نوجوان مسلمانوں کے لئے ختم نبوت کے سوالات
سوال 64: عقیدۂ ختمِ نبوت کا بنیادی مفہوم کیا ہے؟
جواب: مسلمانوں کے نزدیک عقیدۂ ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مبعوث فرما کر نبوت اور رسالت کے سلسلے کو ہمیشہ کے لیے مکمل کر دیا۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک نہ کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ کسی کو نبوت کا منصب دیا جائے گا، بلکہ جو ہدایت اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کے ذریعے دے دی، وہی ہمیشہ کے لیے دینِ کامل اور قابلِ اتباع ہے۔
سوال 65: قرآنِ مجید میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی سب سے بڑی اور واضح دلیل کیا ہے؟
جواب: قرآنِ مجید میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی سب سے بڑی دلیل سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 40 ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے صاف اور قطعی انداز میں ارشاد فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ نہ کسی مرد کے باپ ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ لفظ” خاتم النبیین“ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ تمام معتبر مفسرینِ امت اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد نہ کوئی نبیپیدا ہوا ہے اور نہ قیامت تک کوئی نبی پیدا ہو سکتا ہے۔
سوال 66: کیا حدیثِ مبارکہ سے بھی عقیدۂ ختمِ نبوت کی تائید ہوتی ہے؟
جواب: جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے متعدد صحیح اور متواتر احادیث میں اپنی ختمِ نبوت کو بالکل واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے صاف ارشاد فرمایا:لانبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے نبوت کو ایک خوبصورت عمارت سے تشبیہ دی جس میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی، پھر فرمایا کہ وہ آخری اینٹ میں ہوں، جس کے لگنے سے عمارت مکمل ہو گئی۔ اس مثال سے آپ ﷺ نے واضح کر دیا کہ نبوت کا سلسلہ آپ پر آ کر ختم ہو چکا ہے اور اب اس میں کسی نئے نبی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
سوال 67: قادیانیوں کے اس دعوے کا کیا رد ہے کہ وہ ظلی یا بروزی نبی ہیں؟
جواب: قرآن و حدیث میں نبوت کی ایسی کوئی تقسیم موجود نہیں کہ کسی کو حقیقی، کسی کوغیر حقیقییا کسی کوظلی اور کسی کو بروزی نبی کہا جائے۔ نبوت ایک واضح اور قطعی منصب ہےیا کوئی نبی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضور ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی کھلے الفاظ میں فرمایالانبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی پیدانہیںہو گا۔ مزید یہ بھی فرمایا کہ میری امت میں تیس بڑے جھوٹے (کذاب) پیدا ہوں گے، ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں آخری نبی ہوں۔ اس لیے جو شخص حضور ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت چاہے اسے ظلی کہے یا بروزی کا دعویٰ کرے، وہ قرآن و حدیث کی صریح تعلیمات کا منکر ہے، جھوٹا ہے، اور دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
سوال 68: مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی نشانی کیا ہے؟
جواب: مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دلیل اس کی اپنی ناکام اور غلط ثابت ہونے والی پیش گوئیاں ہیں۔ اس نے محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی کی، مگر وہ کبھی پوری نہ ہوئی۔ اسی طرح اس نے اپنی عمر کے بارے میں الہامی دعویٰ کیا کہ وہ اسی (80) سال یا اس سے زیادہ عمر پائے گا، لیکن وہ تقریباً 68 برس کی عمر میں ہیضہ جیسے مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔ اسلامی اصول کے مطابق جس شخص کی ایک بھی پیش گوئی جھوٹی ثابت ہو جائے، وہ اللہ کی طرف سے سچا نبی یا مامور نہیں ہو سکتا، کیونکہ سچا نبی کبھی غلط ثابت نہیں ہوتا۔
سوال 69: 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے کیا فیصلہ کیا تھا؟
جواب: 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر دوسری آئینی ترمیم منظور کی، جس کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں (قادیانی اور لاہوری گروپ) کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ کسی وقتی جذبات پر نہیں بلکہ طویل پارلیمانی کارروائی، تفصیلی بحث اور قادیانی جماعت کے سربراہ سے جرح کے بعد کیا گیا، جس میں ان کے عقائد کے واضح تضادات اور ختمِ نبوت کے انکار کا کھل کر ثبوت سامنے آ گیا تھا۔ اس طرح ریاستِ پاکستان نے آئینی سطح پر یہ طے کر دیا کہ جو لوگ حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔
سوال 70: قادیانی گروہ لفظ خاتم کی کیا تاویل کرتا ہے اور اس کا رد کیا ہے؟
جواب: قادیانی معترضین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لفظ خاتم کے معنی مہرکے ہیں، اور ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تصدیق یا مہر سے بعد میں بھی کوئی نبی بن سکتا ہے۔ یہ تاویل لغتِ عرب اور عربی محاورے کے خلاف ہے۔ عربی زبان میں جب لفظ خاتم کسی جماعت یا سلسلے کی طرف مضاف ہوجیسے خاتم النبیین تو اس کے معنی ہوتے ہیں: اس سلسلے کا آخری فرد۔ اسی وجہ سے تمام معتبر مفسرین نے خاتم النبیین کا مطلب یہی بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ مزید برآں، خود رسول اللہ ﷺ نے اس کی عملی اور زبانی تشریح فرما دی اور صاف اعلان کیالانبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔ اس واضح حدیث کے بعد خاتم کے معنی بدل کر نبوت کو جاری ماننا صریح تحریف اور قرآن و سنت کی کھلی مخالفت ہے۔
سوال 71: کیا تکمیل دین کی آیت بھی ختمِ نبوت کی دلیل ہے؟
جواب: جی ہاں، سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 3 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْیعنی آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔یہ آیت ختمِ نبوت کی بہت بڑی دلیل ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے خود اعلان فرما دیا کہ دین مکمل ہو چکا اور نعمت تمام کر دی گئی، تو اب کسی نئے نبی یا نئی وحی کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تاریخِ انبیاء سے ثابت ہے کہ نیا نبی یا تو کسی بگڑے ہوئے دین کی اصلاح کے لیے آتا تھا یا کسی ادھورے پیغام کو مکمل کرنے کے لیے، لیکن جب دین کامل ہو گیا تو اس کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ اس لیے تکمیل دین کا اعلان دراصل ختمِ نبوت کا کھلا اور قطعی اعلان ہے۔
سوال 72: نبوت کے خاتمے کی عقلی ضرورت کیا ہے؟
جواب: عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ نبوت کا سلسلہ کسی مقام پر آ کر ختم ہو۔ ابتدائی ادوار میں انسانیت فکری اور ذہنی پختگی کو نہیں پہنچی تھی، اس لیے وقتاً فوقتاً انبیاء آتے رہے تاکہ لوگوں کی اصلاح کریں اور انہیں سیدھا راستہ دکھائیں۔ لیکن حضرت محمد ﷺ کے زمانے تک انسانیت اس درجے کو پہنچ چکی تھی کہ وہ ایک کامل، جامع اور عالمگیر ضابطۂ حیا ت یعنی قرآن کوسمجھنے، محفوظ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی تھی۔ اب مسائل کے حل کے لیے شریعت کے اصول، عقلِ سلیم اور اجتہاد کافی ہیں، اس لیے کسی نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت حضور ﷺ پر ختم کر دی گئی اور قیامت تک کے لیے آپ ﷺ کو آخری نبی بنا دیا گیا۔
سوال 73: اگر کوئی نیا نبی آئے تو اس سے دینِ اسلام پر کیا اثر پڑے گا؟
جواب: اگر حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کا عقیدہ مان لیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دینِ اسلام اور قرآن کو ناقص مانا جائے۔ کیونکہ قرآن خود اعلان کرتا ہے کہ وہ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ یعنی ہر چیز کا واضح بیان ہے۔ جب قرآن ہر بنیادی دینی ضرورت کی رہنمائی فراہم کرتا ہے اور دین کو مکمل کر دیا گیا ہے، تو پھر کسی نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ نئے نبی کو ماننے کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن ہدایت کے لیے کافی نہیں رہا، جو کہ قرآن کے اپنے دعوے کی صریح تکذیب ہے۔ اس لیے ختمِ نبوت کا انکار دراصل قرآن کی کاملیت اور اسلام کی تکمیل کا انکار ہے۔
سوال 74: رسول اللہ ﷺ نے اپنی ختمِ نبوت کو کس تمثیل سے واضح فرمایا؟
جواب: حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی ختمِ نبوت کو ایک عملی اور بلیغ تمثیل سے واضح فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نبوت کو ایک خوبصورت عمارت کی طرح سمجھو، جس میں سب اینٹیں لگ چکی ہیں مگر ایک جگہ خالی ہے۔ لوگ دیکھ کر حیران ہوتے کہ یہ جگہ کیوں خالی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر مکمل ہوا اور قیامت تک کسی اور نبی کے آنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
سوال 75: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے پہلے جھوٹے مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟
جواب: حضرت ابوبکر صدیقؓنے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگِ یمامہ لڑی۔ اس جنگ میں تقریباً 1200 صحابۂ کرام شہید ہوئے، جن میں 700 حفاظِ قرآن بھی شامل تھے۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام کے نزدیک ختمِ نبوت کا تحفظ ہر چیز سے مقدم تھا اور جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے، وہ مرتد اور واجب القتل سمجھا جاتا تھا۔ یہ اقدام اسلام میں نبوت کے تقدس اور دین کی حفاظت کے لیے ان کی لازمی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔
سوال 76: ائمۂ اربعہ رحمۃ اللہ علیھم کا مدعیِ نبوت کے بارے میں کیا فتویٰ ہے؟
جواب: چاروں ائمۂ اربعہ کا متفقہ فتویٰ ہے کہ مدعیِ نبوت کافر ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے خاص طور پر فرمایا کہ اگر کسی نے جھوٹے مدعیِ نبوت سے اس کے دعوے کی تصدیق یا کوئی معجزہ طلب کیا، تو وہ طلب کرنے والابھی کافر شمار ہوگا۔ کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ کا آخری نبی ہونا ایک قطعی اور غیر متنازع حقیقت ہے، جس پر مزید دلیل یا تصدیق کی گنجائش نہیں۔ اس اجماع سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں ختمِ نبوت کی حرمت اور اس کے انکار کی سزا دونوں بالکل صریح ہیں۔
سوال 77: کیا عیسائیوں کی مخالفت میں یسوع (جنہیں مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں) کی گستاخی جائز ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ کسی بھی نبی کی توہین کسی حال میں جائز نہیں، چاہے وہ کسی مذہب کی مخالفت کے نام پر ہی کیوں نہ کی جائے۔ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں نازیبا اور گستاخانہ کلمات استعمال کیے اور یہ عذر پیش کیا کہ وہ عیسائیوں کی تردید کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ لیکن یہ دلیل سراسر باطل ہے۔
یاد رکھیں: تمام انبیاء اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں، ان میں سے کسی ایک کی بھی توہین دراصل اللہ کی توہین ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں یہ بات قطعی ہے کہ جو شخص کسی نبی کی گستاخی کرے، وہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے، چاہے وہ اپنی نیت کو کچھ بھی ظاہر کرے۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ باطل عقائد کا رد دلیل اور حکمت سے کیا جائے، نہ کہ انبیائے کرام کی شان میں گستاخی کے ذریعے۔
سوال 78: مرزا غلام قادیانی کے دعوائے نبوت میں کیا تضادات پائے جاتے ہیں؟
جواب: مرزا غلام قادیانی کی تحریریں تضادات اور غیر منطقی دعوؤں کا مجموعہ ہیں۔ اپنی ابتدائی کتابوں میں اس نے لکھا کہ جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور ملحد ہے (حمامۃ البشریٰ)، لیکن بعد میں خود اسی نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا اور کہا کہ :میں خدا کے حکم سے نبی اور رسول ہوں۔ ایک سچا نبی کبھی بھی اپنے سابقہ بیانات کو جھٹلانے یا خود کی تکذیب کرنے کا مرتکب نہیں ہوتا، کیونکہ سچا نبی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہمیشہ مستقل، درست اور قطعی پیغام دیتا ہے۔ اس تضاد سے مرزا غلام احمد کے جھوٹا ہونے اور نبی ہونے کے دعوے کی کمزوری واضح ہو جاتی ہے۔
سوال 79: کیا مرزا غلام قادیانی نے انبیاء کرام علیھم السلام کی شان میں گستاخی کی ہے؟
جواب: جی ہاں، مرزا غلام قادیانی نے اپنی متعدد تحریروں میں انبیاء کرام علیھم السلام کی شان میں شدید نازیبا اور گستاخانہ الفاظ استعمال کیے۔ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دعویٰ کیا کہ خدا نے میرے لیے کئی معجزات دکھائے جو مسیح علیہ السلام سے بڑھ کر ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے امام حسینؓکی فضیلت کو بھی کم کر کے خود کو ان سے بہتر قرار دینے کی کوشش کی۔ ایسے دعوے نہ صرف دینی ادب کے خلاف ہیں بلکہ اسلام میں انبیاء علیھم السلام کی حرمت اور عظمت کے اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔
سوال 80: مرزا غلام قادیانی کی کون سی مشہور پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں؟
جواب: مرزا غلام قادیانی کی سچائی کا اندازہ اس کی اپنی پیش گوئیوں سے لگایا جا سکتا ہے، جو سب جھوٹی ثابت ہوئیں:
1. محمدی بیگم سے نکاح: مرزا نے دعویٰ کیا کہ خدا نے اس کا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا ہے، لیکن وہ عورت کسی اور سے منسوب رہی اور مرزا اس سے نکاح کیے بغیر فوت ہو گیا۔
2. عبداللہ آتھم کی موت: مرزا نے پیش گوئی کی تھی کہ عیسائی مبلغ عبداللہ آتھم پندرہ ماہ کے اندر مر جائے گا، لیکن وہ مرزا کی زندگی میں ہی زندہ رہا۔
3. طویل عمر: مرزا نے دعویٰ کیا کہ وہ 80 سال یا اس سے زیادہ عمر پائے گا، لیکن وہ تقریباً 68 سال کی عمر میں ہیضے کے مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔
یہ تمام جھوٹ ثابت شدہ پیش گوئیاں واضح کرتی ہیں کہ مرزا غلام قادیانی نبوت کا جھوٹا دعویدار تھا اور کذاب تھا۔
سوال 81:قومی اسمبلی1974ء کی پارلیمانی کارروائی میں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی بڑی وجہ کیا بنی؟
جواب: 1974ء کی پارلیمانی کارروائی کے دوران جب اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر (قادیانی جماعت کے سربراہ) سے پوچھا کہ وہ عام مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں، تو اس نے صاف اعتراف کیا کہ جو مرزا غلام قادیانی کو نہیں مانتا، وہ سب دائرۂ اسلام سے خارج (کافر) ہیں۔ اس واضح اعتراف سے ثابت ہوا کہ قادیانی خود کو مسلمانوں سے ایک الگ امت سمجھتے ہیں اور اپنے عقائد کے ذریعے دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا۔
سوال 82:امتناع قادیانیت آرڈیننس کیا ہے؟
جواب: 1984ء میں منظور ہونے والے امتناع قادیانیت آرڈیننسکے ذریعےقادیانیوں پر واضح پابندیاں عائد کی گئیں تاکہ وہ اسلامی شعائر اور اصطلاحات کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔ اس قانون کے تحت قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے، اذان نہیں دے سکتے، اور نہ ہی اسلامی اصطلاحات جیسے صحابی یا ام المومنین استعمال کر سکتے ہیں۔ اس قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ کوئی بھی گروہ قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق ختمِ نبوت اور اسلامی عقائد کے خلاف عوام میں تشویش نہ پھیلا سکے۔
سوال 83: 1974ء کی اسمبلی میں قادیانیوں کو کافر کس نے قرار دلوایا تھا؟
جواب: 1974ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ کیا، تو اس کی بنیاد مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں رکھی گئی۔ مولانا نورانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس معاملے میں پوری سیاسی بصیرت اور دینی شعور کے ساتھ قدم اٹھایا۔ انہوں نے مختلف مکاتب فکر کے علماء اور دینی شخصیات کو ساتھ لے کر پارلیمنٹ کے ارکان کے سامنے قادیانی عقائد کی تفصیلات پیش کیں، خاص طور پر ان کے ختمِ نبوت کے انکار اور دیگر اسلامی عقائد سے تضاد۔ اس جامع جرح اور دلائل کی بنیاد پر اسمبلی کے ارکان قادیانی عقائد کی حقیقت کو سمجھ سکے اور بالآخر متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ قادیانی جماعت کے پیروکار غیر مسلم اقلیت کے زمرے میں آئیں گے۔ مولانا نورانی کا یہ قدم نہ صرف دینی بلکہ قومی سطح پر بھی ایک اہم فیصلہ ثابت ہوا، جس نے آئینی طور پر ختمِ نبوت کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
سوال 84: عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ ہر مسلمان پر کیوں فرض ہے؟
جواب: عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کا وہ مضبوط قلعہ ہے جس پر دینِ اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ یہ عقیدہ امتِ مسلمہ کی وحدت اور یکجہتی کا ضامن ہے، کیونکہ اگر کوئی نیا نبی یا نبوت قبول کر لی جائے تو دین میں انتشار پیدا ہو جائے گا اور اسلام کی تکمیل کا دعویٰ کمزور ہو جائے گا۔ اس کا انکار درحقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری نبی ﷺ کی مخالفت اور بغاوت کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس عقیدے کی حفاظت کرے، کیونکہ عقیدۂ ختمِ نبوت ایمان کا لازمی حصہ ہے اور اس کے تحفظ کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔
سوال 85: عالمی سطح پر قادیانیت کے بارے میں کیا فیصلے ہوئے ہیں؟
جواب: عالمی سطح پر متعدد باوقار اسلامی اداروں اور کانفرنسوں نے قادیانیت کو اسلام کے دائرے سے خارج اور اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک قرار دیا ہے۔ 1974ء میں مکہ مکرمہ میں منعقدہ رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس، جس میں تقریباً 140 ممالک کی تنظیمیں شریک تھیں، نے متفقہ طور پر قادیانیت کو اسلام کے خلاف قرار دیا۔ اسی طرح اردن کے محکمۂ افتاء، مصر کی جامعہ الازہر، اور سنگاپور و ملائیشیا کی اسلامی کونسلیں نے بھی قادیانی عقائد کو دائرۂ اسلام سے خارج تسلیم کیا۔ یہ تمام فیصلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ قادیانیت نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی اسلام کے اصولوں کے خلاف ایک غیر مسلم تحریک ہے۔
سوال 86: مرزا غلام قادیانی کے دعوائے نبوت میں کیا تضادات پائے جاتے ہیں؟
جواب: مرزا غلام قادیانی کی تحریریں تضادات اور غیر منطقی دعوؤں کا مجموعہ ہیں۔ اپنی ابتدائی کتاب "حمامتہ البشریٰ" (صفحہ 79) میں اس نے صاف لکھا کہ جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور ملحد ہے، لیکن بعد میں اپنی کتاب "حقیقت الوحی" میں خود نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا۔ اسی طرح پہلے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے کا قائل تھا، اور بعد میں ان کی وفات کا دعویٰ کرنے لگا۔ یہ تضادات ظاہر کرتے ہیں کہ اس کے دعوے مستقل اور معتبر نہیں تھے اور سچا نبی کبھی بھی اپنے سابقہ بیانات کی تکذیب یا جھوٹ کا مرتکب نہیں ہوتا۔
سوال 87: مرزا غلام قادیانی نے اپنے لیے کن مقدس مقامات یا اشیاء کے نام استعمال کیے؟
جواب: مرزا غلام قادیانی نے اپنی تحریروں میں حد درجہ گستاخی اور بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے مقدس مقامات اور اشیاء کے نام استعمال کیے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ خدا نے الہامات میں اس کا نام بیت اللہ (اللہ کا گھر) رکھا ہے۔ ایک اور موقع پر اس نے کہا کہ جب کسی شخص نے اس کے پاؤں چومے تو اس نے اسے جواب دیا کہ میں حجرِ اسود ہوں۔ ایسے دعوے صریحاً اسلام کی توہین ہیں، کیونکہ مقدس مقامات اور اشیاء کی عظمت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مخصوص ہے اور کسی انسان پر یہ اطلاق ناقابلِ قبول اور شرعی لحاظ سے ممنوع ہے۔
سوال 88: مرزا غلام قادیانی کے الہامات کی زبان کے بارے میں کیا اعتراض ہے؟
جواب: مرزا غلام قادیانی نے دعویٰ کیا کہ اسے انگریزی، سنسکرت اور عبرانی میں بھی وحی نازل ہوتی ہے، حالانکہ اسے ان زبانوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ ایک جگہ اس نے خود اعتراف کیا کہ الہام ایسی زبان میں ہونا جو انسان کی سمجھ سے باہر ہو، فضول اور لایعنی بات ہے، لیکن پھر خود ہی اسی تضاد میں پھنس گیا کہ وہ الہامات کو غیر معروف زبانوں میں پیش کرنے کا دعویٰ کرتا رہا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مرزا کے دعوے نہ صرف منطقی اعتبار سے کمزور ہیں بلکہ اس کے الہامات کی سچائی پر بھی شدید شک پیدا ہوتا ہے۔
سوال 89: مرزا غلام قادیانی کا انگریز حکومت سے کیا تعلق تھا؟
جواب: مرزا غلام قادیانی اور اس کا خاندان انگریز حکومت کے وفادار تھے۔ اس کے والد غلام مرتضیٰ نے 1851ء کی جنگ میں انگریزوں کی مدد کے لیے 50 گھوڑے اور سپاہی فراہم کیے تھے۔ مرزا غلام احمد نے خود اپنی متعدد کتابوں میں بارہا انگریز حکومت کی وفاداری کا دعویٰ کیا اور مسلمانوں پر انگریز کے خلاف جہادِ بالسیف(تلوار کے ذریعے جہاد) کو حرام قرار دے دیا، تاکہ برطانوی استعمار کو تحفظ اور استحکام مل سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی سیاست اور مذہبی دعوے اکثر مسلمانوں کی سیاسی اور دینی قوت کے خلاف تھے۔
سوال 90: 1974ء کی پارلیمانی جرح میں اٹارنی جنرل نے ریاست کے حقِ مداخلت پر کیا مثالیں دیں؟
جواب: جب مرزا ناصر نے کہا کہ ریاست کو مذہبی عقائد میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، تو اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے واضح مثالیں پیش کیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ریاست کو قانون سازی اور مداخلت کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے امریکہ میں مورمن فرقے کی مثال دی، جن کی کثیر الازواجی پر ریاست نے پابندی لگائی، اورہپیوںکی مثال دی، جن کے طرزِ زندگی پر عوامی مفاد کے لیے پابندی عائد کی گئی۔ اس طرح یہ واضح کیا گیا کہ جب کوئی گروہ مسلمانوں کا نام استعمال کر کے ملک کے امن یا مذہب کو نقصان پہنچائے، تو ریاست کو قانونی اور آئینی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے اعمال پر پابندی عائد کرے اور عوامی مفاد اور دینِ اسلام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
سوال 91: قادیانی اور لاہوری گروپ کے عقائد میں کیا فرق ہے؟
جواب: قادیانی اور لاہوری گروپ دونوں مرزا غلام احمد سے وابستہ ہیں، لیکن عقائد میں بنیادی فرق ہے۔ قادیانی گروپ مرزا غلام احمد کو حقیقتاً نبی مانتا ہے اور اس کے نبوت کے دعوے کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ لاہوری گروپ اسے صرف مجدد یا مسیح موعود کہتا ہے اوربعض جگہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو بھی تسلیم کیا ہے۔ تاہم، پاکستان کی پارلیمنٹ نے دونوں گروہوں کو غیر مسلم قرار دیا، کیونکہ دونوں کے عقائد اسلامی اصولوں، خصوصاً ختمِ نبوت کے خلاف ہیں، اور لاہوری گروپ مرزا کے کفریہ دعوؤں کی تاویل کرتے ہوئے ان کو نبی ماننے والوں کو کافر نہیں قرار دیتا، جس سے اسلام کی تکمیل اور وحدت پر اثر پڑتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ لاہوری قادیانی مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے ہیں در اصل یہ بھی مرزا کو نبی مانتے ہیں ان دونوں گروہوں میں مرکزی اختلاف عہدوں کا ہے ۔
سوال 92: کیا قادیانیوں سے قرآن و حدیث کے دلائل سے بات کرنا درست ہے؟
جواب: اصولی طور پر قرآن و حدیث صرف مسلمانوں کے لیے حجت ہیں۔ جب کسی گروہ کو آئینی اور شرعی طور پر غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہو، تو اس سے قرآن و حدیث کو بنیاد بنا کر گفتگو کرنا ایک طرح سے اسے بالواسطہ مسلمان مان لینے کے مترادف ہوتا ہے۔قادیانی چونکہ ختمِ نبوت جیسے قطعی عقیدے کا انکار کرتے ہیں، اس لیے وہ خود کو اسلام کے بنیادی دائرے سے باہر کر چکے ہیں۔ ایسی صورت میں ان سے گفتگو کا درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے ان کے بنیادی دعووں، ان کے بانی کی تحریروں، تضادات اور تاریخی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔
اگر آپ سیدھا قرآن و حدیث سے استدلال کریں گے تو وہ اپنی من مانی تاویلیں پیش کر کے وہی نصوص اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کریں گے، اور یوں اصل مسئلہ دب جائے گا۔ اس لیے حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ پہلے ان کے باطل دعووں کو انہی کے مراجع سے واضح کیا جائے، پھر اگر بات اسلام کی طرف آئے تو قرآن و سنت کو اصل معیار کے طور پر پیش کیا جائے۔
سوال 93: اگر قادیانیوں سے قرآن و حدیث پر بات نہ کی جائے تو پھر دلائل کہاں سے دیے جائیں؟
جواب: دلائل خود مرزا قادیانی کی اپنی کتابوں سے دیے جائیں، کیونکہ اس نے اپنی تحریروں کو ہی اپنی سچائی کا معیار قرار دیا تھا۔ اس نے بار بار لکھا کہ اگر اس کی ایک بھی پیش گوئی یا بات جھوٹی ثابت ہو جائے تو وہ جھوٹا ہے۔جب کسی کے اپنے گھر سے ہی اس کا جھوٹ ثابت ہو جائے تو پھر باہر سے دلیل لانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مرزا کی کتابوں میں اس کے دعوؤں کے واضح تضادات، جھوٹی پیش گوئیاں اور ایک دوسرے کی تردید کرنے والے بیانات موجود ہیں۔ انہی کو سامنے رکھ کر یہ دکھایا جائے کہ جس شخص نے خود اپنے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہو، وہ سچا کیسے ہو سکتا ہے۔یہی سب سے مضبوط اور حکیمانہ طریقہ ہےپہلے مدعی کو اس کی اپنی باتوں سے لاجواب کرو، پھر اگر بات دین تک پہنچے تو اسلام کا اصل معیار یعنی قرآن و سنت کو پیش کرو۔
سوال 94: قرآنِ کریم کی روشنی میں قادیانیوں کو تبلیغ کرنے کا بنیادی طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟
جواب: قرآنِ کریم نے دعوت و تبلیغ کے لیے تین بنیادی اصول واضح فرمائے ہیں:
1. حکمت – یعنی دانائی اور عقل و فہم کے ساتھ بات کرنا، تاکہ مخاطب آپ کی دلیل کو سمجھ سکے۔
2. موعظۂ حسنہ – یعنی عمدہ نصیحت، نرم اور محبت بھرا انداز اختیار کرنا تاکہ دل متاثر ہو۔
3. احسن – یعنی بہترین انداز میں بحث و مباحثہ کرنا، نہ کہ تند مزاجی یا دلائل کے بغیر۔
ان اصولوں کی روشنی میں مبلغ کو چاہیے کہ وہ مدلل، نرمی کے ساتھ قادیانی عقائد کی حقیقت پیش کرے، مخاطب کے جذبات کا خیال رکھے اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو واضح کرے، تاکہ تبلیغ مؤثر اور شائستہ انداز میں ہو۔
سوال 95: ایک مبلغ کے لیے اخلاص اور دعا کی کیا اہمیت ہے؟
جواب: تبلیغ کا اصل مقصد لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف بلانا ہے، اور دلوں کو ہدایت کی طرف مڑنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے ایک مبلغ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تمام کوششوں کا آغاز دعا اور اللہ سے رہنمائی کی التجا سے کرے۔ اخلاصِ نیت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہی تبلیغ کو مؤثر بناتے ہیں، کیونکہ جب مبلغ اپنی نیت صاف رکھتا ہے اور ہر عمل کو اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، تو اللہ اس کے کام میں برکت عطا فرماتا ہے اور دلوں پر اثر پڑتا ہے۔
سوال 96: قادیانیوں سے گفتگو کے دوران کن نفسیاتی اور اخلاقی پہلوؤں کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے
جواب: قادیانیوں سے بات کرتے وقت مبلغ کو چاہیے کہ وہ صرف اپنی بات منوانے پر نہ زور دے، بلکہ مخاطب کی بات بھی غور سے سنے (Active Listening) اور ان کے ذہن میں موجود شبہات اور سوالات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ گفتگو میں سختی کی بجائے نرمی، سچائی، اور ہمدردی کا پہلو غالب ہونا چاہیے، کیونکہ قول سے زیادہ عمل اور حسنِ اخلاق اثرانداز ہوتا ہے۔ اس طرح مخاطب پر مثبت اثر پڑتا ہے اور دلوں میں حقائق کے لیے جگہ پیدا ہوتی ہے، جو تبلیغ کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔
سوال 97: اگر مخاطب بحث برائے بحث کرے یا دلچسپی نہ لے تو مبلغ کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: دعوت اور تبلیغ مناظرہ یا جیت ہار کا کھیل نہیں ہیں۔ اگر محسوس ہو کہ مخاطب حق بات سننے کے بجائے صرف تکرار کر رہا ہے یا اس کی دلچسپی ختم ہو رہی ہے، تو گفتگو کو باوقار اور شائستہ انداز میں ختم کر دینا چاہیے، تاکہ مستقبل میں دوبارہ بات چیت کا موقع موجود رہے۔ زبردستی قائل کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، مخاطب کو غور و فکر کا وقت دینا زیادہ مؤثر اور حکمت بھرا عمل ہے، کیونکہ اصل ہدف دلوں کی ہدایت اور حقائق کی پہچان ہے۔
سوال 98: ردِ قادیانیت اور تبلیغ کے لیے کن علمی مصادر اور اصولوں سے مدد لی جا سکتی ہے؟
جواب: مبلغین کے لیے علمی مصادر اور رہنمائی بہت اہم ہے تاکہ قادیانی عقائد کا مؤثر اور منطقی طور پر جواب دیا جا سکے۔ اس کے لیے مفتی مبشر شاہ کی کتابیں بہترین گائیڈ ہیں، جیسے:
"قادیانی کلمہ" اور "قادیانی توحید": ان کتابوں میں قادیانیوں سے گفتگو کے لیے موضوع کا انتخاب، ان کی دغا بازیوں کے رد کے اصول اور دلائل واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔
"قادیانی عقیدہ ختم نبوت": یہ ایک جامع اور مختصر دستاویز ہے جو قادیانی عقائد اور ان کے غلط دعوؤں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
ان علمی مصادر کے ذریعے مبلغین مدلل، مؤثر اور شائستہ انداز میں قادیانی عقائد کا رد کر سکتے ہیں اور حقائق کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔
سوال 99: گفتگو کے دوران مشترکہ بنیادوں کو تلاش کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
جواب: دعوت کے آغاز میں ایسی باتوں پر اتفاق کرنا جو دونوں طرف تسلیم شدہ ہوں، جیسے سچائی، دیانت، اور حسنِ اخلاق، گفتگو کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرتا ہے۔ جب مخاطب محسوس کرتا ہے کہ آپ اس کی اچھی اقدار کی قدر کرتے ہیں، تو وہ آپ کے مذہبی دلائل کو زیادہ سنجیدگی اور غور سے سننے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اس طریقے سے تعلق اور اعتماد قائم ہوتا ہے، اور حقائق پہنچانے کا اثر زیادہ مؤثر اور پائیدار ہو جاتا ہے۔
سوال 100: آئینِ پاکستان کی رو سے قادیانیوں کی قانونی پہچان کیا ہے؟
جواب: دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 260(3) کے مطابق مسلمان وہ شخص ہے جو حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہو۔ اس تعریف کے تحت، وہ تمام لوگ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی، مسیح، یا کسی بھی قسم کا مذہبی مصلح تسلیم کرتے ہیں، قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت شمار ہوتے ہیں، چاہے وہ قادیانی گروپ کے ہوں یا لاہوری گروپ کے۔ اس آئینی تعین سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں قادیانی عقائد کے حامل افراد اسلام کے دائرے میں نہیں آتے اور ان کے لیے مخصوص قانونی حدود و ضوابط مقرر ہیں۔
سوال 101: انتظامی دستاویزات (پاسپورٹ اور شناختی کارڈ) میں قادیانیوں کی شناخت کیسے کی جاتی ہے؟
جواب: پاکستان میں پاسپورٹ یا قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے لیے ہر مسلمان شہری کو ایک حلف نامے پر دستخط کرنا پڑتے ہیں، جس میں وہ تصدیق کرتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور مرزا غلام قادیانی جھوٹا ہے۔ اگر کوئی شخص اس حلف نامے پر دستخط کرنے سے انکار یا ہچکچاہٹ ظاہر کرے، تو اسے انتظامی طور پر غیر مسلم (قادیانی) تصور کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے ریاست یہ یقینی بناتی ہے کہ صرف وہی لوگ مسلمانوں کی قانونی تعریف میں آئیں جو ختمِ نبوت پر مکمل ایمان رکھتے ہیں۔
سوال 102: سوشل میڈیا پر ہمارے کچھ دوست قادیانیوں سے قرآن و حدیث پر بات کرتے ہیں، کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟
جواب: یہ طریقہ درست نہیں۔ قادیانیوں سے قرآن و حدیث پر بحث کرنا دراصل انہیں بالواسطہ مسلمان مان لینے کے مترادف ہوتا ہے، کیونکہ قرآن و سنت تو صرف مسلمانوں کے لیے حجت ہیں۔ جب آپ انہی بنیادوں پر ان سے مکالمہ کرتے ہیں تو گویا تسلیم کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ بھی اسی دائرے میں ہیں، حالانکہ اصل جھگڑا تو یہی ہے کہ وہ دائرۂ اسلام میں ہیں یا نہیں۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے بنیاد صاف کی جائے۔ ان سے کہا جائے کہ سب سے پہلے مرزا غلام قادیانی کو ایک شریف النفس، سچا، دیانت دار اور جھوٹ سے پاک انسان ثابت کرو۔ اس کی کتابوں سے یہ دکھاؤ کہ اس کی کوئی بات جھوٹی نہیں، اس کی کوئی پیش گوئی غلط نہیں اور اس کی تحریروں میں کوئی تضاد نہیں۔جب وہ اپنے ہی مرزا کو اس کی اپنی کتابوں سے بے عیب ثابت کر دیں، تب اگلے مرحلے کی بات ہو سکتی ہے۔ جب بنیاد ہی کھوکھلی ہو تو اس پر قرآن و حدیث کی عمارت کھڑی کرنا نہ عقلاً درست ہے اور نہ ہی دینی طور پر۔
سوال 103:مرزا قادیانی کی چند بے ہودہ باتیں بتائیں؟
جواب:مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت اور اس کی تحریروں کے بارے میں اس کے مخالفین اور ناقدین نے بہت سے سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان اعتراضات کی بنیاد وہ بیانات اور حوالہ جات ہیں جو یا تو اس کی اپنی کتابوں میں منسوب کیے جاتے ہیں یا اس کے خاندان اور پیروکاروں کی تحریروں میں پائے جاتے ہیں۔مثلاً ناقدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بیٹے کی ایک تحریر میں ایسے جملے ملتے ہیں جن سے مرزا کے کردار پر انتہائی نازیبا شبہات پیدا ہوتے ہیں جیسے کبھی کبار زنا کرنے کا واقعہ۔ اسی طرح بعض مکتوبات اور کتابوں کی طرف نسبت کی جاتی ہے جن میں شراب (کوکو وائن)شراب پینے کا ذکرملتا ہے۔
کچھ حوالہ جات میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے گھر اور خاص کمرے میں غیر محرم عورتوں کا آنا جانا تھا، جسے اخلاقی لحاظ سے انتہائی معیوب قرار دیا جاتا ہے۔یہ تمام باتیں اس کے مخالفین نے اس کی اپنی یا اس کے خاندان اور جماعت کی تحریروں سے نقل کر کے پیش کی ہیں اور ان پر تفصیلی تنقید کی ہے۔ جو لوگ اس موضوع پر مزید دیکھنا چاہتے ہیں وہ ہماری کتب (مرزا چوہڑہ، قادیانی بے حیائیاں)کا مطالعہ فرمائیں ان کتابوں اور رسائل میں مرزا غلام احمد کی تحریروں اور اس سے منسوب واقعات کو تنقیدی انداز میں جمع کیا گیا ہے، تاکہ قاری خود فیصلہ کر سکے کہ یہ دعوے کہاں تک درست ہیں اور ان کا دینی و اخلاقی وزن کیا بنتا ہے۔
سوال 104: قادیانی مرزا قادیانی کی کتب کے دلائل کو کیوں نہیں مانتے؟
جواب: اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ خود قادیانیوں کو معلوم ہے کہ مرزا غلام احمد کی اپنی کتابیں اس کے خلاف سب سے بڑی گواہ ہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مرزا کی تحریروں، اس کی پیش گوئیوں کی ناکامیوں اور اس کے متضاد دعووں سے واقف ہو چکی ہے۔ اگر گفتگو کا رخ مرزا کی اصل کتابوں کی طرف چلا جائے تو اس کی حقیقت، اس کی لغزشیں اور اس کے جھوٹے دعوے سب کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔اسی لیے قادیانی عام طور پر مرزا کی کتابوں سے بھاگتے ہیں اور گفتگو کو قرآن و حدیث کی لغوی موشگافیوں میں الجھا دیتے ہیں، تاکہ اصل مسئلہ پسِ پشت چلا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مخاطب خاتم، نبی، رسول،توفیٰ جیسے الفاظ کے معنی میں ہی الجھا رہے اور مرزا کی اپنی تحریروں تک بات پہنچنے ہی نہ پائے۔ کیونکہ انہیں خوب معلوم ہے کہ اگر مرزا کی کتابیں کھل گئیں تو نہ اس کی نبوت بچے گی، نہ اس کی صداقت، اور نہ ہی اس کے دعووں کا کوئی سہارا باقی رہے گا۔
سوال 105: بسا اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ قادیانی کہتے ہیں کہ ہم بھی ختمِ نبوت کے قائل ہیں؟
جواب: ہ دعویٰ محض ایک فریب اور دھوکہ ہے۔ قادیانی جب یہ کہتے ہیں کہ ہم ختمِ نبوت کو مانتے ہیں تو اس سے مراد حضور خاتم النبیین ﷺ کی ختمِ نبوت نہیں ہوتی، بلکہ وہ دراصل مرزا غلام احمد قادیانی کی ختمِ نبوت کو مانتے ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک نبوت کا سلسلہ حضور ﷺ پر ختم نہیں ہوا بلکہ مرزا پر آ کر مکمل ہوا۔یہی اصل دھوکہ ہے،زبان سے وہ وہی الفاظ بولتے ہیں جو مسلمان بولتے ہیں، مگر ان کے مفہوم کو بدل دیتے ہیں۔ عام مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ وہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کی بات کر رہے ہیں، حالانکہ ان کا عقیدہ اس کے بالکل الٹ ہوتا ہے۔ اسی دوغلے پن کے ذریعے وہ سادہ لوح مسلمانوں کو الجھاتے اور دھوکہ دیتے ہیں۔ اس کی تفصیل ہماری کتاب قادیانی کلمہ میں دلائل کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ قادیانیوں کا ختم نبوت درحقیقت مرزا کی ختم نبوت ہے، نہ کہ رسول اللہ ﷺ کی۔
سوال 106: قادیانی "احمدی" نام استعمال کر کے عام مسلمانوں کو کیسے دھوکا دیتے ہیں؟
جواب: قادیانی اپنے اصل عقائد اور چہرے کو چھپانے کے لیے خود کو احمدی کہلاتے ہیں، تاکہ لوگ انہیں حضور ﷺ کے نام احمدسے منسوب سمجھ کر دھوکہ کھا جائیں۔ درحقیقت ان کا انتساب حضور ﷺ کی طرف نہیں بلکہ کذاب مرزا غلام قادیانی کی طرف ہے، جس کا مقصد عوام میں یہ تاثر قائم کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اصلی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ اس طرح کا نام استعمال نہ صرف عقیدتی گمراہی پیدا کرتا ہے بلکہ عام مسلمانوں کو بھی قادیانی فتنہ کی حقیقت سے دور رکھتا ہے۔
سوال 107: مرزا غلام احمد نے مسلمانوں کو پھنسانے کے لیے "درجہ بدرجہ" دعووں کا طریقہ کیوں اپنایا؟
جواب: مرزا غلام قادیانی نہایت چالاک اور منصوبہ بند طریقے سے اپنے دعووں کو درجہ بدرجہ پیش کرتا رہا تاکہ مسلمانوں کو فوری طور پر متنفر یا مشکوک نہ کر دے۔ اس نے اپنے مشن کو مختلف مراحل میں تقسیم کیا:
1. ابتدائی طور پر مجدد (اسلام کی اصلاح کرنے والا) ہونے کا دعویٰ کیا،
2. پھر خود کو مہدویت اور مسیح موعود کہا،
3. بعد میں ظل و بروز کی آڑ لی،
4. اور آخر میں صاف طور پر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔
یہ طریقہ کار مسلمانوں کو دھیرے دھیرے قادیانی عقائد کی طرف مائل کرنے اور ان کے لیے اپنی حقیقت چھپانے کی حکمت عملی تھی، تاکہ عوام اس کی کذب اور کفریہ دعوؤں کو فوراً نہ پہچان سکیں۔
سوال108: قادیانی مسلمانوں کو اپنے جال میں لینے کے لیے "اسلامی شعائر" کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟
جواب:اس طریقۂ کار کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی شناخت کو عام مسلمانوں کے لیے غیر واضح رکھیں تاکہ لوگ پہلی نظر میں انہیں مسلمان ہی سمجھیں۔ اسی مقصد کے لیے وہ بہت سے ایسے ظاہری اعمال اختیار کرتے ہیں جو عام طور پر مسلمانوں سے منسوب ہوتے ہیں، مثلاً:
٭ مسلمانوں کی طرح اذان دینا
٭ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنا
٭ قرآن کی تلاوت اور دینی اصطلاحات کا استعمال
٭ اسلامی لباس اور ظاہری وضع قطع اپنانا
ان ظاہری مشابہتوں کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو مسلمان دینی اعتبار سے کم آگاہ ہوتے ہیں، وہ فرق کو پہچان نہیں پاتے اور انہیں عام مسلمانوں ہی کا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ بعد میں آہستہ آہستہ مخصوص عقائد اور تشریحات پیش کی جاتی ہیں جو اصل اسلامی عقائد سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس طرح دعوت کا آغاز ظاہری یکسانیت سے اور انجام عقیدے کی تبدیلی پر ہوتا ہے۔
اسی لیے علما ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف ظاہری مشابہت کو دیکھ کر کسی گروہ کے عقائد کے بارے میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ وہ ختمِ نبوت اور بنیادی اسلامی عقائد کے بارے میں کیا موقف رکھتے ہیں۔
سوال 109: قادیانیت کی تبلیغ میں "سماجی و فلاحی خدمات" کا کیا کردار ہے؟
جواب: قادیانی جماعت اپنی تبلیغ کو پھیلانے کے لیے سماجی و فلاحی سرگرمیوں کا انتہائی منصوبہ بند استعمال کرتی ہے۔ وہ بین المذاہب مکالمے، انسانی حقوق اور رفاہی منصوبوں کی آڑ میں اپنا مثبت امیج قائم کرتی ہے۔ خاص طور پر وہ ایسے علاقے اور لوگ جو معاشی طور پر کمزور یا دینی شعور سے ناواقف ہوں، ان کو ہدف بناتے ہیں تاکہ دنیاوی امداد، تعلیم یا ہمدردی دکھا کر انہیں اپنے گروہ میں شامل کیا جا سکے۔ اس طریقے سے وہ ظاہری نیکی اور فلاحی خدمات کے ذریعے اپنی دعوت کو موثر بناتے ہیں اور عقائد میں تبدیلی کے لیے زمین تیار کرتے ہیں۔
سوال 110: مرزا غلام قادیانی نے اپنی کتابوں میں مسلمانوں کو کیا قرار دیا ہے؟
جواب: مرزا غلام قادیانی اور اس کے جانشینوں نے اپنی تحریروں میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ جو شخص مرزا کو قبول نہیں کرتا، وہ جہنمی اور کافرہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے عام مسلمانوں کے ساتھ نماز یا عبادات میں شرکت کو بھی اپنے پیروکاروں کے لیے ناجائز قرار دیا، تاکہ اپنے عقائد کے مخالفین کو امتِ مسلمہ سے مکمل طور پر الگ کر کے اپنے جال میں قید کر سکیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد پیروکاروں کو ہر سطح پر مرزا اور قادیانی عقائد سے وابستہ رکھنا ہے۔
سوال 111: قادیانی علماء سے مناظرہ کیوں نہیں کرتے؟
جواب: اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ قادیانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ علماءِ دین ان کے باطل عقائد، جھوٹے دعووں اور مرزا قادیانی کی گندی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں۔ اگر وہ کسی عالمِ حق سے مناظرہ کریں گے تو عالم ان ہی کی کتابوں سے، ان ہی کے حوالوں سے، ان کی حقیقت کھول کر رکھ دے گا اور مرزا کے جھوٹ، تضادات اور بے حیائیاں سب کے سامنے آ جائیں گی۔اسی لیے قادیانی عام طور پر علماء سے بچتے ہیں اور بھولے بھالے، کم علم یا دینی شعور سے دور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہاں وہ قرآن و حدیث کے مشکل الفاظ، لغوی بحثیں اور چالاک تاویلات لاکر لوگوں کو الجھاتے ہیں، تاکہ اصل مسئلہ یعنی مرزا کی کرتوتوں اور اس کے جھوٹ سے توجہ ہٹ جائے۔ عالمِ دین کے سامنے یہ چالیں نہیں چل سکتیں، اسی لیے وہ علماء سے مناظرہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔
سوال 112:اگر ہمارے گاؤں یا محلے میں قادیانی نہ رہتے ہوں تو کیا ہمیں قادیانیت کا رد نہیں کرنا چاہیے؟
جواب: یہ سوچ بالکل غلط اور غفلت پر مبنی ہے۔ کسی علاقے میں قادیانیوں کا ظاہری طور پر موجود نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ قادیانیت کا فتنہ ختم ہو چکا ہے۔ آج فتنہ صرف محلّوں اور گلیوں میں نہیں، بلکہ موبائل، فیس بک، یوٹیوب اور واٹس ایپ کے ذریعے ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے۔ بہت سے سادہ مسلمان لاعلمی میں قادیانیوں سے آن لائن دوستی رکھتے ہیں، ان کی باتیں سنتے ہیں اور آہستہ آہستہ شکوک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اس لیے مبلغ اور عالم کی ذمہ داری صرف اپنے محلے کے حالات دیکھنا نہیں، بلکہ آنے والے خطرات سے بھی امت کو آگاہ کرنا ہے۔ جیسے بیماری آنے سے پہلے احتیاط کی جاتی ہے، ویسے ہی فتنہ پہنچنے سے پہلے اس کا رد ضروری ہے۔ ختمِ نبوت کا تحفظ کسی ایک علاقے یا زمانے کے لیے نہیں، بلکہ ہر دور اور ہر جگہ کے مسلمانوں پر فرض ہے، چاہے قادیانی سامنے ہوں یا پردے کے پیچھے۔