک ہی لینے پر اصرار کرتے ہیں تو کیا فرماتے ہیں۔ جناب مندرجہ ذیل صورتوں میں۔
    ۱… اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’کما بدأنا اوّل خلق نعیدہ (انبیائ:۱۰۴)‘‘ جس طرح پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا پھر اسی طرح پیدا کریں گے؟
    کیا قیامت کے دن تمام مخلوق ماں باپ کے توسل سے ہی پیدا ہوگی۔ کیونکہ پہلی بار تو اسی طرح پیدا ہورہی ہے۔ دیکھا دونوں دفعہ پیدا کرنے میں کس قدر فرق ہے؟ مگر دونوں کو ایک طرح کا قرار دیا ہے۔ اگر آپ کا اصول ’’فلما توفیتنی‘‘ والا یہاں بھی چلایا جائے تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ دوبارہ ماں کے پیٹ سے قیامت کے دن نکلیں گے۔ جیسے آپ پہلے نکلے تھے۔

    (تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)
    ۲… مرزاقادیانی خود آپ کا اپنا الہام ہے۔ ’’الارض والسماء معک کما ہو معی‘‘ اے مرزا زمین اور آسمان تیرے ساتھ اسی طرح ہیں۔ جس طرح میرے (خدا کے) ساتھ۔‘‘
    (انجام آتھم ص۵۲، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    کیا آپ کا مطلب اس سے یہ ہے کہ جیسے خدا ان کا خالق ہے۔ آپ بھی ان کے خالق ہیں۔ جیسے ان میں خدا کی بادشاہی ہے۔ ویسے ہی آپ کی بھی ہے؟
    ۳… اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’فاذکروا اﷲ کذکرکم اباء کم (بقر:۲۰۰)‘‘ یعنی تم اﷲتعالیٰ کو اسی طرح یاد کرو۔ جس طرح تم اپنے باپ داداؤں کو یاد کرتے ہو۔ اب باپ دادؤں کو یاد کرنے کا طریقہ سب دنیا جانتی ہے۔ مرزاقادیانی آپ نے اپنے باپ دادؤں کو یاد کرتے ہوئے ان کی سرکاری خدمات کا ذکر ضروری سمجھا ہے۔ یعنی کہ میرے والد نے سرکار انگریزی کی فلاں فلاں موقعہ پر یہ یہ خدمات سرانجام دیں۔ ’’میرے باپ نے غدر کے موقعہ پر سرکار کو اتنے جوان اور اتنے گھوڑے دئیے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ! مرزاقادیانی کیا آپ خدا کو بھی اس طرح یاد کرتے تھے۔ یعنی خدا نے فلاں فلاں جگہ سرکار انگریزی کی فلاں فلاں طریقہ سے مدد کی۔ اگر اس جگہ ’’ک‘‘ تشبیہی ہے اور اس سے عینیت لازم نہیں آتی۔ تو یقینا ’’فاقول کما قال العبد الصالح‘‘ (میں کہوں گا اسی طرح جس طرح کہا ہوگا بندہ صالح نے) میں بھی دونوں حضرات کی کلام کا حرف بحرف ایک ہونا لازم نہیں آتا۔
    ۴… دوسری جگہ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولہ (مزمل:۱۵)‘‘ یعنی ہم نے اے لوگو تمہاری طرف ایسا ہی رسول بھیجا ہے۔ جیسا رسول کہ (موسیٰ) فرعون کی طرف بھیجا تھا۔
    اب یہاں سوچنے کا مقام ہے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ آگئے تھے؟ اگر ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو آیت زیر بحث میں بھی دونوں حضرات کی کلام لففاً ایک نہیں ہوسکتی۔
    ۵… ایک اور جگہ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’کما بدأکم تعودون (اعراف:۲۹)‘‘ یعنی جس طرح تمہیں بنایا۔ اسی طرح واپس لوٹو گے۔ کیا یہاں بھی آپ کے اصول کے مطابق یہی مراد ہے کہ جیسے پہلے انسان کا ظہور ہوا تھا۔ بعینہ اسی طرح پھر ہوگا۔ اگر یہ نہیں تو دونوں حضرات کی کلام بھی ایک نہیں ہوسکتی۔
    ۶… ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ ہو۔ ’’کتب علیکم الصیام کما کتب علیٰ الذین من قبلکم (البقرہ:۱۸۳)‘‘ یعنی اے مسلمانو! تم پر بھی روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلوںپر۔ کیا مرزاقادیانی آپ کے نزدیک پہلی امتوں پر بھی ماہ رمضان کے روزے فرض کئے گئے تھے اور اپنی تمام جزئیات میں اسی طرح فرض تھے۔ جس طرح مسلمانوں پر؟ یقینا نہیں۔ پس دونوں حضرات کی کلام میں بھی لفظی اور معنوی وحدت کا قائل ہونا تحکم محض ہے۔
    ۷… اس قسم کی مثالوں سے کلام اﷲ بھرا پڑا ہے کہ دو اشیاء کے درمیان تشبیہ بیان کی گئی ہے اور خود تشبیہ کا بیان ہی اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ دونوں چیزیں مختلف ہیں۔
    ۸… خود اسی آیت زیر بحث میں اﷲتعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا دیے ہیں۔ ’’تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک‘‘ یعنی اے اﷲ تو میرے دل کی باتوں کو جانتا ہے اور میں تیرے دل کی باتوں کو نہیں جانتا۔ اب کون عقل کا اندھا اور علم سے کورا یہ خیال کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ نفس سے بالکل ایک جیسے ہیں؟ مرزاقادیانی کاش آپ اس وقت (۱۹۳۵ئ) میں زندہ ہوتے تو ہم آپ سے بالمشافہ گفتگو کرتے اور دیکھتے کہ آپ ہمارے دلائل کا کیا معقول جواب دے سکتے ہیں۔ اچھا اب آپ کے بیٹے ’’فخر رسل‘‘ اور ’’قمر الانبیائ‘‘ اور ’’کانّ اﷲ نزل من السمائ‘‘ کی شان رکھنے والے مرزابشیرالدین محمود کے دلائل کا انتظار کریں گے۔ کیونکہ ’’الولد سر لا بیہ‘‘ بھی تو آخر ٹھیک ہی ہے۔ (اور اب ہم مرزا مسرور سے یہی توقع رکھتے ہیں۔ مرتب) وہ ضرور جواب میں آپ کی نقل کریں گے۔
  9. ‏ مارچ 31, 2015 #29
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 10 ( ما المسیح ابن مریم الا رسول (مائدہ:۷۵))
    قرآنی دلیل نمبر:۱۰
    ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (مائدہ:۷۵)‘‘
    حضرات! اس آیت کو مرزاقادیانی نے وفات مسیح علیہ السلام کی دلیل کے طور پر بیان کیا ہے۔ نہ صرف اسی آیت کو بلکہ جس قدر آیات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہے ان سب میں تحریف کر کے مرزاقادیانی نے وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ اسی کو کہتے ہیں: ’’چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد‘‘
    اس آیت کی تفسیر میں ہم بہت طوالت اختیار نہیں کریں گے۔ صرف اجمالی بحث پر اکتفا کریں گے۔
    ۱… قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر جلالین ص۱۰۴ میں زیر آیت فرماتے ہیں:
    ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت مضت من قبلہ الرسل فہو یمضی مثلہم ولیس بالہ کما زعموا ولوکان الہ ما مضی‘‘
    نہیں ہے مسیح علیہ السلام ابن مریم مگر ایک رسول اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس وہ بھی ان کی طرح گزر جائے گا اور وہ اﷲ نہیں ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ خیال کرتے ہیں اور اگر وہ خدا ہوتا تو نہ گزر جاتا (چونکہ وہ بھی دور سے نبیوں کی طرح گزر جائے گا۔ اس لئے خدا نہ ہوا)
    ۲… قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی ششم امام فخرالدین رازیؒ اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں ارقام فرماتے ہیں۔
    ’’ای ماھو الا رسول من جنس الرسل الذین خلوا من قبلہ جاء بایات من اﷲ کما أتوا بامثالہا فان کان اﷲ ابرأ الا کمہ والابرص واحیا الموتیٰ علی یدہ فقد احیاء العصا وجعلہا حیۃ تسعی وفلق البحر علی ید موسیٰ وان کان خلق من غیر ذکر فقد خلق اٰدم من غیر ذکر ولا انثی‘‘
    (تفسیر کبیر ج۶، جز۱۱ ص۶۱)
    ’’یعنی نہیں عیسیٰ علیہ السلام مگر ایک رسول ایسے ہی جیسے کہ ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام اﷲ کی طرف سے ایسے ہی معجزات لے کر آئے تھے کہ جن کی مثل وہ پہلے رسول بھی لائے تھے۔ پس اگر اﷲتعالیٰ نے مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اچھا کیا اور مردوں کو ان کے ہاتھ پر زندہ کر دیا تو موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر عصا کو زندہ کر کے اژدھا بنادیا اور سمندر کو پھاڑ دیا تھا اور اگر وہ بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تو آدم علیہ السلام ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کئے گئے تھے۔‘‘
    اس عبارت سے صاف عیاں ہے کہ اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت (خدائی) کے خلاف ان کے صرف رسول ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر قادیانی عقیدہ درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر اﷲتعالیٰ ضرور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو پیش کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے خلاف دلیل پکڑتے۔ کسی شخص کے مر جانے کا ثبوت اس کے مخلوق ہونے کا بہترین ثبوت ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہاں اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانتے ہوئے ان کی رسالت اور معجزات کو گذشتہ نبیوں اور ان کے معجزات کا نمونہ قرار دے رہے ہیں اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہوتے تو اﷲتعالیٰ ضرور یوں استدلال کرتے کہ: ’’تم جانتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا فوت نہیں ہوسکتا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی خدا نہیں بن سکتے۔‘‘
    مگر اﷲ تعالیٰ یوں دلیل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے بھی ان کی طرح رسول گزر چکے ہیں۔ یہ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں۔ ذیل میں ہم اپنے بیان کی تصدیق مرزاقادیانی کی زبان سے کراتے ہیں۔ مرزاقادیانی کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ ’’یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے نبی فوت ہوچکے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۶۰۳، خزائن ج۳ ص۴۲۵)
    اس ترجمہ میں مرزاقادیانی کی زبان سے خود اﷲتعالیٰ نے معجزانہ طور پر ایسے الفاظ نکلوا دیے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں۔ ایک رسول ہے کہ بندش الفاظ کا خیال فرمائیے۔ پھر مرزاقادیانی دوسرے رسولوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں فرق یہ بیان کر رہے ہیں کہ دوسرے رسول تو فوت ہوچکے ہیں۔ جس سے لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسیح فوت نہیں ہوئے۔ ہاں دوسرے نبیوں کی طرح فوت ہو جانا ان کے لئے بھی مقدر ہے جو اپنے وقت پر پورا ہوکر رہے گا۔
    اب قرآنی تفسیر ملاحظہ ہو۔ سورۂ آل عمران ۱۴۴میں اﷲتعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔ ’’ما محمد الا رسول۰ قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ اس کے معنی مرزاقادیانی یوں کرتے ہیں۔ محمدﷺ صرف ایک نبی ہیں۔ ان سے پہلے سب نبی فوت ہوگئے ہیں۔
    (ازالہ اوہام ص۶۰۶، خزائن ج۳ ص۴۲۷)
    اب غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں آیتیں حضرت رسول کریمﷺ پر نازل ہوئی تھیں۔ دونوں کا طرز بیان ایک ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہے۔ دونوں کے الفاظ ایک ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ ایک آیت میں ’’المسیح ابن مریم‘‘ مذکور ہے۔ تو دوسری میں محمدﷺ مرقوم ہیں۔ اندریں حالات جو معنی اور تفسیر دوسری آیت میں رسول کریمﷺ کے متعلق کریں گے۔ وہی پہلی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سمجھیں گے۔ چنانچہ مرزاقادیانی بھی (ازالہ اوہام ص۳۲۹، خزائن ج۳ ص۲۶۷) پر ہمارے اصول کو صحیح تسلیم کر چکے ہیں۔ ناظرین! مفصل وہاں دیکھ سکتے ہیں۔ پس اگر کلام اﷲ کی آیت ’’ما محمد الا رسول‘‘ کے نازل ہونے کے وقت رسول کریمﷺ فوت ہوچکے تھے تو ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول‘‘ کے نزول کے وقت ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تسلیم کرنے سے ہرگز ہرگز انکار نہیں۔ لیکن اگر ’’ما محمد الا رسول‘‘ کے نزول کے وقت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ بجسدہ العنصری موجود تھے تو بعینہ اسی دلیل سے ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول‘‘ کی آیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات جسمانی ثابت ہو جائے گی۔ کون نہیں جانتا کہ رسول کریمﷺ نزول آیت کے وقت زندہ تھے۔ پس جس دلیل سے رسول کریمﷺ کی زندگی کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی دلیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ ناظرین! میں نے دس آیات قرآنیہ سے روز روشن کی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت بہم پہنچا دیا ہے۔ کوئی دلیل نقلی قادیانی مسلمات کے خلاف بیان نہیں کی۔ اگر پھر بھی قبول نہ کریں تو سوائے ختم اﷲ علیٰ قلوبہم کی تلاوت کے اور کیا کیا جائے۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘
  10. ‏ اپریل 1, 2015 #30
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت احادیث سے احادیث کی عظمت از کلام اللہ و مرزا قادیانی
    ۱… ’’فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک (نسائ:۶۵)‘‘ مطلب جس کا یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایمان کی کسوٹی یہ ہے کہ باہمی اختلاف کے وقت وہ رسول کریمﷺ کو اپنا ثالث بنایا کریں۔ اگر وہ آنحضرتﷺ کے فیصلہ کو بسر وچشم خوشی سے قبول نہ کریں گے تو وہ کبھی مؤمن نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح اختلاف کے وقت حدیث کی طرف رجوع کرنے کے احکام سے تمام قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ مرزاقادیانی نے بھی مجبوراً اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا ہے۔ مگر امتحان کے وقت تاویلات رکیکہ سے جان بچا لیتے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں حدیث کی عظمت ہم اقوال مرزا سے ثابت کرتے ہیں۔
    (قادیانی اصول نمبر۲، مندرجہ کتاب ہذا)
    ب… قول مرزا: ’’جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے۔ وہ بشرطیکہ جرح سے خالی ہو قبول کرنے کے لائق ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰)
    ج… قول مرزا: ’’ہمیں اپنے دین کی تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔‘‘
    (شہادۃ القرآن ص۳، خزائن ج۶ ص۲۹۹)
    ۲… ہم اپنی تائید میں صرف وہی حدیثیں بیان کریں گے جن کو قادیانی نبی اور اس کی جماعت نے صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ یا قادیانیوں کے تسلیم کئے ہوئے اصحاب کشف والہام اور مجددین کے اقوال سے ان کی صحت پایۂ ثبوت تک پہنچ چکی ہے۔ حدیثوں کی صحت پر ہم ساتھ ساتھ قادیانیوں اور ان کے مسلمہ مجددین کی تصدیقات بھی ثبت کراتے جائیں گے۔ تاکہ کوئی قادیانی اگر حدیث کے صحیح ہونے سے انکار کرے تو اس طریقہ سے بھی مرزاقادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں۔ غرضیکہ ہماری پانچوں ہر حالت میں گھی میں ہوں گی۔ اگر قبول کر لیں تو ’’چشم ماروشن دل ماشاد‘‘ اور اگر قبول نہ کریںتو اس صورت میں مرزاقادیانی کو پہلے جھوٹا تسلیم کرنا پڑے گا۔

    (احادیث اگلی پوسٹس میں آئیں گی)
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر