1. ختم نبوت فورم پر مہمان کو خوش آمدید ۔ فورم میں پوسٹنگ کے طریقہ کے لیے فورم کے استعمال کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پھر بھی اگر آپ کو فورم کے استعمال کا طریقہ نہ آئیے تو آپ فورم منتظم اعلیٰ سے رابطہ کریں اور اگر آپ کے پاس سکائیپ کی سہولت میسر ہے تو سکائیپ کال کریں ہماری سکائیپ آئی ڈی یہ ہے urduinملاحظہ فرمائیں ۔ فیس بک پر ہمارے گروپ کو ضرور جوائن کریں قادیانی مناظرہ گروپ
  2. [IMG]
  3. ختم نبوت فورم کا اولین مقصد امہ مسلم میں قادیانیت کے بارے بیداری شعور کرنا ہے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے فورم پر علمی و تحقیقی پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس میں ہمیں آپ کے علمی تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ آئیے آپ بھی علمی خدمت میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ قادیانی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد قادیانی کتب پراجیکٹ مرزا غلام قادیانی کی کتب کے رد کے لیے یہاں جائیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ تمام پراجیکٹس پر کام کرنے کی ٹرینگ یہاں سے لیں رد روحانی خزائن پراجیکٹ کا طریق کار

احتسابِ قادیانیت جلدنمبر 14 میں سے حیات و نزول عیسیؑ کے قرآنی ثبوت

محمدابوبکرصدیق نے 'آیاتِ نزول و حیات عیسیٰ علیہ السلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ فروری 1, 2015

لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. ‏ فروری 4, 2015 #11
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر:۴ پر رسول کریم ﷺ کی تفسیر
    رسول کریمﷺ کی تفسیر:
    ناظرین! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں چند احادیث اپنی پیش کردہ تفسیر کی تصدیق میں بیان کر دیں۔ ان احادیث کی صحت اور تفسیر پر جوقادیانی اعتراض کرے وہ کافر اور مرتد ہو جائے گا۔

    قادیانی اصول و قواعد نمبر : ۴
    پھر اگر کسی وقت کلام اﷲ، حدیث رسول اﷲﷺ اور صحابہ کرامؓ کے کلام سمجھنے میں اختلاف رونما ہو جائے اور خلقت گمراہ ہونے لگے تو اﷲتعالیٰ ہر صدی میں ایسے علمائے ربانیین پیدا کرتا رہتا ہے۔ جو اختلافی مسائل کو خدا اور اس کے رسولﷺ کے حکم اور منشاء کے مطابق حل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے۔ ’’ان اﷲ یبعث لہذہ الامۃ علیٰ رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا‘‘
    (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، باب مایذکر فی قدر المائۃ)
    ’’یعنی اﷲتعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایسے علماء مفسرین پیدا کرتا رہے گا۔ جو اس کے دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔‘‘ اس کی تائید مرزاقادیانی اس طرح کرتے ہیں:
    ’’جو لوگ خداتعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اﷲﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خداتعالیٰ انہیں تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے۔ جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں۔‘‘

    (فتح اسلام ص۹، خزائن ج۳ ص۷)

    پھر دوسری جگہ لکھتے ہیں:
    ’’مجدد کا علوم لدنیہ وآیات سماویہ کے ساتھ آنا ضروری ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۱۵۴، خزائن ج۳ ص۱۷۹)
    تیسری جگہ لکھتے ہیں:
    ’’یہ یاد رہے کہ مجدد لوگ دین میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے۔‘‘ وہ فرماتا ہے: ’’من کفر بعد ذالک فاؤلئک ہم الفاسقون‘‘
    (شہادۃ القرآن ص۴۸، خزائن ج۶ ص۳۴۴)
    چوتھی جگہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ’’مجددوں کو فہم قرآن عطا ہوتا ہے۔‘‘
    (ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸)
    پانچویں جگہ ارشاد ملاحظہ کریں:
    ’’مجدد مجملات کی تفصیل کرتا اور کتاب اﷲ کے معارف بیان کرتا ہے۔‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۷۵، خزائن ج۷ ص۲۹۰)
    چھٹی جگہ لکھا ہے:
    ’’مجدد خدا کی تجلیات کا مظہر ہوتے ہیں۔‘‘
    (سراج الدین عیسائی ص۱۵، خزائن ج۱۲ ص۳۴۱)

    اس سارے مضمون کا نتیجہ یہ ہے کہ کلام اﷲ اور حدیث رسول اﷲﷺ کا جو مفہوم مجددین امت بیان کریں وہی قابل قبول ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔

    حدیث نمبر:۱…
    ’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اﷲﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتیٰ لا یقبلۃ احد حتیٰ تکون السجدۃ الواحدہ خیراً من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃؓ فقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘
    (رواہ البخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
    ’’حضرت ابوہریرہؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا۔ مجھے اس ذات واحد کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق ضرور اتریں گے۔ تم میں ابن مریم حاکم وعادل ہوکر۔ پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرائیں گے اور جزیہ اٹھادیں گے۔ ان کے زمانہ میں مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ عبادت الٰہی دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ اگر تم چاہو تو (اس حدیث کی تائید میں) پڑھو۔ قرآن شریف کی یہ آیت: وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘
    سوال… کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
    جواب… ہاں صاحب! یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔ دلائل ملاحظہ کریں۔
    ۱… یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں موجود ہے۔ جن کی صحت پر مرزاقادیانی نے مہر تصدیق ثبت کرادی ہے۔
    (ازالہ اوہام ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲، تبلیغ رسالت حصہ دوم ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵)
    ۲… اس حدیث کی صحت کو مرزاقادیانی نے اپنی مندرجہ ذیل کتب میں صحیح تسلیم کر لیا ہے۔
    (ایام الصلح ص۵۲،۵۳،۷۵،۹۱،۱۶۰،۱۷۶، خزائن ج۱۴ ص۲۸۵،۳۲۸،۴۰۸،۴۲۴، تحفہ گولڑویہ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۱۲۸، شہادت القرآن ص۱۱، خزائن ج۶ ص۳۰۷)
    سوال… اس حدیث کا ترجمہ لفظی تو واقعی حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کرتا ہے۔ لیکن آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ اس حدیث سے مراد بھی وہی ہے جو لفظی ترجمہ سے ظاہر ہے اور یہ کہ ابن مریم سے مراد عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی ہے؟ وغیرہ وغیرہ!
    جواب… جناب عالیٰ! اس حدیث کا مطلب اور معنی وہی ہے جو اس کے الفاظ سے ظاہر ہیں۔ کیونکہ حقیقی معنوں سے پھیر کر مجازی معنی لینے کے لئے کوئی قرینہ ہونا ضروری ہے۔ ورنہ زبان کا مطلب سمجھنے میں بڑی گڑبڑ ہو جائے گی۔ میز سے مراد میز ہی لی جائے گی نہ کہ بینچ۔ مرزاغلام احمد قادیانی سے مراد ہمیشہ غلام احمد بن چراغ بی بی قادیانی ہی لی جائے گی۔ نہ اس کا بیٹا مرزابشیرالدین محمود۔ اسی طرح حدیث میں ابن مریم سے مراد ابن مریم (مریم کا بیٹا) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے نہ کہ مرزاغلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی۔
    ۲… صحابہ کرامؓ! مجددین امت محمدیہ نے اس حدیث کے معنی وہی سمجھے جو اس کے الفاظ بتاتے ہیں۔ یعنی حضرت ابن مریم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سمجھتے رہے۔
    ۳… خود مرزاقادیانی نے کسی عبارت کے مفہوم کو سمجھنے کے متعلق ایک عجیب اصول باندھا ہے۔ فرماتے ہیں:
    ’’والقسم یدل علیٰ ان الخبر محمول علی الظاہر لا تاویل فیہ ولا استثناء والّا ای فائدۃ کانت فی ذکر القسم‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ)
    ’’اورقسم (حدیث میں) دلالت کرتی ہے کہ حدیث کے وہی معنی مراد ہوں گے جو اس کے ظاہری الفاظ سے نکلتے ہوں۔ ایسی حدیث میں نہ کوئی تاویل جائز ہے اور نہ کوئی استثناء ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔‘‘
    سوال… کیا حدیث ہمارے لئے حجت ہے اور کیا حدیثی تفسیر کا قبول کرنا ہمارے واسطے ضروری ہے۔
    جواب… حدیث کے فیصلہ کا حجت اور ضروری ہونا تو اسی سے ظاہر ہے کہ اﷲتعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔
    ’’فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیما (نسائ:۶۵)‘‘
    {(اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں اے محمدﷺ) قسم ہے مجھے آپ کے رب کی (یعنی اپنی ذات کی) کہ کوئی انسان مؤمن نہیں ہوسکتا۔ جب تک وہ اپنے اختلاف اور جھگڑوں میں آپ کو ثالث نہ مانا کریں اور پھر آپ کے فیصلہ کے خلاف ان کے دلوں میں کوئی انقباض بھی پیدا نہ ہو اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔}
    خود مرزاقادیانی اصول تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
    ’’دوسرا معیار رسول اﷲﷺ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کے معنی سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول کریمﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرتﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلاتوقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔‘‘
    (برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)
    پس معلوم ہوا کہ اس تفسیر نبوی پر اعتراض کرنے والا بحکم مرزاقادیانی ملحد اور فلسفی محض ہے۔ اسلام سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔
    پھر یہ تفسیر نبوی مروی ہے۔ ایک جلیل القدر صحابی رسول اﷲﷺ سے جنہوں نے اس حدیث کو ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن‘‘ کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ گویا حضرت ابوہریرہؓ نے تمام صحابہ کے سامنے اس آیت کی تفسیر بیان کی اور کسی دوسرے بزرگ نے اس کی تردید نہ فرمائی۔ پس اس تفسیر کے صحیح ہونے پر صحابہ کا اجماع بھی ہو گیا۔
    صحابی کی تفسیر کے متعلق مرزاقادیانی کا قول ملاحظہ ہو۔
    ’’تیسرا معیار صحابہؓ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہؓ آنحضرتﷺ کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خداتعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔‘‘
    (برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)
    ناظرین! میں نے قرآن، حدیث، اقوال صحابہ اور مجددین امت کے بیانات اس آیت کی تفسیر میں بیان کر دیے ہیں۔ بیانات بھی وہ کہ قادیانی ان کی صحت پر اعتراض کریں تو اپنے ہی فتویٰ کی رو سے ملحد، کافر اور فاسق ہو جائیں۔ اگر تمام اقوال مجددین اور احادیث نبوی وروایات صحابہ کرامؓ درج کروں تو ایک مستقل کتاب اسی آیت کی تفسیر کے لئے چاہئے۔
  2. ‏ فروری 4, 2015 #12
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 1 : اہل کتاب کے ایمان لانے سے مراد کیا ہے؟
    قادیانی اعتراض نمبر:۱…’’اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنی ہیں۔ جیسا کہ سائل (اہل اسلام) سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو۔ جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال ببداہت باطل ہے۔ ہر یک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہوچکے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۶۷، خزائن ج۳ ص۲۸۸)
    جواب نمبر:۱… معترض کا یہ اعتراض جہالت محضہ پر مبنی ہے۔ تمام اہل کتاب مراد نہیں ہوسکتے۔ اس آیت کا مضمون بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اس فقرہ کا کہ ۱۹۵۰ء سے پہلے تمام مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع جسمانی پر ایمان لے آئیں گے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ ۱۹۵۰ء کے بعد کوئی مرزائی حیات عیسیٰ علیہ السلام کا منکر نہیں پایا جائے گا۔ اس سے پہلے کے مرزائی بعض کفر کی حالت پر مریں گے اور بعض اسلام لے آئیں گے۔ لیکن ۱۹۵۰ء کے بعد مرزائی کا نام ونشان نہیں رہے گا۔
    دوسری مثال… ’’لارڈ ولنگڈن مورخہ ۱۵؍جون ۱۹۳۶ء کو لاہور تشریف لائیں گے۔ آپ کی تشریف آوری سے پیشتر تمام اہل لاہور اسٹیشن پر ان کے استقبال کے لئے حاضر ہو جائیں گے۔‘‘ کون بے وقوف ہے۔ جو اس کا مطلب یہ لے گا کہ تمام اہل لاہور سے مراد آج (۲۹؍جون ۱۹۳۵ء ہے) کے اہل لاہور ہیں۔ ممکن ہے بعض مرجائیں۔ بعض باہر سفر کو چلے جائیں۔ بعض باہر سے لاہور میں آجائیں۔ بعض ابھی پیدا ہوں گے۔
    پس ثابت ہوا کہ کلام ہمیں خود مجبور کر رہی ہے کہ اہل الکتاب سے وہ لوگ مراد ہیں۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے اور وہ بھی تمام کے تمام نہیں بلکہ جو موت اور قتل سے بچ جائیں گے۔ وہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد کوئی اہل الکتاب نہیں رہے گا۔ سوائے اہل اسلام کے۔
  3. ‏ فروری 4, 2015 #13
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 2 :مسیح کے دوبارہ آنے پر اہل کتاب سے مراد کون لوگ ہوں گے؟
    قادیانی اعتراض :…’’بعض لوگ کچھ شرمندے سے ہوکر دبی زبان سے یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آویں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مؤمنوں کی فوج میں داخل ہوجائیں گے۔ لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اوّل تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا دے رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۶۸، خزائن ج۳ ص۲۸۹)
    جواب نمبر:۲… دوسرے اعتراض میں مرزاقادیانی نے (گستاخی معاف) بہت دجل وفریب سے کام لیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’بعض لوگ دبی زبان سے کہتے ہیں کہ اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۶۸، خزائن ج۳ ص۲۸۹)
    اجی کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ جن کے پاس قرآن کی گواہی، حدیث رسول اﷲﷺ کی شہادت، صحابہؓ کی تائید اور مجددین امت کا متفقہ فیصلہ ہو۔ وہ بھلا دبی زبان سے کہے گا؟ یہ محض آپ کی چالاکی ہے۔ جس کے متعلق رسول پاکﷺ نے پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ دجالون، کذابون یعنی بہت سے فریب بنانے والے اور بہت جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ پھر مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ:
    ’’آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی اہل کتاب کے لفظ سے مراد تمام وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں یا ان کے بعد برابر ہوتے رہے ہیں۔‘‘
    کیوں مرزاقادیانی! جناب نے تعمیم کا لفظ استعمال کر کے پھر اہل کتاب کو ’’حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں اور بعد میں‘‘ کے ساتھ کیوں مقید ومحدود کر دیا۔ اگر آپ کے قول کے مطابق آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی سارے اہل کتاب اس سے مراد ہیں تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے اہل کتاب کیوں شمار نہیں ہوں گے؟ جس دلیل سے آپ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے کے اہل کتاب کو اس سے الگ کریں گے۔ اسی دلیل سے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پہلے کے یہودی ونصرانی کو الگ کر دیں گے۔
    علاوہ ازیں بمطابق ’’دروغ گورا حافظہ نباشد‘‘ خود مرزاقادیانی اگلے ہی فقرہ میں لکھتے ہیں۔
    ’’آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘ باوجود اس کے خود آیت کو ’’حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت اور ان کے بعد‘‘ سے وابستہ کر رہے ہیں۔ شاید مرزاقادیانی کے نزدیک زمانے صرف دو ہی ہوتے ہوں۔ زمانہ ماضی، مضی مامضی کا شکار ہوکر رہ گیا ہو۔ جب آیت کی زد میں تمام اہل کتاب آتے ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے یہودی کیوں اس میں شامل نہ کئے جائیں۔ مرزاقادیانی ان اہل کتاب کو اس کا مخاطب نہیں سمجھتے۔ جو جواب قادیانی اس سوال کا دیں گے۔ وہی جواب اہل اسلام ان کے اس اعتراض کا دیں گے۔ ناظرین حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اعتراضات کلہم جہالت پر مبنی ہیں۔ اگر ان کو علم عربی اور اس کے اصولوں سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو واﷲ ان اعتراضات کا نام بھی نہ لیتے۔
  4. ‏ فروری 4, 2015 #14
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 3 : کیا مسیح کے دم سے اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے؟
    قادیانی اعتراض نمبر:۳… ’’علاوہ اس کے یہ معنی بھی جو پیش کئے گئے ہیں۔ ببداہت فاسد ہیں۔ کیونکہ احادیث صحیحہ بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیراہل کتاب۔ کفر کی حالت میں مریں گے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۶۹، خزائن ج۳ ص ایضاً)

    جواب نمبر:۳… جواب نمبر اوّل کی ذیل میں ملاحظہ کریں۔
  5. ‏ فروری 4, 2015 #15
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 4 : اگر تمام اہل کتاب حضرت عیسیؑ پر ایمان لے آئیں گے تو یہود و نصاری کی قیامت تک دشمنی کیسے رہے گی؟
    قادیانی اعتراض نمبر:۴… ’’مگر افسوس کہ وہ (اہل اسلام) اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس حالت میں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’والقینا بینہم العداوۃ والبغضاء الیٰ یوم القیامۃ‘‘ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ ص۱۲۶، خزائن ج۱۷ ص۳۰۹)
    نوٹ: ایسا ہی مرزاقادیانی نے دو تین اور آیات سے استدلال کیا ہے۔ جس کا مطلب وہی ہے جو نمبر:۴ میں ہے۔

    جواب نمبر:۴… مرزاقادیانی کونہ علم ظاہری نصیب ہوا اور نہ باطنی آنکھیں ہی نصیب ہوئیں۔ موافقت کا نام وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں اہل اسلام کی تفسیر ماننے سے قرآن میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ سبحان اﷲ! مرزاقادیانی جیسے بے استاد اور بے پیر سمجھنے والے ہوں تو اختلاف اور تضاد ہی نظر آنا چاہئے۔ باقی رہا ان کا یہ اعتراض کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان بغض اور عناد کا قیامت تک رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہود اور نصاریٰ دونوں مذاہب قیامت تک زندہ رہیں گے تو اس کا جواب بھی آنکھیں کھول کر پڑھئے۔
    اوّل تو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہود ونصاریٰ سے مراد دو قومیں ہیں۔ اگر وہ مسلمان بھی ہو جائیں تو بھی ان کے درمیان بغض وعناد کا رہنا کون سا محال ہے؟ کیا اس وقت روئے زمین کے مسلمانوں میں بغض وعناد معدوم ہے؟ کیا تمام مرزائی بالخصوص لاہوری وقادیانی جماعتوں میں بغض وعناد نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے۔ کیا اس صورت میں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ دوسرے ’’الیٰ یوم القیامۃ‘‘ سے مراد یقینا طوالت زمانہ ہے اور یہ محاورہ تمام اہل زبان استعمال کرتے ہیں۔ دیکھئے! جب ہم یوں کہیں کہ قادیانی میرے دلائل کا جواب قیامت تک نہیں دے سکیں گے تو مراد اس سے ہمیشہ ہمیشہ ہے۔ یعنی جب تک مرزائی دنیا میں رہیں گے۔ اگرچہ وہ قیامت تک ہی کیوں نہ رہیں۔ میرے دلائل کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزائی لوگوں کے قیامت تک رہنے کی میں پیش گوئی کر رہا ہوں۔ یاجب یوں کہا جاتا ہے کہ زید تو قیامت تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ کون بیوقوف ہے جو اس کا مطلب یہ سمجھے گا کہ کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ زید قیامت تک زندہ رہے گا؟ مطلب صاف ہے کہ جب تک زید زندہ رہے گا وہ اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اسی طرح آیات پیش کردہ کا مطلب ہے۔
    آیت اوّل ہے: ’’
    واغوینا بینہم العداوۃ والبغضاء الیٰ یوم القیامۃ‘‘ اور مطلب اس کا بمطابق محاورہ یہی ہے کہ جب تک بھی یہود ونصاریٰ رہیں گے ان کے درمیان باہمی عداوت اور دشمنی رہے گی۔
    آیت ثانی یہ ہے۔
    ’’وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ‘‘ کا مطلب بھی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تابعدار قیامت تک ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔

    اب غلبہ کئی قسم کا ہے۔ اس کی دو صورتیں بہت ہی اہم ہیں۔
    اوّل… یہود کا نصاریٰ ومسلمانوں کا غلام ہوکر رہنا۔ مگر اپنے مذہب پر برابر قائم رہنا۔ یہ صورت اب موجود ہے۔
    دوم… یہود کا نہ صرف مسلمانوں اور نصاریٰ کے ماتحت ہی رہنا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت چھوڑ کر ان کا روحانی غلام بھی ہو جانا اور یہی حقیقی ماتحتی اور غلامی ہے۔ اس کا ظہور نزول المسیح کے وقت ہوگا۔ یہی مطلب ہے۔ تمام آیات کلام اﷲ کا جس کو مرزاقادیانی اور ان کی قلیل الانفاس جماعت بڑے طمطراق سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے پیش کیا کرتے ہیں۔ ہم اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں احادیث نبوی اور خود اقوال مرزا قادیانی سے شہادت پیش کرتے ہیں۔

    حدیث نبوی
    ’’یہلک اﷲ فی زمانہ (اے عیسیٰ) الملل کلہا الا الاسلام‘‘
    {ہلاک کر دے گا اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تمام مذاہب کو سوائے اسلام کے۔}
    (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج الدجال، مسند احمد ج۲ ص۴۰۶، درمنثور ج۲ ص۲۴۲)
    روایت کیا اس حدیث کو ابوداؤد، احمد ابن جریر اور صاحب درمنثور نے۔ جن کا منکر مرزاقادیانی کے نزدیک کافر وفاسق ہوجاتا ہے۔

    (دیکھو اصول مرزا نمبر:۴)

    اقوال مرزا
    ۱… ’’اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔‘‘
    (ایام الصلح ص۱۳۶، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)
    ۲… ’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں… جیسا کہ آج کل قادیان میں اس کا ظہور ہورہا ہے۔‘‘
    (فیصلہ سیشن جج گورداسپور دربارہ امیر شریعت مولانا سید عطاء اﷲ شاہ صاحب ابوعبیدہ)
    اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے دنیا اس کو بالکل بھول جائے خدائے واحد کی عبادت ہو۔
    (ملفوظات ج۸ ص۱۴۸)
    ۳… ’’اور پھر اسی ضمن میں (رسول اﷲﷺ نے) مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا۔‘‘
    (شہادت القرآن ص۱۱، خزائن ج۶ ص۳۰۷)
    ۴… ’’ونفخ فی الصور فجمعناہم جمعاً‘‘ خداتعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔ تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔
    (شہادۃ القرآن ص۱۵، خزائن ج ص۳۱۱)
    ۵… ’’ونفخ فی الصور فجمعنا ہم جمعاً‘‘ یعنی یاجوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ تب ان دنوں خداتعالیٰ اس پھوٹ کو دور کرنے کے لئے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اور محض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صور یعنی قرنا کا حکم رکھتا ہوگا۔ اپنی پرہیبت آواز لوگوں تک پہنچائے گا۔ جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خداتعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۸۰، خزائن ج۲۳ ص۸۸)
    ۶… ’’خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۸۲،۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۰،۹۱)
    ۷… ’’خداتعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد مصطفیﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ تابذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے۔ دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنا دے اور جیسا کہ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ ان میں بھی ایک وحدت پیدا کرے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تاپہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی… یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے وحدہ لا شریک کے وجود اور اس کی حدانیت پر دوہری شہادت ہو کیونکہ وہ واحد ہے۔‘‘
    (چشمہ معرفت ص۸۲، خزائن ج۲۳ ص۹۰)
    ۸… ’’وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ (مسیح موعود) کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علیٰ الدین کلہ‘‘
    (چشمہ معرفت ص۸۳، خزائن ج ص۹۱)
    ناظرین! ہم نے احادیث نبوی ’’علی صاحبہا الصلوات والسلام‘‘ اور اقوال مرزا سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں تمام مذاہب سوائے اسلام کے مٹ جائیں گے۔ اب اگر مرزائی وہی مرغی کی ایک ٹانگ کی رٹ ہی لگائے جائیں تو پھر مذکورہ بالا اقوال مرزاکو تو کم ازکم فضول اور لایعنی کہنا پڑے گا۔ ایسا وہ کہہ نہیں سکتا۔ کیونکہ مرزاقادیانی ان کے نزدیک حکم ہے اور جری اﷲ فی حلل الانبیاء ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ان کا یہ اعتراض بالکل جہالت پر مبنی ہے۔
  6. ‏ فروری 4, 2015 #16
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    قادیانی اعتراض 5 :
    (۱)’’دوسری قرأت اس آیت میں بجائے ’’قبل موتہ قبل موتہم‘‘ موجود ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۳۴، خزائن ج۲۲ ص۳۶)
    ۲… ’’ابی بن کعب کی قرأت سے ثابت ہوا کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں پھرتی۔ بلکہ اہل الکتاب کی طرف راجع ہے۔‘‘
    (حمامتہ البشریٰ ص۴۷، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

    قادیانی اعتراض 6 :
    بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور یہ قول بالکل ضعیف ہے۔ محققین میں سے ایک نے بھی اس کو تسلیم نہیں کیا۔
    (حمامتہ البشریٰ ص۴۸، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

    قادیانی اعتراض 7:
    ’’چونکہ علماء اسلام اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت اختلاف کرتے ہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ سب اصل حقیقت سے بے خبر ہیں۔‘‘
    (ملخص از عسل مصفیٰ ج۱ ص۴۱۹، ۴۲۰)
    ناظرین! اسی قدر اعتراضات قادیانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ ذیل میں بالترتیب جوابات عرض کرتا ہوں۔

    جوابات:
    اعتراض نمبر 5 کا جواب:
    مرزاقادیانی کا پانچواں اعتراض یہ ہے کہ قرأۃ ابی بن کعب میں ’’قبل موتہ‘‘ کی بجائے ’’قبل موتہم‘‘ آیا ہے۔ جس سے مراد ’’اہل کتاب کی موت سے پہلے‘‘ ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ مرزاقادیانی کے دجل وفریب کی قلعی ذیل میں یوں کھولی جاتی ہے۔
    ۱… یہ روایت ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ٹھہرانے والا وہ بزرگ ہے۔ جو مرزاقادیانی کے نزدیک نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔ (یعنی مفسر ومحدث ابن جریر)

    (چشمہ معرفت ص۲۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱)
    نیز اسی مفسر ابن جریر کے متعلق مرزاقادیانی کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کا فتویٰ ہے۔
    ’’اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘

    (اتقان ج۲ ص۳۲۵)
    ’’معتبر علماء امت کا اجماع ہے۔ اس بات پر کہ امام ابن جریر کی تفسیر کی مثل کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔‘‘
    اس روایت کو ضعیف ٹھہرا کر مفسر ابن جریر نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباسؓ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ’’قبل موتہ‘‘ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ہے۔ نہ کہ کتابی کی موت۔

    (تفسیر ابن جریر)

    اعتراض نمبر 6 کا جواب:
    ۲… خود مرزاقادیانی نے ’’موتہ‘‘ کی ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا تسلیم کیا ہے۔
    (ازالہ اوہام ص۳۷۲،۳۸۶، خزائن ج۳ ص۲۹۱،۲۹۹)
    ہاں کلام اﷲ کے الفاظ کو نعوذ باﷲ ناکافی بتلا کر ایسے ایسے مخدوفات نکالے ہیں کہ تحریف میں یہودیوں سے بھی گوئے سبقت لے گیا ہے۔ بہرحال ہمارا دعویٰ سچا رہا کہ ’’ہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔
    ۳… نورالدین خلیفۂ اوّل مرزاقادیانی اپنی کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ص۷۲ میں اسی آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔
    ’’اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا۔ ساتھ اس کے (حضرت مسیح علیہ السلام کے) پہلے موت اس کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔‘‘ اس سے بھی ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ بے ثبوت ہے۔ کیونکہ ہم نے اس کے خلاف اس کے اپنے مسلمات اور معتبر آئمہ تفسیر کے اقوال پیش کئے ہیں۔

    اعتراض نمبر 7 کا جواب:
    ۴… جمہور علماء اسلام ہمیشہ ’’قبل موتہ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر استدلال کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ سابق میں ہم بیان کر آئے ہیں۔
    ۵… بخاری شریف کی صحیح حدیث اس روایت کی تردید کر رہی ہے۔ جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں۔
    ۶… اگر ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری جائے تو پھر معنی آیت کے یہ ہوں گے۔ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔‘‘ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کروڑہا اہل کتاب کفر پر مر رہے ہیں۔
    چنانچہ خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
    ’’ہر ایک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر واصل جہنم ہو چکے ہیں۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۳۶۷، خزائن ج۳ ص۲۸۸)
    پس مجبوراً ماننا پڑتا ہے کہ قبل موتہ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ ہے۔
    ۷… ’’لیؤمنن‘‘ میں لام قسم اور نون ثقلیہ موجود ہے۔ جو ہمیشہ فعل کو آئندہ زمانہ سے خاص کر دیتے ہیں۔ پس معنی اس کے یہ ہوں گے۔ ’’البتہ ضرور ایمان لے آئے گا۔‘‘ اگر ہر کتابی کا اپنی موت سے پہلے ایمان مقصود ہوتا تو پھر عبارت یوں چاہئے تھی۔
    ’’من یؤمن بہ قبل موتہ‘‘ جس کے معنی قادیانیوں کے حسب منشاء ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ یعنی ہر ایک اہل کتاب ایمان لے آتا ہے۔ اپنی موت سے پہلے۔ اگر قادیانی ہمیں اس قانون کا غلط ہونا ثابت کردیں تو ہم علاوہ مقررہ انعام کے مبلغ دس روپے اور انعام دیں گے۔ انشاء اﷲ قیامت تک کسی معتبر کتاب سے اس کے خلاف نہ دکھا سکیں گے۔
    ۸… آیت کا آخری حصہ ’’ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘
    {اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر شہادت دیں گے۔} قادیانی بھی اس حصہ آیت کے معنی کرنے میں ہم سے متفق ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود ونصاریٰ کے کس حال کی گواہی دیں گے۔ اگر آیت کے معنی قادیانی تفسیر کے مطابق کریں۔ یعنی یہ کہ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہمیں بتلائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے شہادت دیں گے اور کیا دیں گے؟
    ہاں اگر اسلامی تفسیر کے مطابق مطلب بیان کیا جائے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں تمام یہود ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر ان کی موت کے بعد باقی نہ رہے گا تو پھر واقعی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی شہادت دے سکیں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن عرض کریں گے۔ ’’کنت علیہم شہیداً مادمت فیہم‘‘ جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان پر نگہبان تھا۔
    ۹… ’’قبل موتہ‘‘ میں ’’قبل‘‘ کا لفظ بڑا ہی قابل غور ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض علماء کا خیال ہے اور انہیں میں مرزاغلام احمد قادیانی بھی ہے کہ اس ایمان سے مراد ایمان اضطراری ہے جو غرغرہ (نزع) کے وقت ہر ایک کتابی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ دو وجہوں سے باطل ہے۔ اگر ایمان اضطراری مراد ہوتا تو اﷲتعالیٰ اپنی فصیح وبلیغ کلام میں ’’قبل‘‘ کی بجائے ’’عند موتہ‘‘ فرماتے۔ یعنی موت کے وقت ایمان لاتے ہیں اور وہ ایمان واقعی قابل قبول نہیں ہوتا۔ لیکن جس ایمان کا اﷲتعالیٰ بیان فرمارہے ہیں۔ وہ ایمان اہل کتاب کو اپنی موت سے پہلے حاصل ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ واقعات کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہی معنی صحیح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔
    ۱۰… مرزاغلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز تفسیر سے بھی ہم اپنے ناظرین کو محظوظ کرنا چاہتے ہیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ:
    ’’کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کئے ہیں۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔‘‘ یعنی تمام یہودی اور عیسائی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ فی الحقیقت انہوں نے مسیح کو صلیب نہیں دیا یہ ہمارا ایک اعجازی بیان ہے۔

    (ازالہ اوہام طبع اوّل ص۳۷۲،۳۷۶، خزائن ج۳ ص۲۹۱،۲۹۳)
    مجھے یقین ہے کہ ناظرین اوّل تو مرزاقادیانی کی پیچیدہ عبارت کا مطلب ہی نا سمجھ سکیں اور اگر سمجھ جائیں تو سوچیں کہ یہ عبارت کلام اﷲ کے کون سے الفاظ کا ترجمہ ہے۔

    چیلنج
    مرزاقادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص۵۴،۵۵،خزائن ج۶ ص۳۵۰،۳۵۱) پر صاف اقرار کرتے ہیں کہ ’’کلام اﷲ کا صحیح مفہوم ہمیشہ دنیا میں موجود رہا اور رہے گا۔‘‘
    نیز مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ خداتعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت ایسے آئمہ واکابر کے ذریعہ سے کی ہے جن کو ہر ایک صدی میں فہم القرآن عطاء ہوتا ہے۔

    (ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸)
    ہمارا چیلنج یہ ہے کہ اگر مرزاقادیانی میں کچھ بھی صداقت کا شائبہ ہے تو وہ یا ان کی جماعت اس آیت کی یہ تفسیر حدیث سے یا ۱۳۵۳ھ سال کے مجددین امت وعلماء مفسرین کے اقوال سے پیش کریں۔ ورنہ بمطابق ’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبؤا مقعدہ من النار‘‘
    (ترمذی ج۲ ص۱۲۳، باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن)
    یعنی فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ جس کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی۔ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا۔
    خود مرزاقادیانی تفسیر بالرائے کے متعلق لکھتے ہیں:
    ’’مؤمن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۳۲۸، خزائن ج۳ ص۲۶۷)
    پھر فرماتے ہیں:
    ’’ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا مسلمانوں کو اس سے بچائے۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۷۴۵، خزائن ج۳ ص۵۰۱)
    پس یا تو مرزائی جماعت مرزاقادیانی کے بیان کردہ معنی کسی سابق مجدد یا مفسر امت کی کتاب سے ثابت کرے یا مرزاقادیانی کا اور اپنا ملحد اور محرف ہونا تسلیم کرے۔
  7. ‏ مارچ 31, 2015 #17
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 5 (وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا)(الزخرف:۶۱)
    قرآنی دلیل نمبر:۵…’’وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا (الزخرف:۶۱)‘‘
    معزز ناظرین! مذکورہ بالا آیت بھی دیگر آیات کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی پر ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے۔ ہم اپنی طرف سے کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ بلکہ جیسا کہ ہمارا اصول ہے۔ اس آیت کی تفسیر بھی ہم مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے مسلمات ہی سے پیش کریں گے۔تا کہ ان کے لئے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔

    ۱…تفسیر بالقرآن
    ۱… ہم پہلی آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی اور نزول جسمانی قرب قیامت میں ثابت کر آئے ہیں۔ پس ان آیات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں اور بالیقین کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (قرب) قیامت کے لئے ایک نشانی ہے۔ ’’انہ‘‘ میں ’’ہ‘‘ کی ضمیرکو بعض نے قرآن کریم کی طرف پھیرا ہے۔ مگر یہ بہت ہی بڑی بے انصافی ہے۔ (اس کی تائید میں ملاحظہ ہو قول ابن کثیر مجدد صدی ششم فہویأتی) آخر ضمیر کا مرجع معلوم کرنے کا بھی کوئی قانون ہے یا نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہورہا ہے اور ان کی خوبیاں بیان ہورہی ہیں۔ انہیں میں سے ایک یہ خوبی ہے کہ ان کی ذات شریف ہر لحاظ سے قیامت کے پہچاننے کی نشانی ہے۔ تفصیل اس کی یوں ہے۔
    ان کی پیدائش بے باپ محض کلمہ ’’کن‘‘ سے اور ان کے معجزات ’’احیاء موتی او خلق طیرو غیرہا‘‘ خدا کی قدرت احیاء موتیٰ کا عملی ثبوت ہو کر وقوع قیامت پر دلالت قطعیہ پیش کرتا ہے اور ان کا اس وقت تک زندہ رہ کر دوبارہ آنا خدا کی طرف سے لوگوں کی راہنمائی کے لئے قرب قیامت کی علامت ہے۔

    ۲…تفسیر آیت از حدیث
    ’’حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے سنن ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند امام احمد میں مرفوعاً مروی ہے کہ جس رات رسول کریمﷺ کو معراج ہوئی اس رات آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام وموسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام سے ملے تو قیامت کے متعلق تذکرہ ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال شروع ہوا تو ان کو قیامت کا کوئی علم نہ تھا۔ (کہ کب ہوگی) پھر موسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوا تو ان کو بھی اس کا کوئی علم نہ تھا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نوبت آئی۔ تو آپ نے کہا کہ قیامت کے وقوع کا علم تو سوائے خدا کے کسی کو نہیں۔ لیکن خداتعالیٰ نے مجھے قیامت کے نزدیک کا عہد کیا ہوا ہے۔ پس آپ نے دجال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں نازل ہوں گا تو اس کو قتل کروں گا۔‘‘
    دیکھو مسند احمد ج۱ ص۳۷۵، ابن ماجہ ص۲۹۹، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم، ابن جریر، حاکم وبیہقی، بحوالہ درمنثور اور بھی بہت سی احادیث اس کی تائید میں وارد ہیں۔ جن میں سے کچھ پہلے بیان ہوچکی ہیں اور بقیہ ’’حیات عیسیٰ از احادیث‘‘ کے ذیل میں بیان کی جائیں گی۔

    ۳…تفسیر از صحابہ کرام وتابعین عظام
    حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر ’’عن ابن عباسؓ فی قولہ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامۃ (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘
    حضرت ابن عباسؓ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’قیامۃ‘‘ سے پہلے تشریف لانا ہے۔
    ب… حضرت ابوہریرہؓ کی تفسیر ’’عن ابی ہریرہؓ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسیٰ علیہ السلام یمکث فی الارض اربعین سنۃ… یحج ویعتمر (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘
    حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔ وہ زمین میں ۴۰ سال رہیں گے… حج کریں گے اور عمرہ بھی کریں گے۔
    ج… ’’عن مجاہدؓ وانہ لعلم للساعۃ قال آیۃ للساعۃ خروج عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم قبل یوم القیامۃ (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘
    حضرت مجاہدؓ جو شاگرد ہیں حضرت ابن عباسؓ کے۔ وہ بھی اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت سے پہلے قیامت کے لئے ایک نشان ہے۔
    د… ’’عن الحسنؓ وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسیٰ علیہ السلام (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘
    حضرت امام حسنؓ مجددین امت واولیاء امت کے سرتاج فرماتے ہیں کہ مراد اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔

    ۴…تفسیر از مجددین امت محمدیہؓ
    ۱… امام حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں بذیل آیت کریمہ فرماتے ہیں:
    ’’وقولہ سبحانہ وتعالیٰ وانہ لعلم للساعۃ تقدم تفسیر ابن اسحاق ان المراد من ذالک ما یبعث بہ عیسیٰ علیہ السلام من احیاء الموتیٰ وابراء الاکمہ والابرص وغیر ذالک من الاسقام وفی ہذا نظر وابعد منہ ماحکاہ قتادہ عن الحسن البصری وسعید ابن جبیر ان الضمیر فی انہ عائد الی القرآن بل الصحیح انہ عائد الیٰ عیسیٰ علیہ السلام فان السیاق فی ذکرہ ثم المراد بذالک نزولہ قبل یوم القیامہ کما قال تبارک وتعالیٰ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ علیہ السلام ثم یوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا ویؤید ہذا المعنی القرأۃ الاخریٰ وانہ لعلم للساعۃ ای امارۃ ودلیل علی وقوع الساعۃ قال مجاہد وانہ لعلم للساعۃ ای آیۃ للساعۃ خروج عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ وہکذا روی عن ابی ہریرہ وابن عباس وابی العالیہ وابی مالک وعکرمہ والحسن وقتادہ والضحاک وغیرہم وقد تواترت الاحادیث عن رسول اﷲﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامۃ اماماً عادلاً وحکماً مقسطاً‘‘
    اﷲتعالیٰ کے قول ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کے متعلق ابن اسحاق کی تفسیر گذر چکی ہے کہ مراد اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مثل مردوں کا زندہ کرنا، کوڑھوں اور برص والوں کو تندرست کرنا اور علاوہ اس کے دیگر امراض سے شفا دینا ہے۔ اس میں اعتراض اور اس سے زیادہ ناقابل قبول وہ ہے جو قتادہ نے حسن بصری ، سعید ابن جبیر سے بیان کیا ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ سیاق وسباق انہیں کے ذکر میں ہے۔ پس مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے… اور ان معنوں کی دوسری قرأت تائید کرتی ہے جو یہ ہے۔ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہے اور دلیل ہے۔ قیامت کے واقع ہونے پر۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں۔ ’’قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘
    اسی طرح ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوعالیہؓ، ابومالکؓ، عکرمہؓ، حسنؓ، قتادہؓ، ضحاکؓ وغیرہم بزرگان دین سے روایت ہے۔ حدیثیں رسول کریمﷺ سے حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل، حاکم اور منصف کی حالت میں نازل ہونے کی خبر دی ہے۔

    ۵…تفسیر آیت از امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم
    ۱… ’’وان عیسیٰ علیہ السلام (لعلم للساعۃ) شرط من اشراطہا تعلم بہ فسمی الشرط الدال علی الشیٔ علما لحصول العلم بہ وقرأ ابن عباس لعلم وھو العلامۃ… وفی الحدیث ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل علیٰ ثنیۃ فی الارض المقدسۃ یقال لہا افیق وبیدہ حربۃ وبہا یقتل الدجال فیأتی بیت المقدس فی الصلوٰہ الصبح والامام یؤم بہم فیتأخر الامام فیقدمہ عیسیٰ علیہ السلام ویصلی خلفہ علیٰ شریعۃ محمدﷺ‘‘
    (تفسیر کبیر ج۲۷ ص۲۲۲، بذیل آیت کریمہ)
    ’’عیسیٰ علیہ السلام قیامت معلوم کرنے کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے… ابن عباسؓ نے اس کو ’’لعلم للساعۃ‘‘ پڑھا ہے۔ جس کے معنی نشانی کے ہیں… اور حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارض مقدس میں افیق کے مقام پر نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا اور اس سے دجال کو قتل کریں گے۔ پس وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ درآنحالیکہ لوگ صبح کی نماز میں ہوں گے اور امام ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا۔ پس وہ پیچھے ہٹیں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام ان کو آگے کر دیں گے اور ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ اسلامی طریقہ سے۔‘‘
    تفسیر از امام لغت صاحب لسان العرب
    ’’وفی التنزیل فی صفۃ عیسیٰ صلوات اﷲ علیٰ نبینا وعلیہ (وانہ لعلم للساعۃ) وھی قرأۃ اکثر القراء وقراء بعضہم (انہ لعلم للساعۃ) والمعنی ان ظہور عیسیٰ علیہ السلام ونزولہ الیٰ الارض علامۃ تدل علیٰ اقتراب الساعۃ
    (لسان العرب ج۹ ص۳۷۲، بحرف علم)‘‘
    قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں آیا ہے۔ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ اور یہ اکثر قاریوں کی قرأت ہے اور ان میں سے بعض نے اس کو ’’لعلم للساعۃ‘‘ بھی پڑھا ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اور ان کا نازل ہونا زمین کی طرف ایسا نشان ہے جو قیامت کے نزدیک ہونے پر دلالت کرے گا۔
    لسان العرب کی عظمت واہمیت معلوم کرنا ہوتو مرزامحمود احمد قادیانی کا بیان ذیل ملاحظہ کریں۔
    ’’پس ان لغات (لغت کی چھوٹی چھوٹی کتب) کا اس معاملہ میں کوئی اعتبار نہیں۔ بلکہ اعتبار انہیں لغات کا ہوگا۔ جو بڑی ہیں اور جن میں تفصیل سے معنی بتائے جاتے ہیں اور عربی کی سب سے بڑی لغت تاج العروس ہے اور دوسرے نمبر پر لسان العرب ہے۔‘‘

    (حقیقت النبوۃ ص۱۱۵، ۱۱۶ حاشیہ)
    معزز ناظرین! ہم نے اپنی تائید میں مندرجہ زیل بزرگ ہستیوں کے بیانات پیش کئے ہیں۔
    ۱… اﷲ تبارک وتعالیٰ۔
    ۲… حضرت سید المرسلین محمد مصطفیﷺ۔
    ۳… حضرات صحابہ کرام بالخصوص حضرت ابن عباسؓ۔
    ۴… امام احمد، مجدد صدی دوم۔
    ۵… امام ابن جریرؒ۔
    ۶… امام حاکم نیشاپوری، مجدد صدی چہارم۔
    ۷… امام بیہقی مجدد صدی چہارم۔
    ۸… صاحب درمنثور امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم۔
    ۹… امام ابن کثیر مجدد صدی ششم۔
    ۱۰… امام فخر الدین رازی مجدد صدی ششم۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘
    یہ وہ اصحاب ہیں کہ حسب فتویٰ مرزاقادیانی ان افراد کے فیصلہ سے انحراف کرنے پر فوراً دائرہ اسلام سے خارج ہوکر مرتد، ملحد اور فاسق ہو جائیں گے۔ دیکھو قادیانی اصول وعقائد مندرجہ تمہید۔
    قادیانی جماعت ذرا ہوش سے ہمارے دلائل پر غور کرے۔ اگر خلوص سے کام لیں گے تو انشاء اﷲ حق کا قبول کرنا آسان ہو جائے گا۔
    اب ہم قادیانی اعتراضات پیش کرتے ہیں۔ جو فی الواقع ہم پر نہیں بلکہ مذکورۃ الصدر بزرگ ہستیوں پر وارد کر کے اس بات کا اعلان کرنا ہے کہ قادیانی خدا کو مانتے ہیں نہ رسول کو۔ صحابہ کرامؓ کو مانتے ہیں نہ مجددین امت کو۔ یوں ہی ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم ان سب کا ماننا اور مطیع رہنا اپنے ایمان کا جزو قرار دیتے ہیں۔

    قادیانی اعتراض نمبر:۱
    از مرزاغلام احمد قادیانی ’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کا ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۲۴، خزائن ج۳ ص۳۲۲)
    مرزاقادیانی نے کوئی دلیل ’’انہ‘‘ کی ضمیر کو قرآن شریف کے لئے متعین کرنے کے حق میں بیان نہیں کی۔ سوائے اس کے کہ ’’ہ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ماننے سے مرزاقادیانی کی مسیحیت معرض ہلاکت میں آجاتی ہے۔ اگر ہم ثابت کر دیں کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے تو مرزاقادیانی کی یہ ’’حق بات ہے‘‘ کی حقیقت الم نشرح ہوکر رہ جائے گی۔ سنئے!
    جواب نمبر:۱…
    سیاق وسباق میں بحث صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہستی سے ہے نہ قرآن کریم سے۔ پس جس کا ذکر ہی نہیں۔ اس کی طرف خواہ مخواہ ضمیر کو پھیرنا اگر سکھا شاہی نہیں تو اور کیا ہے۔
    جواب نمبر:۲…
    ہم نے قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر دیا ہے کہ ’’انہ‘‘ سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہے۔ اگر مرزاقادیانی اس کا انکار کریں گے تو حسب فتویٰ خود کافر وفاسق ہو جائیں گے۔
    جواب نمبر:۳…
    حضرت ابن عباسؓ ’’انہ‘‘ کی ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتے ہیں۔ جن کے متعلق مرزاقادیانی کا ارشاد ہے۔ ’’ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرتﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)
    اب کس کا منہ ہے جو حضرت ابن عباسؓ جیسی عظیم الشان ہستی کا فیصلہ رد کرے۔
    جواب نمبر:۴…
    مرزاقادیانی یا ان کی جماعت اپنی تائید میں اور ہماری مخالفت میں ۸۶گذشتہ مجددین مسلمہ قادیانی میں سے کسی ایک کو بھی پیش نہیں کر سکتے۔
    جواب نمبر:۵…
    خود مرزاقادیانی نے ’’انہ‘‘ کی ضمیرکو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا قبول کیا ہے۔
    (حمامتہ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)
    جواب نمبر:۶…
    خود مرزاقادیانی کے مرید ’’انہ‘‘ کی ضمیر کے قرآن کی طرف پھیرنے سے منکر ہیں۔ چنانچہ سرور شاہ قادیانی ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء میں لکھتے ہیں۔ ’’ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ (مثیل مسیح) ساعت کا علم ہے۔‘‘
    نوٹ:
    قادیانی سرور شاہ کا مبلغ علم اسی بات سے اظہر من الشمس ہوا جاتا ہے کہ مسیح کے ساتھ مثیل کی دم اپنی طرف سے بڑھا دی ہے۔ اگر ایسا کرنا جائز قرار دیا جائے تو قرآن شریف کی تفسیر ہر ایک آدمی اپنے حسب منشاء کر سکتا ہے۔ مثلاً جہاں رسول کریمﷺ کا اسم مبارک ہے۔ وہاں بھی کہہ دیا جائے کہ اس سے مثیل محمد مراد ہیں جو قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باﷲ) مرزاقادیانی ہیں۔

    جواب نمبر:۷…
    مرزاقادیانی کے بڑے فرشتہ احسن امروہی مرزاقادیانی کی تردید میں یوں فرماتے ہیں:
    الف…
    ’’دوستو! یہ آیت ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سورۃٔ زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘
    (اخبار الحکم مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۹ئ)
    ب…
    ’’آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر ’’انہ‘‘ کی طرف قرآن شریف یا آنحضرتﷺ کے راجع نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔‘‘
    (اعلام الناس حصہ دوم ص۵)
    اعتراض نمبر:۲…
    ازمرزاقادیانی ’’ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کوملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو… اگر خداتعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تب ان کا آسمان سے نازل ہونا مردوں کے جی اٹھنے کے لئے بطور دلیل یا علامت کے ہوگا۔ تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خداتعالیٰ لوگوں کو کیوںکر ملزم سکتا ہے۔ کیااس طرح اتمام حجت ہوسکتا ہے؟ کہ دلیل تو ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام ونشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے سے ہی منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم کیوں یقین نہیں کرتے۔ کیا ان کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہوسکتا کہ یا الٰہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا۔ جس کی وجہ سے ’’فلا تمترن بہا‘‘ کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۲۳، خزائن ج۳ ص۳۲۱،۳۲۲)
    جواب…
    مرزاقادیانی کا یہ اعتراض ناشی ازجہالت ہے۔ اپنی کم علمی سے ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کو ’’فلا تمترن بہا‘‘ کے لئے دلیل ٹھہرا لیا اور پھر اس دلیل کے غلط ہونے پر منطقی بحث شروع کر دی۔
    کاش! مرزاقادیانی نے تفسیر اتقان اپنے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی کتاب ہی میں کلمہ ’’ف‘‘ کی بحث پڑھ لی ہوتی۔ پھر یقینا ایسا مجہول اعتراض نہ کرتے۔ اس کا جواب ہم کئی طرز سے دیں گے۔
    اس آیت کا شان نزول جو مرزاقادیانی نے خط کشیدہ الفاظ میں ظاہر کیا ہے۔ وہ محض ایجاد مرزاہے۔ ورنہ اصلی شان نزول ملاحظہ ہو اور کلام اﷲ کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔
    ’’ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون وقالوا الہتنا خیرام ہو ماضربوہ لک الا جدلا بل ہم قوم خصمون ان ہوالا عبد انعمنا علیہ وجعلناہ مثلاً لبنی اسرائیل۰ ولو نشاء لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون۰ وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا واتبعون ہذا صراط مستقیم (الزخرف:۵۷تا۶۱)‘‘
    {اور جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے متعلق (معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیاگیا۔ تو یکایک آپ کی قوم کے لوگ (مارے خوشی کے) چلانے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں۔ یا عیسیٰ علیہ السلام۔ ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے تو محض جھگڑنے کی غرض سے بلکہ یہ لوگ (اپنی عادت سے) ہیں ہی جھگڑالو۔ عیسیٰ علیہ السلام تو محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے (کمالات نبوت سے اپنا) فضل کیا تھا اور ان کو بنی اسرائیل کے لئے ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا تھا اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم میں سے فرشتوں کو پیدا کر دیتے کہ وہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو قیامت (کے قرب) کا نشان ہیں۔ پس تم لوگ اس میں شک مت کرو اور تم لوگ میرا اتباع کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔}
    معزز ناظرین! مرزاقادیانی کی چالاکی ملاحظہ ہو کہ بمطابق مثل ’’چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد‘‘ خود شان نزول اس آیت کی کلام اﷲ کی انہیں آیات میں موجود ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مشرکین کے بتوں کے متعلق ایک مثال ہے۔ باوجود اس کے مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ یہاں بحث قیامت سے ہے۔ قیامت کی بحث تو یہاں ہے ہی نہیں۔ وہ تو یونہی جملہ معترضہ کے طور پر مذکور ہے۔ چنانچہ ہم مرزاقادیانی کے اپنے مانے ہوئے مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی روایت سے مرزاقادیانی کے تسلیم کردہ حبرالامت امام المفسرین ابن عباسؓ کا بیان کردہ شان نزول پیش کرتے ہیں۔
    ’’آنحضرتﷺ نے ایک روز سورۂ انبیاء کی آیت ’’انکم وما تعبدون من دون اﷲ حصب جہنم (انبیائ:۹۸)‘‘ کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیںَ وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبداﷲ بن زبعری نامی ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ علیہ السلام کو نبی اور ہمارے بتوں سے اچھا سمجھتے ہو۔ اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا۔ عبداﷲ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب خوش ہوئے۔ اس پر اﷲتعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
    باوجود اس قدر تصریح کے اگر پھر بھی قادیانی اپنی اس نامعقول دلیل پر جمے رہیں تو ہمارا جواب بھی الزامی رنگ میں سن لیں اور کان کھول کر سنیں۔‘‘
    ۱… مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’قرآن شریف میں ہے: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تمہیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔‘‘

    (اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۳۰)
    ۲… اﷲتعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مصدق رسول کو بھی بطور ہدایت فرماتا ہے۔
    ’’ان الساعۃ آتیۃ فلا یصدنک عنہا من لا یؤمن بہا (طہ:۱۶)‘‘
    اے موسیٰ علیہ السلام! قیامت بے شک وشبہ آنے والی ہے۔ خبردار کوئی بے ایمان تجھے اس کے ماننے سے روک نہ دے۔ یہاں اگر قادیانی طرز کلام کا اتباع کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قیامت کے آنے کی دلیل یا نشانی تو بیان نہیں کی گئی۔ صرف اس کے آنے کا اعلان کیاگیا ہے۔ پھر یہ اعلان اگلے حصہ آیت کے لئے دلیل ہوسکتا ہے۔ قادیانی جو جواب اس سوال کا دیں گے وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔
    ۳… ’’مرزاقادیانی نے ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی کہ محمدی بیگم دختر احمد بیگ ہوشیارپوری ضرور بضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ پھر اس کے متعلق الہامات بھی شائع کئے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا۔ ’’انا زوجناکہا‘‘ یعنی اے مرزا ہم نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا ہے۔‘‘

    (انجام آتھم ص۶۰، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)
    انتظار کرتے کرتے مرزاقادیانی تھک گئے۔ آخر ۱۸۹۱ء میں مرزاقادیانی سخت بیمار ہوئے۔ موت کے خیال پر جب محمدی بیگم والی پیش گوئی میں جھوٹا ہونے کا خیال گزرا تو الہام ہوا۔
    ’’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘‘ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔
    دیکھئے! یہاں مرزاقادیانی کے خدا نے مرزاقادیانی کو یقین دلانے کو صرف اتنا ہی کہا۔ ’’الحق من ربک‘‘ حالانکہ ابھی نکاح نہیں ہوا۔ پہلے ہی سے اس کے ہونے کا اعلان کر کے محض اعلان ہی کو دلیل قرار دیا جارہا ہے۔ جس دلیل سے مرزاقادیانی کے لئے ایک پیش گوئی کا اعلان دلیل ہوگیا آئندہ حکم کے حق ہونے کا۔ اسی دلیل سے یہاں بھی ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ دلیل سمجھ لیں۔ ’’فلاتمترن بہا‘‘ کی (ذرا غور سے سمجھئے) مگر یہ سب بیان ہمارا الزامی رنگ میں ہے۔ ورنہ مرزاقادیانی کا یہ اعتراض مبنی ہے علوم عربیہ سے جہالت مطلقہ پر۔

    مضحکہ خیز تفسیر قادیانی: تفسیر از مرزاغلام احمد قادیانی
    ۱… ’’یہ کیسی بدبودار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ ’’ساعۃ‘‘ سے قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ’’ساعۃ‘‘ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔‘‘
    (اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۲۹)
    ۲… ’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۴۲۴، خزائن ج۳ ص۳۲۲)
    ۳… ’’ان فرقۃ من الیہود اعنی الصدوقین کانوا کافرین بوجود القیامۃ فاخبرہم اﷲ علیٰ لسان بعض انبیاء ان ابنا من قومہم یولد من غیر اب وہذا یکون آیۃ لہم علی وجود القیامۃ فالی ہذا اشار فی آیۃ وانہ لعلم للساعۃ‘‘
    یہود کا ایک فرقہ صدوقین نامی قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ پس اﷲتعالیٰ نے بعض نبیوں کے واسطے سے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم میں سے ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا اور وہ قیامت کے وجود پر دلیل ہوگا۔ پس اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ اﷲتعالیٰ نے اس آیت ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ میں۔

    (حمامتہ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)
    نوٹ:
    مرزاقادیانی نے اسلامی تفسیر کی تردید میں جو دلیل بیان کی ہے۔ (دیکھو اعتراض نمبر۲ از مرزاقادیانی) اگر وہ صحیح قرار دی جائے تو ناظرین وہی عبارت تھوڑے سے تغیر کے ساتھ مرزاقادیانی کی اس تفسیر کے رد میں پڑھ لیں۔ اجمالاً ہم لکھ دیتے ہیں۔ صدوقین منکر قیامت تھے۔ قیامت کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آئندہ زمانہ میں ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا۔ جب تک دلیل موجود نہ ہو۔ دعویٰ کے تسلیم کر لینے کا مطالبہ کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟
    ۴… ’’ان المراد من العلم تولدہ من غیر اب علی طریق المعجزۃ کما تقدم ذکرہ فی الصحف السابقۃ‘‘

    (تتمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)
    العلم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ہے۔ بطور معجزہ کے جیسا کہ پہلے کتابوں میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔
    نوٹ:
    مرزاقادیانی معلوم ہوتا ہے۔ فن مناظرہ اور اس کے اصولوں سے جاہل مطلق تھے۔ دلیل تو وہ قابل قبول ہوتی ہے۔ جو مخالفت کے ہاں قابل قبول ہو بلکہ جس کا رد کرنا مخالف سے آسان نہ ہو۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا جس کو مخالف صحیح تسلیم نہیں کرتا۔ یہ مرزاقادیانی جیسے پنجابی نبی ہی کی شان ہوسکتی ہے۔ ورنہ دلیل تو ایسی ہو کہ مخالف کے نزدیک بھی وہ قابل قبول اور حجت ہوسکے۔ جیسا کہ ہم حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں قادیانی مسلمات پیش کر کے قادیانی افراد سے قبول حق کی اپیل کر رہے ہیں۔
    تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بقول مرزاقادیانی یہودی (صدوقین) قیامت کے وجود سے منکر تھے۔ ان کے سامنے بقول مرزاقادیانی قیامت کے وجود پر دلیل یہ پیش کی جاتی ہے۔ دیکھو ہم نے ایک لڑکا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ یہودی تو اس دلیل ہی کے ٹھیک اور حجت ہونے سے منکر تھے۔ وہ تو کہتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باﷲ نقل کفر کفر نباشد) ولد الزنا تھے۔ جو دلیل خودمحتاج دلیل ہو۔ وہ دلیل کیا ہوئی۔ پس مرزاقادیانی کی تفسیر بھی قرآن کریم کے ساتھ تلعب ثابت ہوئی۔
    ۵…تفسیر سرور شاہ قادیانی (نام نہاد) صحابی مرزا
    مرزاقادیانی کا ایک بہت بڑا نام نہاد صحابی سرور شاہ قادیانی اپنے نبی مرزاقادیانی کی تردید عجیب طرز سے کرتا ہے۔ لکھتا ہے:
    ’’مسیح کے بے باپ ولادت دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعۃ (قیامت) کا علم ہے۔‘‘

    (ضمیمہ اخبار بدر قادیانی ۱۹۱۱ئ، ۴،۶)
    ۶… تفسیر از احسن امروہی جو مرزاقادیانی کا (نام نہاد) صحابی تھا اور مرزاقادیانی کا فرشتہ کہلاتا تھا۔
    (دیکھو نمبر۷ جواب اعتراض نمبر۱ کی ذیل میں)
    محترم ناظرین! میں نے قادیانی جماعت کی چھ تفسیریں جن میں سے چار مرزاقادیانی کی اپنی ہیں۔ آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔ ان کا باہمی تضاد اور مخالفت اظہر من الشمس ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ کلام اﷲ سے دو آیتیں اور مرزاقادیانی اور ان کے حواری کے اقوال اور انجیل کی تصدیق پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔
    ۱… پہلی آیت (سورۂ حجر:۷۲) کی ہے: ’’انہم لفی سکرتہم یعمہون‘‘ وہ اپنی بیہوشی میں گمراہ پھر رہے ہیں۔
    ۲… دوسری آیت (نسائ:۸۲) میں ہے: ’’ولو کان من عند غیر اﷲ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً‘‘ اگر یہ کلام اﷲ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ہمیں بہت اختلاف پاتے۔
    مرزاقادیانی اور ان کی جماعت اپنی خود غرضی کے لئے اسلامی تفسیر کو چھوڑ کر گمراہی میں سرگرداں ہیں۔ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔
    مرزاقادیانی کہتے ہیں:
    ۱… ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘

    (ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)
    ۲… ’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)
    ۳… ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)
    نوٹ:
    مرزاقادیانی نے اس آیت کی جس قدر تفسیریں کی ہیں۔ ان میں سے ہم نے صرف چار پیش کی ہیں اور دو ان کے حواریوں کی درج کی ہیں۔ سب کی سب کا آپس میں تضاد وتناقض ظاہر ہے۔ پس مرزاقادیانی معہ اپنے جانشینوں کے اپنے ہی فتویٰ کی رو سے پاگل، منافق، جھوٹے اور مخبوط الحواس ثابت ہوئے۔ مرزاقادیانی کے حواری مرزاخدا بخش مصنف ’’عسل مصفیٰ‘‘ میں لکھتے ہیں اور علماء اسلام کی تفسیر میں اختلاف مذعومہ کے بارہ میں لکھتے ہیں۔
    ’’یہ چھ قسم کے معنی علماء متقدمین ومتاخرین نے کئے ہیں اور یہی معانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علماء ومفسرین کو یقینی معنی معلوم ہوتے تو وہ کیوں اس قدر چکر کھاتے اور کیوں دور از قیاس آرائیں ظاہر کرتے۔ جب ہم غور سے ان معانی پر نظر کرتے ہیں تو سیاق کلام اور نیز مشاہدہ کے خلاف پاتے ہیں۔‘‘
    (عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص۴۱۹)
    ناظرین! قادیانی تفسیر کے متعلق یہی عبارت پڑھ دیں۔ صرف ’’علماء متقدمین ومتاخرین‘‘ کی بجائے ’’مرزاقادیانی اور ان کے حواری‘‘ سمجھ لیں۔

    (جاری ہے)
  8. ‏ مارچ 31, 2015 #18
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    بقیہ : حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 5 (وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا)(الزخرف:۶۱)

    تصدیق از انجیل
    حضرات! یہ تو آپ بخوبی سمجھتے ہیں کہ کلام اﷲ، انجیل یا توریت کی نقل نہیں ہے۔ بلکہ ایک بالکل الگ اور براہ راست سلسلہ وحی ہے۔ پس جہاں کہیں قرآن کریم اور انجیل کے مضمون میں مطابقت لفظی یا معنوی عرصہ ظہور میں آجائے وہاں وہی معنی قابل قبول ہوں گے جو متفق علیہ ہیں۔ خود مرزاقادیانی ہماری تصدیق میں لکھ گئے ہیں۔
    ’’فاسئلو اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘
    یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو۔ تااصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔

    (ازالہ اوہام ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳)
    سو ہم نے جب موافق اس حکم کے نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو مندرجہ ذیل عبارت پر نظر پڑی۔
    ’’جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آکر بولے۔ ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان۔ ’’انہ لعلم للساعۃ (قرآن کریم)‘‘ یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے… اس وقت اگر تم میں سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے… میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے… پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے۔ تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندھ کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن مریم کا آنا ہوگا… ابن مریم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔‘‘

    (انجیل متی باب:۲۴، آیت:۳۱تا۳۳)
    یہی مضمون (انجیل مرقس باب:۱۳) اور (انجیل لوقا باب:۲۱) میں مرقوم ہے۔ انجیل کے اس مضمون سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔
    ۱… حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام خود دوبارہ نازل ہوں گے۔ کیونکہ اپنے تمام مثیلوں سے بچنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔
    ۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا قیامت کی نشانی ہے۔
    ۳… جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔
    ۴… حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اچانک نازل ہوں گے۔
    ۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آئیں گے۔ یہی مضمون کلام اﷲ میں موجود ہے۔ جیسا کہ ہم تصریح کر چکے ہیں۔ پس قادیانی جماعت پر لازم ہے کہ مرزاقادیانی کے بیان کردہ معیار کے مطابق حق کو قبول کر کے مرزائیت سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دیں۔

    نتیجہ
    مرزاقادیانی اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں:
    ’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔ لہٰذا یہ بحث بھی (کہ مسیح اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا۔ جو دنیا میں اسے حاصل تھا) اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔‘‘

    (ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶)
    ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا ثابت کر دیا ہے۔ پس حسب قول مرزاقادیانی ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ نازل ہونا جبھی مانا جاسکتا ہے۔ جب کہ ان کا آسمان پر اسی جسم کے ساتھ جانا تسلیم کر لیا جائے۔ ’’فالحمد ﷲ علیٰ ذالک‘‘
  9. ‏ مارچ 31, 2015 #19
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 6 (اذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم اذکر نعمتی علیک المائدۃ:۱۱۰)

    قرآنی دلیل نمبر:۶…
    ’’اذ قال اﷲ یا عیسیٰ ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلیٰ والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکہلا (المائدۃ:۱۱۰)‘‘
    {جب کہے گا اﷲتعالیٰ اے عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے یاد کر ان نعمتوں کو جو کیں میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر۔ جب کہ میں نے مدد دی تجھ کو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ باتیں کرتا تھا تو لوگوں سے پنگھوڑے میں اور بڑی عمر میں۔}
    محترم بزرگو! میں نے لفظی ترجمہ کر دیا ہے۔
    اب میںقادیانیوں کے مسلمہ مجددین امت امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم اور امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم کی تفسیرسے اس آیت کی تفسیر پیش کرتا ہوں۔
    اگر قادیانی کوئی اعتراض کریں تو رسالہ ہذا کی تمہید میں قادیانی اصول وعقائد نمبر۴ سامنے رکھ دیں۔ تاکہ شاید اپنے ہی منہ سے کافر وفاسق بننے سے شرما کر اسلامی تفسیر کی تائید میں رطب اللسان ہو جائیں۔
    اس
    آیت کی تفسیرمیں امام جلال الدین مجدد صدی نہم فرماتے ہیں۔
    ’’اذا ایدتک (قویتک) بروح القدس (جبرائیل) تکلم الناس حال من الکاف فی ایدتک فی المہدای طفلا وکہلا یفید نزولہ قبل الساعۃ لانہ رفع قبل الکھولۃ کما سبق فی آل عمران‘‘
    (جلالین ص۱۱۰، زیر آیت کریمہ)
    ’’یاد کر اے عیسیٰ علیہ السلام وہ وقت جب کہ ہم نے قوت دی تم کو ساتھ جبرائیل علیہ السلام کے درآنحالیکہ تو باتیں کرتا تھا۔ بچپن میں اور کہولت کی حالت میں۔ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کہولت (ادھیڑ عمر) سے پہلے اٹھائے گئے تھے۔ جیسا کہ آل عمران میں گزر چکا ہے۔‘‘
    حضرات! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اﷲتعالیٰ (سورۂ بقرہ:۸۷،۲۵۳) میں دو جگہ فرماتے ہیں:
    ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ امام موصوف اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
    ’’وایدناہ قویناہ بروح القدس من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ الی الروح المقدسۃ جبرائیل لطہارتہ یسیر معہ حیث سار‘‘
    ہم نے قوت دی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ جو جاتا تھا۔ جہاں وہ جاتے تھے۔
    (جلالین ص۱۴، زیر آیت کریمہ)
    اس آیت کی
    تفسیر امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم فرماتے ہیں:
    ’’نقل ان عمر عیسیٰ علیہ السلام الی ان رفع کان ثلاثا وثلاثین سنۃ وستۃ اشہر وعلیٰ ہذا التقدیر فہو ما بلغ الکھولۃ والجواب من وجہین… والثانی ھو قول الحسین بن الفضل الجلیؒ ان المراد بقولہ وکہلا ان یکون کہلا بعد ان ینزل من السماء فی آخرالزمان ویکلم الناس ویقتل الدجال قال الحسین بن الفضل وفی ہذہ الایۃ نص فی انہ علیہ السلام سینزل الیٰ الارض‘‘
    (تفسیر کبیر جز۸ ص۵۵)
    ’’نقل کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر جب وہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ ساڑھے تینتیس برس تھی اور اس صورت میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں کہولت (ادھیڑ عمر) تک نہیں پہنچے تھے۔ (پس کہولت میں کلام کرنے کا مطلب کیا ہوا) اس کا جواب دو طریقوں سے ہے… دوسرا جواب امام حسین بن الفضل الجبلی کا قول ہے کہ مراد ’’کھلا‘‘ سے یہ ہے کہ وہ کہل (ادھیڑ عمر کا) ہوگا۔ جب کہ وہ نازل ہوگا۔ آسمان سے آخری زمانہ میں اور باتیں کرے گا۔ لوگوں سے اور قتل کرے گا دجال کو۔ امام حسین بن الفضل کہتے ہیں کہ یہ آیت نص ہے۔ اس بات پر کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔‘‘

    تشریحی نوٹ از خاکسار ابوعبیدہ مؤلف رسالہ ہذا
    اﷲتعالیٰ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے غیرمعمولی انعامات یاد کرا رہے ہیں۔ غیرمعمولی انعامات سے مراد میری وہ انعامات ہیں جو عام انسانوں کو حاصل نہیں۔ ورنہ ہیں وہ بھی انعام ہی۔ مثلاً آنکھیں، ناک، منہ، دانت، دماغ، لباس، والدین، اولاد، خوراک، پھل وغیرہ۔
    ناظرین! قرآن کریم کی سورۂ مائدہ کا آخری رکوع کھول کر ان انعامات کا تذکرہ پڑھیں۔ اس کی سب غیرمعمولی نعمتیں ہیں۔ میں ساری نعمتوں کو یہاں گن دیتا ہوں۔
    ۱… روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کی تائید کا ہر وقت ساتھ رہنا۔
    ۲… بچپن (پنگھوڑے) میں کلام بلاغت نظام کرنا۔
    ۳… ادھیڑ عمر میں کلام بلاغت نظام کرنا۔
    ۴… کتاب، حکمت اور توریت وانجیل کا پڑھنا۔
    ۵… معجزہ خلق طیر (پرندوں کا بنانا)
    ۶… معجزہ احیاء موتیٰ (مردوں کو زندہ کرنا) ’’وابراء اکمہ وابرص‘‘
    ۷… بنی اسرائیل کے شر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ رکھنا۔
    ناظرین! ان نعمتوں میں سے نمبر۳، ۷ تو ابھی زیر بحث ہیں۔ ان کے علاوہ بقیہ نعمتوں کا خیال کیجئے۔ سب کی سب ایسی نعمتیں ہیں جن سے عام انسان محروم ہوتے ہیں۔ نبوت وکتاب کا ملنا، معجزات کا غیرمعمولی ہونا تو سبھی کو مسلم ہے۔ بچپن میں باتیں کرنے سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مراد اس سے ناتجربہ کار نوجوان آدمی کا کلام ہے۔ یہ معنی کئی وجوہات سے مردود ہیں۔
    ۱… سورۂ مریم میں اﷲتعالیٰ نے جب مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کی بشارت دی اور پھر حمل ہوکر آخری وضع حمل کی نوبت آئی تو حضرت مریم ایک الگ جگہ میں جاکر دردزہ اور خوف طعن وتشنیع کے مارے عرض کرنے لگیں کہ اے کاش میں اس موقعہ سے پہلے مر کر بھولی جاچکی ہوتی تو اﷲتعالیٰ کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اے مریم غم نہ کر… اگر تو کسی آدمی کو دیکھے (جو تجھ پر طعن کرے اور اس کے بارہ میں سوال کرے) تو کہہ دینا کہ آج میں نے اﷲ کی خاطر (چپ رہنے کا) روزہ رکھا ہوا ہے۔ آج تو ہرگز بات نہ کروں گی۔ پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر قوم کے پاس لے آئی۔ قوم نے جب دیکھا تو کہنے لگی کہ اے مریم تو یہ طوفان (بے باپ کا لڑکا) کہاں سے لے آئی ہے۔ اے ہارون کی بہن، تیرا باپ زانی نہیں تھا اور تیری ماں بھی زانیہ نہ تھی۔ پس تو یہ لڑکا کہاں سے لے آئی ہے۔ پس حضرت مریم علیہا السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو۔ انہوں نے کہا۔ ہم اس بچے سے کیسے کلام کریں جو ابھی پنگھوڑے میں پڑا ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کلام کر کے اپنی اور اپنی ماں کی زنا کے الزام سے بریت کا اعلان کیا۔
    (ملحض از تفسیر جلالین ص۲۵۵، زیر آیت کریمہ)
    ۲… ذیل کی حدیث نبوی ہماری تائید کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہی ہے۔
    ’’عن ابی ہریرہ عن النبیﷺ قال لم یتکلم فی المہد الا ثلاثۃ عیسیٰ و… الیٰ آخر الحدیث‘‘
    (بخاری ج۱ ص۴۸۹، باب واذکر فی الکتاب مریم)
    ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تین بچوں کے سوا کسی نے ماں کی گود میں شیرخوارگی کی حالت میں کلام نہیں کیا۔ ایک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اور … آخری حدیث تک۔‘‘ بخاری شریف مرزاقادیانی کے نزدیک اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے۔ اس میں یہ حدیث موجود ہے۔
    ۳… حضرت ابن عباسؓ جو مرزاقادیانی کے نزدیک قرآن شریف کے جاننے والوں میں سے اوّل نمبر پر تھے۔ وہ فرماتے ہیں۔
    ’’عن ابن جریحؒ قال قال ابن عباسؓ (ویکلم الناس فی المہد) قال مضجع الصبی فی رضاعۃ‘‘
    (تفسیر ابن جریر ج۳ ص۲۷۱، درمنثور ج۲ ص۲۵)
    ’’یعنی حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ مراد اس آیت میں دودھ پینے کی حالت میں بچے کا پنگھوڑے میں کلام کرنا ہے۔‘‘
    دیکھئے! یہ قول وتفسیر حضرت ابن عباسؓ کی ہے اور روایت کیا ہے اس کو اوّل ابن جریر نے جو مرزاقادیانی کے نزدیک ایک زبردست محدث اور مفسر تھے اور دوسرے امام جلال الدین سیوطیؒ نے جو مجدد صدی نہم تھے۔ پس جو آدمی اس روایت کے قبول کرنے سے انکار کرے وہ حسب فتویٰ مرزاقادیانی کا فروفاسق ہو جائے گا۔
    ۴… خود مرزاقادیانی نے اس تفسیر کو قبول کر لیا ہے۔
    ’’اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تو صرف مہد (پنگھوڑے) میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے (پسر مرزا) نے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)
    ۵… پنگھوڑے میں باتیں کرنا تین وجہوں سے عقلاً بھی صحیح معلوم ہوتا ہے۔
    الف… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بطور معجزہ بغیر باپ کے ہوئی تھی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے نفخہ سے واقع ہوئی تھی۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ سورۂ مریم میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا قول نقل فرماتے ہیں۔ ’’لاہب لک غلاماً زکیا‘‘ یعنی اے مریم میں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔ خود مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کو بہت جگہ قبول کر لیا ہے۔
    (ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)
    اب ایک منٹ کے لئے ہم ناظرین کو سورۂ طٰہٰ کی سیر کراتے ہیں۔ اس کے رکوع۵ کا مطالعہ کریں۔ وہاں سامری اور اس کے گؤسالہ کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام سامری سے گفتگو فرماتے ہیں۔
    ’’قال فما خطبک یسامری۰ قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا وکذالک سولت لی نفسی‘‘
    موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔ اس نے کہا کہ مجھ کو ایسی چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہ آئی۔ پھر میں نے اس فرستادہ خداوندی (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھرخاک اٹھالی تھی۔ سو میں نے وہ مٹھی خاک اس قالب کے اندر ڈال دی اور میرے جی کو یہی بات پسند آئی۔ (اس مٹی کے ڈالنے سے اس میں ایک آواز پیدا ہوگئی)
    (تفسیر ابن عباس مندرجہ درمنثور ج۴ ص۳۰۷)

    نکتہ عجیبہ

    حضرات! حضرت جبرائیل علیہ السلام کے نقش قدم سے مٹی میں خدا نے یہ تاثیر رکھی ہوئی ہے کہ وہ ایک بے جان دھات کے ڈھانچے میں آواز پیدا کر سکتی ہے۔ پس قابل غور یہ امر ہے۔ وہی جبرائیل اپنی پھونک سے حضرت مریم کو باذن الٰہی حمل ٹھہراتا ہے۔ اس نفخہ جبرائیلی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے گود میں باتیں کرنا اس گؤسالہ بے جان کے بولنے سے زیادہ مشکل ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پنگھوڑے میں باتیں کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ کیونکہ گؤسالہ ایک تو بے جان تھا۔ اس میں جان پڑ گئی۔ پھر گؤسالہ بولنے بھی لگا۔ یہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انسان ہونے کی حیثیت سے آخر بولنا ہی تھا۔ نفخ جبرائیلی سے پنگھوڑے میں باتیں کرنے کی اہلیت پیدا ہوگئی اور یہی نفخ جبرائیلی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع علی السماء میں مناسبت پیدا کرنے کا باعث ہوگیا۔
    ب… اﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کو لوگوں کے لئے ایک نشان (آیۃ) بنانا چاہتے تھے۔ چنانچہ سورۂ مریم میں مذکور ہے۔
    ’’ولنجعلہ‘‘ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے اس واسطے پیدا کیا ہے تاکہ ہم ان لوگوں کے لئے اپنا ایک نشان بنائیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے بھی ہماری اس تفسیر کو صحیح تسلیم کیا ہے۔
    (ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)
    پس اﷲتعالیٰ نے گود میں باتیں کراکر پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان فیض ترجمان سے ان کی پیدائش کا معجزانہ ہونا ثابت کیا۔ اگر گود میں ان کا کلام کرنا تسلیم نہ کیا جائے تو ان کی پیدائش بے پدر کو الٰہی نشان ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کے بغیر خود پیدائش بے باپ بغیر ثبوت کے رہ کر ناقابل قبول ہو جائے گی۔ جو دلیل خود دلیل کی محتاج ہو وہ دلیل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

    چنانچہ خود مرزاقادیانی دلیل کی تعریف میں اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔
    ج… مرزاقادیانی نے تریاق القلوب میں لکھا ہے: ’’کہ میرے اس لڑکے (پسر مرزا) نے ماں کے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں ہیں۔‘‘
    (تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)
    غور کیجئے! ماں کے پیٹ میں باتیں کرنا زیادہ مشکل ہے یا گود میں دودھ پیتے بچے کا باتیں کرنا۔ یقینا اوّل الذکر صورت تو ناممکن محض ہے۔ کیونکہ کلام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہوا موجود ہو۔ منہ، ہونٹ، زبان وغیرہم حرکت کر سکتے ہوں۔ پھیپھڑے کام کر رہے ہوں۔ باوجود اس کے جب مرزامبارک، پسر مرزا نے اپنی ماں کے پیٹ کے اندر دو مرتبہ باتیں کیں تھیں اور لاہوری وقادیانی مرزائیوں نے مرزاقادیانی کے قول کو تسلیم کر لیا ہے تو انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گود میں باتیں کرنا کیوں ناممکن اور مستبعد نظر آتا ہے۔ اب ’’کھل‘‘ (یعنی ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا) کے متعلق چند نکات بیان کر کے نتیجہ ناظرین کی فہم رسا پر چھوڑتے ہیں۔
    ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا کروڑہا انسانوں سے ہم روزمرہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ پس فرشتے کا حضرت مریم علیہ السلام کو یوں کہنا کہ ’’ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں کہ تیرا لڑکا ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا۔‘‘ ایک ایسی بات کی بشارت دینا ہے جو بے شمار لوگوں کو حاصل ہے۔ بشارت کسی غیرمعمولی امر میں ہوا کرتی ہے یا اس وقت جب کہ کوئی آدمی معمولی نعمت سے محروم ہوا جارہا ہو۔ مثلاً کوئی آدمی نابینا ہو جائے تو ایسے وقت میں آنکھ کا،مل جانا بے شک بشارت ہوسکتا ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں کو کیا عیسیٰ علیہ السلام کی کہولت کے زمانہ میں کوئی ’’لکنت‘‘ کا اندیشہ تھا کہ خدا نے ’’لکنت‘‘ کے دور ہونے کی بشارت دی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کہولت میں ایک خصوصیت تھی۔ جس کی وجہ سے اﷲتعالیٰ نے کہولت کے زمانہ میں باتیں کرنا بھی خاص نعمتوں میں شمار کیا۔ وہ یہ کہ باوجود ہزارہا سال تک آسمان پر رہنے کے جب وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے تو اس وقت بھی کہولت کا زمانہ ہوگا۔ چونکہ ان کی عمر اور جسم پر زمانہ کا اثر نہیں ہوا ہوگا۔ اس لحاظ سے اس نعمت کا تذکرہ کر کے شکریہ کا حکم دے رہے ہیں۔ ورنہ اگر دوسرے انسانوں کی طرح ہی انہوں نے بھی کہولت میں باتیں کرنی ہوتیں تو پھر دوسری عام انسانی نعمتوں کو بھی پیش کیا ہوتا۔ مثلاً یوں کہا ہوتا۔ ’’اے عیسیٰ علیہ السلام ہماری نعمتوں کو یاد کر۔ ہم نے تمہیں دو آنکھیں دی تھیں۔ دوکان عطا کئے تھے۔ کھانے کو رنگارنگ پھل دئیے تھے۔ تم جوانی میں بولتے تھے۔ ہم نے تمہیں لباس دیا تھا۔ سوچنے کو دماغ مرحمت فرمایا۔ وغیرہ ذالک!‘‘ مگر نہیں ایسا نہیں فرمایا۔ کیونکہ عام نعمت کو ذکر کرنا بھی عام رنگ ہی میں موزوں ہوتا ہے۔

    تصدیق از مرزاقادیانی

    ’’اس پیش گوئی (نکاح آسمانی) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اﷲﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ: ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد بھی ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا۔‘‘
    (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ)
    حضرات! غور فرمائیے کہ محض تزوج واولاد کا عام طور پر ذکر ہے۔ مرزاقادیانی نے کھینچ تان کر تزوج اور اولاد کے لئے ایک خصوصیت ثابت کر دی۔ کیونکہ یہ دونوں باتیں مسیح موعود کے متعلق ہیں۔ ’’ویکلم الناس فی المہد وکہلا‘‘ میں تو خداتعالیٰ خصوصیت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی خاص خاص نعمتوں کو پیش کر رہے ہیں۔ پس کہل کے معنی عام کہل یعنی سے وہ اعتراض بدرجہ اولیٰ عود کر آئے گا۔ جو مرزاقادیانی کی مذکورہ بالا عبارت میں مذکور ہے۔ یعنی کہولت (ادھیڑ عمر) میں باتیں کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک کہولت میں باتیں کرتا ہے۔ کہولت میں باتیں کرنے سے مراد وہ خاص کہولت ہے جو باوجود ہزارہا سال گزر جانے کے قائم رہی ہو اور مرزاقادیانی کی پادر ہوا دلائل وفات مسیح علیہ السلام کو خس وخاشاک میں ملانے والی ہو۔
    نوٹ: ہماری پیش کردہ اسلامی تفسیر پر قادیانیوں کے دجل وفریب کا کوئی وار نہیں چلتا۔ کیونکہ ہم نے کہولت کی تعریف کو مبحث بننے ہی نہیں دیا۔ کہولت کے جو کچھ بھی معنی ہوں وہ ہمیں منظور ہیں۔ ہماری پیش کردہ تفسیر ماشاء اﷲ ہر حال میں لاجواب ہے۔ فالحمد ﷲ علی ذالک!
  10. ‏ مارچ 31, 2015 #20
    محمدابوبکرصدیق

    محمدابوبکرصدیق ناظم پراجیکٹ ممبر

    حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر : 7 ( واذ کففت بنی اسرائیل عنک (مائدۃ:۱۱۰))
    قرآنی دلیل نمبر:۷
    ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینات فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین (مائدۃ:۱۱۰)‘‘
    {(اے عیسیٰ علیہ السلام) یاد کر اس وقت کو جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے (یعنی تمہارے قتل وہلاک کرنے سے) باز رکھا۔ جب تم ان کے پاس نبوت کی دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معجزات بجز کھلے جادو کے اور کچھ بھی نہیں۔}
    ہم پہلے اپنی پیش کردہ اسلامی تفسیر کی تائید میں قادیانیوں کے مسلمہ مجدد صدی ششم امام ابن کثیر وامام فخر الدین رازی اور مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطی رحمہم اﷲ تعالیٰ کی تفسیریں پیش کرتے ہیں تاکہ قادیانی زبان میں حسب قول مرزا مہر سکوت لگ جائے۔
    ۱… تفسیر امام فخرالدین رازیؒ:
    ’’روی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لما اظہر ہذہ المعجزات العجیبۃ قصد الیہود قتلہ فخلصہ اﷲ تعالیٰ منہم حیث رفعہ الیٰ السمائ‘‘
    (تفسیر کبیر جز۱۲ ص۱۲۷، زیر آیت کریمہ)
    ’’روایت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ عجیب وغریب معجزات دکھائے تو یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ پس اﷲتعالیٰ نے ان کو یہود سے خلاصی دی۔ اس طرح کہ ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔‘‘
    ۲… تفسیر امام جلال الدین سیوطیؒ: ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک۰ حین ہموا بقتلک‘‘
    (تفسیر جلالین ص۱۱۰، زیر آیت واذ کففت بنی اسرائیل)
    ’’(یاد کر ہماری اس نعمت کو جب کہ) ہم نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے جس وقت ارادہ کیا یہودیوں نے تیرے قتل کا۔‘‘
    مطلب اس کا صاف ہے۔ کف کا فعل اسی وقت واقع ہوگیا۔ جب کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ابھی صرف ارادہ ہی کیا تھا۔ کوئی عمل کارروائی نہیں کرنے پائے تھے۔
    ۳… تفسیر ابن کثیرؒ:
    ’’ای واذکر نعمتی علیک فی کفی ایاہم عنک حین جئتہم بالبراہین والحجج القاطعۃ علیٰ نبوتک ورسالتک من اﷲ الیہم فکذبوک واتہموک بانک ساحر وسعوا فی قتلک وصلبک فنجیتک منہم ورفعتک الیّٰ وطہرتک من دنسہم وکفیتک شرہم‘‘
    (ابن کثیر ج۲ ص۱۱۵، زیر آیت کریمہ)
    ’’یعنی اے مسیح علیہ السلام تو وہ نعمت یاد کر جو ہم نے یہود کو تم سے دور ہٹائے رکھنے سے کی۔ جب تو ان کے پاس اپنی نبوت ورسالت کے ثبوت میں۔ یقینی دلائل اور قطعی ثبوت لے کر آیا تو انہوں نے تیری تکذیب کی اور تجھ پر تہمت لگائی کہ تو جادوگر ہے اور تیرے قتل وسولی دینے میں سعی کرنے لگے تو ہم نے تجھ کو ان میں سے نکال لیا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور تجھے ان کی میل سے پاک رکھا اور ان کی شرارت سے بچا لیا۔‘‘
    محترم ناظرین! ان تین اکابر مفسرین مسلمہ مجددین قادیانی کی تفسیر کے بعد مزید بیان کی ضرورت نہیں۔ مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں یہاں درج کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
    ۱… کف کے لفظی معنی ہیں باز گردانیدن یعنی روکے رکھنا۔
    ۲… قرآن شریف میں یہ لفظ مندرجہ ذیل جگہوں میں استعمال ہوا ہے۔
    الف… ’’ویکفوا ایدیہم (نسائ:۹۱)‘‘
    ب… ’’فکف ایدیہم عنکم (مائدہ:۱۱)‘‘
    ج… ’’کفوا ایدیہم (نسائ:۷۷)‘‘
    د… ’’وکف ایدی الناس عنکم (فتح:۲۰)‘‘
    و… ’’ھو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم (فتح:۲۴)‘‘
    ان تمام آیات کو مکمل طور پر پڑھ کر دیکھ لیا جائے۔ سیاق وسباق پر غور کر لیا جائے۔ کف کے مفعول کو عن کے مجرور سے بکلی روکا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ فتح کی آیۃ ’’وھو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیہم‘‘ ہی کو لے لیجئے۔ ’’اور وہ (اﷲ) وہی ہے جس نے روک رکھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے مکہ کے قریب میں، بعد اس کے کہ اﷲتعالیٰ نے قابو دیا تم کو ان پر۔‘‘ اس آیت میں صلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے اور قادیانی بھی بلانکیر اس امر کو صحیح مانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ میں مطلق کوئی لڑائی بھڑائی مسلمانوں اور کفار کے درمیان نہیں ہوئی۔
    تفصیل کے لئے دیکھئے جلالین، ابن کثیر اور تفسیر کبیر یہاں قادیانیوں کے مسلمہ مجددین ہماری تائید میں رطب اللسان ہیں۔
    دوسری آیت سورۂ مائدہ کی ملاحظہ ہو۔
    ’’یایہا الذین آمنوا اذکروا نعمۃ اﷲ علیکم اذہم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیہم فکف ایدیہم عنکم‘‘
    اے مسلمانو! تم اﷲتعالیٰ کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی۔ جب کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے۔
    ناظرین! جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں کفار یہود نے ہلاک کرنے کی تدبیر کی اور قتل کے ارادے سے سارا انتظام کر لیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح یہود بنی نضیر نے رسول کریمﷺ کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا۔ یہود بنی نضیر کو اﷲتعالیٰ نے اپنے ناپاک ارادہ میں بکلی ناکام رکھا۔
    (دیکھو قادیانیوں کے مسلمہ امام ومجدد ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر بذیل آیت ہذا)
    اﷲتعالیٰ نے حضرت رسول کریمﷺ کی حفاظت کے فعل کو کف کے لفظ سے ظاہر فرمایا۔ وہی لفظ اﷲ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے بچانے کے لئے استعمال فرمایا۔ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘
    رسول کریمﷺ کو یہود کے شر سے بکلی محفوظ رکھنے پر اﷲتعالیٰ مسلمانوں کو شکریہ کا حکم دے رہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہورہا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم تک پہنچنے سے روک لیا۔ پس اس پر ہمارا شکریہ ادا کرو۔ اندریں حالت کوئی وجہ نہیں کہ ’’کف‘‘ کے معنی ہر قسم کے شر اور تکلیف سے بچانے کے نہ کریں۔

    ایک عجیب نکتہ

    ان تمام مقامات میں جہاں فعل کف استعمال ہوا ہے۔ اس کا مفعول ایدی (ہاتھ) اور عن کا مجرور ضمیریں ہیں۔ مطلب جس کا یہ ہے کہ آپس میں دونوں فریقوں کا اجتماع ہوجانا تو اس صورت میں صحیح ہے۔ صرف باہمی جنگ وجدل اور قتل ولڑائی نہیں ہوتی۔ یعنی ایک فریق کے ہاتھ دوسرے تک نہیں پہنچتے۔ مگر اس مقام زیر بحث میں اس علاّم الغیوب نے قادیانیوں کا ناطقہ اپنی فصیح وبلیغ کلام میں اس طریقہ سے بند کیا ہے کہ اب ان کے لئے ’’نہ پائے رفتن ونہ جائے ماندن‘‘ کا معاملہ ہے۔ یہاں اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’اذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ (یعنی جب میں نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے) اور یوں نہیں فرمایا: ’’اذ کففت ایدی بنی اسرائیل عنک‘‘ (یعنی جب میں نے روک لئے ہاتھ بنی اسرائیل کے تجھ سے)
    ناظرین باتمکین! آپ اپنی ذہانت وفطانت کو ذرا کام میں لائیے اور کلام اﷲ کی فصاحت کی داد دیجئے۔ بقیہ تمام صورتوں میں دونوں مخالف پارٹیوں کا آپس میں ملنا اور اکٹھا ہونا مسلم ہے۔ وہاں ایک پارٹی سے اپنی مخالف پارٹی کے صرف ہاتھوں کو روکا گیا۔ اس واسطے تمام جگہوں میں ’’ایدی‘‘ کو ضرور استعمال کیاگیا ہے۔ مگر یہاں چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لینے کے سبب خدا تعالیٰ نے یہود کو اپنی تمام تدبیروں کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچنے سے روک لیا۔ اس واسطے ’’کف‘‘ کا مفعول بنی اسرائیل کو قرار دیا۔ ان کے ہاتھوں کا روکنا مذکور نہیں ہوا۔
    دوسرا نکتہ
    آیت: ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں ہم دلائل عقلی ونقلی سے ثابت کر چکے ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے یہود کے مکر کے بالمقابل حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے تھے اور یہ آیت بطور بشارت تھی۔ اﷲتعالیٰ اسی وعدے کے پورا کرنے کا بیان فرمارہے ہیں۔ جس کو دوسری جگہ ان الفاظ میں ارشاد فرمایا۔ ’’واذ ایدتک بروح القدس‘‘ (یعنی جب ہم نے تمہیں مدد دی روح القدس کے ساتھ) ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔
    مرزاغلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز اور توہین آمیز تفسیر اور اس کا ردناظرین کی تفریح طبعی اور نکتہ فہمی کے لئے پیش کرتا ہوں۔
    ’’اسی طرح اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ ’’اذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ جب کہ بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدا نے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنی ’’اذ کففت‘‘ کے ہیں۔‘‘
    (نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)
    اسی مضمون کو مرزاقادیانی دوسری جگہ اس طرح لکھتے ہیں:
    ’’پھر بعداس کے مسیح علیہ السلام ان کے حوالہ کیاگیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے… تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح علیہ السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔ تاشام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آگئی… انہوں نے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا… سو پہلے انہوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑیں… جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح علیہ السلام کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مرچکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں اور ایک نے کہا میں ہی اس لاش کو دفن کروں گا۔ پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۸۰تا۳۸۲، خزائن ج۳ ص۲۹۵تا۲۹۷)
    اسی کتاب میں مزید تشریح یوں کی ہے: ’’مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہوگیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہ تھی۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۹۲، خزائن ج۳ ص۳۰۲)
    تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں: ’’اب تک خداتعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اس وقت بھڑکا تھا۔ جب کہ اس ’’وجیہہ‘‘ نبی کو گرفتار کراکر مصلوب کرنے کے لئے کھوپری کے مقام پر لے گئے تھے اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ ص۶۷، خزائن ج۱۷ ص۱۹۹،۲۰۰)
    میں اس قادیانی تفسیر پر مزید حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ صرف اتنا کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جب ہر ممکن ذلت وخواری میں مسیح علیہ السلام کو خدا نے مبتلا کرایا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے بے ہوش ہوگئے کہ دیکھنے والے انہیں مردہ تصور کر کے چھوڑ گئے۔ کیا اس کے بعد بھی خدا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ یوں کہے اور بالفاظ مرزا کہے۔ ’’یاد کر وہ زمانہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک لیا۔‘‘
    (نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)
    اس آیت کی ابتداء میں باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرماتے ہیں۔ ’’اذکر نعمتی‘‘ یعنی یاد کرمیری نعمتیں۔ انہیں نعمتوں میں سے ایک نعمت بنی اسرائیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کو بچانا بھی ہے۔
    میں پھر عرض کرتا ہوں کہ دنیا جہاں میں ایسے موقعوں پر سینکڑوں دفعہ ایک انسان دوسروں کے نرغہ سے بال بال بچ جاتا ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بال بال بھی بچ گئے ہوتے۔ جب بھی اس بچانے کو مخصوص طور سے بیان کرنا باری تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہ تھا۔ ایسا بچ جانا عام بات ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ اور عجیب طریقہ سے یہود کے درمیان سے بچ کر آسمان پر چلا جانا ایک خاص نعمت ہے۔ جس کو باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ورنہ اگر مرزاقادیانی کا بیان اور تفسیر صحیح تسلیم کر لی جائے تو کیا اس نعمت کے شکریہ کے مطالبہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوں کہنے میں حق بجانب نہ ہوں گے۔ یا اﷲ یہ بھی آپ کا کوئی مجھ پر احسان تھا کہ تمام جہان کی ذلتیں اور مصائب مجھے پہنچائی گئیں۔ میرے جسم میں میخیں ٹھونکی گئیں۔ میں نے ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ کے نعرے لگائے۔ یعنی اے میرے خدا۔ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔ پھر بھی تیری غیرت جوش میں نہ آئی۔ اندھیری رات میں وہ مجھے مردہ سمجھ کر پھینک گئے۔ میرے حواریوں نے چوری چوری میری مرہم پٹی کی۔ میں یہود کے ڈر سے بھاگا بھاگا ایران اور افغانستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں ہزار مشکلات کے بعد درۂ خیبر کے راستہ پنجاب، یوپی، نیپال پہنچا اور وہاں کی گرمی کی شدت برداشت نہ کر سکنے کے سبب کوہ ہمالیہ کے دشوار گزار دروںمیں سے گرتا پڑتا سرینگر پہنچا۔ وہاں ۸۷برس گمنامی کی زندگی بسر کر کے مرگیا اور وہیں دفن کر دیا گیا۔ اس میں آپ نے کون سا کمال کیا کہ مجھے نعمت کے شکریہ کا حکم دیتے ہیں۔ کیا یہ کہ میری جان جسم سے نہ نکلنے دی اور اس حالت کا شکریہ مطلوب ہے۔ سبحان اﷲ! واہ رے آپ کی خدائی!! ہاں ایسی ذلت سے پہلے اگر میری جان نکال لیتا تو بھی میں آپ کا احسان سمجھتا۔ اب کوئی سا احسان ہے۔ اگر تو کہے کہ میں نے تیری جان بچا کر صلیب پر مرنے اور اس طرح ملعون ہونے سے بچا لیا تو اس کا جواب بھی سن لیں۔
    ۱… کیا تیرا معصوم نبی اگر صلیب پر مر جائے تو واقعی تیرا یہی قانون ہے کہ وہ لعنتی ہوجاتا ہے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر جان بچانے کے کیا معنی۔
    ۲… باوجود اپنی اس تدبیر کے جس پر آپ مجھ سے شکریہ کا مطالبہ چاہتے ہیں۔ یہودی اور عیسائی مجھے ملعون ہی سمجھتے ہیں۔ آپ کی کس بات کا شکریہ ادا کروں۔
    ۳… اگر آپ کے ہاں نعوذ باﷲ ایسا ہی عجیب قانون ہے کہ ہر معصوم مظلوم پھانسی پر چڑھائے جانے اور پھر مرجانے پر ملعون ہوجاتا ہے اور آپ نے مجھے لعنتی موت سے بچانا چاہا تو معاف کریں۔ اگر میں یوں کہوں کہ آپ کا اختیار کردہ طریق کار صحیح نہ تھا۔ جیسا کہ نتائج نے ثابت کر دیا۔ جس کی تفصیل نمبر:۲ میں میں عرض کر چکا ہوں۔ اگر مجھے اپنی مزعومہ لعنتی موت سے بچانا تھا تو کم ازکم یوں کرتے کہ ان کی گرفتاری سے پہلے مجھے موت دے دیتے۔ تاکہ میری اپنی امت تو ایک طرف، یقینا یہودی بھی میری لعنتی موت کے قائل نہ ہو سکتے۔ پس مجھے بتایا جائے کہ میں کس بات کا شکریہ ادا کروں۔
    یہ ہے وہ قدرتی جواب جو قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذہن میں آنا چاہئے۔ بشرطیکہ قادیانی اقوال واہیہ کو ٹھیک تسلیم کر لیا جائے۔ ہاں اسلامی تفسیر کو صحیح تسلیم کر لیں تو وہ حالت یقینا قابل ہزارشکر ہے۔ ہزارہا یہود قتل کے لئے تیار ہو کر آتے ہیں۔ مکان کو گھیر لیتے ہیں۔ مکروفریب کے ذریعہ گرفتاری کا مکمل سامان کر چکے ہیں۔ موت حضرت مسیح علیہ السلام کو سامنے نظر آتی ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ یعنی ’’(اے عیسیٰ علیہ السلام) میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں اور آسمان پر اٹھانے والا ہوں۔‘‘ پھر اس وعدہ کو اﷲتعالیٰ پورا کرتے ہیں اور یوں اعلان کرتے ہیں۔ ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ یعنی ہم نے مسیح علیہ السلام کو جبرائیل فرشتہ کے ساتھ مدد دی۔ (جو انہیں اٹھا کر دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر آسمان پر لے گئے) دوسری جگہ اس وعدہ کا ایفاء یوں مذکور ہے۔ ’’ماقتلوہ یقیناً بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ (یہود نے یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اٹھا لیا اﷲتعالیٰ نے ان کو آسمان پر) اسی ایفاء وعدہ اور معجزانہ حفاظت کو بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس آیت میں ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام یاد کر ہماری نعمت کو جب ہم نے تم سے بنی اسرائیل کو روک لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر واجب ہے کہ گردن مارے احسان کے جھکا دیں اور یوں عرض کریں۔ ’’رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علیّ‘‘ یا اﷲ مجھے توفیق دے کہ میں واقعی تیری معجزانہ نعمتوں کا شکریہ ادا کروں۔

    قادیانی اعتراض اور اس کا جواب

    اعتراض از مرزاقادیانی: ’’دیکھو آنحضرتﷺ سے بھی عصمت کا وعدہ کیاگیا تھا۔ حالانکہ احد کی لڑائی میں آنحضرتﷺ کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔ اسی طرح اﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدانے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنی ’’اذ کففت‘‘ کے ہیں۔ جیسا کہ ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ کے ہیں۔‘‘
    (نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)
    جواب از ابوعبیدہ نمبر:۱
    مضمون ما سبق میں اس کا حقیقی اور الزامی رنگ میں جواب موجود ہے۔
    جواب نمبر:۲…
    ’’عصم‘‘ کے معنی ہیں ’’بچا لینا‘‘ یعنی دشمن کا طرح طرح کے حملے کرنا اور ان حملوں کے باوجود جان کا محفوظ رکھنا۔ لیکن ’’کف‘‘ کے معنی ہیں روک لینا۔ یعنی ایک چیز کو دوسری تک پہنچنے کا موقعہ ہی نہ دینا۔ یہ دونوں آپس میں ایک جیسے کس طرح ہوسکتے ہیں؟ ہم اس پر بھی مفصل بحث کر کے ثابت کر آئے ہیں کہ کف کے استعمال کے موقعہ پر ضروری ہے کہ ایک فریق کو دوسرے فریق سے مطلق کسی قسم کا گزند نہ پہنچے۔ جب ہم شواہد قرآنی سے ثابت کر چکے ہیں کہ تمام قرآن کریم میں جہاں جہاں کف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مکمل حفاظت کے معنوںمیں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں کے خلاف اس آیت کے معنی کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟
    لیجئے! ہم خود مرزاقادیانی کا اپنا اصول ایسے موقعہ پر صحیح معنوں کی شناخت کا پیش کر کے قادیانی جماعت سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ایمان کی ضرورت ہے تو اسلامی تفسیر کے خلاف اپنی تفسیر بالرائے کو ترک کر دو۔
    ’’اگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے کل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا تو محل مبحوث فیہ میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا جو معنی … سارے قرآن شریف میں لئے گئے ہیں وہی معنی اس جگہ بھی مراد ہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام ص۳۲۹، خزائن ج۳ ص۲۶۷)
    ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں جہاں جہاں کف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ انہیں مذکورہ بالا معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پس محل نزاع میں اس کے خلاف معنی کرنا حسب قول مرزا الحاد اور فسق ہوگا۔
    جواب نمبر:۳…
    ایک لمحہ کے لئے ہم مان لیتے ہیں۔ نہیں بلکہ قادیانی تحریف کی حقیقت الم نشرح کرنے کے لئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ’’عصم‘‘ اور ’’کف‘‘ ہم معنی ہیں۔ پھر بھی قادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں گے۔ کیونکہ رسول کریمﷺ کے ساتھ وعدۂ ’’عصمت‘‘ جو خدا نے کیا۔ وہ مکمل حفاظت کے رنگ میں ظاہر کیا۔ یقینا قادیانی دجل وفریب کا ناطقہ بند کرنے کو ایسا کیاگیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ کی بشارت کے بعد رسول کریمﷺ کو کفار کوئی جسمانی گزند بھی نہیں پہنچا سکے۔
    قادیانی کا یہ کہنا کہ جنگ احد میں رسول کریمﷺ کا زخمی ہونا اور دانت مبارک کا ٹوٹ جانا اس بشارت کے بعد ہوا ہے۔ یہ ’’دو دو نے چارروٹیاں‘‘ والی مثال ہے اور قادیانی کے تاریخ اسلام اور علوم قرآنی سے کامل اور مرکب جہالت کا ثبوت ہے۔
    جنگ احد ہوا تھا شوال ۳ھ میں اور رسول کریمﷺ کو زخم اور دیگر جسمانی تکلیف بھی اسی ماہ میں لاحق ہوئی تھی۔ جیسا کہ قادیانی خود تسلیم کر رہا ہے۔ مگر یہ آیت سورۂ مائدہ کی ہے۔ جو نازل ہوئی تھی۔ ۵ھ اور ۷ھ کے درمیان زمانہ میں۔ دیکھو خود مولوی محمد علی امیر جماعت لاہوری اپنی تفسیر میں یوں رقمطراز ہے۔
    ’’ان مضامین پر جن کا ذکر اس سورۂ مائدہ میں ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہ رائے اکثر محققین کی بھی ہے کہ اس سورت کے اکثر حصہ کا نزول پانچویں اور ساتویں سال ہجری کے درمیان ہے۔‘‘
    (بیان القرآن ص۴۰۳، مطبوعہ ۱۴۰۱ھ)
    اب رہا سوال خاص اس آیت ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ کے نزول کا سواس بارہ میں ہم قادیانی نبی اور اس کی امت کے مسلم مجدد صدی نہم علامہ جلال الدین سیوطی کا قول پیش کرتے ہیں۔
    ’’واﷲ یعصمک من الناس فی صحیح ابن حبان عن ابی ہریرۃؓ انہا نزلت فی السفر واخرج ابن ابی حاتم وابن مردویہ عن جابر انہا نزلت فی ذات الرقاع باعلیٰ نخل فی غزوۃ بنی انمار‘‘
    (تفسیر اتقان جزو اوّل ص۳۲)
    مطلب جس کایہ ہے کہ غزوہ بنی انمار کے زمانہ میں یہ آیت سفر میں نازل ہوئی تھی۔ جب اس آیت کا وقت نزول غزوہ بنی انمار کا زمانہ ثابت ہوگیا تو اس کی تاریخ نزول کا قطعی فیصلہ ہوگیا۔ کیونکہ یہ بات تاریخ اسلامی کے ادنیٰ طالب علم سے بھی معلوم ہوسکتی ہے کہ غزوہ بنی انمار ۵ھ میں واقع ہوا تھا۔ مفصل دیکھو کتب تاریخ اسلام ابن ہشام وغیرہ۔
    لیجئے! ہم اپنی تصدیق میں مرزاقادیانی کا اپنا قول ہی پیش کرتے ہیں۔ تاکہ مخالفین کے لئے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’لکھا ہے کہ اوّل مرتبہ میں جناب پیغمبر خداﷺ چند صحابی کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کے لئے رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت ’’واﷲ یعصمک من الناس‘‘ نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے ان سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔‘‘
    (الحکم ص۲، مورخہ ۲۴؍اگست ۱۸۹۹ئ، بحوالہ تفسیر القرآن موسومہ بہ خزینۃ العرفان قادیانی ص۵۹۲)

    مرزاغلام احمد قادیانی کا سیاہ جھوٹ
    پس مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ: ’’جنگ احد کا حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔‘‘ بہت ہی گندہ اور سیاہ جھوٹ ہے۔ اﷲتعالیٰ جھوٹوں کے متعلق فرماتے ہیں: ’’لعنۃ اﷲ علی الکذبین‘‘ اور خود مرزاقادیانی جھوٹ بولنے والے کے بارہ میں لکھتے ہیں:

    ۱…
    ’’جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔‘‘
    (حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)
    ۲…
    ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘
    (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳، خزائن ج۱۷ ص۵۶ حاشیہ)
    ۳…
    ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔‘‘
    (تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)
    ۴…
    ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)
    ۵…
    ’’جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔‘‘
    (ریویو جلد اوّل نمبر۴ بابت ماہ اپریل ۱۹۰۲ء ص۱۴۸)
    ۶…
    ’’جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۴)
    ۷…
    ’’جھوٹ ام الخبائث ہے۔‘‘
    (تبلیغ رسالت ج۷ ص۲۸، اشتہارات ج۳ ص۳۱)
    حضرات! فرمائیے اور اپنی مطہر اور پاکیزہ ضمیروں سے مشورہ کر کے جواب دیجئے کہ مرزاقادیانی کی حیثیت اپنے ہی فتویٰ کی رو سے کیا رہ جاتی ہے؟ نبی، محدث، مسیح، موعود اور مجدد تو درکنار کیا وہ شریف انسان بھی ثابت ہوسکتے ہیں؟
لڑی کی کیفیت :
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر